1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا

'زنا و فحاشی' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏مارچ 24، 2011۔

  1. ‏مارچ 24، 2011 #1
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    مہلک ترین گناہوں میں ایک گناہ ، پاکدامنی ، بھولی بھالی مومن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا ہے۔ یہ سنگین گناہوں میں سے ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والے کے حق میں کتاب و سنت میں سخت وعید آئی ہیں، یہ گناہ بدکاری ( زنا)سے کچھ کم نہیں بلکہ اس کے قریب درجہ کا ہے۔

    شریعت میں بدکاری کرنے والے کی سزا 100 کوڑے رکھی گئی ہے تو بدکاری کی تہمت لگانے والےکے لیے ( اگر وہ اس پر 4 گواہ پیش نہ کر سکے) سزا 80 کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے شخص کو فاسق کہا گیا، آئندہ کبھی بھی اس کی گواہی کو نا قابل قبول قرار دیا گیا ، یعنی کسی بھی معاملے میں وہ گواہی دے تو شرعاً اس کی گواہی مردود اور نا قابلِ قبول ہوگی۔ معنوی اعتبار سے یہ کوئی معمولی سزا نہیں۔ احساس و شعور رکھنے کے لیے یہ اذیت ناک صورتحال ہوگی کہ معاشرہ میں اس کی بات کا اب کوئی اعتبار نہیں رہے گا۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر 4گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں 80 کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں۔ ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔ ‘‘ (النور: 54)

    توبہ سے حدود ( زنا اور تہمت زنا وغیرہ کی شرعی سزا) معاف نہیں ہوتے لہٰذا کسی پر تہمت لگانے کے بعد 4 گواہ پیش نہ کر سکے تو شرعاً 80 کوڑے اس پر ضرور لگیں گے چاہے وہ توبہ کرے یا اپنی بات سے رجوع کرے۔ اسی طرح ’’مردود الشھادة‘‘ ہونے( گواہی قبول نہ کیے جانے) کے بارے میں بھی بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ بھی ہمیشہ کے لیے ہے توبہ کے بعد بھی آئندہ کبھی اس کی گواہی قبول نہ کی جائے گی۔ البتہ توبہ کر لینے اور اپنی اصلاح کر لینے کے بعد وہ بالاتفاق فاسق نہیں رہے گا۔

    الغرض ظاہری اور معنوی لحاظ سے سزا کی شدت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کسی بے گناہ پر بدکاری کی تہمت لگانا اور اس کے پاک دامن کو داغدار کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا بڑا جرم ہے؟ ایک اور مقام پر یہ وعید سنائی گئی کہ ایسے لوگوں پر دنیا و آخرت میں لعنت برستی ہے۔ دنیا کی رسوائی کے علاوہ آخرت میں بھی ان کے لیے بڑا عذاب تیار ہے۔

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’جو لوگ پاکدامن ، بھولی بھالی با ایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا و آخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لیے بڑا بھاری عذاب ہے جبکہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ، ان کے اعمال کی گواہی دیں گے ۔ اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے( اور وہی ) ظاہر کرنے والا ہے۔ ‘‘( النور: 23-25)

    آیات بالا میں بھولی بھالی عورتوں پر تہمت زنا کی سزا بیان کی گئی۔ اہل علم کا اجماع ہے اس بات پر کہ یہ سزا عورتوں پر تہمت کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ کسی پاک دامن مرد پر بھی تہمت لگائی جائے، اسی طرح تہمت لگانے والا چاہے مرد ہو یا عورت ہر ایک کو یہ سزا ملے گی اگر وہ 4 گواہ پیش نہ کر سکیں۔ عہد رسالت میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بعض منافقین نے جو تہمت لگائی تھی تو مسلمانوں میں سے بھی 2 مرد اور ایک خاتون کی زبانیں اس تہمت سے آلودہ ہو گئی تھی اور انہوں نے اس ’’واقعہ افک‘‘ کو پھیلانے میں حصہ لیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد جب اللہ تعالیٰ نے سورة النور کی آیات نازل فرما کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی براٴت ظاہر فرما دی اور مذکورہ بالا احکام نازل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان تمام تہمت لگانے والوں پر حد نافذ فرمائی اور انہیں کوڑے لگائے گئے۔(ترمذی/ ابو داؤد)

    الغرض کسی بھی گناہ، پاکدامن مسلمان مرد یا عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا بہت بڑا گناہ ہے۔ اگر کوئی بندہٴ مسلم واقعتاً بدکاری میں ملوث ہو تب بھی نصیحت و خیر خواہی اور اصلاح کی سنجیدہ کوشش کے ساتھ اس کی پردہ پوشی ہی بہتر و پسندیدہ ہے۔ احادیث میں اسی کی ترغیب دی گئی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 21، 2018 #2
    مدثر

    مدثر مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2017
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    ماشاء الله، شکریہ بھائی،
    میرا ایک سوال ہے کہ اگر ایک عورت اپنے خاوند پر تہمت لگاے تو اس کی کیا حد ہے؟ اور وہ قسم بھی کھاے کہ اس کا خاوند سمجھانے کے باوجود عورتوں سے زنا کرتا رہتا ہے-

    جزاک الله خیرا
     
  3. ‏جولائی 04، 2018 #3
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    167
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    جب کوئی عورت اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے اور چار گواہ پيش نہ كرے تو اسے حد قذف لگائى جائيگى؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
    { اور وہ لوگ جو پاكدامن عورتوں پر زنا كى تہمت لگائيں پھر چار گواہ پيش نہ كر سكيں تو انہيں اسى كوڑے لگاؤ، اور كبھى بھى ان كى گواہى قبول نہ كرو، يہ فاسق لوگ ہيں }النور ( 4 ).
    اور يہ آيت تہمت ميں مرد اور عورت سب كو شامل ہے.
    امام قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اللہ سبحانہ و تعالى نے آيت ميں عورتوں كا ذكر كيا ہے اس ليے كہ وہ اہم ہيں، اور عورتوں پر فحاشى كى تہمت زيادہ شنيع اور نفس كے ليے بہت زيادہ ناپسند ہے، اور مردوں پر زنا كى تہمت بالمعنى اس آيت ميں داخل ہے، اور امت كا اس پر اجماع ہے " انتہى.
    اور الماوردى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اور اگر بيوى اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے تو عورت كو حد لگائى جائيگى، اور وہ لعان نہيں كر سكتى " انتہى.
    ديكھيں: الاحكام السلطانيۃ ( 287 ).
    اور اگر بيوى اپنے خاوند كے زنا كرنے كا علم ركھتى ہو اور اس كے پاس كوئى دليل اور گواہى يعنى چار گواہ نہ ہوں، تو بيوى كو چاہيے كہ وہ اپنے خاوند كو وعظ و نصحيت كرے اور اسے سمجھائے، اور اللہ كا خوف دلائے، اور اگر پھر بھى خاوند اپنى گمراہى ميں پڑا رہے تو عورت اس سے طلاق كا مطالبہ كر سكتى ہے، يا اس سے خلع لے لے، كيونكہ ايسے خاوند كے ساتھ رہنے ميں كوئى خير و بھلائى نہيں، اور اس ليے بھى كہ اس سے مجامعت كرنے ميں نقصان اور ضرر ہو سكتا ہے.

    واللہ اعلم .
    https://islamqa.info/ur/101771
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں