1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نیت کے احکام قسط2

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن بشیر الحسینوی, ‏مئی 11، 2011۔

  1. ‏مئی 11، 2011 #1
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,066
    موصول شکریہ جات:
    4,413
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    امام نووی فرماتے ہیں:''تمام ظاہری اور باطنی اعمال ، اقوال اور احوال میں اخلاص اور حسن نیت ضروری ہے۔''(ریاض الصالحین :قبل ح١)
    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ :''ابن المنیر نے ایک ضابطہ لکھا ہے کہ جن چیزوں میں نیت کرنا شرط ہے اور جن چیزوں میں نیت کرنا شرط نہیں ہے ۔انھو ں نے کہاکہ:''ہر وہ عمل جس کا فائدہ جلدی ظاہر ہونے والا نہ ہوبلکہ اس سے صر ف ثواب مقصود ہوتو اس میں نیت شرط ہے۔اور ہر وہ عمل جس کا فائدہ ظاہر ہو اور طبعی کام ہو شریعت سے پہلے تو اس میں نیت شرط نہیں ہے۔''
    [مسئلہ نمبر:٧]
    نیت کے فوائد
    سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے ایک اہم اصول پر عمل ہو جائے گا ۔
    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ
    (١):''کیونکہ نیت خالص اللہ کے لیے عمل کرنے کو ممیز کرتی ہے ا س عمل سے جو غیر اللہ کے لیے کیا جائے ۔
    (٢)اعمال کے مرتبو ں میں تمیز کرتے ہے یعنی فرض کو نفل سے ۔
    (٣)عبادت کو عادت سے تمیز کرتی ہے جیسے روزے ہیں ۔''(فتح الباری:١/١٨٠)
    نیت اور طہارت
    [مسئلہ نمبر:٨]
    نیت اور وضو:
    امام ابن قیم رحمہ اللہ نے ان لوگوں کا تفصیلی رد کیا ہے جو وضو میں نیت کو ضروری نہیں سمجھتے ،اور ثابت کیا ہے کہ وضو میں نیت ضروری ہے۔(اعلام المؤقعین:٣/١١١)
    حافظ ابن حجر فرماتے ہیںکہ:''جمہور نے نیت کو وضو میں شرط قرار دیا ہے صحیح اور واضح احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اور اس پر ثواب ملنے کی وجہ سے''(فتح الباری:١/١٨٠)
    امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ:''نبی ؐ وضو کے شروع میں ''میں نیت کرتا ہوں رفع حدث کے لیے یا نماز پڑھنے کے لیے''وغیرہ الفاظ قطعا نہیں کہتے تھے اور نہ آپ ؐ کے صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)سے یہ ثابت ہے اور اس سلسلہ میں ایک حرف بھی آپ سے مروی نہیں،نہ صحیح سند سے اور نہ ضعیف سند سے۔''(زاد المعاد:١/١٩٦)
    شیخ عمرو بن عبدالمنعم لکھتے ہیںکہ:''بدعتی کہتا ہے:''میں نماز کے لیے وضو کی نیت کرتا ہوں۔''یہ ایسی منکر بدعت ہے جس پر کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہیںاور نہ یہ عقل مند لوگوں کا کام ہے بلکہ اس فعل کا مرتکب صرف وسوسہ پرست ،بیمار ذہن اور پاگل شخص ہی ہوتاہے۔
    میں اللہ کی قسم دیتے ہوئے آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ جب کھانے کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا زبان سے نیت کرتے ہیںکہ میں فلاں قسم کے صبح کے کھانے کی نیت کرتا ہوں؟!
    یا جب آپ قضائے حاجت کے بیت الخلاء میں داخل ہوتے ہیںتو کیا یہ کہتے ہیں کہ میں پیشاب یا پاخانہ کی نیت کرتا ہوں؟۔
    یا جب آپ اپنی بیوی سے جماع کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا یہ کہتے ہیں کہ میں اپنی بیوی فلانہ بنت فلانہ سے نکاح کے بعد جائز شرعی جماع کی نیت کرتا ہوں۔
    ایسا کرنے والا شخص یقینا پاگل اورر مجنوں ہی ہو سکتا ہے
    تما م عقل مند انسانوں کا اس پر اجماع ہے کہ نیت کا مقام دل ہے زبان نہیں ،کسی چیز کے بارے میں آپ کے ارادہ کو نیت کہتے ہیں،جسس کے لیے آپ کو زبان کے ساتھ نیت کے تکلف کی ضرورت نہیںاور نہ ایسے الفاظ کہنے کی ضرورت ہے جو آپ کے ہونے والے عمل کو واضح کریںـ....یہ بھی یاد رہے کہ عبادات میں اصل حرمت ہے یعنی کوئی عبادت بغیر شرعی دلیل کے جائز نہیں بلکہ حرام ہے اللہ آپ کو اور مجھے اتباع سنت پر قائم رکھے ۔عبادات میں یہ حرمت بغیر کسی صحیح شرعی دلیل کے جواز نہیں بن جاتی۔
    زبان سے نیت کرنے والاشخص اگر اسے عبادت نہیں سمجھتاتو اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اسے عبادت سے منسلک کر دے اور اگر وہ یہ رٹے رٹائے الفاظ بطورِ عبادت کہتا ہے تواس پر یہ لازم ہے کہ اس فعل کے جواز پر شرعی دلیل پیش کرے اور حالانکہ اس کے پاس اس فعل پر سرے سے کوئی دلیل نہیں۔'' (عبادات میں بدعات:ص٤٦۔٤٨)
    [مسئلہ نمبر:٩]
    نیت اور غسل
    غسل بھی ایک عمل ہے اور یہ قاعدہ مسلمہ ہے کہ'' تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔''امام ابن خزیمہ نے وضو اور غسل کے لیے نیت کرنے کو واجب قرار دیا ہے۔(صحیح ابن خزیمہ:قبل ح١٤٢)
    [مسئلہ نمبر:١٠]
    نیت اور تیمم
    اس میں بھی نیت ضروری ہے ۔کیونکہ یہ بھی ''اعمال ''کے تحت آتا ہے۔
    اس مسئلے کی تفصیل ہم نے ہدایہ کے حاشیہ میں لکھی ہے یسر اللہ لنا طبعہ
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 11، 2011 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا بھائی! نیت کے احکام کو اقساط میں دینے کی بجائے اگر ایک ہی تھریڈ میں پوسٹس کی شکل میں دے دئیے جائیں تو کیا بہتر نہیں؟
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 11، 2011 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ ابن بشیر بھائی جان۔

    جی انس بھائی جان، آپ کی رائے بالکل مناسب ہے۔ اس کو تازہ مضامین میں یکجا ہونا چاہئے۔ اس کے لئے یہ طریقہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ فی الحال انہیں الگ الگ دھاگوں میں ہی رہنے دیا جائے تاکہ بھائی کو پوسٹنگ میں سہولت ہو اور تبصرہ وغیرہ کا بھی مسئلہ نہ ہو۔۔ بعد میں انہیں یکجا کر کے ایک ہی دھاگے میں متفرق پوسٹس کی صورت میں الگ بھی کر دیا جائے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں