1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وسیلہ کیا ہے؟ مفہوم، اقسام و شرعی احکام !

'وسیلہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 22، 2016۔

  1. ‏دسمبر 22، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    وسیلہ کیا ہے؟ مفہوم، اقسام و شرعی احکام


    تحریر: ابن جلال دین، ابن شہاب سلفی

    وسیلہ کا معنی و مفہوم:

    لغوی طور پر وسیلہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی ذات تک رسائی یا قرب حاصل کیا جا سکتا ہو۔

    لغت عرب کی قدیم اور معروف کتاب ’’الصحاح‘‘ میں ہے:

    الوسيلة : ما يتقرب به إلی الغير.

    ’’وسیلہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی کا قرب حاصل کیا جائے۔‘‘

    (الصحاح تاج اللغة و صحاح العربية لأبي نصر إسماعيل بن حماد الجوهري المتوفیٰ 393ھ، باب اللام، فصل الواو، مادة وسل : 1841/5، دارالعلم للملايين، بيروت، 1407ھ)

    مشہور لغوی اور اصولی، علامہ مبارک بن محمد المعروف بہ ابن الاثیر جزری ( 544 – 606 ھ ) لکھتے ہیں :

    في حديث الأذان : اللھم آت محمدا الوسيلة، ھي في الأصل : ما يتوصل به إلی الشيء ويتقرب به، وجمعھا : وسائل، يقال : وسل إليه وسيلة وتوسل والمراد به في الحديث القرب من الله تعالیٰ، وقيل : ھي الشفاعة يوم القيامة.

    ”اذان (کا جواب دینے کی فضیلت) والی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وسیلہ دے۔ وسیلہ اصل میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی چیز تک پہنچا جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے۔ اس کی جمع وسائل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں کی طرف وسیلہ بنایا۔ حدیث نبوی میں وسیلے سے مراد اللہ تعالیٰ کا قرب ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن ہونے والی شفاعت ہے۔“

    (النھایة فیی غریب الحدیث والأثر، باب الواو مع السین، مادة وسل :555/5، المکتبة العلمیة، بیروت، 1399 ھ )

    مشہور لغوی، علامہ ابوالفضل محمد بن مکرم بن علی، المعروف بہ ابن منظور افریقی (م : 711 ھ) لکھتے ہیں :

    الوسيلة : المنزلة عند الملك، والوسيلة : الدرجة، والوسيلة : القربة.

    ’’وسیلہ سے مراد بادشاہ کے ہاں مقام و مرتبہ ہے۔ اس کا معنی درجہ اور قربت بھی ہوتا ہے۔‘‘

    (لسان العرب، حرف اللام، فصل الواو، مادة وسل : 724/11، دار صادر، بيروت، 1414 ھ )

    معلوم ہوا کہ وسیلہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کا تقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کرتا ہے اور اس سے مراد نیک اعمال ہیں، جیسا کہ :

    فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

    ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدہ 35:5 )

    ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔‘‘

    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ وسیلہ کیا ہے؟ تمام سنی مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد نیک اعمال ہیں۔


    دعا میں وسیلہ :

    اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے اس کو قبولیت کے درجے تک پہنچانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اسے بھی وسیلہ کہہ دیا جاتا ہے۔ دعا چونکہ عبادت ہے اور ہر عبادت کا طریقہ بھی قرآن وسنت سے ہی معلوم کیا جاتا ہے، لہٰذا دعا میں وسیلے کے بارے میں قرآن وسنت کی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے گا۔ دعا میں وسیلے کا جو جو طریقہ کتاب وسنت سے ثابت ہو گا، وہ جائز اور مشروع ہو گا جبکہ دوسرے طریقے ناجائز و غیر مشروع ہوں گے۔ آئیے ملاحظہ فرمائیں :


    وسیلے کی اقسام :

    جائز وسیلہ :

    دعا میں وسیلے کی تین قسمیں مشروع و جائز ہیں :

    (1) انسان اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنیٰ کا وسیلہ پیش کرے، مثلاً:

    یااللہ ! تجھے تیری رحمت کا واسطہ، ہمارے حال پر رحم فرما۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

    ﴿وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا﴾ (الاعراف 180:7)

    ’’اللہ تعالیٰ کے بہت اچھے اچھے نام ہیں، اس سے ان ناموں کے ساتھ دعا کیا کرو۔‘‘

    اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ ابوعبداللہ قرطبی رحمہ اللہ (م : 671 ھ) فرماتے ہیں :

    قوله تعالیٰ : ﴿فَادْعُوهُ بِهَا﴾ ، أي اطلبو امنه بأسمائه، فيطلب بكل اسم ما يليق به، تقول : يا رحيم ارحمني …..’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ : ﴿فَادْعُوهُ بِهَا﴾ (تم اسے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ پکارو) ، یعنی اس سے اس کے ناموں کے وسیلے مانگو۔ ہر نام کے وسیلے اس سے ملتی جلتی چیز مانگی جائے، مثلاً اے رحیم، مجھ پر رحم فرما۔۔۔‘‘

    (الجامع لأحكام القرآن : 327/7)

    (2) ایک یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کیا جائے، جیسا کہ :

    ٭ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی ایک صفت یوں بیان کی ہے:

    ﴿الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (آل عمران 16:3 )

    ’’وہ لوگ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہٰذا ہمارے گناہ معاف کر دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

    اس آیت کریمہ کی تفسیر میں خاتمة المفسرین،حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م : 774 ھ) فرماتے ہیں:

    ﴿الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا﴾ ، أي : بك وبكتابك وبرسولك، ﴿فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا﴾ ، أي بايماننا بك وبماشرعته لنا، فاغفرلنا ذنوبنا وتقصيرنا من أمرنا بفضلك ورحمتك، ﴿وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

    ’’مومن کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! ہم تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسول پر ایمان لے آئے ہیں۔ تو اپنے ساتھ ایمان رکھنے اور اپنی نازل کردہ شریعت کو تسلیم کرنے کے طفیل اپنے فضل و رحمت سے ہمارے گناہ معاف اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔‘‘

    (تفسير القرآن العظيم : 23/2)

    ٭ اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا ایک قول اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے:

    ﴿رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ (آل عمران 53:3)

    ’’اے ہمارے ربّ ! ہم تیری نازل کردہ وحی پر ایمان لائے اور تیرے رسول کی پیروی کی،لہٰذا ہمار انام بھی تصدیق کرنے والوں میں شامل فرما دے۔‘‘

    ٭عقل مند لوگوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    ﴿رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ﴾ (آل عمران 193:3)

    ’’اے ہمارے ربّ ! ہم نے ایک پکارنے والے کی یہ پکار سنی کہ اپنے ربّ پر ایمان لاؤ، چنانچہ ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے ربّ ! (اس ایمان کےطفیل) ہمارے گناہ معاف فرما دے، ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے۔‘‘

    ان آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو اپنے نیک اعمال کا واسطہ دینا مشروع ہے۔ نیک اور عقل مند لوگوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ مسلمانوں کو یہ جائز وسیلہ استعمال کرنا چاہیے۔

    ٭ صحیح حدیث میں اصحاب غار والا مشہور واقعہ موجود ہے، جنہوں نے مصیبت میں اللہ تعالیٰ کو اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کیا تھا اور ان کی پریشانی رفع ہوگئی تھی۔

    (صحيح البخاري: 883/2، ح : 5974، صحيح مسلم : 353/2، ح: 2743)

    (3) تیسری مشروع صورت یہ ہے کہ کسی زندہ، صالح اور موحد انسان سے دعا کرائی جائے، جیسا کہ سوره نساء (64) میں اس کا ثبوت مذکور ہے۔ اس کی مکمل تفصیل آگے ديكھئيے۔

    ٭ صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مصیبت اور پریشانی میں دعا کراتے تھے۔ اس بارے میں بہت ساری احادیث موجود ہیں۔ ایک نابینا شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حق میں دعا کرائی تھی۔

    (سنن الترمذی : 3578، وسندہ حسن)

    ٭ اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے دعا کرائی۔

    (صحیح البخاری : 137/1، ح 1010)

    قرآن و سنت سے وسیلے کی یہی تین قسمیں ثابت ہیں۔ اہل سنت و الجماعت کا انہی پر عمل رہا ہے اور مسلمانوں کو انہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔

    وسیلے کی ناجائز صورتیں :

    ان مذکورہ تین صورتوں کے علاوہ وسیلہ کی تمام قسمیں غیر مشروع، ناجائز اور بدعت ہیں۔ بعض صورتیں یہ ہیں کہ حاضر یا غائب، زندہ یا فوت شدہ کی ذات کا وسیلہ پیش کیا جائے یا صاحب قبر کو یہ کہا جائے کہ آپ میرے حق میں دعا اور سفارش کریں۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں یا آپ کی وفات کے بعد آپ کی ذات کا وسیلہ پیش نہیں کیا، سلف صالحین اور ائمہ محدثین سے بھی یہ قطعاً ثابت نہیں۔ پھر وسیلے کی ان ناجائز اور غیر مشروع صورتوں کو اپنانا، دین کیسے بن سکتا ہے؟

    وسیلے کی یہ صورتیں ایک تو اس وجہ سے غیر مشروع اور ناجائز و ممنوع ہیں کہ یہ بدعت ہیں، قرآن و حدیث میں ان کا کوئی ثبوت نہیں اور صحابہ کرام اور سلف صالحین کا ان پر عمل نہیں۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:

    مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.

    ’’جو آدمی کوئی ایسا کام کرے جس پر ہمارا امر نہ ہو، وہ مردود ہے۔‘‘

    (صحیح مسلم : 77/2، 1877/18)

    اسی سلسلے میں صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عباس کا فرمان بھی ملاحظہ فرماتے جائیے جو امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (م: 238 ھ ) نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے :

    أخبرنا عيسی بن يونس، نا ابن جريج، عن عطاء، قال : سمعت ابن عباس يقول : عجبا لترك الناس ھذا الإھلال، ولتكبير ھم ما بي، الا أن يكون التكبيرة حسنا، ولكن الشيطان ياتي الإنسان من قبل الإثم، فاذا عصم منه جاءه من نحو البر، ليدع سنة وليبتدي بدعة۔

    ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : لوگوں کے اس تلبیہ کو چھوڑ کر تکبیر کہنے پر تعجب ہے۔ میرے نزدیک تکبیر اچھی چیز ہے، لیکن شیطان انسان کے پاس گناہ کے دروازے سے آتا ہے۔ جب وہ اس داؤ سے بچ جائے تو وہ اس کے پاس نیکی کے دروازے سے آتا ہے، تاکہ وہ سنت کو چھوڑ کر بدعت کو اپنا لے۔“

    (مسند اسحاق بن راھویہ : 482، وسندہ صحیح)

    یاد رہے کہ امام ابن جریج رحمہ اللہ ’’مدلس ‘‘ ہیں، لیکن ان کی امام عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت سماع ہی پر محمول ہوتی ہے، اگرچہ وہ لفظوں میں سماع کی تصریح نہ بھی کریں۔

    وہ خود بیان کرتے ہیں :

    عطاء فانا سمعته منه، وان لم أقل سمعت

    ’’میں نے امام عطاء بن ابی رباح سے سنا ہوتا ہے، اگرچہ میں سننے کی صراحت نہ بھی کروں۔‘‘

    (تاريخ ابن أبي خيثمة : 242/2، 247، و سنده صحيح ) لہٰذا اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔ والحمدللہ !

    وسیلے کی ان صورتوں کے غیر مشروع اور ناجائز ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ غلوّ پر مبنی ہیں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:

    واياكم والغلو في الدين، فانما أھلك من قبلكم الغلو في الدين

    ”تم دین میں غلوّ کرنے سے بچے رہنا، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلوّ ہی نے ہلاک کر دیا تھا۔“

    (مسند الامام احمد: 215/1، سنن النسائي : 3059، سنن ابن ماجه: 3029، مسند ابي يعلي : 2427، المستدرك علي الصحيحين للحاكم : 466/1، وسنده صحيح )

    اس حدیث کو امام ابن الجارود (م : 473 ھ) ، امام ابن حبان (م : 3871 ھ) ، امام ابن خزیمہ (م : 2867 ھ) نے ’’صحیح ‘‘ اور امام حاکم نے اس کو امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ’’صحیح ‘‘ کہا ہے۔ حافظ ذہبی نے ان کی موافقت بھی کی ہے۔

    ہر بدعت کا منشاء دین میں غلوّ ہوتا ہے۔ غلوّ سے مراد یہ ہے کہ عبادات میں شریعت كي بيان کردہ حدود و قیود اور طریقہ ہائےکار پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ ان کی ادائیگی میں خودساختہ طریقوں کا اضافہ کر دیا جائے۔ چونکہ دین میں غلوّ ہلاکت و بربادی کا موجب ہے، لہٰذا عبادات کو بجا لانے کے سلسلے میں قرآن و سنت ہی پر اکتفا ضروری ہوتا ہے۔


    وسیلہ اور قرآن کریم :

    بعض لوگ وسیلے کی ان صورتوں کے قائل و فاعل ہیں جو کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ دیگر گمراہ کن عقائد کے حاملین کی طرح یہ لوگ بھی اپنے ہمنواؤں کو طفل تسلی دینے کے لیے اپنے دلائل قرآن کریم سے تراشنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اختیار کردہ صورتیں کتاب و سنت سے صریحاً متصادم ہیں۔ اصلاح احوال کی خاطر ان کی طرف سے دئیے جانے والے قرآنی دلائل کا علمی اور تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:

    دلیل نمبر ۱

    ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدہ 35:5 )

    ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔‘‘

    تبصرہ :

    باتفاقِ مفسرین اس آیت کریمہ میں وسیلے سے مراد ذاتی نیک اعمال کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے۔ بعض لوگوں کا اس سے فوت شدگان کے وسیلہ پر دلیل لینا قرآنِ مجید کی معنوی تحریف کے مترادف ہے۔ آئیے اب مفسرین کرام کے اقوال بالتفصیل ملاحظہ فرمائیں :

    امام المفسرین، علامہ ابوجعفر محمد بن جریر بن یزید طبری رحمہ اللہ (م : ۳۱۰ھ) لکھتے ہیں :

    ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ يقول : واطلبو القربة إليه بالعمل بما يرضيه، والوسيلة : ھي الفعيلة من قول القائل : توسلت إلي فلان بكذا، بمعني : تقربت إليه۔۔۔۔ وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أھل التاويل، ذكر من قال ذلك : حدثنا ابن بشار، قال : ثنا أبو أحمد الزبيدي، قال : ثنا سفيان،۔۔۔ عن منصور، عن أبي وائل : ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدہ 35:5 )، قال : القربة في الأعمال۔

    ” ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدہ 35:5 ) ”

    اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو“،

    یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کو راضی کرنے والے اعمال کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرو۔ وسیلہ توسل سے فعيلة کا وزن ہے جس کا معنی ہوتا ہے: کسی چیز کے ذریعے کسی ذات کا تقرب حاصل کرنا۔۔۔ وسیلے کے معنی و مفہوم کے بارے میں مفسرین کرام وہی کہتے ہیں جو کچھ ہم نے کہہ دیا ہے۔ ان کا تذکرہ ہم یہاں (اپنی سند سے) کیے دیتے ہیں۔ ہمیں محمد بن بشار (ثقہ،حافظ ) نے بتایا۔ انہیں ابواحمد زبیری (ثقہ،ثبت) نے اور انہیں امام سفیان ثوری (ثقہ،حجۃ، فقیہ،عابد) نے بیان کیا، وہ منصور (ثقہ،ثبت) کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ (ثقہ تابعی) امام ابووائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:

    ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ (المائدہ 35:5 ) ”

    اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو“

    کا مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرو۔“

    نحو و لغت اور عربی ادب کے امام، معروف مفسر، علامہ زمخشری (م : ۵۳۸ ھ) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

    الوسيلة : كل ما يتوسل به، أي، يتقرب من قراية أو صنيعة أو غير ذلك، فاستعيرت لما يتوسل به إلي الله تعالىٰ، من فعل الطاعات وترك المعاصى، وأنشد للبيد : أري الناس لا يدرون ما قدر أمرھم۔۔۔ ألاكل ذى لب إلي الله واسل

    ’’وسیلہ (لغوی معنی کے اعتبار سے) ہر وہ رشتہ داری یا عمل ہے جس کے ذریعے کسی کا قرب حاصل کیا جا سکے۔ پھر اس کا استعمال نیک اعمال کی بجا آوری اور معاصی سے اجتناب پر ہونے لگا اور اسی کے وسیلے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔ لبید کے ایک شعر کا مفہوم ہے: میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنی حیثیت کا احساس نہیں کرتے، ہر عقل مند کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہیے۔‘‘

    (الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل : 628/1 )

    مشہور مفسر و متکلم، فلسفی و اصولی،علامہ فخرالدین رازی (م : ۶۰۶ھ) فرماتے ہیں :

    وقال : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ، كأنه قيل : قد عرفتم كمال جسارة اليھود علی المعاصي والذنوب، وبعدھم عن الطاعات التي ھي الوسائل للعبد إلي الرب، فكونو ياأيّھاا المؤمنون ! بالضد من ذلك، وكونوا متقين عن معاصي الله، متوسلين إلي الله بطاعات الله۔

    ”فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

    ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾

    ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو“،

    یعنی مسلمانو! تم نے دیکھ لیا ہے کہ یہود معصیت و نافرمانی کے ارتکاب میں کس قدر جرأت سے کام لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری، جو کہ بندے کے لیے اپنے ربّ کے تقرب کا وسیلہ ہوتا ہے، سے کتنا دور تھے۔ تم اس کے بالکل برعکس ہو جانا، اللہ کی معصیت و نافرمانی سے بچنا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو وسیلہ بنا کر اس کا تقرب حاصل کرتے رہنا۔“

    (مفاتيح الغيب، المعروف بالتفسير الكبير : 348/11، 349)

    معروف مفسر، علامہ ابوالحسن،علی بن محمد، المعروف بہ خازن (م : ۷۴۱ھ) لکھتے ہیں :

    قوله تعالىٰ : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ﴾ أي خافو الله بترك المنھيات، ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ يعني : واطلبوا إليه القرب بطاعته والعمل بما يرضي، وانما قلنا ذلك، لأن مجامع التكاليف محصورة في نوعين، لا ثالث لھما، أحد النوعين : ترك المنھيات، وإليه الإشارة بقوله : ﴿اتَّقُوا اللَّـهَ﴾ ، والثاني : التقرب إلي الله تعالي بالطاعات، وإليه الإشارة بقوله: ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾

    ”فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ﴾ ”ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو“، یعنی اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کی تمام منع کردہ چیزوں سے رک جاؤ۔ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ”اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو“، یعنی اس کی فرمانبرداری اور خوشنودی والے اعمال کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرو۔ ہم نے یہ اس لیے کہا ہے کہ تمام شرعی پابندیاں آخر کار دو قسموں میں منقسم ہو جاتی ہیں۔ ایک قسم ممنوعات سے احتراز ہے، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور دوسری قسم احکامات الٰہی پر عمل کر کے اس کا تقرب حاصل کرنا ہے اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اس کا تقرب حاصل کرو۔“

    (لباب التأويل في معاني التنزيل : 38/2 )

    سنی مفسر، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م : ۷۷۴ ھ) لکھتے ہیں :

    وھذا الذي قاله ھولاء الأئمة، لا خلاف بين المفسرين

    ’’ان ائمہ دین نے جو فرمایا ہے، یہ مفسرین کرام کا اتفاقی فیصلہ ہے۔‘‘

    (تفسير ابن كثير 535/2)

    قارئین کرام ! یہ تھے امت مسلمہ کے معروف مفسرین جن کی زبانی آپ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر ملاحظہ فرما لی ہے۔سب نے بالاتفاق وسیلے سے ذاتی نیک اعمال مراد لیے ہیں۔ کسی بھی تفسیر میں اس آیت کریمہ سے دعا میں فوت شدگان کا وسیلہ دینے کا اثبات نہیں کیا گیا۔ حیرانی تو یہ ہے کہ ہمارے جو بھائی فروعی مسائل میں تقلید شخصی کے لازم ہونے کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہم ازخود قرآن وسنت کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے، وہی عقیدے کے اس مسئلے میں سب مفسرین کو ”بائی پاس“ کرتے ہوئے خود مفسر قرآن بن کر آیت مبارکہ کا ایسا بدعی اور خود ساختہ مفہوم لیتے ہیں جو اسلاف امت میں سے کسی نے بیان نہیں کیا۔

    ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ سے دعا میں فوت شدہ نیک لوگوں کی ذات یا اعمال کا وسیلہ پیش کرنے کا جواز قطعاً ثابت نہیں ہوتا، بلکہ یہ آیت تو علی الاعلان اس کی نفی کر رہی ہے، جیسا کہ :

    علامہ فخرالدین رازی (م : ۵۴۴۔ ۶۰۶ ھ) لکھتے ہیں :

    إنه تعالیٰ حكي عنھم، أنھم قالوا : ﴿نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ﴾ (المائدة 18:5) أي : نحن أبناء أنبياء الله، فكان افتخار ھم بأعمال آبائھم، فقال تعالیٰ : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ليكن مفاخرتكم بأعمالكم، لا بشرف آبائكم وأسلافكم، ﴿فاتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾۔

    ”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ : ﴿نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ﴾ (المائدة 18:5) ”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں“، یعنی یہود و نصاریٰ اس بات پر خوش ہوتے رہتے تھے کہ وہ انبیائے کرام کے بیٹے ہیں۔ وہ اپنے آباء و اجداد کے اعمال پر فخر کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایمان والو! اپنے آباء و اسلاف کے شرف پر فخر نہ کرو، بلکہ اپنے ذاتی اعمال ہی پر نظر رکھو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کا قرب تلاش کرو۔“

    (مفاتيح الغيب : 349/11)

    معلوم ہوا کہ نیک بزرگوں کی شخصیات اور اسلاف امت کے اعمال کو اپنی نجات کے لیے وسیلہ بنانا یہود و نصاریٰ کی روش تھی جسے ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، لیکن داد دیجیے اس جرأت کی کہ بعض لوگ آج اسی آیت کریمہ سے فوت شدہ صالحین کا توسل ثابت کر رہے ہیں۔ العیاذباللہ !

    دلیل نمبر ۲

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

    ﴿أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ (الإسراء 57:17 )

    ”یہ لوگ جنہیں مشرکین پکارتے ہیں، یہ تو اپنے ربّ کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔“

    امام المفسرین، علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ (م : ۲۲۴۔ ۳۱۰ھ) اس آیت کریمہ کی تفسیر یوں فرماتے ہیں :

    يقول تعالیٰ ذكره : ھؤلاء الّذين يدعوھم ھؤلاء المشركون أرباباً ﴿يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ ، يقول : يبتعي المدعوّون أرباباً إلي ربھم القربة والزلفة لأنّھم أھل إيمان به، والمشركون بالله يعبدونھم من دون الله

    ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن ( نیک ) لوگوں کو مشرکین اپنے ربّ سمجھے بیٹھے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں، یعنی وہ نیک لوگ اپنے ربّ کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ اللہ کے ساتھ ایمان لاتے ہیں،جبکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے غیراللہ کی عبادت کرتے ہیں۔‘‘

    (جامع البيان في تأويل القرآن : 471/17)

    علامہ ابواللیث نصر بن محمد بن احمد بن ابراہیم سمرقندی رحمہ اللہ (م : ۳۷۳ھ) لکھتے ہیں :

    ﴿يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ يقول : يطلبون إلي ربھم القربة والفضيلة والكرامة بالأعمال الصالحة

    ”یہ نیک لوگ اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں،یعنی وہ نیک اعمال کے ذریعے اپنے ربّ کا قرب، اس کے ہاں فضیلت اور کرامت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“

    (بحرالعلوم : 317/2 )

    معروف مفسر قرآن، حافظ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی فرماتے (م : ۶۷۱ھ) فرماتے ہیں :

    و ﴿يَبْتَغُونَ﴾ يطلبون من الله الزلفة والقربة، ويتضرعون إلي الله تعالیٰ في طلب الجنة، وھي الوسيلة

    ”وہ نیک لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے جنت کی طلب کے لیے بڑی گریہ و زاری سے کام لیتے هیں، یہی وسیلہ ہے۔“

    (الجامع لأحكام القرآن : 279/10 )

    علامہ ابوسعید عبداللہ بن عمر شیرازی بیضاوی (م : ۶۸۵ھ) لکھتے ہیں :

    ﴿أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ ، ھولاء الآلھة يبتغون إلي الله القرابة بالطاعة

    ”فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ ”یہ لوگ جنہیں مشرکین پکارتے ہیں، یہ تو اپنے ربّ کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں“، یعنی یہ نیک لوگ اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔“

    مشہور تفسیر ’’جلالین‘‘ میں اس آیت کی تفسیر یوں کی گئی ہے:

    يطلبون إلي ربھم الوسيلة، القربة بالطاعة

    ”وہ نیک لوگ (جنہیں مشرکین اپنے معبود سمجھے بیٹھے ہیں ) اپنے ربّ کی طرف وسیلہ بناتے ہیں، یعنی نیک اعمال کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں۔“

    (تفسير الجلالين : 372)

    علامہ ابوالقاسم محمود بن عمرو زمخشری (م : ۵۳۸ھ) کی طرف سے اس آیت کی تفسیر یہ ہے:

    ضمن يبتغون الوسيلة معني يحرصون، فكانه قيل : يحرصون أيھم يكون أقرب إلى الله، وذلك بالطاعة، وازدياد الخير والصلاح

    ”وسیلہ تلاش کرنے میں حرص و طمع کا معنی ہے، گویا کہ یوں کہا گیا ہے: وہ اس حرص میں ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل ہو جائے۔ اور یہ قرب اطاعت الٰہی اور خیر و بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھنے سے ملتا ہے۔“

    دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب (م : ۱۳۵۲ھ) کہتے ہیں :

    أما وقله تعالیٰ : ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ، فذلك وإن اقتضى ابتغاء واسطة، لكن لا حجة فيه على التوسل المعروف، بالأسماء فقط، وذھب ابن تيمية إلي تحريمه، وأجازه صاحب الدرالمختار، ولكن لم يأت بنقل عن السلف

    ”فرمانِ باری تعالیٰ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ اگرچہ کسی وسیلے کی تلاش کا متقاضی ہے لیکن اس آیت کریمہ میں ہمارے ہاں رائج ناموں کے توسل کی کوئی دلیل نہیں۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس کو حرام قرار دیتے ہیں،جبکہ صاحب درمختار نے اسے جائز قرار دیا ہے، البتہ انہوں نے اس بارے میں سلف سے کوئی روایت بیان نہیں کی۔“

    (فيض الباري : 434/3)

    جناب کشمیری صاحب کو اعتراف ہے کہ متاخرین احناف کا اختیار کردہ وسیلہ سلف سے منقول نہیں۔کسی ثقہ امام نے اس آیت کریمہ سے توسل بالاموات یا توسل بالذوات کا نظریہ ثابت نہیں کیا۔ قرآن مجید کی وہی تفسیر و تعبیر معتبر ہے جو سلف سے منقول ہے۔ اس کے علاوہ سب کچھ فضول ہے۔ صاحب درمختار کا سلف صالحین کی مخالفت میں اسے جائز قرار دینا درست نہیں۔

    اسلاف امت میں سے کسی نے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کبھی بھی کسی فوت شدہ شخصیت کا وسیلہ پیش نہیں کیا۔ لیکن آج بعض لوگ انہی کا نام لے کر اللہ تعالیٰ کو وسیلہ پیش کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی گنگا الٹی بہتی ہے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 23، 2016
  2. ‏دسمبر 23، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    دليل نمبر ۳

    ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ (النساء 64:4)

    ”اور (اےنبی !) اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو آپ کے پاس آئیں، پھر اللہ سے معافی مانگیں اور ان کے لیے اللہ کا رسول بھی معافی مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحیم پائیں گے۔“

    تبصرہ :

    اس آیت مبارکہ سے تو یہ ثابت ہو رہا ہےکہ گناہ گار لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ خود اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی کی سفارش کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا۔ ہم بتا چکے ہیں کہ زندہ لوگوں سے دعا کرانا تو مشروع وسیلہ ہے۔ اس میں کسی کو کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اس آیت کریمہ میں فوت شدگان کا وسیلہ پیش کرنے سے متعلق کوئی دلیل نہیں۔ یہ آیت کریمہ تو ہماری دلیل ہے جو وسیلہ کی مشروع صورت پر مبنی ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو وسیلہ ’’بالذوات و بالاموات ‘‘ کے قائل و فاعل ہیں۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا یہ معاملہ تو آپ کی زندگی تک محدود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی صحابہ، تابعی یا ثقہ امام نے آپ کی قبر مبارک پر آ کر آپ سے سفارش کرنے کی درخواست نہیں کی۔ صدیوں بعد بعض لوگوں نے یہ بدعت گھڑلی اور اس کے ثبوت پیش کرنے کے لیے قرآن کریم میں تحریف معنوی شروع کر دی۔

    ان کی کارروائی ملاحظہ ہو:

    (1) ابن حجر ہیتمی (م : ۹۰۹۔ ۹۷۴ ھ) اس آیت کے متعلق کہتے ہیں :

    دلت على حث الأمة على المجيء إليه صلى الله عليه وسلم، والاستغفار عنده والاستغفار لهم، وهذا لا ينقطع بموته، ودلت أيضا علي تعليق وجدانھم الله توابا رحيما بمجيئھم، واستغفار ھم، واستغفار الرسول لھم

    ”یہ آیت کریمہ امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے اور آپ کے پاس آ کر استغفار کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے منقطع نہیں ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ آپ کے پاس آئیں گے، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تو ہی اللہ ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم فرمائے گا۔“

    (الجوھر المنظم، ص : 12 )

    (2) حنفی مذہب کی معتبر ترین کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے آداب کے ضمن میں لکھا ہے:

    ويبلغه سلام من أوصاه، فيقول : السلام عليك يا رسول الله ! من فلان بن فلان، يستشفع بك إلی ربك، فاشفع له ولجميع المسليمن

    ” (قبرمبارک کی زیارت کےلیےآنےوالا) آپ کو سلام بھیجنے والے کا سلام پہنچاتے ہوئے کہے: یا رسول اللہ ! یہ فلاں بن فلاں کی طرف سے ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ کی سفارش کا طلب گار ہے۔ آپ اس کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے سفارش فرما دیجیے۔“

    (الفتاوي الھندية المعروف به فتاوي عالمگيري : 282/1، طبع مصر)

    (3) دارالعلوم دیوبند کے بانی جناب محمدقاسم نانوتوی (م : ۱۲۴۸۔ ۱۲۹۷ ھ) اس آیت کریمہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

    ”کیونکہ اس میں کسی کی تخصیص نہیں، آپ کے ہم عصر ہوں یا بعد کے امتی ہوں اور تخصیص ہو تو کیونکر ہو، آپ کا وجود تربیت تمام امت کے لیے یکساں رحمت ہے کہ پچھلے امیوں کا آپ کی خدمت میں آنا اور استغفار کرنا اور کرانا جب ہی متصور ہے کہ قبر میں زندہ ہوں۔“

    ( آب حیات، ص : 40)

    (4) جناب ظفر احمد عثمانی تھانوی دیوبندی (م : ۱۳۹ ھ) لکھتے ہیں :

    فثبت أن حكم الآية باق بعد وفاته صلي الله عليه وسلم

    ”ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی باقی ہے۔“

    (إعلاء السنن 330/10 )

    (5) علی بن عبدالکافی سبکی (م : ۶۸۳۔ ۷۵۶ھ) بھی لکھتے ہیں :

    ”کہ یہ آیت اس بارے میں صریح ہے۔“

    (شفاء السقام، ص : 128)

    (6) علی بن عبداللہ بن احمد سمہودی (م : ۸۴۴۔ ۹۱۱ ھ) نے لکھا ہے:

    والعلماء فھموا من الآية العموم بحالتي الموت والحياة، واستحبوا لمن أتي القبر أن يتلوھا ويستغفر الله تعالیٰ، وحكاية الأعرابي في ذلك تقلھا جماعة من الأئمة عن العتبي

    ”علماء نے اس آیت سے موت اور زندگی دونوں حالتوں کا عموم سمجھا ہے اور انہوں نے قبر مبارک پر جا کر اس آیت کی تلاوت کرنے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بدوی والی حکایت کو ائمہ کی ایک جماعت نے عتبي سےنقل کیا ہے۔“

    (وفاء الوفا: 411/2)

    سلف صالحین میں سے تو کوئی بھی ایسا نہیں کہتا، بعد کے لوگوں کی تفسیر، فہم دین میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔ سلف میں کون سے علماء نے اس آیت سے وفات نبوی کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرانے کا فہم لیا ہے؟

    علامہ سبکی نے بھی یہی بات کی تھی۔ ان کا ردّ کرتے ہوئے ان کے ایک ہم عصر عالم، حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ (م : ۷۰۴۔ ۷۴۴ ھ) فرماتے ہیں :

    من فھم ھذا من سلف الأمة وأئمة الإسلام، فاذكر لنا عن رجل واحد من الصحابة أو التابعين أو تابعي التابعين أو الأئمة الأربعة، أو غيرھم من الأئمة وأھل الحديث والتفسير أنه فھم العموم بالمعني الذي ذكرته، أو عمل به أو أرشد إليه، فدعواك علي العلماء بطريق العموم ھذا الفھم دعوي باطلة ظاھرة البطلان

    ”اسلاف امت اور ائمہ اسلام میں سے کس نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے؟ ہمیں صحابہ کرام، تابعین عطام، تبع تابعین، ائمہ اربعہ یا اہل حدیث و تفسیر میں سے کسی ایک شخص سے بھی دکھا دو کہ اس نے اس آیت سے وہ عموم سمجھا ہو جو تم نے ذکر کیا ہے یا اس نے اس پر عمل کیا ہو یا اس کی طرف رہنمائی کی ہو۔ تمہارا سارے علمائے کرام کے بارے میں اس آیت میں یہ عموم سمجھنے کا دعویٰ کرنا صریح باطل اور جھوٹا دعویٰ ہے۔“

    (الصارم المنكي في الرد علي السبكي، ص : 321)

    رہی بدوی والی حکایت تو اسے علمائے کرام نے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ذکر کیا ہے، نہ کہ حجت اور دلیل بنانے کے لیے۔ بہت سے علمائے کرام نے اس من گھڑت قصے کی قلعی کھولی ہے۔ اس کی حقیقت اسی مضمون میں واضح کر دی گئی ہے۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : ۶۶۱۔ ۷۲۸ ھ) اس بارے میں فرماتے ہیں :

    فدعا ھم سبحانه بعد ما فعلوه من النفاق إلي التوبة، وھذا من كمال رحمته بعباده يأمرھم قبل المعصية بالطاعة، وبعد المعصية بالاستغفار، وھو رحيم بھيم في كلا الأمرين۔۔۔ فأما مجيء الإنسان إلى الرسول عند قبره وقوله استغفر لي أو سل لي ربك، أو ادعو لي، أو قوله في مغيبه : يا رسول الله صلى الله عليه وسلم ادع لي، أو استغفر لي، أو سل لي ربك كذا وكذا، فهذا لا أصل له، ولم يأمر الله بذلك، ولا فعله واحد من سلف الأمة المعروفين في القرون الثلاثة، ولا كان ذلك معروفا بينهم ولو كان هذا مما يستحب لكان السلف يفعلون ذلك، ولكان ذلك معروفا فيهم بل مشهورا بينهم ومنقولا عنهم، فإن مثل هذا إذا كان طريقا إلى غفران السيئات وقضاء الحاجات لكان مما تتوفر الهمم والدواعي على فعله وعلى نقله، لا سيما فيمن كانوا أحرص الناس على الخير، فإذا لم يعرف أنهم كانوا يفعلون ذلك، ولا نقله أحد عنهم، علم أنه لم يكن مما يستحب ويؤمر به، بل المنقول الثابت عنه ما أمر الله به النبي صلي الله عليه وسلم من نھيه عن اتخاذ قبره عيدا ووثنا، وعن اتخاذ القبور مساجد

    ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نفاق چھوڑ کر توبہ کرنے کی دعوت دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ کمال رحمت ہے کہ گناہ سے پہلے اپنی اطاعت کا حکم دیتا ہے اور گناہ کے بعد معافی مانگنے کا۔ دونوں صورتوں میں اللہ اپنے بندوں کے لیے نہایت مشفق ہے۔۔۔کسی انسان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آنا اور کہنا کہ میرے لیے استغفار کریں، میرے لیے رب سے سوال کریں، میرے لیے دعا کریں، یا آپ کی غیر موجودگی میں اس کا کہنا کہ اللہ کے رسول ! میرے لیے دعا کیجیے، میرے لیے مغفرت مانگيے، میرے لیے اپنے رب سے فلاں فلاں سوال کیجیے۔ یہ ایسا کام ہےجس کی کوئی دلیل نہیں۔ قرون ثلاثه کے معروف اسلاف امت میں سےکسی نے ایسا کام نہیں کیا، نہ اس کام کو ان میں سے کوئی جانتا تھا۔ اگر یہ کام مستحب ہوتا تو سلف صالحین اس پر کاربند ہوتے اور یہ ان کے ہاں معروف و مشہور ہوتا اور ان سے منقول ہوتا۔ جب اس طرح کا کام گناہوں کی معافی اور حاجت روائی کا سبب ہو تو اس کو انجام دینے اور اس کو روایت کرنے کے اسباب و وسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں، خصوصاً ان لوگوں میں جو بھلائی کے کاموں کے بڑے حریص تھے۔ جب ان لوگوں سے ایسا کرنا معروف و منقول نہیں تو معلوم ہو گیا کہ یہ کام نہ مستحب ہے، نہ فرض۔ اس کے برعکس حکم الٰہی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قبر کو میلہ گاہ اور بت بنانے اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع کرنا ثابت ہے۔“

    (قاعدة في المحبة : 190/2، جامع الرسائل : 376، 375)

    نیز فرماتے ہیں :

    وأيضافإن طلب شفاعته ودعائه واستفاره بعد موته، وعند قبره ليس مشروعا عند أحد من أئمة المسلمين، ولا ذكر ھذا أحد من الأئمة الأربعة وأصحابھم القدماء

    ”پھر یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی قبر کے پاس آ کر سفارش، دعا اور استغفار طلب کرنا ائمہ مسلمین میں سے کسی کے ہاں جائز نہیں۔ ائمہ اربعہ اور ان کے متقدمین شاگردوں میں سے کسی نے اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔“

    (مجموع الفتاوي : 241/1)

    مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی صاحب (م : ۱۳۲۴۔۱۳۹۱ ھ) لکھتے ہیں :

    ”اس آیت میں ظلم، ظالم، زمان و مکان، کسی قسم کی قید نہیں۔ ہر قسم کا مجرم، ہر زمانے میں، خواہ کسی قسم کا جرم کر کے تمہارے آستانہ پر آ جاوے اور جاؤوك میں یہ قید نہیں کہ مدینہ مطہرہ میں ہی آئے، بلکہ ان کی طرف توجہ کرنا بھی ان کی بارگاہ میں حاضری ہے۔ اگر مدینہ پاک کی حاضری نصیب ہو جائے تو زہے نصیب۔۔۔“

    (نورالعرفان، ص : 138)

    مفتی صاحب نے کلام الٰہی کا ایسا مطلب و معد بیان کیا ہے جو سلف صالحین کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اپنی طرف سے کلام الٰہی کی تفسیر کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ مفتی صاحب کو نہ خوف الٰہی دامن گیر ہوا، نہ سلف کی مخالفت پر انہیں کوئی پشیمانی ہوئی، نہ ان کو دیانت علمی کا ذرا بھی احساس ہوا۔ کیا کیا جائے ؟ !!!

    اب آیت کریمہ کے متعلق ان لوگوں کی طرف سے شبہات کا تفصیلی جواب ذکر کیے دیتے ہیں تاکہ قارئین کو مفید معلومات فراہم ہو سکیں۔

    حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ (م : ۷۰۴۔۷۴۴ ھ) اسی بارے میں فرماتے ہیں :

    فأما استدلاله بقوله تعالى: ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ﴾ (النساء:4 : 64) الآية، فالكلام فيها في مقامين: أحدهما: عدم دلالتها على مطلوبه، الثانية: بيان دلالتها على نقيضه. وإنما يتبين الأمران بفهم الآية، وما أريد بها، وسيقت له، وما فهمه منها أعلم الأمة بالقرآن ومعانية، وهم سلف الأمة، ومن سلك سبيلهم. ولم يفهم منها أحد من السلف والخلف إلا المجيء إليه في حياته ليستغفر لهم، وقد ذم تعالى من تخلف عن هذا المجيء، إذ ظلم نفسه، وأخبر أنه من المنافقين، فقال تعالى: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ﴾ ( المنافقون: 63:5 ) . وكذلك هذه الآية إنما هي في المنافق الذي رضي بحكم كعب بن الأشرف وغيره من الطواغيت، دون حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فظلم نفسه بهذا أعظم ظلم، ثم لم يجيء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يستغفر له، فإن المجيء إليه يستغفر له توبة وتنصل من الذنوب، وهذه كانت عادة الصحابة معه صلى الله عليه وسلم أن أحدهم متى صدر منه ما يقتضي التوبة، جاء إليه، فقال: يا رسول الله ! فعلت كذا وكذا فاستغفر لي، وكان هذا فرقاً بينهم وبين المنافقين. فلما استأثر الله عز وجل بنبيه صلى الله عليه وسلم، ونقله من بين أظهرهم إلى دار كرامته، لم يكن أحد منهم قط يأتي إلى قبره ويقول: يا رسول الله فعلت كذا وكذا فاستغفر لي، ومن نقل هذا عن أحد منهم فقد جاهر بالكذب والبهت، وأفترى: علي الصحابة والتابعين – وهم خير القرون على الإطلاق- هذا الواجب الذي ذم الله سبحانه من تخلف عنه، وجعل التخلف عنه من أمارات النفاق، ووفق له من لا يؤبه له من الناس، ولا يعد في أهل العلم. فكيف أغفل هذا أئمة الإسلام وهداة الأنام من أهل الحديث والفقه والتفسير، ومن لهم لسان صدق في الأمة، فلم يدعوا إليه، ولم يحضوا عليه، ولم يرشدوا إليه، ولم يفعله إحد منهم ألبتة؟ بل المنقول الثابت عنهم ما قد عرف مما يسوء الغلاة فيما يكرهه وينهى عنه من الغلو والشرك الجفاة عما يحبه ويأمر به من التوحيد والعبودية. ولما كان هذا المنقول شجا في حلوق الغلاة، وقذى في عيونهم، وريبة في قلوبهم، قابلوه بالتكذيب والطعن في الناقل، ومن استحيا منهم من أهل العلم بالآثار قابله بالتحريف والتبديل. ويأبى الله إلا أن يعلي منار الحق، ويظهر أدلته ليهتدي المسترشد، وتقوم الحجة على المعاند فيعلي الله بالحق من يشاء، ويضع برده وبطره وغمص أهله من يشاء. ويا لله العجب أكان ظلم الأمة لأنفسها ونبيها بين أظهرها موجود، وقد دعيت فيه إلى المجيء إليه ليستغفر1 لها، وذم من تخلف عن المجيء، فلما توفي صلى الله عليه وسلم ارتفع ظلمها لأنفسها بحيث لا يحتاج أحد منهم إلى المجيء إليه ليستغفر له. وهذا يبين أن هذا التأويل الذي تأوله عليه المعترض هذه الآية تأويل بطال قطعاً، ولو كان حقاً لسبقونا إليه علماً وعملاً، وإرشاداً ونصيحة. ولا يجوز إحداث تأويل في آية أو سنة، لم يكن على عهد السلف، ولا عرفوه، ولا بينوه للأمة، فإنه يتضمن أنهم جهلوا الحق في هذا، وضلوا عنه، واهتدى إليه هذا المعترض المستأخر، فكيف إذا كان التأويل يخالف تأويلهم ويناقضه. وبطلان هذا التأويل أظهر من أن يطنب في رده، وإنما ننبه عليه بعض التنبيه. ومما يدل على بطلانه قطعاً: أنه لا يشك مسلم أن من دعي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في حياته، وقد ظلم نفسه ليستغفر له، فأعرض عن المجيء وأباه، مع قدرته عليه، كان مذموماً غاية الذم، مغموصاً بالنفاق. ولا كذلك من دعي إلى قبره ليستغفر له، ومن سوى بين الأمرين، وبين المدعوين، وبين الدعوتين، فقد جاهر بالباطل، وقال على الله وكلامه ورسوله وأمناء1 دينه غير الحق. وأما دلالة الآية على خلاف تأويله فهو أنه سبحانه صدرها بقوله: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ﴾ (النساء:64) وهذا يدل على أن مجيئهم إليه ليستغفر لهم إذ ظلموا أنفسهم طاعة له، ولهذا ذم من تخلف عن هذه الطاعة، ولم يقل مسلم قط إن على من ظلم نفسه بعد موته أن يذهب إلى قبره، ويسأله أن يستغفر له، ولو كان هذا طاعة له لكان خير القرون قد عصوا هذه الطاعة، وعطلوها، ووفق لهذا هؤلاء الغلاة العصاة، وهذا بخلاف قوله: ﴿فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ (النساء:65) فإنه نفى الإيمان عمن لم يحكمه، وتحكيمه هو تحكيم ما جاء به حياً وميتاً، ففي حياته كان هو الحكم بينهم بالوحي، وبعد وفاته نوابه وخلفاءه، يوضح ذلك أنه قال: ”لا تجعلوا قبري عيداً“ ولو كان يشرع لكل مذنب أن يأتي إلى قبره ليستغفر له لكان القبر أعظم أعياد المذنبين، وهذا مضادة صريحة لدينه، وما جاء به، والمعترض قرر ھذا التاويل علي تقدير حياة النبي صلى الله عليه وسلم وموته، وقد تبين بطلانه، ولو قدر أنه صلى الله عليه وسلم حي في قبره، مع أن ھٓذا التأويل الباطل إنما يتم به، وقله : إن من شفقته صلى الله عليه وسلم علي أمته أنه لا يترك الاستغفار لمن جاء من أمته، فھذا من أبين الأدلة علي بطلان ھذا التأويل، فإن ھذا لو كان مشروعا بعد موته لأمر به أمته و حضھم عليه ورغبھم فيه، ولكان الصحابة و تابعوھم بإحسان أرغب شيء فيه، وأسبق إليه. ولم ينقل عن أحد منهم قط، وهم القدوة، بنوع من أنواع الأسانيد أنه جاء إلى قبره ليستغفر له، ولا شكي إليه، ولا سأله. والذي صح عنه من الصحابة مجيء القبر للتسليم فقط، هو ابن عمر وحده، إنا كان يجيء للتسليم عليه صلى الله عليه وسلم وعلي صاحبيه عند قدومه من سفر، ولم يكن يزيد على التسليم شيئاً ألبتة، ومع هذا فقد قال عبيد الله بن عمر العمري، الذي هو أجل أصحاب نافع مولي ابن عمر، أو من أجلهم: لا نعلم أحداً من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فعل ذلك إلا ابن عمر.
    ومعلوم أنه لا هدي أكمل من هدي الصحابة، ولا تعظيم للرسول الله فوق تعظيمهم، ولا معرفة لقدرة فوق معرفتهم، فمن خالفهم إما أن يكون أهدى منهم، أو يكون مرتكباً لنوع من البدع، كما قال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه لقوم رآهم اجتمعوا على ذكر يقولونه: لأنتم أهدى من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم … أو أنتم على شعبة الضلال. فتبين أنه لو كان استغفاره لمن جاءه مستغفراً بعد موته ممكناً أو مشروعاً، لكان كمال شفقته ورحمته بل رأفة مرسله ورحمته بالأمة يقتضي ترغيبهم في ذلك، وحضهم عليه. ومبدرة خير القرون إليه، وأما قول المعترض : وأما الآية وإن وردت في أوقام معينين في حال الحياة، فإنھا تعم بعمو العلة فحق، فإنھا تعم ما وردت فيه، وكان مثله عامة في حق كل من ظلم نفسه وجاءه كذلك، وأما دلالتھا على المجيء إليه في قبره بعد موته فقد عرف بطلانه، وقوله : وكذلك فھ العلماء من الآية العموم في الحالتين، فيقال له : من فھم ھذا من سلف الأمة وأئمة الإسلام، فاذكر لنا عن رجل واحد من الصحابة أو التابعين، أو تابعي التابعين أو الأئمة الأربعة، أو غير ھم من الأئمة وأھل الحديث والتفسير أنه فھم العموم بالمعني الذي ذكرته، أو عمل به أو أرشد إليه، فدعواك على العلماء بطريق العموم ھذا الفھم دعوي باطلة ظاھرة البطلان .


    سورہ نساء کی آیت نمبر ۶۴ سے بھی سبکی نے استدلال کیا ہے۔ ہم اس بارے میں دو طرح کا تبصرہ کریں گے۔ ایک تو یہ کہ اس آیت سے اس کا مدعا ثابت نہیں ہوتا اور دوسرے یہ کہ یہ آیت اس کے مذہب کے خلاف ہے۔ یہ دونوں باتیں آیت کریمہ، اس کی صحیح تفسیر، سیاق کلام اور سلف اور ان کی پیروی کرنے والے لوگوں کے فہم پر غور کرنے سےبالکل واضح ہو جاتی ہیں۔

    اسلاف امت ہی قرآن کریم اور اس کے معانی کو ساری امت سے بڑھ کر سمجھتے تھے۔ سلف اور (ان کے متبعین ) خلف میں سے کسی نے اس آیت کریمہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ سے استغفار کرانے کے لیے آنے کے سوا کچھ نہیں سمجھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو گناہ کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آتا اور اسے منافق قرار دیا ہے۔

    فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

    ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ﴾ (المنافقون 63:5)

    ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں، تو وہ اعراض کرتے ہیں اور آپ انہیں تکبر سے منہ پھیرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔“

    زیرِ بحث آیت کریمہ بھی اسی مفہوم کی ہے۔ اس میں اس منافق کا تذکرہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو چھوڑ کر کعب بن اشرف اور دیگر طاغوتوں کے فیصلے پر راضی ہوا۔ یوں اس نے اپنی جان پر بہت بڑا ظلم کیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی نہیں آیا کہ آپ اس کے لیے استغفار کریں۔ آپ کی خدمت میں استغفار کرانے کے لیے حاضر ہو جانا توبہ کی قبولیت اور گناہوں کی معافی کا پروانہ تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہی عادت مبارکہ تھی۔ ان میں سے کسی سے جب کوئی ایسی لغزش صادر ہو جاتی جس پر توبہ ضروری ہوتی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کرتے: اللہ کے رسول ! میں فلاں فلاں غلطی کا مرتکب ہو گیا ہوں، لہٰذا میرے لیے استغفار کیجیے۔ صحابہ کرام اور منافقین میں یہی بات فرق کرتی تھی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فوت کیا اور مؤمنوں کی رفاقت سے نکال کر اپنے دارِ کرامت میں منتقل کر لیا تو کوئی بھی صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نہیں آتا تھا اور یہ نہیں کہتا تھا کہ اللہ کے رسول ! مجھ سے فلاں گناہ سرزد ہو گیا ہے، لہٰذا میرے لیے اللہ سے معافی کی درخواست کریں۔

    جو شخص کسی صحابی سے کوئی ایسی روایت نقل کرتا ہے، وہ صریح طور پر جھوٹا اور واضح طور پر بہتان تراش ہے۔ (جب ایسی کوئی روایت موجود نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی آپ سے استغفار طلب کرنے والے) نے مطلق طور پر خیرالقرون قرار پانے والے تمام صحابہ کرام، تابعین عطام اور تبع تابعین پر (نفاق کا) جھوٹا الزام لگایا ہے کہ وہ اس فرض کو ترک کیے ہوئے تھے جس سے پیچھے رہنے والوں کی اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے اور جس سے پیچھے رہنے کو نفاق کی علامت بتایا ہے۔

    محدثین، فقہاء اور مفسرین ائمہ دین جو کہ پوری دنیا کے رہنما تھے اور جن کا تذکرہ خیر پوری امت کرتی ہے، وہ اس فرض سے کیونکر غافل رہے؟ انہوں نے نہ اس کی طرف دعوت دی، نہ لوگوں کو اس کی ترغیب دی، نہ اس کی طرف رہنمائی کی، نہ ان میں سے کبھی کسی نے ایسا کوئی کام کیا۔ کیا اس فرض کی ادائیگی ان لوگوں نے کی، جن کی کوئی اہمیت نہیں، نہ وہ اہل علم میں شمار کیے جاتے ہیں ؟ اسلاف امت سے تو وہی باتیں منقول ہیں جو غالی لوگوں کو بری لگتی ہیں، یعنی غلو اور شرک سے ممانعت اور توحید و عبودیت کی دعوت۔ جب یہ مرویات سلف غالی لوگوں کے حلق کا کانٹا، ان کی آنکھ کا تنکا اور ان کے دل کا روگ بن جاتی ہیں تو وہ انہیں جھٹلانا اور ان کے راویوں میں طعن کرنا شروع کر دیتے ہیں، نیز علم حدیث میں درک رکھنے والوں سے جب ان کا پالا پڑتا ہے توو ہ تحریف سے کام لینے لگتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ منارہ حق ہی کو بلند رکھتا ہے تاکہ راہِ حق کے متلاشیوں کو ہدایت مل سکے اور دشمنانِ حق پر حجت قائم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، حق کی پیروی کرنے پر بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے، حق کو ٹھکرانے، تکبر کرنے اور اہل حق کو حقیر جاننے کی بنا پر رسوا کر دیتا ہے۔

    یہ تو بہت تعجب خیز بات ہے کہ امت اپنی جانوں پر ظلم صرف اسی وقت کرتی تھی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس موجود تھے اور اسی وقت انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا حکم دیا گیا اور آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہونے والوں کو سخت وعید سنائی گئی لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو امت کے ظلم ختم ہو گئے اور اب ان میں سے کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کی ضرورت نہ رہی ؟؟؟

    اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سبکی کی کی طرف سے کی گئی آیت کریمہ کی تفسیر یقیناً باطل ہے۔ اگر یہ تفسیر حق ہوتی تو صحابہ و تابعین اور ائمہ دین اس کے علم و عمل اور تبلیغ و نصیحت میں ہم سے بہت آگے ہوتے (یعنی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبر نبوی پر حاضر ہو کر اپنے لیے استغفار کی درخواست کرتے، لیکن ان سے ایسا کچھ منقول نہیں ) ۔ کسی آیت یا حدیث کی کوئی ایسی تفسیر ایجاد کرنا جائز نہیں جو سلف کے دور میں نہیں ہوئی، نہ ان کے علم میں آئی اور نہ انہوں نے امت کے لیے اس تفسیر کو بیان کیا۔ ایسی تفسیر کرنے سے تو یہ لازم آتا ہے کہ اسلاف امت حق سے جاہل اور بھٹکے رہے، جبکہ حق کا علم اس بعد والے معترض کو ہو گیا!!! جب بعد والوں کی تفسیر اسلاف کی تفسیر کے معارض و مخالف ہو اور اس کا بطلان بغیر لمبی چوڑی بحث و تمحیص کے نہایت واضح ہو تو مذکورہ صورت ہی لازم آتی ہے۔ ہم اس پر کچھ مزید تنبیہات کریں گے۔۔۔

    یہ بات بھی سبکی کی تفسیر کو قطعی طور پر باطل قرار دیتی ہے کہ ہر مسلمان کو یقینی طور پر معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرانے کی دعوت دی گئی لیکن اس نے باوجود قدرت کے آنے سے اعراض کیا، وہ انتہائی مذموم شخص ہے اور اسے منافق قرار دیا جائے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اگر کسی شخص کو آپ کی قبر کے پاس آ کر استغفار کی درخواست کرنے کی دعوت دی جائے اور وہ اسے ٹھکرا دے، تو اس پر یہ حکم نہیں لگے گا۔ جو ان دونوں معاملوں، دونوں شخصوں اور دونوں دعوتوں کا ایک ہی حکم بیان کرے گا، وہ باطل کا علمبردار ہو گا اور اللہ تعالیٰ، اس کے کلام، اس کے رسول اور اس کے دین کے محافظوں پر جھوٹ باندھنے کا مرتکب ہو گا۔۔۔

    اب ہم بتاتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ سبکی کی تفسیر کی مخالفت کیسے کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا آغاز یوں فرمایا کہ :

    ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ﴾ (النساء 64:4)

    ”ہم نے ہر رسول کو اس لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے کے بعد آپ کے پاس آ جائیں۔۔۔“

    اس سے معلوم ہوا کہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا اطاعت نبوی کا نام ہے، اسی لیے اس اطاعت کی طرف نہ آنے والے کی مذمت کی گئی۔ جبکہ آج تک کسی مسلمان نے یہ نہیں کہا کہ گناہگار پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی قبر پر حاضر ہونا اور اپنے لیے استغفار کی درخواست کرنا فرض ہے۔ اگر یہ اطاعت نبوی پر مبنی کام ہے تو بہترین زمانوں والے مسلمان (صحابہ وتابعین وتبع تابعین ) کیا اس حکم کی نافرمانی کرتے رہے؟ اور کیا اس حکم کی بجاآوری ان غالیوں اور نافرمانوں نے کی ؟

    یہ بات تو اس فرمان باری تعالیٰ کے بھی خلاف ہے کہ :

    ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء 65:4)

    ”آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ اس وقت تک ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے جھگڑوں کا فیصلہ لے کر آپ کے پاس نہ آ جائیں“۔

    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے ایمان کی نفی کر دی ہے جو فیصلے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس نہیں آتا۔ یہ فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی آپ ہی سے کرایا جائے گا اور آپ کی وفات کے بعد بھی۔ آپ کی حیات مبارکہ میں آپ وحئ الٰہی کی روشنی میں خود فیصلہ فرماتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے نائبین اور خلفاء یہ کام کرنے لگے۔ پھر اس کی مزید وضاحت اس فرمانِ نبوی سے ہوتی ہے کہ میری قبر کو میلہ گاہ مت بنانا

    (مسند احمد 367/2، سنن ابي داود 2041، وسنده حسن)۔

    اگر ہر گناہگار کے لیے استغفار کی خاطر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر مبارک پر جانا مشروع ہو تو وہ گناہگاروں کی سب سے بڑی میلہ گاہ بن جائے گی اور یہ سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور تعلیمات کے سراسر خلاف ہو گا۔

    سبکی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کا تعلق آپ کی حیات و وفات دونوں حالتوں سے ہے۔

    اس تفسیر کا باطل ہونا تو نہایت واضح ہو چکا ہے۔ سبکی کی تفسیر کا تقاضا یہ ہے اور ان کے ایک دوسرے قول کا مطلب بھی یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں (دنیاوی زندگی کے ساتھ ) زندہ ہیں۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو خود یہی بات اس کی تفسیر کو ردّ کرنے کے لیے کافی ہے۔

    وہ اس طرح کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کی درخواست کرنا شریعت میں جائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اس کا حکم فرماتے اور ان کو اس کی ترغیب دیتے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے سچے متبعین سب بڑھ کر اس کی طرف رغبت اور سبقت کرتے۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، ان میں سےکسی ایک سے بھی کسی ضعیف سند کے ساتھ بھی یہ منقول نہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر استغفار طلب کرنے، شکایت کرنے یا کچھ مانگنے آئے ہوں۔

    صحابہ میں سے صرف سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آنا ثابت ہے اور وہ بھی صرف سفر سے واپسی پر آپ کو اور آپ کے صاحبین ( ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو سلام کہنے کے لیے آتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ قطعاً کچھ بھی نہیں کرتے تھے۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع کے سب عظیم شاگرد عبیداللہ بن عمر العمری ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سوائے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے، کسی بھی صحابی کو نہیں جانتے جو ایسا کرتا ہو۔ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ صحابہ کرام کا طریقہ کامل ترین طریقہ ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تعظیم انہوں نے کی، اس سے بڑھ کر کوئی تعظیم کر ہی نہیں سکتا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و قیمت کو صحابہ کرام سے بڑھ کر کوئی نہیں پہچان سکتا۔

    جو شخص صحابہ کرام کی مخالفت کرے گا، وہ یا تو ( نعوذباللہ ) ان سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہو گا ( اور ایسا ممکن ہی نہیں ) یا پھر ایک بدعت کا مرتکب ہو گا (اور یقیناً ایسا ہی ہو گا)۔

    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو ایک جگہ جمع دیکھا، وہ باہم مل کر ایک ذکر کر رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر انہوں نے فرمایا: یا تو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہو یا پھر ایک گمراہی کے مرتکب ہو

    (مسند الدارمي 68/1، 69، وفي نسخة بتحقيق حسين سليم اسد : 286/1، 287، وسنده حسن)۔

    اس سے معلوم ہوا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبر مبارک پر آنے والے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کرنا ممکن ہوتا یا شریعت میں اس کا جواز ہوتا تو آپ کی کمال شفقت و رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے والے اللہ کی رحمت و رافت اس چیز کی متقاضی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں اپنی امت کو ترغیب دیتے اور خیرالقرون کے لوگ اس میں سبقت کرتے۔

    سبکی کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں كچھ خاص لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی لیکن یہ آیت اپنی علت کے اعتبار سے عام ہے۔۔۔

    تو یہ بات درست ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ جو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں گناہ کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استغفار کی درخواست لے کر حاضر ہوا، اس کی توبہ قبول کر لی گئی۔ رہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبر مبارک پر آنے کی، تو اس کا بطلان ہماری گزشتہ معروضات سے معلوم ہو چکا ہے۔

    سبکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آیت کریمہ سے علمائے کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات و وفات دونوں حالتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار طلب کرنے کا عموم سمجھا ہے۔

    ہمارا اس سے سوال ہے کہ اسلاف امت اور ائمہ اسلام میں سے کس نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے؟ ہمیں صحابہ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین، ائمہ اربعہ یا اہل حدیث و تفسیر میں سے کسی ایک شخص سے بھی دکھا دو کہ اس نےاس آیت سے وہ عموم سمجھا ہو جو تم نے ذکر کیا ہے یا اس نے اس پر عمل کیا ہو یا اس کی طرف رہنمائی کی ہو۔ تمہارا سارے علمائے کرام کے بارے میں اس آیت سے یہ عموم سمجھنے کا دعویٰ صریح باطل اور جھوٹا دعویٰ ہے۔۔۔

    (الصارم المنكي في الرد علي السبكي، ص : 317۔321)

    اس آیت کریمہ کے متعلق ہم علامہ فہامہ، محمد بشیر سہسوانی ہندی رحمہ اللہ (م : ۱۲۵۲۔۱۳۲۶ ھ) کی فیصلہ کن گفتگو پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ ایک شخص احمد بن زینی دحلان (م : ۱۳۰۴ ھ) نے اسی مسئلے پر الدررالسنية في الرد علي الوھابيةنامی ایک رسالہ لکھا تھا، علامہ موصوف نے اس کا بھرپور علمی ردّ کیا۔ اسی ضمن میں لکھتے ہیں :

    أقول: في هذا الاستدلال فساد من وجوه:
    الأول : إن قوله : دلت الآية على حث الأمة على المجيء إليه صلى الله عليه وسلم، ماذا أراد به ؟ إن أراد حث جميع الأمة فغير مسلم، فإن الآية وردت في قوم معينين كما سيأتي، وليس هناك لفظ عام حتى يقال : العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المورد، بل الألفاظ الدالة على الأمة الواقعة في هذه الآية كلها ضمائر، وقد ثبت في مقره أن الضمائر لا عموم لها، ولذا لم يتشبث أحد من المستدلين بهذه الآية على القربة من التقي السبكي والقسطلاني وابن حجر المكي بعموم اللفظ، حتى إن صاحب الرسالة أيضاً لم يذكره. وأما ما قال صاحب الرسالة تبعاً للتقي السبكي والقسطلاني وابن حجر المكي من أن الآية تعم بعموم العلة، ففيه أنه على هذا التقدير لا يكون الدليل كتاب الله بل القياس، وقد فرض أن الدليل كتاب الله، على أن المعتبر عند من يقول بحجة القياس قياس المجتهد الذي سلم اجتهاده الجامع للشروط المعتبرة فيه المذكورة في علم الأصول، وتحقق كلا الأمرين فيما نحن فيه ممنوع، كيف وصاحب الرسالة من المقلدين، والمقلد لا يكون من أهل الاجتهاد، مع أن الاجتهاد عند المقلدين قد انقطع بعد الأئمة الأربعة، بل المقلد لا يصلح لأن يستدل بواحد من الأدلة الشرعية، وما له وللدليل ؟ فإن منصبه قبول قول الغير بلا دليل، فذكرُ صاحب الرسالة الأدلة الشرعية هناك خلاف منصبه، وإن أراد حث بعض الامة فلا يتم التقريب.
    و الثاني : أن صاحب الرسالة جعل المجيء إليه صلى الله عليه وسلم الوارد في الآية عاماً شاملاً للمجيء إليه صلى الله عليه وسلم في حياته، وللمجيء إلى قبره صلى الله عليه وسلم بعد مماته، ولم يدر أن اللفظ العام لا يتناول إلا ما كان من أفراده، والمجيء إلى قبر الرجل ليس من أفراد المجي ء إلى الرجل، لا لغة ولا شرعا ولا عرفا، فإن المجي إلي الرجل ليس معناه إلا المجيء إلى عين الرجل، ولا يفهم منه أصلاً أمر زائد على هذا، فإن ادعى مدع فهم ذلك الأمر الزائد من هذا اللفظ، فنقول له: هل يفهم منه كل أمر زائد، أو كل أمر زائد يصح إضافته إلى الرجل، أو الأمر الخاص أي القبر ؟ والشق الأول مما لا يقول به أحد من العقلاء. فإن اختير الشق الثاني يقال: يلزم على قولك الفاسد أن يطلق المجيء إلى الرجل على المجيء إلى بيت الرجل وإلى أزواجه، وإلى أولاده، وإلى أصحابه، وإلى عشيرته، وإلى أقاربه، وإلى قومه، وإلى أتباعه، وإلى أمته، وإلى مولده، وإلى مجالسه، وإلى آباره، وإلى بساتينه، وإلى مسجده، وإلى بلده، وإلى سككه، وإلى دياره، وإلى مهجره، وهذا لا يلتزمه إلا جاهل غبي، وإن التزمه أحد فيلزمه أن يلتزم أن الآية دالة على قربة المجيء إلى الأشياء المذكورة كلها، وهذا من أبطل الأباطيل. وإن اختير الشق الثالث فيقال: ما الدليل على هذا الفهم ؟ ولن تجد عليه دليلاً من اللغة والعرف والشرع، أما ترى أن أحداً من الموافقين والمخالفين لا يقول في قبر غير قبر النبي صلى الله عليه وسلم إذا جاءه أحد أنه جاء ذلك الرجل، ولا يفهم أحد من العقلاء من هذا القول أنه جاء قبر ذلك الرجل. فتحصل من هذا أن المجيء إلى الرجل أمر، والمجيء إلى قبر الرجل أمر آخر، كما أن المجيء إلى الرجل أمر، والمجيء إلى الأمور المذكورة أمور أخر، ليس أحدها فرداً للآخر. إذا تقرر هذا فالقول بشمول المجيء إلى الرسول: المجيء إلى الرسول والمجيء إلى قبر الرسول، كالقول بشمول الإنسان الإنسان والفرس، وهذا هو تقسيم الشيء إلى نفسه وإلى غيره، وهو باطل بإجماع العقلاء، وهكذا جعل الاستغفار عنده عاماً شاملاً للاستغفار عند القبر بعد مماته، مع أن الاستغفار عند قبره ليس من أفراد الاستغفار عنده. فإن قلت: لا نقول إن المجيء إليه صلى الله عليه وسلم شامل للمجيء إليه في حياته وللمجيء إلى قبره بعد مماته حتى يرد ما أوردتم، بل نقول إن المجيء إليه شامل للمجيء إليه في حياته الدنيوية المعهودة والمجيء إليه في حياته البرزخية، ولما كان المجيء إليه في حياته البرزخية مستلزماً للمجيء إلى قبره ثبت من الآية المجيء إلى قبره صلى الله عليه وسلم الذي هو المسمى بزيارة القبر. قلنا: لا سبيل إلى إثبات الحياة البرزخية من لغة ولا عرف، فلا يفهم من هذا اللفظ – بحروف اللغة والعرف – إلا المجيء إليه في حياته الدنيوية المعهودة، فلا يكون المجيء إليه في حياته البرزخية فرداً للمجيء إليه بحسب اللغة والعرف، إنما تثبت الحياة البرزخية ببيان الشرع، لكن يبقى الكلام في أن كون المجيء إليه في حياته البرزخية فرداً من المجيء إليه هل يثبت من الشرع أم لا ؟ وعلى مدعي الثبوت البيان .


    سبکی نے قبر نبوی پر جا کر استغفار طلبی کے لیے قرآن کریم کی سوره نساء کی ایک آیت (۶۴) سے استدلال کیا ہے،

    لیکن یہ استدلال کئی وجہ سے غلط ہے۔

    (1) سبکی نے کہا ہے کہ اس آیت میں امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نہ جانے لفظ امت سے ان کی کیا مراد ہے؟ اگر انہوں نے ساری امت مراد لی ہے تو یہ ناقابل تسلیم بات ہے کیونکہ یہ آیت تو مخصوص لوگوں کے لیے نازل ہوئی تھی اور اس میں کوئی ایسا عام لفظ بھی نہیں جس کے پیش نظر یہ کہا جا سکے کہ خاص سبب نزول کا نہیں، بلکہ لفظ کی عمومیت کا اعتبار ہو گا۔

    اس آیت کریمہ میں امت پر دلیل بننے والے جتنے بھی الفاظ ہیں، وہ سب ضمیریں ہیں اور خود باقرارِ سبکی یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ ضمیروں میں عموم نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت سے استدلال کرنے والوں، مثلاً تقی سبکی، قسطلانی اور ابن حجر مکی، میں سے کسی نے بھی لفظ کی عمومیت کو دلیل نہیں بنایا، حتی کہ اس صاحب رسالہ (ابن دحلان) نے بھی اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ البتہ اس نے سبکی، قسطلانی اور ابن حجر مکی کی نقالی میں یہ کہا ہے کہ
    اس آیت کا حکم اپنی علت کے عام ہونے کی وجہ سے عام ہے۔

    لیکن اس صورت میں اس کی دلیل قرآن کریم نہیں، بلکہ ذاتی قیاس ہے۔ اس نے سمجھ یہ رکھا ہے کہ اس کی دلیل قرآن کریم ہے، حالانکہ قیاس کی حجیت کے قائل لوگوں کے نزدیک وہ قیاس معتبر ہے جو ایک تو نصوصِ شرعیہ کے خلاف نہ ہو، دوسرے اس میں وہ تمام معتبر شرائط موجود ہوں جو کتب علم اصول میں مذکور ہیں۔ یہ قیاس ان دونوں باتوں پر پورا نہیں اترتا۔

    اس کی بڑی واضح دلیل یہ ہے کہ ابن دحلان مقلد ہے اور مقلد اجتہاد کر ہی نہیں سکتا ۔ پھر مقلدین کے نزدیک ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمدبن حنبل) کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ مقلد کے لیے شرعی دلائل سے استدلال کرنا جائز ہی نہیں۔ مقلد کا دلیل سے کیا واسطہ ؟ اس کا کام تو بس کسی امتی کے قول کو بلا دلیل تسلیم کرنا ہے۔ صاحب رسالہ کا منصب اس کو شرعی دلائل سے استدلال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بات تو اس وقت ہے جب وہ اس آیت سے ساری امت مراد لے۔ اگر وہ کہے کہ اس آیت میں بعض امت مراد ہے، تو اس کا مقصود پورا ہی نہیں ہوتا۔

    (2) ابن دحلان نے مذکورہ آیت کریمہ میں :

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کو عام قرار دیا ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں آنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آنا، دونوں کو شامل کیا ہے۔

    اس کی سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آ سکی کوئی بھی عام لفظ صرف اور صرف ان چیزوں کے لیے عام ہوتا ہے جو اس لفظ کے تحت داخل ہوتی ہیں۔ کسی شخص کی قبر پر آنا لغوی، شرعی اور عرفی کسی بھی طور پر اس شخص کے پاس آنے کے مترادف نہیں ہے۔ کسی کے پاس آنے کا مطلب صرف اور صرف اس کی ذات کے پاس آنا ہوتا ہے۔ اس سے زائد کچھ سمجھنا قطعاً غلط ہے۔

    اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اس سے زائد بھی کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔

    تو ہمارا اس سے سوال ہے کہ اس لفظ میں ہر زائد چیز شامل ہو گی یا وہ ہر زائد چیز جس کا تعلق اس شخص سے ہو گا یا صرف قبر ہی ؟

    پہلی بات، یعنی ہر زائد چیز کو عموم میں شامل کرنے کے بارے میں کوئی ذی شعور آدمی نہیں کہہ سکتا۔ اگر دوسری بات اختیار کی جائے، یعنی اس شخص سے تعلق رکھنے والی تمام چیزیں اس عموم میں شامل ہیں، تو اس فاسد قول سے یہ لازم آئے گا کہ کسی کے گھر آنے سے، اس کی بیوی کے پاس آنے سے، اس کی اولاد کے پاس آنے سے، اس کے دوستوں کے پاس آنے سے، اس کے خاندان کے پاس آنے سے، اس کے رشتہ داروں کے پاس آنے سے، اس کی قوم کے پاس آنے سے، اس کے پیروکاروں کے پاس آنے سے، اس کی امت کے پاس آنے سے، اس کی جائے پیدائش پر آنے سے، اس کی نشست گاہوں پر آنے سے، اس کے کنوؤں پر آنے سے، اس کے باغات میں آنے سے، اس کی مسجد میں آنے سے، اس کے علاقے، اس کی گلیوں اور اس کے محلوں میں آنے سے اور اس کی ہجرت گاہ میں آنے سے، اس کی ذات کے پاس آنا مراد ہے۔ ایسی بات تو کوئی جاہل اور بددماغ ہی کر سکتا ہے۔

    اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس آنا، آپ کی ذات کے پاس آنے کے مترادف ہے۔

    تو اسے یہ بھی کہنا پڑے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والی مذکورہ چیزوں کے پاس آنا بھی آپ ہی کے پاس آنا ہے اور یہ ابطل الاباطتل ہے۔

    اگر وہ شخص کہے کہ میں تیسری چیز کو اختیار کرتا ہوں، یعنی میں صرف قبر مبارک پر آنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے پاس آنے کے مترادف سمجھتا ہوں۔

    تو اس سے پوچھا جائے گا: تمہارے پاس اس فہم کی کیا دلیل ہے؟ اس پر آپ کو لغت، عرف اور شریعت سے کوئی دلیل نہیں ملے گی۔ اس موقف کے موافقین و مخالفین میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ کسی امتی کی قبر پر جانے سے مراد صاحب قبر کے پاس جانا ہے۔ کوئی عاقل کسی کی قبر پر جانے کو صاحب قبر کے پاس جانا نہیں سمجھتا۔

    اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کسی شخص کے پاس جانے اور اس سے تعلق رکھنے والی ان مذکورہ چیزوں کے پاس جانے میں فرق ہے، اسی طرح کسی شخص کے پاس جانا اور بات ہے، جبکہ اس کی قبر پر جانا اور بات۔ ان میں کوئی بھی چیز دوسری چیز کا مترادف نہیں۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے اور آپ کی قبر پر آنے، دونوں کو شامل کرنا گویا انسان میں انسان اور گھوڑے، دونوں کو شامل کرنا ہے۔ اس سے تو کسی چیز کو اپنے اور غیر میں تقسیم کرنا لازم آتا ہے۔ عقل مندوں کے ہاں ایسا کرنا باطل ہے۔ یہی کام ابن دحلان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر استغفار کرنا، آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کی ذات کے پاس آنے اور آپ کی وفات کے بعد قبر مبارک کے پاس آنے، دونوں صورتوں کو شامل کر دیا ہے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس استغفار کرنا، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر استغفار کرنے کے مترادف نہیں۔

    اگر یہ لوگ کہیں کہ ہم یہ اعتراض لازم ہی نہیں آنے دیتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ کے پاس آنے سے مراد آپ کی حیات مبارکہ میں آنا اور آپ کی وفات کے بعد آنا ہے، بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ آپ کے پاس آنے سے مراد آپ کی دنیوی زندگی میں آنا اور آپ کی برزخی زندگی میں آنا ہے۔ جب برزخی زندگی میں آپ کے پاس آنا اسی صورت ممکن ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آئیں، یعنی زیارت قبر نبوی کریں، تو اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر استغفار کرنا جائز ہے۔۔۔

    تو ہم عرض کریں گے کہ لغت و عرف کے اعتبار سے آیت کریمہ یہی بتاتی ہے کہ اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی ہی میں آنا ہے۔ کیونکہ لغت و عرف کسی بھی اعتبار سے برزخی زندگی میں آپ کی قبر مبارک کے پاس آنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے مترادف نہیں۔ برزخی زندگی تو شریعت کے بیان کرنے سے ثابت ہو گئی، البتہ یہ بات باقی رہ گئی کہ شریعت میں اس برزخی زندگی میں آنا، دنیوی زندگی میں آنے کے مترادف ہے کہ نہیں ؟ اور اس کا ثبوت مدعی ہی کے ذمے ہے۔۔۔ ‘‘

    (صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان، ص:28۔31)


    اس طویل بحث سے ثابت ہوا کہ بعض لوگوں کا آیت کریمہ سے اپنا من مانا مفہوم نکالنا باطل ہے۔ قبر رسول پر جا کر معافی کی درخواست کرنا بدعت ہے۔ اگر یہ دین ہوتا تو سلف صالحین ضرور اس کو اختیار کرتے، کیونکہ وہ خیر و بھلائی کے بڑے حریص تھے۔ باقی علمائے کرام نے اس آیت کے تحت جو حکایات و روایات ذکر کی ہیں، وہ مستند نہیں ہیں ملاحظہ کیجیے یہ تحریر۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں