1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نماز میں نظر کا مقام

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جون 02، 2017۔

  1. ‏جون 02، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    35
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    نماز میں نظر کا مقام
    تحریر غلام مصطفی ظہیر امن پوری
    نماز میں نظر سجدہ کی جگہ پر ہونی چاہئے،البتہ تشہد میں انگلی کے اشارے پر ہونی چاہئے، امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    کَانُوا یَقُولُونَ : لَا یُجَاوِزْ بَصَرُہ، مُصَلَّاہُ، فَإِنْ کَانَ قَدِ اسْتَعَادَ النَّظَرَ فَلْیُغْمِضْ .
    ''صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے : کسی کی نظر مقامِ سجدہ سے تجاوز نہ کرے، اگر نظر دوبارہ دوسری طرف جائے، تو آنکھیں بند کر لے۔''
    (تعظیم قدر الصّلاۃ لمحمد بن نصر المروزي : ١٤٣، وسندہ، صحیحٌ)
    ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    کَانُوا یَسْتَحِبُّونَ أَنْ یَنْظُرَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِہٖ إِلٰی مَوْضِعِ سُجُودِہٖ .
    ''صحابہ رضی اللہ عنہم مستحب سمجھتے تھے کہ نمازی اپنی نظر مقام سجدہ پر رکھے۔''
    (تعظیم قدر الصّلاۃ لمحمد بن نصر المروزي : ١٤٥، وسندہ، حسنٌ)
    مسلم بن یسار رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ نمازی اپنی نظر کہاں رکھے تو فرمایا:
    مَوْضِعُ السُّجُودِ حَسَنٌ .
    ''مقام سجدہ بہتر ہے۔''
    (الزّہد لعبد اللّٰہ بن المبارک : ١٠٨١، وسندہ، صحیحٌ)
    حافظ ابن المنذر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    وَالنَّظَرُ إِلٰی مَوْضِعِ السُّجُودِ أَسْلَمُ وَأَحْرٰی أَنْ لَا یَلْہُوَ الْمُصَلِّي بِالنَّظَرِ إِلٰی مَا یَشْغَلُہ، عَنْ صَلَاتِہٖ، وَہَذَا قَوْلُ عَوَامِّ أَہْلِ الْعِلْمِ
    ''مقام سجدہ پر نظر رکھنے میں زیادہ بہتری، سلامتی اوراحتیاط ہے۔ نمازی اپنی نظر ایسی چیز کی طرف مرکوز نہ کر ے، جو اسے نماز سے غافل کردے۔ اکثر اہل علم کا یہی فتویٰ ہے۔''
    (الأوسط في السّنن والإجماع وا لإختلاف : ٣/٢٧٣)
    تنبیہ:
    بوقت ضرورت نمازی سامنے دیکھ سکتا ہے۔ جس طرح بوقتِ ضرورت التفات کر سکتا ہے۔
    سیدہ عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    کُنْتُ أَنْظُرُ إِلٰی عَلَمِہَا، وَأَنَا فِي الصَّلاَۃِ فَأَخَافُ أنْ تَفْتِنَنِي .
    '' نمازمیں میری نظر اس دھاری دار چادر پر پڑجاتی، خدشہ ہے کہ یہ نماز سے مشغول نہ کر دے۔''
    (صحیح البخاري : ٣٧٣، صحیح مسلم : ٥٥٦)
    نیز بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    فَرَأَیْتُ جَہَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا حِینَ رَأَیْتُمُونِی تَأَخَّرْتُ .
    ''جب آپ نے مجھے مصلےٰ سے پیچھے ہٹتے دیکھا، اس وقت میں نے جہنم دیکھی تھی، اس کا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا تھا۔''
    (صحیح البخاري : ١١٥٤، صحیح مسلم : ٩٠١)
    ابو معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا:کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں قرأت کرتے تھے۔ فرمایا: جی ہاں، پوچھا: آپ کو کیسے پتہ چلتا تھا؟ فرمایا:
    بِاضْطِرَابِ لِحْیَتِہٖ .
    ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک کے ہلنے سے۔''
    (صحیح البخاري : ٧٤٦)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    فَإِنَّہ، لَا یَنْبَغِي أَنْ یَکُونَ فِي الْبَیْتِ شَيْءٌ یَّشْغَلُ الْمُصَلِّيَ .
    ''کعبۃ اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے، جو نمازی کو مشغول کر دے۔''
    (مسند الحمیدي : ٥٦٥، سنن أبي داود : ٢٠٣٠، سندہ، صحیحٌ)
    شارح بخاری، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (٨٥٢ھ) لکھتے ہیں:
    یُمْکِنُ أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فَیُسْتَحَبُّ لِلْإِمَامِ النَّظَرُ إِلٰی مَوْضِعِ السُّجُودِ وَکَذَا لِلْمَأْمُومِ إِلَّا حَیْثُ یَحْتَاجُ إِلٰی مُرَاقَبَۃِ إِمَامِہٖ، وَأَمَّا الْمُنْفَرِدُ فَحُکْمُہ، حُکْمُ الْإِمَامِ .
    ''امام اور مقتدی میں فرق یوں کیا جا سکتا ہے کہ دونوں کے لیے مقام سجدہ پر نگاہ رکھنا مستحب ہے، البتہ مقتدی بہ وقت ضرورت امام کو دیکھ سکتا ہے۔ اکیلے نمازی کا وہی حکم ہے، جو امام کا ہے۔''
    (فتح الباري شرح صحیح البخاري : ٢/٢٣٢)
    ابن عابدین شامی حنفی (١٢٥٢ھ) لکھتے ہیں:
    الْمَنْقُولُ فِي ظَاہِرِ الرِّوَایَۃِ أَنْ یَکُونَ مُنْتَہٰی بَصَرِہٖ فِي صَلَاتِہٖ إلٰی مَحَلِّ سُجُودِہٖ .
    ''ظاہر الروایۃ میں منقول ہے کہ نمازی کی نظر محل سجدہ پر ہونی چاہیے۔''
    (ردّ المحتار علی الدّر المختار المعروف بہ فتاویٰ شامي : ١/٣٢١)
    اس کے برخلاف محمد بن علی بن محمد بن علی حصکفی حنفی (١٠٨٨ھ) نے لکھا ہے:
    نَظَرَہ، إلٰی مَوْضِعِ سُجُودِہٖ حَالَ قِیَامِہٖ، وَإِلٰی ظَہْرِ قَدَمَیْہِ حَالَ رُکُوعِہٖ وَإِلٰی أَرْنَبَۃِ أَنْفِہٖ حَالَ سُجُودِہٖ، وَإِلٰی حِجْرِہٖ حَالَ قُعُودِہٖ، وَإِلٰی مَنْکِبِہِ الْ
    ـأَیْمَنِ وَالْـأَیْسَرِ عِنْدَ التَّسْلِیمَۃِ الْـأُولٰی وَالثَّانِیَۃِ لِتَحْصِیلِ الْخُشُوعِ .
    ''حصول خشوع کے لیے نمازی اپنی نظر قیام میں مقام سجدہ پر، رکوع میں پاؤں کے درمیان، سجدے میں نکوڑی پر، تشہد میں گود پر اور سلام پھیرتے وقت دائیں بائیں کندھے پر رکھے۔''
    (الدر المختارشرح تنویر الأبصار، ص ٦٦، باب صفۃ الصلوۃ)
    اس خود ساختہ خشوع پر کوئی دلیل نہیں، اہل علم نے صدیوں پہلے اس کا رد کر دیا ہے۔
    امام اندلس، ابن عبد البر رحمہ اللہ (٤٦٣ھ) لکھتے ہیں:
    ہٰذَا کُلُّہ، تَحْدِیدٌ لَّمْ یَثْبُتْ بِہٖ أَثَرٌ وَّلَیْسَ بِوَاجِبٍ فِي النَّظَرِ وَمَنْ نَظَرَ إِلٰی مَوْضِعِ سُجُودِہٖ کَانَ أَسْلَمَ لَہ، وَأَبْعَدَ مِنَ الِْاشْتِغَالِ بِغَیْرِ صَلَاتِہٖ .
    ''اس ساری تقسیم کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں، نہ نگاہ رکھنے کے متعلق کوئی وجوب ہے۔ نمازی کا اپنی نظر مقام سجدہ پر رکھنا اس کے لیے سلامتی اور مشغولیت سے بچنا ہے۔''
    (التّمہید لما في المؤطّأ من المعاني والأسانید : ١٧/٣٩٣)
    علامہ العز بن عبد السلام رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    لَیْسَ ہٰذَا قَوْلًا صَحِیحًا، وَّلَا حُجَّۃَ لِقَائِلِہٖ مِنْ کِتَابٍ وَّلَا سُنَّۃٍ، وَّاللّٰہُ أَعْلَمُ .
    ''یہ قول درست نہیں، کتاب و سنت کے دلائل سے خالی ہے۔ واللہ اعلم!''
    (فتاوی العزّ بن عبد السّلام، ص ٦٨)
    فائدہ :
    سیدہ عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم بیان کرتی ہیں:
    عَجَبًا لِّلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ إِذْ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ حَتّٰی یَرْفَعَ بَصَرَہ، قِبَلَ السَّقْفِ یَدَعُ ذَالِکَ إِجْلَالًا لِّلّٰہِ وَإِعْظَامًا، دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَعْبَۃَ مَا خَلَفَ بَصَرُہ، مَوْضِعَ سُجُودِہٖ حَتّٰی خَرَجَ مِنْہَا .
    ''ایسے مسلمان پر تعجب ہے، جو کعبہ میں داخل ہو کر دورانِ نماز چھت کی طرف نظر رکھتا ہے اور وہ ایسا تعظیم ِ خداوندی میں کرتا ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو کعبہ میں داخل ہوئے، آپ نے دورانِ نماز اپنی نظر سجدے والی جگہ پر رکھی، تا آنکہ نماز سے فارغ ہو گئے۔''
    (المستدرک علی الصّحیحین للحاکم : ١/٤٧٩، صحیح ابن خزیمۃ : ٣٥١٢)
    تبصرہ :
    سند ''ضعیف'' ہے۔
    زہیر بن محمد مکی سے جب اہل شام روایت کریں، تو حدیث '' ضعیف'' ہوتی ہے۔ عمرو بن ابو سلمہ تنسیسی بھی شامی ہیں۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وَرِوَایَۃُ أَھْلِ الشَّامِ عَنْہُ غَیْرُ مُسْتَقِیمَۃٍ .
    ''ان سے اہل شام کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔''
    (تقریب التّھذیب : ٢٠٤٩)
    نوٹ :

    احمد بن عیسی الخشاب حسن الحدیث ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں