1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں

'شرح وفوائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن حمزہ, ‏اپریل 21، 2017۔

  1. ‏اپریل 21، 2017 #1
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    131
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    السلام عليكم ورحمۃ اللہ
    محترم علمائے کرام ۔۔۔کچھ دنوں پہلے ایک صاحب نے ایک حدیث جو کہ متفق علیہ ہے کہ ""إذا قاتَلَ أحدكم فليجتنب الوجه..."" سے اس استدلال کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ""منہ مارنا حرام ہے چاہے قتال میں ہو یا عام لڑائی میں یا کسی کو تادیب کرنے کے لیے""
    اور ان کا یہ کہنا ہے کہ کیونکہ اس حدیث میں ""قَاتَلَ"" ہے اسی لیے صرف قتال (قتل والی لڑائی) کے دوران مارنا حرام ہے ۔۔۔

    میں نے ان کو کچھ دلائل سے سمجھانے کی کوشش کی جن میں سے ایک یہ دلیل بھی تھی ، مگر ان کا کہنا تھا کہ علماء سے پوچھ کر بتانا ۔۔میں نے چیک کیا تو ایک روایت میں ""ضَربَ"" کا لفظ بھی استعمال ہوا تھا ۔۔۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا "" ضَرَبَ "" والی روایت صحیح ہے یا نہیں؟
    اور "" قاتل "" صرف جان سے مارنے والی لڑائی کے لیے استعمال ہوتا ہے یا عام لڑائی کے لیے بھی کنایتا کہا جاتا ہے؟؟؟
    جزاكم الله خيرا
     
  2. ‏اپریل 21، 2017 #2
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    100
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    عنوان کی ٹصحیح کردی جائے عنوان ’’،منہ پر مارنے کا حکم‘‘ صحیح لگتا ہے موصوف سے لفظ ’’پر‘‘ لکھنا سہواً رہ گیا لگتا ہے جس سے عنوان عجیب لگتا ہے۔
     
  3. ‏اپریل 21، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,210
    موصول شکریہ جات:
    1,870
    تمغے کے پوائنٹ:
    605

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ اس مسئلہ کو سمجھنے کیلئے صحیح مسلم شریف متعلقہ باب مکمل پڑھیں :
    صحيح مسلم بَابُ النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ (چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بیان میں )

    عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ»
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
    سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے لڑے
    تو وہ چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔

    اسی روایت کودوسرے رواۃ نے ذیل کے صیغہ سے نقل کیا
    حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ»
    جناب ابوالزناد سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس میں انہوں نے کہا جب تم میں سے کوئی مارے۔
    (یعنی ۔۔ قاتل ۔۔ کی جگہ ۔۔ ضرب ۔۔ مروی ہے )
    مزید اسناد سے یہی روایت :
    عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو وہ چہرے پر مارنے سے بچے ۔ (یعنی چہرے کو بچا کر مارے )

    ایک اور اسناد سے یوں منقول ہے

    سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ»
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
    سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہے کہ وہ چہرے پر ہرگز تھپڑ نہ مارے

    عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ، فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ»

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

    سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔
    جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے پر مارنے سے بچے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر تخلیق کیا "

    ایک اور اسناد سے یہ متن یوں منقول ہے :​
    حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الْمَرَاغِيِّ وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ»
    قتادہ، ابوایوب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور ابن حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو اسے چاہیے کہ وہ چہرے پر مارنے سے بچے "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قابل توجہ :
    حدیث کے ان طرق میں لفظ اخ یعنی بھائی استعمال کیا گیا ہے تو مراد صاف واضح ہے کہ ::
    "یہاں کفار قتال ،مقاتلہ مراد نہیں ، بلکہ تادیباً اپنے کسی کو مارنا مراد ہے؛
    (قاتَلَ ) بمعنی لڑائی عام مستعمل ہے ، خواہ وہ کسی کو قتل کرنے کی لڑائی ہو ، یا محض ڈرانے ،دھمکانے کی لڑائی سب کیلئے استعمال ہوتا ،
    مثلاً ۔۔ نمازی کے آگے سے اگر کوئی گزرنا چاہے ، تو ارشاد پیمبر ﷺ ہے :

    قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ» (سنن ابن ماجہ )
    ترجمہ :

    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے، اور اس سے قریب کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے ۱؎ کیونکہ وہ شیطان ہے“

    تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة ۴۸ ( ۵۰۵ ) ، سنن ابی داود/الصلاة ۱۰۸ ( ۶۹۷ ، ۶۹۸ ) ، سنن النسائی/القبلة ۸ ( ۷۵۸ ) ، ( تحفة الأشراف : ۴۱۱۷ ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/ قصر الصلاة ۱۰ ( ۳۳ ) ، مسند احمد ( ۳/۳۴ ، ۴۳ ، ۴۴ ) ، سنن الدارمی/الصلاة ۱۲۵ ( ۱۴۵۱ ) ( حسن صحیح )
    وضاحت: ۱؎: «مقاتلہ» سے مراد دفع کرنا اور روکنا ہے، لیکن اسلحے کا استعمال کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دیکھئے سختی کے ساتھ ہاتھ سے کسی کو روکنے ، یا ہاتھ کی ضرب کو ۔۔ قتال ۔۔ کہا ہے ،
    مطلب یہ کہ قتال ہر جگہ میدانِ جنگ کی لڑائی کو نہیں کہا جاتا ، بلکہ کسی بھی لڑائی ، مارکٹائی کو قتال سے تعبیر کرسکتے ہیں ،
    اوپر صحیح مسلم کی حدیث کی شرح کے ضمن میں علامہ نوویؒ لکھتے ہیں :

    وَيَدْخُلُ فِي النَّهْيِ إِذَا ضَرَبَ زَوْجَتَهُ أَوْ وَلَدَهُ أَوْ عبده ضرب تأديب فليجتنب الوجه "
    یعنی یہاں منہ پر مارنے کی ممانعت میں ۔۔ بیوی ، اولاد اور غلام کو تادیباً مارنے کے دوران چہرہ پر مارنے بھی داخل ہوگا ،

    یعنی اپنے ان لوگوں کو بھی اگر کبھی اصلاح و تادیب کیلئے مارنا پڑے تو چہرہ کو بچا کر مارا جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اپریل 22، 2017 at 8:04 AM
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 21، 2017 #4
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,029
    موصول شکریہ جات:
    271
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِهُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
    محترم شیخ کیا اس آیت سے بھی ممناعت ثابت ہوتی ہے کہ چہرے پر نہ مارا جائے؟
     
  5. ‏اپریل 22، 2017 at 12:23 AM #5
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    131
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    جزاك الله أحسن الجزاء يا شيخنا الفاضل والحبيب...
     
  6. ‏اپریل 22، 2017 at 8:45 AM #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,210
    موصول شکریہ جات:
    1,870
    تمغے کے پوائنٹ:
    605

    هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
    (آل عمران 6 )
    وہی (اللہ ) تو ہے جو جیسے چاہتا ہے تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زبردست ہے، حکمت والا ہے "
    تشریح :۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ۔ اسی نے انسان کو بطن مادر کی اندھیریوں میں اپنی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کے ساتھ بنایا ۔ ان کی صورتوں اور رنگوں میں ایسی صنعتکاری فرمائی کہ اربوں انسانوں میں سے بھی کسی ایک کی صورت دوسرے سے ایسی نہیں ملتی کہ امتیاز نہ رہے ۔ وہ اچھی ، بری ، نیک و بد ، خوبصورت و بدصورت ، جیسی چاہتا ہے ، ماں کے پیٹ میں تمہاری ویسی ہی صورتیں بنا دیتا ہے ۔ اس کے سوا علم و قدرت میں یہ کمال کسی اور کو حاصل نہیں ۔ اس لئے صرف وہی عبادت کے لائق ہے ۔ وہی غالب اور حکمت والا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو انسانوں کی شکل وصورت سے خالق کی قدرت کا کمال جھلکتا ہے ، اسلئے اس صورت کی تکریم کرنا ضروری ہے ،
    میر نے کہا تھا ۔ع
    عالم تخلیق ہے جس کی وہ مصور بے مثل
    ہائے کیا صورتیں پردے میں بناتا ہے میاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہرحال : اس آیہ کریمہ سے اشارۃ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ صورت انسانی کی تکریم کرنا ضروری ہے
    اور اس کا تقاضایہ بھی ہے کہ چہرہ پر نہ مارا جائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اپریل 23، 2017 at 3:15 AM
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 22، 2017 at 9:03 AM #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,725
    موصول شکریہ جات:
    569
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں