1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کی فضیلت کا بیان۔

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 17، 2012۔

  1. ‏مئی 17، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    لقوله تعالى ‏ {‏ فانكحوا ما طاب لكم من النساء‏}
    اللہ تعالیٰ نے سور ئہ نساء میں فرمایا کہ ”تم کو جو عورتیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو“۔


    حدیث نمبر: 5063
    حدثنا سعيد بن أبي مريم،‏‏‏‏ أخبرنا محمد بن جعفر،‏‏‏‏ أخبرنا حميد بن أبي حميد الطويل،‏‏‏‏ أنه سمع أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ يقول جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم فلما أخبروا كأنهم تقالوها فقالوا وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر‏.‏ قال أحدهم أما أنا فإني أصلي الليل أبدا‏.‏ وقال آخر أنا أصوم الدهر ولا أفطر‏.‏ وقال آخر أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا‏.‏ فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ أنتم الذين قلتم كذا وكذا أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له،‏‏‏‏ لكني أصوم وأفطر،‏‏‏‏ وأصلي وأرقد وأتزوج النساء،‏‏‏‏ فمن رغب عن سنتي فليس مني ‏"‏‏.‏

    ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو حمید بن ابی حمید طویل نے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیاتو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات پھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔


    حدیث نمبر: 5064
    حدثنا علي،‏‏‏‏ سمع حسان بن إبراهيم،‏‏‏‏ عن يونس بن يزيد،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ قال أخبرني عروة،‏‏‏‏ أنه سأل عائشة عن قوله تعالى ‏ {‏ وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى أن لا تعولوا‏}‏‏.‏ قالت يا ابن أختي،‏‏‏‏ اليتيمة تكون في حجر وليها،‏‏‏‏ فيرغب في مالها وجمالها،‏‏‏‏ يريد أن يتزوجها بأدنى من سنة صداقها،‏‏‏‏ فنهوا أن ينكحوهن إلا أن يقسطوا لهن فيكملوا الصداق،‏‏‏‏ وأمروا بنكاح من سواهن من النساء‏.‏

    ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے حسان بن ابراہیم سے سنا، انہوں نے یونس بن یزید ایلی سے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء کے متعلق پوچھا ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں سے انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔ دودو سے، خواہ تین تین سے، خواہ چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکوگے تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو، اس صورت میں قوی امید ہے کہ تم ظلم وزیادتی نہ کر سکوگے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بھانجے! آیت میں ایسی یتیم مالدار لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ وہ لڑکی کے مال اور اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف مائل ہو اور اس سے معمولی مہر پر شادی کر نا چاہتا ہو تو ایسے شخص کو اس آیت میں ایسی لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہا ں اگر اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہو اور پورا مہر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اجازت ہے، ورنہ ایسے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اپنی پرورش میں یتیم لڑکیوں کے سوا اور دوسری لڑکیوں سے شادی کر لیں۔


    کتاب النکاح صحیح بخاری
     
  2. ‏مئی 17، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مئی 17، 2012 #3
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وایاکم
     
  4. ‏جولائی 04، 2013 #4
    نزرانہ بٹ

    نزرانہ بٹ رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 04، 2013
    پیغامات:
    38
    موصول شکریہ جات:
    68
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    جزاک اللہ اچھی اور معلوماتی شیرنگ ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں