1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وقت نماز فجر، احناف اور رمضان

'اوقات' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏اگست 21، 2012۔

  1. ‏اگست 22، 2013 #31
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    جناب لگتا اس مسجد کے امام آپ ہی ہوں جو اتنے بڑے جمپ لگا دیتے ہیں ۔
    جناب فجر کی نماز کس اہل حدیث مسجد میں مختصر ہوتی الا جہاں قاری ، حافظ نا ہو ۔الحمد للہ اہل حدیث مساجد میں نماز فجر میں لمبی قراءت کی جاتی ہے ۔
    جناب آپ کی سب سے نا پسندیدہ جماعت کے لاہور مرکز میں تراویح 12 بجے ختم ہوتی تھی۔
    لیکن آپ کی پسندیدہ جماعت تحریک طالبان جو کے حنفی ہیں وہ تو بس مسجدوں میں دھماکے کرنا جانتے ہیں انہیں کیا پتا فجر کی نماز جلدی پڑھنا افضل ہے یا تاخیر سے۔اور تراویح بھی 20 پڑھتے ہیں جوسنت نہیں ہے اس پر تو آپ کو کوئی حق کی بات نظر نہیں آتی ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 22، 2013 #32
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    جواب کے لیے یاد دہانی
     
  3. ‏اگست 22، 2013 #33
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    میرے خیال میں اس طرح کا طرز گفتگو درست نہیں ہے ، خود ہی اپنی اداوں پر غور کیجیے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 22، 2013 #34
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    بھائی جان غلط بات کی نشاندہی کریں معذرت کروں گا
     
  5. ‏اگست 23، 2013 #35
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    علمی اور اصلاحی گفتگو کے دوران آپ نے لکھا کہ"جناب لگتا اس مسجد کے امام آپ ہی ہوں جو اتنے بڑے جمپ لگا دیتے ہیں" اور" جناب آپ کی سب سے نا پسندیدہ جماعت کے لاہور مرکز میں تراویح 12 بجے ختم ہوتی تھی۔
    لیکن آپ کی پسندیدہ جماعت تحریک طالبان جو کے حنفی ہیں وہ تو بس مسجدوں میں دھماکے کرنا جانتے ہیں انہیں کیا پتا فجر کی نماز جلدی پڑھنا افضل ہے یا تاخیر سے۔اور تراویح بھی 20 پڑھتے ہیں جوسنت نہیں ہے اس پر تو آپ کو کوئی حق کی بات نظر نہیں آتی ۔" آپ خود غور کیجیے کیا یہ طرز گفتگو مناسب ہے۔ کیا ان کا یہ کہنا جرم بن گیا جو انہوں نے وقت کی نشاندہی کر دی- کیا ایسا کہنے سے طالبان ان کی پسندیدہ جماعت بن گی۔ اور کیا جمپ لگانے والی بات مناسب ھے ؟
     
  6. ‏اگست 23، 2013 #36
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    خلطِ مبحث سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے، ورنہ بات سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    احناف کے امتیازی مسائل میں سے ایک مسئلہ فجر کی نماز کا وقت ہے ۔ فجر کی نماز کو خوب روشنی میں پڑھنا چاہئے اس کو وہ نہایت شد ومد سے بیان کر تے ہیں اور اس کیلئے دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔ ان سے یہ الزامی سوال بالکل بجا ہے کہ بھئی اگر نمازِ فجر کیلئے اسفار ضروری ہے تو پھر رمضان میں کیوں نہیں؟؟؟ رمضان کے استثناء کو امام ابو حنیفہ اور دیگر کبار احناف سے ثابت کریں اور اس کیلئے ٹھوس دلیل پیش کریں؟؟؟ وغیرہ وغیرہ

    جواب میں تلمیذ، جمشید اور عابد الرحمٰن صاحبان کا اس کیلئے ’تیسیر‘ کا فارمولا پیش کرنا بالکل غیر مناسب ہے۔ نمازوں کے اوقات کیلئے دلائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے اگر صرف تیسیر کو ہی مد نظر رکھا جائے تو پھر جس کیلئے فجر کی نماز طلوعِ شمس سے پہلے پڑھنا مشکل ہو اسے صبح آٹھ بجے نماز پڑھنے کی بھی اجازت دینی چاہئے۔ کیا خیال ہے کہ یہ صاحبان ایسا اجتہاد بھی کریں گے؟!!

    اب آپ (ابو صارم صاحب) کا یہ کہنا خلطِ مبحث ہے کہ اہل الحدیث بھی یہی کام کرتے ہیں اور مثال پیش کی ہے عشاء کی نماز میں تقدیم وتاخیر کی۔ اور نماز فجر اور تروایح کے اختصار کی!

    پہلی بات تو یہ کہ ان میں کوئی بھی مسئلہ ہمارے اور احناف کے درمیان اختلافی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے متعلق ہمارا کوئی امتیاز کہ ہم نے اس کے لئے پہلے لمبے چوڑے دلیل دئیے ہوں اور پھر بعد میں اسی کی مخالفت کی ہو۔

    رہا نمازِ فجر اور تراویح کا اختصار تو اہل الحدیث کے ہاں کوئی ایسا اختصار معہود نہیں۔ ہماری مسجد میں فرمانِ باری (وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا کو مد نظر رکھتے ہوئے) فجر کی نماز میں دو سے چار رکوع کے مابین تلاوت کی جاتی ہے۔ اسی طرح ہمارے قریبی جتنی اہل حدیث مسجدیں ہیں، میرے علم کے مطابق ان میں رمضان میں عشاء کی نماز کا وقت تبدیل نہیں کیا گیا۔ اگر بالفرض کہیں کیا بھی گیا ہو تو آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ کی نماز عشاء کے متعلق باقاعدہ نصوص میں موجود ہے کہ نبی کریمﷺ حالات کے مطابق لوگوں کو دیکھتے ہوئے کبھی نماز پہلے پڑھ لیتے اور کبھی تاخیر سے!
     
  7. ‏ستمبر 06، 2013 #37
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    یہ کہناکہ فجر کی نماز کا وقت احناف کے امتیازی مسائل میں سے ہے ۔ غوروفکر کے بغیر کہاگیاہے۔ اس طرح توکہنے والایہ بھی کہہ سکتاہے کہ ابرادبالظہر کا مسئلہ احناف کے امتیازی مسائل میں سے ہے۔ عصرکومثلین میں پڑھنے کا مسئلہ امتیازی مسئلہ میں سے ہے۔اس طرح توجس کا من چاہے وہ کسی بھی اختلافی مسئلہ کو امتیازی مسئلہ بناسکتاہے۔
    رمضان کے استثناء کو امام ابوحنیفہ سے اوردیگر کبار علماء سے ثابت کرنے کی بات بھی فقہ حنفی سے ناواقفیت کی بناء پر کہی گئی ہے۔بہت سے مسائل ایسے ہیں جس میں رواج،رسم عرف اورعادت کو دخل ہوتاہے اوراس کو مقامی علماء اپنے اعتبار سے ہی طے کرلیتے ہیں۔ بہت سارے مسائل ایسے ہیں جس میں متقدمین میں سے کچھ بھی صراحتامنقول نہیں لیکن متاخرین نے اپنے زمانہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیاہے۔

    شیخ سعدی نے گلستاں میں ایک شعرلکھاہے۔

    گرہمیں باشد مکتب وملا
    کارطفلاں تمام خواہدشد
    اس کا ترجمہ انس نضرصاحب جانتے ہوں اس لئے ترجمہ سے گریز کررہاہوں۔ ہماری تیسیر اورتکثیرللجماعۃ کی بات پر انہوں نے جو مثال پیش کی ہے وہ ان کے تفقہ کا اعلیٰ نمونہ اورقیاس مع الفارق کی بہترین مثال ہے۔وہ لکھتے ہیں۔
    حدیث جبرئیل بتاتی ہے کہ فجر کی نماز چاہے اول وقت میں پڑھی جائے یاآخر وقت میں نماز اپنے وقت پر اداہوگی۔ اختلاف صرف افضیلت میں ہے۔ کچھ حضرات کی رائے یہ ہے کہ غلس ہونی چاہئے اورکچھ حضرات کی رائے یہ ہے کہ اسفار ہونی چاہئے۔ لیکن انس نضر صاحب نے وقت کے اندر نماز اداکرنے کی مثال میں اتناغلو کیاکہ فرمانے لگے کہ اگرتیسیر ہی مدنظرہے توصبح آٹھ بجے نماز پڑھنے کی اجازت دینی چاہئے۔اہل حدیث حضرات کا طرفہ تماشاملاحظہ ہو کہ اگرہم رفع یدین کے تعلق سے کچھ عرض کریں توفورامخالفت حدیث اورمخالفت سنت کے طعنے بلند کرنے شروع کردیئے جاتے ہیں(یہ اوربات ہے کہ مجلس علماء میں میرے ایک سوال کے باوجود کہ مخالفت سنت وحدیث کا معیار کیاہے یعنی کس کو ہم کب مخالف حدیث وسنت کہیں گے،تاحال کوئی جواب نہیں آیاہے)لیکن یہ حضرات آزاد ہیں کہ مختلف فیہ مسائل میں فریق کے مسائل کے تعلق سے باوجود کہ اس کی تائید میں حدیث قولی وفعلی موجودہو،اکابرصحابہ اورتابعین کا اس پر عمل رہاہو۔

    انس نضر صاحب کو یہ بات صاف کرنی چاہئے کہ کیااہل حدیث عشاء کی نماز کے تعلق سے تاخیر کے قائل نہیں ہیں؟۔ اگرقائل ہیں توپھررمضان میں وقت معہودسے ہٹ کر نماز کیوں ہوتی ہے۔اگر وہ کہیں گے کہ آدھے گھنٹہ کا فرق کوئی فرق نہیں ہوتاتویہی جواب ہماری جانب سے بھی عرض ہے کہ ان کے غلس اورہمارے اسفار میں بھی تقریبااسی آدھے گھنٹہ کا فرق ہوتاہے۔
    یہ کہناہے مسئلہ اختلافی نہیں ہے اس سے بات نہیں بنتی ہے۔ ہم نماز فجر میں عمومی طورپر اسفار کے قائل ہیں لیکن تکثیر للجماعت کی غرض سے رمضان میں غلس میں نمازپڑھ لیتے ہیں ۔ ہم عشاء کی نماز کے سلسلے میں تاخیر کے قائل ہیں لیکن رمضان میں تھوڑاجلدی کرلیتے ہیں۔
    ہمارامسئلہ اورموقف توصاف ہے لیکن اصل پیچیدگی تو آپ کے یہاں ہیں۔ لمبے چوڑے دلائل نہ دینے کی بات بھی ایک عجیب مضحکہ ہے۔ اختلافی مسئلہ نہیں ہے اس لئے لمبے چوڑے دلیل نہیں دیئے۔ اگریہی مسئلہ اختلافی ہوتاتو؟مکتبہ محدث میں اس موضوع پر کتنی کتابیں اب تک اپ لوڈ ہوچکی ہوتیں۔
    سبحان اللہ کیااصول فرمادیا!لیکن اگرحجۃ اللہ البالغہ کی طرف رجوع کرلیتے تومعلوم ہوتاکہ یہ حضورپاک کا عمل تکثیر للجماعۃ کیلئے تھاکہ باوجود اس کے کہ حضور کو مرغوب عشاء کی نماز میں تاخیر تھی لیکن لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے کبھی پہلے بھی پڑھ لیا۔ لیکن یہی بات اگرہم فجر کے سلسلے میں کہیں کہ فجر کی نماز اسفار میں پڑھناحضورسے ثابت اوراس سلسلے میں قولی اورفعلی احادیث موجود ہیں لیکن لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے رمضان میں غلس میں پڑھ لیاجاتاہے تویہ بڑاجرم اورالزامی سوال بن جاتاہے۔
     
  8. ‏ستمبر 07، 2013 #38
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    ایک بات یہ کہ رمضان میں اگر عشا کی نماز جلدی بھی ہو تہ پھر بھی تراویح کی وجہ سے خاصا وقت لگ جاتا ہے اس لیے فجر کے وقت کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ،دوسرا آپ سب بھائیوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ گفتگو میں مناظرانہ رنگ ہونے کی بجاے اصلاحی رنگ ہونا چاہیے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں