1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ویلینٹائن ڈے یوم بے حیائی، حکومت پاکستان اور قانون اسلام

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرزاق قادری, ‏اگست 24، 2014۔

  1. ‏اگست 24، 2014 #1
    عبدالرزاق قادری

    عبدالرزاق قادری مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2012
    پیغامات:
    46
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    میں نے اس سے پہلے اپنی دوتحریروں [1] میں عورتوں خصوصاً مسلمان عورتوں کے حوالے سے لکھا ہے، ورنہ میں نے صنف نازک پر بہت کم لکھا۔ میں بائیس سال کی عمر تک اپنے مشاہدے، سوچ و بچار اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ عورت کی طرف منسوب تقریباً تمام الزامات اور تمام قسم کی برائیوں میں بالواسطہ یا بلا واسطہ مکمل طور نہ سہی لیکن تقریباً مکمل طور پر مَردوں کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے، جب میں جدید نظام تعلیم پر تنقید کرتا ہوں تو شاید لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ یہ دقیانوسی قسم کا بندہ علم و تعلیم کے حصول کا نجانے کیوں دشمن ہے اور جنگل کے پتھر کے زمانے کی سوچ رکھنے والا ہے! اگر یہ مذہبی ہے تو مذہب بھی تعلیم سے منع تو نہیں کرتا ناں!
    [​IMG]

    میں نے اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ اب اگر کوئی یہ کہے کہ یہ چادر اور چار دیواری والا دین پرانا ہو گیا ہے تو وہ جاکے اپنی عقل کا علاج کروائے کیونکہ کہ وہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ وہ خود بھی تو اس دین کو سائبان بنا کر پناہ ڈھونڈ رہا ہے، اور میرے محترم ناقدین نے وہی کیا یعنی شریعت ہی سے دلائل لاتے رہے، مثلاً ایک دلیل یہ تھی کہ علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے وغیرہ، وغیرہ تو خود ہی اس شریعت مطہرہ کے ایک حکم کو سنا رہے ہیں اور دوسرے کی تردید کر رہے ہیں یادرہے میں نے تقریباً تمام ملبہ مرد حضرات پر ڈال دیا ہے اور اپنے ان بیانات کے لئے مجھے کوئی لمبی چوڑی دلیل لانے کی ضرورت نہیں
    ہمارے اردگرد ایسی ہزاروں مثالیں مل جاتی ہیں کہ جن کے لئے زیادہ حوالے اور ثبوت دینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی مثلاً جب ایک نوجوان اپنے محلے کی بیٹی، اپنے دوست کی بہن، اپنی کلاس فیلو یا کولیگ کو ساتھ لے جا کر ویلنٹائن ڈے جیسا شرم ناک دن منانے کسی کلب، ہوٹل یا سینما وغیرہ کی طرف جاتا ہے تو کیا خیال ہے وہ اپنی بہن کو گھر میں اپنے محلے کے لڑکے، اپنے دوست، اس کے کلاس فیلو یا اس کے کولیگ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر نہیں جاتا؟ اگر سامنے والی لڑکی کوئی بہانہ بنا کر بے غیرتی کے لئے حدود پھلانگ سکتی ہے تو کیا اس کی بہن کو بہانے بنانے نہیں آتے؟ اگر ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر فیشن شو اور میوزک کنسرٹ دیکھے گا تو کیا اس کی بیٹی اُس سے ایک ماڈل یا گلوکارہ بننےکی اجازت طلب نہیں کرے گی؟ بالفرض ایک باس کو نک سک لیڈی سیکرٹری چاہئیے تو کیا اس کی بیٹی کو ایک ہینڈ سم بوائے فرینڈ نہیں چاہیے ہوگا؟
    بزرگوں نے فرمایا کہ زنا ایک قرض ہے جس کا بدلہ اپنے گھر سے چکانا پڑتا ہے، اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ ضرور اپنے گھر سے ایسی خبر سنےگا، ہاں البتہ سچی توبہ گناہوں کو دھو ڈالتی ہے ایسے جیسے اُس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ تھا لیکن توبہ کے بعد اس کا قائم رکھنا ضروری ہے ورنہ وہ نتیجہ نہیں ملے گا، ملکِ پاکستان ہمارے اکابر نے دس لاکھ سے زائد قربانیاں دے کر اور ایک لاکھ کے قریب عزت مآب عصمتیں لٹا کر اس لئے تو حاصل نہیں کیا تھا کہ اس کے حکمران شرابی، زانی اور بدکردار ہوں گے اور اس ملک کے ہر سرکاری اور پرائیویٹ شعبے میں استحصال ہوگا یہ ملک رشوت خوری اور سود خوری کے لئے نہیں بنایا گیا تھا یہ ملک چھیاسٹھ سال تک کافر انگریز کے آئین کی اندھی تقلید کرنے کے لئے نہیں بنایا گیا تھا اب جب میں جدید نظام تعلیم کے خلاف آواز بلند کرتا ہوں تو اس سے مراد حکمرانوں اور اشرافیہ کی بے بصیرت پالیسیاں اور اپنے تعیش کے لئے نافذ کئے گئے مادر پدر آزاد نظام کے خلاف احتجاج کرتا ہوں، مثلاً ان درندوں کی ہوس کی تسکین کے لیے پوری پوری کالج وین گم ہو جاتی ہے اور کئی دہائیوں تک اس کا سراغ نہیں ملتا۔ تمام بڑے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ان سیاست دانوں کے ہوتے ہیں جن کی اپنی ڈگریوں کی داستانیں۔۔۔ زبان زد عام ہیں اور اداروں میں ثقافت کے نام پر جو بے حیائی اور بے غیرتی کا طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہے ممکن ہے فرعون کے ظالمانہ نظام میں بھی نہ ہوتا ہوگا

    مکمل تحریر پڑھنے کے لئے میرے بلاگ پر تشریف لائیں یعنی اس لنک پر کلک کریں
    (لنک حذف ۔۔۔ انتظامیہ)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں