1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پانی پر دم کرنا کیسا ہے

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏مارچ 03، 2015۔

  1. ‏مارچ 03، 2015 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    اس کی مزید تحقیق درکار ہے

    حدیث میں آتا ہے کہ

    «نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی الله علیہ وسلم أَنْ یُّتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاء أَوْ یُنْفَخَ فِیْهِ “صحيح الجامع ” (6820

    نبی صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ پانی میں سانس لیا جائے یا اس میں پھونک ماری جائے۔


    کہا جاتا ہے کہ عام پینے والے پانی میں سانس لینا یا اس میں پھونک مارنے کی ممانعت ہے لیکن جس پانی پر دم کرنا ہو وہ مستثنی ہے ، یعنی دم کرتے وقت پانی پر پھونک مار سکتے ہیں۔ لیکن اس حدیث میں اس میں کوئی تخصیص بیان نہیں ہوئی لہذا حکم ممانعت عام ہے – پانی پر پھونکنا یا عرف عام میں دم کرنا منع ہے

    بعض کا اصرار ہے کہ جائز ہے ان کی دلیل ہے کہ سنن ابی داود باب ما جاء في الرقى کی حدیث ہے

    حدَّثنا أحمدُ بنُ صالح وابنُ السرحِ -قال أحمدُ: حدَّثنا ابن وهب، وقال ابن السرح: أخبرنا ابنُ وهب- حدَّثنا داودُ بنُ عبدِ الرحمن، عن عمرو ابنِ يحيى، عن يوسفَ بنِ محمد -وقال ابن صالح: محمدُ بنُ يوسف بن ثابت ابنِ قيس بنِ شماس- عن أبيهِ عن جَدِّه، عن رسولِ الله – صلَّى الله عليه وسلم – أنه دخلَ على ثابتِ بنِ قيس -قال أحمدُ: وهو مريض- فقالَ: “اكْشِفِ البَاْسَ ربَّ النَّاسِ، عن ثابت بنِ قيس بنِ شمَّاس” ثم أخذ تراباً من بُطحانَ فجعله في قَدَحٍ، ثم نَفَثَ عليه بماءِ، ثم صبَّه عليهِ


    احمد بن صالح نے اور ابن السرح نے روایت کیا کہا احمد نے کہا حدثنا ابن وھب اور ابن السرح نے کہا اخبرنا ابن وھب- داود بن عبد الرحمان نے عمرو بن یحیی سے روایت کیا انہوں نے یوسف بن محمد سے روایت کیا ، اور ابن صالح نے کہا انہوں نے محمد بن یوسف بن قیس بن شماس سے انہوں نے اپنے باپ سے ، اپنے دادا سے روایت کیا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم، ثابتِ بنِ قيس کے پاس داخل ہوئے- احمد کہتے ہیں: وہ مریض تھے، پس اپ صلی الله علیہ وسلم نے کہا: اے انسانوں کے رب ! تکلیف کو دور کر، ثابت بن قیس پر سے، پھر بُطحانَ کی مٹی لی اس کو ایک قدح میں ڈالا، پھر اس میں پانی پر پھونکا ، پھر اس کو ان کے سر پر انڈیلا


    اس روایت کو پانی پر دم کرنے کی دلیل پر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ اس کی سند ضعیف ہے اس روایت پر تعلیق میں شعَيب الأرنؤوط اور محَمَّد كامِل قره بللي لکھتے ہیں

    إسناده ضعيف لجهالة يوسف بن محمد بن ثابت بن قيس بن شماس


    اس کی اسناد يوسف بن محمد بن ثابت بن قيس بن شماس کے مجھول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں


    البانی اس کو ضعیف الاسناد کہتے ہیں اور ابن حجر فتح الباری میں اس روایت کو حسن کہتے ہیں جو ان کی ناقص تحقیق ہے

    ابو داود سنن میں کہتے ہیں قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الصَّوَابُ

    ابن السرح نے یوسف بن محمّد کہا ہے جو صواب ہے


    یہ واحد روایت ہے جس میں پانی پر دم کا ذکر ہے لیکن جب راوی ہی مجھول ہے تو دلیل نہیں بن سکتی

    بخاری نے تاریخ الکبیر میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس میں پانی پر دم کرنے کے الفاظ نہیں ہیں


    ایک دوسری روایت بھی پانی پر دم کرنے کے لئے پیش کی جاتی ہے جس کو البانی صحیحہ میں نقل کرتے ہیں

    علی ؓسے مروی ہے انہوں نے کہاکہ نبی صلی الله علیہ وسلم نماز ادا فرمارہے تھے ایک بچھو نے آپکو ڈنک لگا دیا‘ آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت کرے جو نہ نبی کو نہ کسی دوسرے کو چھوڑتا ہے‘ پھر آپ نے پانی سے بھرا ہوا ایک برتن طلب فرمایا جس میں نمک آمیز کیا ہوا تھا اور آپ اس ڈنک زدہ جگہ کو نمک آمیز پانی میں برابر ڈبوتے رہے اور قل ھو اللہ احد اور معوذ تین پڑھ کر اس پر دم کرتے رہے یہاں تک کہ بالکل سکون ہوگیا


    معجم الصغير الطبرانی میں اس کی سند ہے

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَشْنَانِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْروٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ


    اول اس کی سند میں المنھال بن عمرو ہے جو امام شعبہ کے نزدیک متروک ہے- بعض کے نزدیک ثقہ ہے لیکن المنھال، محمّد بن الحنفیہ سے کتاب الدعا از الطبرانی میں ایک روایت نقل کرتا ہے

    حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ رُقْيَةً رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَعَلَّمَهُ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ، خُذْهَا فَلْتُهْنِيكَ “


    منہال بن عمرو، محمّد بن الحنفیہ سے روایت کرتا ہے وہ عمار رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہ بیمار تھے پس ان سے رسول الله نے کہا کہ میں تم کو ایک دم سکھاؤں جس سے جبریل نے مجھے دم کیا کہا ضرور یا رسول الله پس آپ صلی الله علیہ وسلم نے سکھایا الله کے نام سے تم کو دم کرتا ہوں اور الله ہی تم کو ہر ایذا سے شفا دیتا ہے اس کویاد کر لو اور اپنے اوپر جھاڑو


    نبی صلی الله علیہ وسلم تو دم دعا سے کر رہے ہیں اور اس میں پانی کا ذکر بھی نہیں

    دوم مُطَرِّفُ بنُ طَرِيْفٍ الكُوْفِيُّ المتوفی ١٤١ ھ ہے جو مدلس ہے اور عن سے روایت کرتا ہے

    اس میں بھی پانی پر براہ راست دم نہیں کیا گیا بلکہ دم ڈنک کی جگہ کو کیا جا رہا ہے

    پانی پر دم کی دلیل میں یہ احادیث بھی پیش کی جاتی ہیں

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور معوذات پڑھ کر اپنے جسم پر دونوں ہاتھوں کو مل لیتے۔


    صحیح بخاری حدیث نمبر 1269

    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جبتک اس میں کوئی شرک نہ ہو ۔


    صحیح مسلم : ۲۲۰

    حالانکہ یہ بھی ہاتھوں سے دم کرنا ہے نہ کہ کسی پینے والی چیز پر دم کرنا لہذا پانی پر دم کرنے کی دلیل نہیں ہے

    الغرض پانی پر دم کرنا حدیث سے ثابت نہیں لہذا ایک بدعت ہے جو نصاری کے ہاں رائج ہے جس کو ہولی واٹر کہا جاتا ہے- سن ٤٠٠ ب م میں اس کی نصرانی کتب میں حوالہ ملتا ہے

    لنک

    http://en.wikipedia.org/wiki/Holy_water


    گویا یہ عمل نصاری کے ہاں نبی صلی الله علیہ وسلم سے پہلے سے معروف و مشھور چلا آ رہا ہے

     
  2. ‏مارچ 11، 2017 #2
    شوکت اسلام

    شوکت اسلام مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2017
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    کھانے پینے کی چیزوں پر پھونکنا

    Sunnan e Ibn e Maja Hadees # 3288

    حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَرَابٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔

    Sunnan e Abu Dawood Hadees # 3722

    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

    Sunnan e Abu Dawood Hadees # 3728

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔

    Jam e Tirmazi Hadees # 1888

    حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

    واللہ و اعلم
    جزاک اللہ خیر
     
  3. ‏مارچ 11، 2017 #3
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    بارک فی علمک
     
  4. ‏مارچ 11، 2020 #4
    غرباء

    غرباء مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 11، 2019
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    ’’ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بارش کا پانی لے کر اس پر سورۂ فاتحہ 70 بار، سورہ اخلاص 70 بار اور معوذتین 70 بار پڑھ کر دم کرے تو آپ ﷺ نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ جبرائیل ؑ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے خبر دی کہ جو شخص یہ پانی 7روز تک متواتر پیے گا اللہ تعالیٰ اس کے جسم سے ہر بیماری دور فرمادیں گے اور اسے صحت وعافیت عطا فرمائیں گے اور اس کے گوشت پوست اور اس کی ہڈیوں سے تمام بیماریوں کو نکال دیں گے‘‘۔
     
  5. ‏مارچ 11، 2020 #5
    غرباء

    غرباء مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 11، 2019
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    یہ اوپر بارش کے پانی کو لے کر حدیث ہے اس کی تحقیق درکار ہے برائے مہربانی اس حدیث کی تحقیق دے دیجئے کیا یہ حدیث ٹھیک ہے؟؟؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں