1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وہ وجوہات جن کی بناپرایک شخص کفریہ افعال کے ارتکاب کے باوجود کافرنہیں کہلاتا

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏اپریل 08، 2013۔

  1. ‏اپریل 11، 2013 #11
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    خضر بھائی آپ نے بالکل صحیح راہنمائی فرمائی تلفظ کے بارے میں۔میں یہاں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہتا ہوں آپ کی بات میں کہ انگریزی زبان میں بھی باقاعدہ کسی لفظ کی ادائیگی کا ایک طریقہ کار موجود ہے ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس کو بھی سمجھنے کیلئے باقاعدہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
    مثلا good کا تلفظ /ɡʊd/ ہے ۔school کا تلفظ /skuːl/ ہے۔ ۔۔ ۔ ۔
    اور یہ نظام نہ صرف حرکات بلکہ الفاظ کے مخارج کے بارے میں بھی مکمل معلومات فراہم کرتا ہے۔ ۔۔
    میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ مسئلہ رومن اردو کی وجہ سے ہوا ہے۔ ۔۔ ۔ کیونکہ جب سے انفارمیش ٹیکنالوجی میں مزید جدت پیدا ہوئی ہے اور سوشل نیٹ ورکنگ کے مزید ذرائع(مثلا فیس بک،ٹوئٹر وغیرہ) سامنے آئے ہیں اور نئی نئی موبائل ایپلیکیشنز عام ہوئی ہیں تو لوگوں نے آپس میں گفتگو کرنے کے لئے اپنے نزدیک آسان طریقہ کار کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ۔۔ ۔ ۔اس میں کچھ تساہل اردو دان آئی ٹی پروفیشنلز کی جانب سے بھی برتا گیا(گو کہ اب ایسی صورتحال نہیں ہے) کہ انہوں اتنی تیزی کے ساتھ اردو زبان میں ہر چیز کا متبادل پیش نہیں کیا۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
    IslamiCity.com - Islam & The Global Muslim eCommunity ویب سائٹ والوں نے تو کمال کردیا ۔ ۔۔ ۔ ۔انہوں نے قرآن کی کسی بھی آیت کو رومن اردو میں سرچ کرنے کی سہولت دے دی۔ ۔ ۔۔ ۔ مثلا میں نے لکھا innallah ha ma assabireen اور مجھے نتائج میں اپنا جواب مل گیا یعنی إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
    اب کہنے کو تو یہ ایک بہت ہی زبردست سہولت ہے ایک مبتدی کے لئے اور یقینا اس کا بہت فائدہ بھی ہے لیکن اگر ہر شخص اس کو استعمال شروع کر دے اور اردو زبان اور عربی زبان کو سیکھنے کی کوشش نہ کرے تو یقینا ہم ان زبانوں سے دور ہوتے جائیں گے۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔
    امید ہے کہ کچھ وضاحت ہو گئی ہوگی ان شاءاللہ۔
     
  2. ‏اپریل 11، 2013 #12
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم بھائی السلامُ علیکم

    آپ کی عزت افزائی کا بہت شکریہ مگر میں تو اپنے آپ کو یہاں ایک ادنا سا ممبر سمجھاتا ہوں.اور آپ لوگوں سے کچھ سیکھنے کے لئے ہی یہ فورم جوائن کیا ہے اور کچھ میرے اپنے نظریات ہیں جو اگر کسی کو پسند آئیں اور وہ قبول کر لے تو خوشی ہوگی -الله آپ کو جزا خیر عطا کرے (آ مین )-

    آپ کے جوابات یا توجیہات کسی حد تک قابل قبول ہیں لیکن کچھ چیزیں میرے نزدیک اس معاملے میں ابھی بھی وضاحت طلب ہیں- میرے خیال میں اس موضو ع پہ بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے -کہ ہمارے اکثر لوگ جب کبھی تکفیر یا کفرکے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ اس کے لفظی معنی سے بھی نا واقف ہوتے ہیں (میں آپ جیسے اہل علم کی بات نہیں کر رہا ) بلکہ نام نہاد علما ء اور جاہل عوام کی بات کر رہا ہوں -یہی وجہ ہے کہ ایک طبقہ اس معاملے میں اتنا شدّت پسند ہے کہ بات بات پر اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں پر کفر کے فتوے لگا دیتا ہے -اور دوسرا طبقہ وہ ہے جس کے سامنے اگر کوئی صریح کفر بھی کر گزرے تو کہنا شرو ع ہو جاتا ہے کہ کسی کو کافر کہنا بہت جہالت کی بات اور بہت بڑا گناہ ہے لہذا جو کوئی کفر کرتا ہے کرنے دو لیکن کافر نہ کہو -اس سے فتنہ بڑھے گا - جب کہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم اور صحابہ رضوان الله اجمعین کے دور میں جو کوئی بھی الله کے احکامات سے جان بوجھ کر مونہ پھیرتا تھا اس کو نہ صرف کافر سمجھا جاتا تھا بلکہ کافر -کہا بھی جاتا تھا چاہے وہ کسی مسلمان گھرانے میں ہی کیوں نا پیدا ہوا ہو.

    میری ناقص علم کے مطابق کفر کے عربی زبان میں لفظی معنی "کسی چمکتی چیز کو چھپانے کے ہیں" -اگر ہم دین کے لحاظ سے اس کے معنی کریں تو کفر کا مطلب ہو گا "حق کو چھپانا " اور جو کوئی بھی جان بوجھ کر جب کہ حق اس پر واضح ہو گیا ہو اور پھر بھی وہ اس سے پہلو تہی کرے تو وہ کافر ٹھہرے گا -چاہے وہ کوئی عام آدمی ہو عالم ہو مجتہد ہو یا حکمران ہو -اور اب قرآن کے احکامات اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی احدیث ہمارے سامنے موجود ہیں -ان احکامات کی پیروی نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی اسوہ اور صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کی گزری زندگی کو مطابق ہونی چاہیے -

    حق واضح ہے جیسا کہ الله نے قرآن میں فرمایا-

    وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سورة الإسراء ٨١
    اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا

    وسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں