1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پرندوں كی خریدو فروخت کرنا جائز ہے

'خریدوفروخت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏مارچ 24، 2014۔

  1. ‏مارچ 24، 2014 #1
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    زينت و زيبائش اور خوبصورت آواز كے ليے پرندے فروخت كرنا جائز ہيں، مثلا رنگ برنگے طوطے، اور بلبل؛ كيونكہ ان كى آواز سننا اور انہيں ديكھنا ايك مباح اور جائز غرض ہے، شريعت ميں اس كى خريد و فروخت يا انہيں ركھنے كى ممانعت ميں كوئى نص وارد نہيں، بلكہ اگر انہيں ان كى غذا كھانا پينا اور اس كے دوسرے لوازمات ديے جائيں تو اس كے جواز كے دلائل ملتے ہيں.
    صحيح بخارى ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ:
    كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ - قَالَ: أَحْسِبُهُ - فَطِيمًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُنُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ»
    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سب لوگوں سے زيادہ اخلاق والے تھے، ميرا ايك بھائى تھا جسے ابو عمير كہا جاتا تھا ـ راوى كہتے ہيں: ميرا خيال ہے كہ اس نے دودھ چھوڑ ديا تھا ـ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم آتے تو فرماتے:
    " اے ابو عمير اس پرندے نے كيا كيا ؟ "ايك چڑيا تھى جس كے ساتھ وہ كھيلا كرتا تھا "
    نغر پرندے كى ايك قسم ہے، حافظ رحمہ اللہ فتح البارى ميں اس حديث سے استنباط ہونے والے فوائد كا ذكر كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    وَفِيهِ جَوَازُ تَكْنِيَةِ مَنْ لَمْ يُولَدْ لَهُ وَجَوَازُ لَعِبِ الصَّغِيرِ بِالطَّيْرِ وَجَوَازُ تَرْكِ الْأَبَوَيْنِ وَلَدَهُمَا الصَّغِيرَ يَلْعَبُ بِمَا أُبِيحَ اللَّعِبُ بِهِ وَجَوَازُ إِنْفَاقِ الْمَالِ فِيمَا يَتَلَهَّى بِهِ الصَّغِيرُ مِنَ الْمُبَاحَاتِ وَجَوَازُ إِمْسَاكِ الطَّيْرِ فِي الْقَفَصِ وَنَحْوِهِ وَقَصِّ جَنَاحِ الطَّيْرِ إِذْ لَا يَخْلُو حَالُ طَيْرِ أَبِي عُمَيْرٍ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَأَيُّهُمَا كَانَ الْوَاقِعُ الْتَحَقَ بِهِ الْآخَرُ فِي الْحُكْمِ
    اور اس سے يہ بھى ثابت ہوتا ہے كہ: چھوٹے بچے كا پرندے كے ساتھ كھيلنا جائز ہے، اور چھوٹے بچے كى مباح اور جائز كھيل كود كے ليے مال خرچ كرنا جائز ہے، اور پنجرے ميں پرندہ بند كرنا جائز ہے، اور پرندے كے پر كاٹنا جائز ہيں، كيونكہ ابو عمر كے اس پرندے كى دو حالتوں ميں سے ايك ضرور تھى، اور جب ان دونوں حالتوں ميں سے كوئى ايك بھى واقعتا ہو تو حكم ميں دوسرى اس كے ساتھ ملحق ہو گى.
    اسى طرح ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»
    " ايك بلى كے باندھ كر ركھنے كى بنا پر ايك عورت جہنم ميں چلى گئى، نہ تو وہ اسے كھانے كو ديتى اور نہ ہى پينے كو، اور نہ ہى وہ اسے چھوڑتى كہ وہ زمين كے كيڑے مكوڑے كھا سكے "
    جب بلى ميں ايسا كرنا جائز ہے تو پھر چڑيوں وغيرہ ميں بھى جائز ہوا.
     
  2. ‏مارچ 24، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مارچ 25، 2014 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:
    ايسے شخص كے بارہ ميں كيا حكم ہے جو اپنے بچوں كو بہلانے كے ليے پرندے جمع كر كے پنجرے ميں بند كر ركھے؟
    تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
    اگر وہ ان پرندوں كو دانہ پانى مہيا كرتا اور باقاعدگى سے انہيں دانہ پانى ڈالتا ہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ اس جيسے امور ميں اصل تو حلت ہى ہے، ہمارے علم كے مطابق اس كے خلاف كوئى دليل نہيں.
    اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.
    ديكھيں: فتاوى علماء البلد الحرام صفحہ نمبر ( 1793 ).
    مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:
    خوبصورتى والے پرندے ان كى آواز كے ليے فروخت كرنا، مثلا طوطے، اور رنگ برنگ پرندے، اور بلبل وغيرہ جائز ہيں؛ كيونكہ انہيں ديكھنا اور ان كى آواز سننا مباح اور جائز غرض ہے، شريعت ميں اس كى خريدوفروخت يا انہيں پالنے كى حرمت ميں كوئى دليل نہيں.
    بلكہ ايسى دليل ملتى ہے جس سے علم ہوتا ہے كہ اگر پرندے كو دانہ پانى مہيا كيا جائے اور اس كى ديكھ بھال كى جائے تو اسے پال كر پنجرے ميں بند كر كے ركھنا جائز ہے.
    اس كى دليل بخارى شريف كى مندرجہ ذيل حديث ہے:
    انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بہترين اخلاق كے مالك تھے، ميرا ايك بھائى تھا جسے ابو عمير كہا جاتا تھا، راوى كہتے ہيں كہ ميرا خيال ہے وہ دودھ پينا چھوڑ چكا تھا، اور جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تشريف لاتے تو فرماتے:
    " اے ابو عمير نغير نے كيا كيا؟ وہ اس چڑيا كے ساتھ كھيلا كرتا تھا... الحديث.
    نغير ايك قسم كا پرندہ ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى فتح البارى ميں اس حديث كى شرح ميں اس سے مستنبط ہونے والے فوائد شمار كرتے ہوئےكہتے ہيں:
    اور اس ميں بچے كا پرندے كے ساتھ كھيلنے كا جواز بھى پايا جاتا ہے.
    اور والدين كے اپنے بچے كو مباح چيز كے ساتھ كھيلنے كے ليے چھوڑنے كا بھى جواز پايا جاتا ہے.
    اور بچوں كو بہلانے كے ليے مباح چيزوں پر مال خرچ كرنے كاجواز بھى پايا جاتا ہے.
    اور پرندے وغيرہ كو پنجرے ميں بند كرنے كا جواز بھى ملتا ہے.
    اور پرندے كے پر كاٹنے كا جواز بھى ہے، كيونكہ ابو عمير رضى اللہ تعالى عنہ كا پرندہ ان دونوں ميں سے خالى نہيں ہو سكتا، ايك چيز لازم ہو گى.
    چاہے واقع جو بھى ہو حكم ميں اس كے ساتھ دوسرى چيز ملحق ہو سكتى ہے.
    اور اسى طرح ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث بھى جس ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    " ايك عورت بلى كى بنا پر آگ ميں داخل ہو گئى، اس نے اسے باندھ ديا، اور نہ تو اسے كھلايا اور پلايا، اور نہ ہى اسے چھوڑا كہ وہ زمين كے كيڑے مكوڑے كھا كر گزارا كر لے"
    اسے امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں روايت كيا ہے.
    اور اگر بلى ميں يہ جائز ہے تو پھر چڑيوں وغيرہ ميں بھى جائز ہوا.
    اور بعض اہل علم انہيں تربيت كے ليے باندھنے كے مكروہ كے قائل ہيں، اور بعض نے اسے منع كرتے ہوئے كہا ہے كہ:
    كيونكہ ان كى آواز سننا اور انہيں ديكھ كر خوش ہونے كى آدمى كو كوئى ضرورت نہيں، بلكہ يہ تو اكڑ اور شر اور عيش پرستى ہے، اور پھر يہ بيوقوفى بھى ہے، كيونكہ وہ اس پرندے كى آواز پر خوش ہو رہا ہے جس كى آواز اڑان بھرنے پر غمگين ہے، اور وہ فضاء ميں جانے كا افسوس كر رہا ہے.
    جيسا كہ مرداوى كى كتاب " الفروع و تصحيحہ" ( 4 / 9 ) اور الانصاف ( 4 / 275 ) ميں ہے.
     
  4. ‏مارچ 25، 2014 #4
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    امام بخاری کی کتاب ادب المفرد میں ایک روایت ملتی ہے کہ صحابہ پرندے پالتے تھے، نیز اس کتاب کا کیا مقام ہے اور اس روایت کا کیا اعتبار ہے؟میں اس روایت کو تلاش کر رہا ہوں ، کچھ معلوم نہیں ہے کہ یہ بات غلط ہے یا صحیح ہے؟ اگر کسی بھائی کو اس بار ے میں کچھ معلوم ہے تو وہ ضرور آگاہ کرے ، اللہ ہی ہمارا حامی و ناصر ہے
     
  5. ‏مارچ 25، 2014 #5
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    یہ جائز تو ہو سکتا ہے لیکن افضل نہیں، میں نے ایک حدیث کئی سال پہلے پڑھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پرندوں کو دن میں ٧٠ بار دانا دیا جائے، اب یہ حدیث صحیح تھی یا ضعیف پتا نہیں، لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دن کہ ٢٤ گھنٹوں میں ٧٠ بار اپنے پرندے کا خیال رکھا جائے، ویسے بھی صرف اپنے شوق کے لئے پرندوں کو قید کر لینا صحیح نہیں سمجھتا، ہاں اگر پرندہ میں پہلے سے ہی کچھ عیب وغیرہ ہو یا اڑ نہیں سکتا ہو تو قید کیا جا سکتا ہے،
     
  6. ‏مارچ 25، 2014 #6
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں