1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

وراثت کا سوال اور اس جواب

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ محمد عمر, ‏مئی 08، 2011۔

  1. ‏مئی 08، 2011 #1
    حافظ محمد عمر

    حافظ محمد عمر مشہور رکن
    جگہ:
    ڈیرہ غازی خان
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    1,546
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    محترم جناب حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب حفظہ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایک آدمی جس کا نام سید محمد تھا، اس نے اپنے چچا کی بیٹی حاجرہ بی بی سے شادی کرلی، کچھ عرصہ بعد حاجرہ بی بی نے اپنے خاوند سید محمد سے طلاق لے لی، کیونکہ سید محمد شادی کے قابل نہ تھا، اس کے بعد حاجرہ بی بی کے والد نے سید محمد کی جائیداد کی خاطر اپنی سب سے چھوٹی بیٹی فاطمہ بی بی کا نکاح سید محمد سے پڑھا دِیا، کیونکہ سید محمد کی ساڑھے بارہ ایکڑ زمین تھی- جب فاطمہ بی بی کا نکاح سید محمد سے پڑھایا ، اس وقت فاطمہ بی بی کی عمر صرف 14 سال تھی جبکہ اس کے خاوند سید محمد کی عمر تقریبا 45 سال تھی- سید محمد کے فاطمہ بی بی سے نکاح کے قریبا پانچ سال بعد بیوی کے کہنے پر سید محمد نے بخوشی اپنی زمین فاطمہ بی بی کے نام منتقل کر دی ، وہ کہتا تھا کہ تونے میری خاطر زندگی قربان کر دی اس لئے میں تجھے زمین دیتا ہوں تاکہ تو میرے بعد آسانی سے اپنی زندگی گزار سکے-
    شادی کے تقریباً پانچ سال بعد خاوند بیوی دونوں حج پر گئے، وہاں مولانا علی محمد صمصام رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی اولاد ہے؟ تو سید محمد نے ساری صورتحال بتلادی کہ میں تو اس قابل نہیں- تو اُنہوں نے بڑی سختی سے کہا کہ تو اپنی بیوی کو فارغ کر دے نہیں تو قیامت کے دن تو بہت بڑا مجرم ہوگا، یہ مسئلہ سننے کے باوجود بھی سید محمد اس بات پر امادہ نہ ہوا کہ پھر مجھے کون سنبھالے گا- آخر کار تیس سال گزرنے کے بعد اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں کل قیامت کو کیا جواب دوں گا کہ میں نے تو اپنی بیوی کی ساری زندگی برباد کر دی، اس نے اپنی بیوی فاطمہ بی بی کو کہا کہ اب مجھے خدا کی پکڑ سے خوف آتا ہے لہذا میری طرف سے اجازت ہے کہ تو طلاق لے کر جس سے چاہے نکاح کر لے- پھر سید محمد نے اپنی بیوی فاطمہ بی بی کو بخوشی طلاق دے دی اور اپنی منتقل کی ہوئی زمین واپس لینے کا مطالبہ نہیں کیا- فاطمہ بی بی نے محمد اکرم نامی آدمی سے شادی کر لی- قریباً ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد محمد اکرم بھی وفات پا گیا- اب فاطمہ بی بی کو اپنے دوسرے خاوند محمد اکرم کی وراثت سے بھی حصہ مل گیا اور پہلے خاوند سید محمد کی منتقل کی ہوئی زمین بھی فاطمہ بی بی کے پاس تھی- فاطمہ بی بی محمد اکرم سے شادی کے دوران اور اس کی وفات کے بعد بھی سید محمد کی وفات تک سید محمد کی خدمت کرتی رہی کیونکہ وہ اس کا تایا زاد بھائی بھی تھا-
    مذکور سید محمد کا والد شام دین اور فاطمہ بی بی کا والد عبد اللہ دونوں بھائی تھے- شا م دین کا صرف ایک بیٹا سید محمد تھا، جبکہ عبد اللہ کے چار بیٹے اور آٹھ بیٹیاں تھیں- اب قرآن وسنت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت چاہئے کہ سید محمد نے اپنی بیوی فاطمہ بی بی کے نام جو ساڑھے بارہ ایکڑ زمین منتقل کی ، فاطمہ بی بی کیلئے اس کا استعمال حلال ہے یا حرام؟ فاطمہ بی بی کے بہن بھائی ہی ورثا میں شامل ہیں اور فاطمہ بی بی کی اولاد بھی نہیں ہے، فاطمہ بی بی کی وفات کے بعد بھی جائیداد ان کو ہی ملنی ہے-
    فاطمہ بی بی نے اپنی زمین میں ایک مسجد ومدرسہ تعمیر کروایا ہے، وہاں ایک قاری صاحب بطور مدرس رکھے ہوئے ہیں، مسجد کے تمام اخراجات اور قاری صاحب کی تنخواہ مبلغ 5000 روپے ماہانہ فاطمہ بی بی کے ذمہ ہے- فاطمہ بی بی نے قریبا ساڑھے چار ایکڑ زمین مدرسہ کے نام منتقل کر دی ہے اور اس کے علاوہ دو ایکڑ زمین فروخت کرکے اپنے سارے بہن بھائیوں کو عمرہ بھی کروایا ہے-
    اب وضاحت یہ چاہئے کہ فاطمہ بی بی نے جو ساڑھے چار ایکڑ زمین مدرسہ کے نام لگوائی ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور فاطمہ بی بی اپنی زندگی میں سید محمد کی زمین میں سے اپنے بہن بھائیوں کو حصہ دینے کی پابند ہے یا اسے اپنی مرضی سے اپنی زندگی میں استعمال کر سکتی ہے؟ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا
    فاطمہ بی بی دُختر محمد عبد اللہ، میر کوٹ، تحصیل چونیاں، قصور

    الجواب بعون الوهّاب بشرط صحّة السوال
    الحمد ﷲ ربّ العلمین، والصّلاةُ والسّلامُ علی أشرف الأنبياء والمرسلين، أمَّا بعد!
    1) سید محمد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا مالک تھا اور اسے مکمل اختیار تھا کہ وہ اس میں کوئی بھی جائز تصرف کر سکے- لہذا سید محمد کا اپنی جائیداد اپنی خوشی سے فاطمہ بی بی کے نام کرنا بالکل صحیح ہے، اس میں - ان شاء اللہ - کوئی حرج نہیں- فاطمہ بی بی کو باڑہ ایکڑ زمین ہبہ کرنے کے بعد وہ زمین اب فاطمہ بی بی کی ملکیت ہے، لہذا سید محمد کے ترکہ میں اس زمین کو شامل نہیں کیا جائے گااس لئے وہ زمین اس کے ورثا (جن میں اس کے چچا زاد بھائی بھی شامل ہیں) میں تقسیم نہیں کی جائے گی-
    2) فاطمہ بی بی اپنے نام ہبہ شدہ زمین میں تصرف کا مکمل اختیار رکھتی ہے، وہ اس میں سے کسی کو کچھ بھی دینے کی پابند نہیں- وہ اسے اپنی مرضی سے ہر جائز اور اچھے کام میں استعمال کر سکتی ہے- اس نے ساڑھے چار ایکڑ زمین مدرسہ کے نام لگوا کر بہت ہی نیک کام سرانجام دیا ہے، جس کا اجر اللہ تعالی کے ہاں محفوظ ہے، ان شاء اللہ! فرمان باری تعالی ہے: ﴿ مَثَلُ الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِی کُلِّ سُنۢبُلَۃٍ مِائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَشَآءُ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ﴾ [البقرۃ: 261] ''مثال ان لوگوں کی جو اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں جیسے کہ ایک دانہ، جو سات بالیاں اگاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں، اور اللہ تعالی جس کیلئے چاہتا ہے (اس سے بھی) بڑھا چڑھا دیتا ہے، اور اللہ تعالی بہت وُسعت والا، بہت جاننے والا ہے-''
    وَالله أعلمُ بالصَّواب، وصلّى الله وسلّم على نبيّنا مُحمّد!
     
  2. ‏جون 17، 2011 #2
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    مولانا ثناء اللہ صاحب حفظہ اللہ کے اس فتوى میں کچھ سہو ہے ! عفى اللہ عنہ ،
    کیونکہ کوئی بھی شخص اپنی ساری جائیداد کسی بھی شخص کو ہبہ نہیں کرسکتا ہے ! ، اور نہ ہی صدقہ کر سکتا ہے ، اور نہ ہی وصیت !
    شریعت اسلامیہ نے زیادہ سے زیادہ ثلث مال کی وصیت ، یاہبہ یا صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے ۔
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مِنْ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثِ قَالَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ
    صحیح بخاری ، کتاب المغازی باب حجۃ الوداع ح ۴۴۰۹
    اور ثلث سے زائد مال کی اگر کوئی وصیت ، یا ہبہ کردے تو شریعت اسلامیہ اس وصیت یا ہبہ کو ثلث تک محدود کرکے زائد وصیت یا ہبہ کو باطل قرار دیتی ہے ۔! ، اور ایسا کرنے والے کو خوب ڈانٹ پلاتی ہے :
    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا
    صحیح مسلم کتاب الأیمان باب من أعتق شرکا لہ فی عبد ح ۱۶۶۸
    لہذا احادیث مبارکہ کی رو سے صورت مسؤلہ میں سید محمد کی ساڑھے بارہ ایکڑ زمین میں سے چار ایکڑ اور ایک سدس ایکڑ زمین بطور ہبہ فاطمہ بی بی کی ملکیت میں رہے گی اور باقی آٹھ ایکڑ اور دو سدس ایکڑ زمین سید محمد کے ورثاء میں تقسیم کی جائے گی !
     
  3. ‏جون 17، 2011 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,173
    موصول شکریہ جات:
    15,215
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    محترم رفیق طاہر بھائی!
    حافظ عمر بھائی جو محدث لائبریری میں ذمہ داری سر انجام دیتے ہیں، نے اس سوال وجواب کو نئے سرے سے ٹائپ کیا ہے، جس کے آخر میں میرا نام لکھا ہوا تھا جو ٹائپنگ میں غلطی سے رہ گیا، محترم استاد شیخ الحدیث حافظ ثناء مدنی﷾ نے کچھ عرصہ پہلے یہ سوال مجھے بھجوایا تھا، جس پر میں نے متعلقہ حضرات کو جواب دے دیا، اب آپ نے اس میں میری غلطی کی نشاندہی کی ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزائے خیر عطا کریں! میں مستفتی حضرات کو تلاش کرکے صحیح مسئلہ ان کے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل میں اضافہ کریں!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں