1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے سے متعلق وائل بن حجرؓ کی روایت (...علی صدرہ)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ اہل حدیث, ‏اگست 29، 2019۔

  1. ‏اگست 29، 2019 #1
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    38
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    بسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


    امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    نا أبو موسى نا مؤمل نا سفيان عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال : " صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره "
    حضرت وائل بن حجر رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر سینے پر رکھ لیا
    [دیکھیے صحیح ابن خزیمہ حدیث 479 ]



    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  2. ‏اگست 29، 2019 #2
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    38
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    سند کی تحقیق

    پہلا راوی: وائل بن حجر رضی اللہ عنہ
    آپ مشہور صحابی رسول ہیں۔ آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

    دوسرا راوی: کلیب بن شہاب الجرمی
    کلیب بن شہاب رحمہ اللہ ثقہ راوی ہیں
    (1) امام ابو ذرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    کوفی ثقة
    [ دیکھیے الجرح والتعدیل لابن حاتم 167/7 ]

    (2) امام ابن حبان رحمہ اللہ نے انہیں الثقات میں ذکر کیا
    [دیکھیے الثقات 356/3 ]

    (3) امام عجلی رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    تابعی ثقة
    [دیکھیے تاريخ الثقات للعجلي صفحہ 398]

    (4) امام ابن سعد رحمہ اللہ ان کے متعلق کہتے ہیں کہ:
    كان ثقة كثير الحديث
    آپ ثقہ تھے زیادہ احادیث والے تھے۔
    [ دیکھیے طبقات ابن سعد ط مکتبہ الخانجی 243/8]

    (5) امام ترمذی رحمہ اللہ ان کی ایک حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
    ھذا حدیث حسن صحيح
    یہ حدیث حسن صحیح ہے
    [دیکھیے سنن ترمذی 85/2 حدیث 292]

    (6) امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ان کے متعلق فرمایا کہ:
    صدوق
    [دیکھیے تقریب التہذیب صفحہ 813 رقم 5696]
    تیسرا راوی: عاصم بن کلیب بن شہاب الجرمی
    عاصم بن کلیب ثقہ راوی ہیں۔
    (1) امام ابن سعد رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    "کان ثقة يحتج به"
    آپ ثقہ تھے اور آپ سے حجت لی جائے گی
    [ دیکھیے طبقات الکبری لابن سعد ط مکتبہ الخانجی 460/8]

    (2) امام عجلی رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    ثقة
    [دیکھیے تاریخ الثقات للعجلی صفحہ 242 ]

    (3) امام یحیی بن معین رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    ثقة مامون
    یہ ثقہ مامون ہیں۔
    [دیکھیے من کلام أبی زکریا یحیی بن معین فی الرجال صفحہ 46 ]

    (4) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
    ثقة
    [ دیکھیے العلل معرفة والرجال رواية المروذي صفحہ 201، دوسرا نسخہ صفحہ 161]

    (5) امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ ان کے متعلق کہتے ہیں کہ:
    کوفی ثقة
    [دیکھیے کتاب المعرفة والتاريخ 85/3 ]

    (6) امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے انہیں ثقات میں ذکر کیا اور کہا کہ:
    ثقة
    [دیکھیے تاریخ اسماء الثقات صفحہ 150]
    اور بہت سارے محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔ اور آپ بخاری تعلیقا، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے رواۃ میں سے ہیں۔

    چوتھا راوی: مؤمل بن اسماعیل البصری المکی رحمہ اللہ
    مؤمل بن اسماعیل رحمہ اللہ عند الجمہور ثقہ راوی ہیں۔ ان کے متعلق تفصیلی بحث اپنے مقام پر آئے گی

    پانچواں راوی: سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ
    امام سفیان ثوری رحمہ اللہ صحیح بخاری اور مسلم کے رجال میں سے ہیں۔ اور بہت بڑے ثقہ امام ہیں بلکہ آپ امیرالمؤمنین فی الحدیث ہیں

    (1) امام یحیی بن معین ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
    سفیان امیر المؤمنین فی الحدیث
    سفیان (ثوری) امیر المؤمنین فی الحدیث تھے
    [دیکھیے الجرح والتعدیل 119/1 ]

    (2) امام شعبہ رحمہ اللہ نے بھی امیر المؤمنین فی الحدیث کہا
    [دیکھیے الجرح والتعدیل 118/1]

    (3) امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
    فاما من هو امام فى السنة و امام فى الحديث فسفيان الثوري
    جو سنت میں امام تھے اور حدیث میں بھی وہ سفیان ثوری تھے۔
    [دیکھیے الجرح والتعدیل 118/1]

    پانچواں راوی: ابو موسی محمد بن المثنی رحمہ اللہ
    آپ بہت بڑے ثقہ راوی ہیں
    ان کے متعلق حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ
    " ثقہ ثبت "
    [ دیکھیے تقریب التہذیب صفحہ 892 ]


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. ‏ستمبر 28، 2019 #3
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    189
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اس کا دورانیہ کتنا ہوگا؟؟؟؟؟
     
  4. ‏ستمبر 28، 2019 #4
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    189
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    علامہ نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے؛

    بَابُ وَضْعِ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ تَحْتَ صَدْرِهِ فَوْقَ سُرَّتِهِ، وَوَضْعِهِمَا فِي السُّجُودِ عَلَى الْأَرْضِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ
    کیا ان کو آپ کی مذکرہ حدیث کا علم نا تھا؟
     
  5. ‏ستمبر 30، 2019 #5
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    189
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    درج ذیل حدیث میں محدث نے ناف کے اوپر نیچے کا تو ذکر کیا مگر سینہ کی بات ہی نہیں کی

    سنن الترمذي: كِتَاب الصَّلَاةِ: بَاب مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلَاةِ:
    حدثنا قتيبة حدثنا أبو الأحوص عن سماك بن حرب عن قبيصة بن هلب عن أبيه قال ثم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤمنا فيأخذ شماله بيمينه
    قال وفي الباب عن وائل بن حجر وغطيف بن الحارث وابن عباس وابن مسعود وسهل بن سعد
    قال أبو عيسى حديث هلب حديث حسن والعمل على هذا ثم أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن أن يضع الرجل يمينه على شماله في الصلاة ورأى بعضهم أن يضعهما فوق السرة ورأى بعضهم أن يضعهما تحت السرة وكل ذلك واسع عندهم واسم هلب يزيد بن قنافة الطائي
     
  6. ‏ستمبر 30، 2019 #6
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    189
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    قال ابن القيم في "بدائع الفوائد" 3/91: واختلف في موضع الوضع فعنه (أي: عن الإمام أحمد) : فوق السرة، وعنه تحتها، وعنه أبو طالب: سألت أحمد بن حنبل: أين يضع يده إذا كان يصلي؟ قال: على السرة أو أسفل، كل ذلك واسع عنده إن وضع فوق السرة أو عليها أو تحتها.
     
  7. ‏ستمبر 30، 2019 #7
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    189
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    شرح السنة للبغوي
    وَالْعَمَلُ وَالْعَمَلُ الْيَوْمَ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَمَنْ بَعْدَهُمْ، لَا يَرَوْنَ إِرْسَالَ الْيَدَيْنِ، ثُمَّ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَأْخُذُ كُوعَهُ الأَيْسَرَ بِكَفِّهِ الأَيْمَنِ، وَبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ.
    وَرَأَى بَعْضُهُمْ وَضْعَهُمَا فَوْقَ السُّرَّةِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ.
    وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يَضَعَهُمَا تَحْتَ السُّرَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِ الرَّأْيِ
     
  8. ‏ستمبر 30، 2019 #8
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    189
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    علامہ نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کے باب میں باقاعدہ تصریح فرما رہے ہیں کہ نماز میں ہاتھ سینہ سے نیچے اور ناف کے اوپر باندھے جائیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    66
    مناظر:
    710
  2. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    465
  3. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    527
  4. محمد طلحہ سلفی
    جوابات:
    4
    مناظر:
    888
  5. مدثر
    جوابات:
    17
    مناظر:
    4,164

اس صفحے کو مشتہر کریں