1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں(مسلم شریف سے اخذ شدہ) ظفر اقبال ظفر

'جدید مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏مارچ 09، 2016۔

  1. ‏مارچ 09، 2016 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    238
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    ۔ كتاب النكاح
    نکاح کے احکام و مسائل
    باب 1۔ جس شخص کا دل چاہتا ہو اور کھانا پینا میسر ہو اس کے لیے نکاح کرنا مستحب ہے اور جو شخص کھانا پینا مہیا کرنے سے قاصر ہو وہ روزوں میں مشغول رہے
    (3398) ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ س ے ان کی ملاقات ہوئی، وہ کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اِن سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں، شاید وہ آپ کو آپ کا وہی زمانہ یاد کرا دے جو گزر چکا ہے؟ کہا: تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو (اس سے پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا: "اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو کوئی شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے، یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والی اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو وہ روزے کو لازم کر لے، یہ اس کے لیے خواہش کو قابو میں کرنے کا ذریعہ ہے۔"
    (3399) جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے روایت کی، کہا: میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سے ملے تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! (میرے ساتھ) آئیں۔ کہا: وہ انہیں تنہائی میں لے گئے۔ جب عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں اس (تنہائی) کی ضرورت نہیں، تو انہوں نے مجھے بلا لیا۔ (کہا: ) علقمہ آ جاؤ! میں آ گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں، شاید یہ آپ کے دل کی اسی کیفیت کو لوٹا دے جو آپ (عہد جوانی) میں محسوس کرتے تھے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر آپ نے یہ بات کہی ہے ۔۔۔ پھر ابومعاویہ کی حدیث کے مانند بیان کیا۔
    (3400) ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: " اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے،یہ نگاہوں کو جھکانے اور شرمنگاہ کی حفاظت کرنے میں (دوسری چیزوں کی نسبت) بڑھ کر ہے، اور جو استطاعت نہ پائے، وہ خود پر روزے کو لازم کر لے، یہ اس کے لیے اس کی خواہش کو قطع کرنے والا ہے۔"
    (3401) جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید (بن قیس) سے روایت کی، کہا: میں، میرے چچا علقمہ (بن قیس) اور (میرے بھائی) اسود (بن یزید بن قیس) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کہا: میں ان دنوں جوان تھا۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی، مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ انہوں نے میری وجہ سے بیان کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۔۔۔ (آگے) ابومعاویہ کی حدیث کے مانند ہے۔ اور (یہ) اضافہ کیا، کہا: اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی۔
    (3402) وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (عبدالرحمان بن یزید نے) کہا: ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سب سے کم عمر تھا، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے، (مگر) انہوں نے یہ نہیں کہا: "اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی۔"
    (3403) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے آپ کی تنہائی کے معمولات کے بارے میں سوال کیا، پھر ان میں سے کسی نے کہا: میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا، اور کسی نے کہا: میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (آپ کو پتہ چلا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی، اس کی ثنا بیان کی اور فرمایا: "لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے اس اس طرح سے کہا ہے۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے رغبت ہٹا لی وہ مجھ سے نہیں۔"
    (3404) معمر نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن معظون رضی اللہ عنہ کی (طرف سے) نکاح کو ترک کر کے عبادت میں مشغولیت (کے ارادے) کو مسترد فرما دیا۔ اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خود کو خصی کر لیتے۔
    (3405) ۔ابراھیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث بیان کی انہو ں نے سعید بن مسیب سے روایت کی ‘انہوں نے کہا کہ میں نے سعد سے سنا وہ کہہ رہے تھے ’’عثمان بن معون ﷜ کے ترک نکاح کو (ارادے کو )رسول اللہ ﷺ کی طرف سے رد کر دیا گیا ‘اگر انہیں اجازت مل جاتی تو ہم سب خصی ہو جاتے‘‘
    (3406) عُقَیل نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: عثمان بن معثون رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ (عبادے کے لئے نکاح اور گھرداری سے) الگ ہو جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں