1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی کی ایک پیاری خصلت

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو جماز, ‏دسمبر 15، 2015۔

  1. ‏دسمبر 15، 2015 #1
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    میرے نانا ڈاکٹرحافظ عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ کا علمی مقام کیا ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے. انکی کئ خصلتیں ایسی ہیں جن سے میں بہت متاثر ہوں. انکی ایک خصلت کا تذکرہ میں ہمیشہ کرتا ہوں اور وہ یہ کہ ہم جب بھی ان کے پاس ملنے جائیں تو وہ سب کو ماتھے پر بوسہ دیتے ہیں. بچوں کو ملے یا نہ ملے بچیوں کو ضرور پیار دیتے ہیں اور پھر وہاں یہ فرق نہیں کرتے کو کون زیادہ قریبی ہے اور کون دور کا. اس بات کا اندازہ مجھے تب ہوا جب وہ ہمارے گھر میں آئے اور ہر ایک کو بوسہ دیا. جب گھر میں کام کرنے والی چھوٹی لڑکی نے بھی آگے بڑھ کر سلام کیا تو نانا جان خود آگے بڑھے حلانکہ کمزوری سے ٹانگیں لرز رہیں تھیں اسکے باوجود آگے بڑھے اور اسے بھی بالکل اسی طرح سر پر بوسہ دیا جس طرح میری والدہ اور بہنوں کو دیا.


    اسی طرح جب بھی ہمارے ہاں کوئ قرآن حفظ کرے تو وہ خود اس کی ایک بڑی دعوت کرتے ہیں جس میں وہ تمام گھر والوں کو بلاتے ہیں اور حافظ کا وزن کیا جاتا ہے اور وزن کے برابر مٹھائ تقسیم کی جاتی ہے اور یہ نانا جان ہی کرتے ہیں. ایک دن ہمیں نانا جان کے گھر خصوصی دعوت پر بلایا گیا. وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ ملازمہ نے ہماری خاندانی حفظِ قرآن کی روایت سے متاثر ہوکر قرآن پڑھنا شروع کیا. غالبا اس نے ناظرہ قرآن ختم کیا یا پہلا سپارہ حفظ کیے اور تمنا کی کہ اس وقت جتنے بھی گھر میں افراد موجود تھے انکو اپںی خوشی میں شریک کرتے ہوئے کچھ کھلائے. جب نانا جان کو پتا چلا تو انہوں نے خود ایک بڑی دعوت کا انتظام کیا اور سب کی موجودگی میں کہا، ’’کہ یہ بھی میری بیٹی ہے اور میں فرق نہیں کرتا، جو میرے گھر میں ہو چاہے وہ میری بیٹی ہو چاہے بہو ہو یا ملازمہ میرے لیے سب برابر ہیں.‘‘

    اور واقعی کسی کو بتائے بغیر یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ وہ ملازمہ ہے یا انکی کوئ نواسی وغیرہ. اور یہی بات انکی اولاد نے بھی اپنائ الحمد للہ! آج بھی ہمارے گھر میں چاہے کھانے کی کوئ چیز ہو، یا کوئ رہنے کی جگہ ہو تو پردے کے اہتمام کے علاوہ اور کوئ فرق نہیں کیا جاتا. اور ظاہر ہے یہ رویّے انسان اپنے بڑوں سے ہی سیکھتا ہے.

    اللہ انکی لغزشوں کو معاف فرمائے اور انکی عمر، ایمان اور علم میں برکت فرمائے. آمین!
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 15، 2015 #2
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے نانا ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور ان کی دینی کاوشوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد عامر یونس
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,191
  2. یوسف ثانی
    جوابات:
    5
    مناظر:
    1,089
  3. سرفراز فیضی
    جوابات:
    9
    مناظر:
    1,068
  4. محمد عثمان
    جوابات:
    4
    مناظر:
    2,017
  5. محمد اسد حبیب
    جوابات:
    6
    مناظر:
    1,102

اس صفحے کو مشتہر کریں