1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر طاہر مسعود بمقابلہ ڈاکٹر آصف فرخی: بقلم ابو نثر

'اردو زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏اپریل 19، 2014۔

  1. ‏اپریل 19، 2014 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ''ہمارا ادبی نصاب اور نظامِ تعلیم جہالت کو فروغ دے رہا ہے''۔​
    یہ قولِ فیصل ہمارا نہیں۔ ہمارے ملک کے ممتاز ادیب، افسانہ نگار، نقاد، مترجم، مدیر اور ناشر ڈاکٹر آصف فرخی کا ہے۔ ہم اُن کے اِس قول کی تردید یا تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تردید اِس وجہ سے نہیں کرسکتے کہ ۔۔۔ 'بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رُسوائی کی' ۔۔۔ اور تصدیق اِس بنا پر نہیں کر سکتے کہ ہم اور ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہی نصاب اور ایک ہی نظامِ تعلیم کے 'جہالت یافتہ' ہیں۔تصدیق کا کام کسی اور 'ڈاکٹر'کو کرنا چاہیے۔تو کیوں نہ یہ 'کیس' ڈاکٹر طاہر مسعود کو 'ریفر' کر دیا جائے؟

    اکثر معترضین کا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ 'ہمارے نصابِ تعلیم اور نظام تعلیم دونوں کا حاصل کچھ نہیں ہے'۔ مگر ایک ایسا شخص جو مروجہ نصاب اور مروجہ نظام سے ڈاکٹریٹ کر چکا ہو،اگر یہ کہتا ہے کہ یہ ''جہالت کو فروغ دے رہا ہے'' تو ہمارے خیال میں معترضین کے خیال کا ابطال ہو جاتا ہے ۔ آخر کچھ تو فروغ دے رہا ہے۔اُردو کا ایک محاورہ ، اب یاد نہیں پڑتا، مگر شاید کسی 'ادبی نصاب' میں پڑھا تھا کہ 'قبر کا حال مُردہ ہی جانتا ہے'۔

    دراصل ڈاکٹر آصف فرخی کا ایک فکر انگیز انٹرویو ہفت روزہ ''فرائیڈے اسپشل'' کے حالیہ شمارے میں شایع ہوا ہے۔اس انٹرویو میں جہاں عقل والوں کے لیے غور و فکر کا وسیع مواد موجود ہے، وہیں ہمارے کالم کے لیے بھی بڑا مال پڑا ہوا ہے۔ انٹرویو کے آغاز ہی میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے آپ کو ''ایک بہت کمزور اور بے بس ادیب'' قرار دیا ہے۔یہ ڈاکٹر صاحب کے انکسار کی انتہا ہے۔جیسا کہ ہم اوپر نشان دہی کر چکے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ادیب ہی نہیں، نقاد بھی ہیں۔ سو،دیکھنے والوں نے بڑے بڑے 'طاقتور اور بااختیار' ادیبوں کو اُن کی طرف 'کمزوری اور بے بسی' سے دیکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر آصف فرخی نے اُن کاموں کا بھی ذکر کیا ہے، جن کاموں کے نہ کرنے کا اُنھیں قلق رہ گیا ہے۔ان میں سے ایک کام کے متعلق اُن کا کہنا ہے :''میں چاہتا ہوں کہ انتظار حسین صاحب کی خدمات پر ایسا کام کرجاؤں جو قابل ذکر ہو۔ (میں نے ان پر ایک مختصر کتا ب لکھی ہے)''۔ممکن ہے کہ اُن کی لکھی ہوئی مختصر کتاب پڑھ کر خود انتظار حسین صاحب نے دِل سے دُعا کی ہو کہ 'یااﷲ! یہ کوئی مفصل کتاب نہ لکھیں'۔ اگر ایسا ہے تواسے بھی انتظار حسین صاحب کا انکسار ہی سمجھیے۔ ورنہ ہم سمجھتے ہیں کہ انتظار حسین صاحب کی خدمات پرایک ایسا مفصل کام ہونا بہت ضروری ہے جو 'قابل ذکر' ہو۔یعنی کام ایسامفصل ہو کہ انتظار صاحب جہاں جائیں ، ہرشخص اُسی کا ذکر لے کر بیٹھ جائے۔

    ڈاکٹر صاحب کی ایک تشنہ تکمیل تمنا ''حسن منظر کے حوالے سے کچھ لکھنا'' بھی ہے۔وہ کہتے ہیں:''ایک ادیب ایسا بھی ہے، جسے میں نے بہت دل لگا کر پڑھا ہے اور جن سے میری ذاتی واقفیت بھی رہی ہے۔ ان سے فن کے اسرار و رموز سمجھتا ہوں۔وہ ہیں حسن منظر۔ لیکن معاشرے میں اُن کی وہ پذیرائی نہیں ہوئی جو ہونا چاہیے تھی''۔یہاں ایک ایسی غلط فہمی جنم لے سکتی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔ آخری فقرے میں حسن منظر کی جس معاشرتی ناقدری کا رونا رویا گیا ہے، اس کا سبب، اس سے قبل کے فقروں میں نہیں بیان کیا گیا ہے۔ اصل سبب کچھ اور ہے۔
    اس انٹرویو کا سب سے دلچسپ حصہ وہ ہے جس میں انٹرویو لینے والے 'شرارتی نوجوان' (اے اے سید) نے دو طرفہ گلوں شکووں کی آگ کو پھونک مار مار کر کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ ہوا یوں کہ محترم ڈاکٹر طاہر مسعود نے کچھ عرصہ قبل روزنامہ 'نئی بات' میں شایع ہونے والے اپنے کالم 'دامِ خیال' میں ایک بات کہی تھی جو اسی جریدے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بھی دوہرا دی۔سو،انٹرویو لینے والے نے سوال کیا:''آپ کے ایک معاصر اور دوست ڈاکٹر طاہر مسعود نے حال ہی میں فرائیڈے اسپشل کو انٹرویو میں کہا کہ آپ حسن عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب کا ذکر بہت کرتے ہیں لیکن جو ادبی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں ان میں فیضؔ اور جالبؔ کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن اِن دونوں افراد کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتے۔اسے وہ ادب سے غداری قرار دیتے ہیں۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟''

    جواب میں ڈاکٹر آصف فرخی صاحب نے بھی ایک طویل 'گُل افشان�ئ گفتار' کی اوراس میں اپنا انٹرویو شایع کرنے والے مؤقر جریدے کو بھی لپیٹ لیا۔ انٹرویونگار سے کہا''بحمداﷲ میں آپ کا رسالہ نہیں پڑھتا''۔ہو سکتا ہے کہ اس انکشاف پرمذکورہ انٹرویوشایع کرنے والے رسالے نے بھی اﷲ کی حمد و ثنا بیان کرنی شروع کردی ہو۔ بہر حال ڈاکٹر آصف فرخی نے انٹرویو لینے والے کو مخاطب کیااور فرمایا:
    ''آپ کی طرح طاہر مسعود صاحب بھی حسن عسکری اور سلیم احمد صاحب کو ایک ہی بندوق سے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں''۔

    گویا ڈاکٹر آصف فرخی صاحب مہنگائی اور مفلسی کے اس زمانے میں ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کا آٹاگیلا کرنے کے متمنی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب حسن عسکری مرحوم کو مارنے کے لیے الگ بندوق خریدیں اور سلیم احمد مرحوم کو مارنے کے لیے الگ بندوق۔ پھر دونوں بندوقیں اپنے ڈرائنگ روم کی دیوار پر سجا کر ہم جیسے عقیدت مندوں کو فخر سے دکھایا کریں کہ:
    ''اِس بندوق سے میں نے حسن عسکری مرحوم کو مارا اور اُس بندوق سے سلیم احمد مرحوم کو۔ دونوں کے مارے جانے کے بعد ڈاکٹر آصف فرخی بچ رہے۔ اب کچھ دنوں سے تیسری بندوق خریدنے کے لیے مزید پیسے جمع کر رہا ہوں''۔
    ڈاکٹر آصف فرخی نے ڈاکٹر طاہر مسعود کے متعلق مزید کہا کہ:''طاہر مسعود نے چوں کہ ناراض ہونے کی قسم کھالی ہے تو انھیں شاید یا د ہی نہیں یا ان کے علم میں نہیں کہ پچھلے فیسٹیول میں (جو فروری میں کراچی میں ہوا تھا) عسکری صاحب پر گفتگو ہوئی تھی''۔

    ہمیں شبہ ہو رہا ہے کہ اوّل الذکر ڈاکٹر صاحب نے ثانی الذکر ڈاکٹر صاحب کو چپکے چپکے کچھ کھاتے دیکھ لیا ہوگا اور اپنی 'ڈاکٹری' کے زور سے پتا لگا لیا ہوگا کہ موصوف قسم کھارہے ہیں۔لیکن اگر ڈاکٹر طاہر مسعود اپنی جان سے بیزار ہوکر خود کُشی کی نیت سے اِس قِسم کی کوئی قَسم کھا بیٹھے ہیں تب بھی تشویش کی کوئی بات نہیں۔قسم کا کفّارہ ادا کیاجاسکتاہے۔دونوں میں سے جو چاہے ادا کردے۔ ہم حاضرہیں۔
    ڈاکٹر آصف فرخی نے یہ بھی فرمایا کہ:''فیسٹیول میں عسکری صاحب پر جو سیشن ہوا اُس میں اگر وہ خود نہیں آئے تو میں کیاکروں؟ اب کیا انھیں پالکی بھیج کر بلواؤں؟''
    ہر چند کہ ہمیں حضرت مولانا محمد اسمٰعیل میرٹھی رحمۃ اﷲ علیہ نے وصیت فرما رکھی ہے کہ:
    اگر دو موذیوں میں دیکھے کھٹ پٹ
    تو کر بچنے کی اپنے فکر جھٹ پٹ​

    مگر چوں کہ یہاں 'کھٹ پٹ' دو موذیوں میں نہیں، ہمارے دو 'محسنوں'میں ہو رہی ہے، چناں چہ ہم بیچ بچاؤ کے لیے اس ادبی میدانِ جنگ میں کودتے ہیں اور نہایت ادب و احترام سے ڈاکٹر آصف فرخی سے عرض کرتے ہیں کہ پالکی بھیج کر بلوانا بھی 'نہ بلوانے' ہی کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ زمانہ جو سیاہ، بلٹ پروف، شیور لیٹ کاروں کا زمانہ ہے،اس زمانے میں جامعہ کراچی کے اسٹاف ٹاؤن سے کہاروں کے کندھے پر سوار ہوکر کلفٹن پہنچتے پہنچتے تو فیسٹیول ہی ختم ہو جائے گا۔فیسٹیول ختم نہ بھی ہوا تو عسکری صاحب پر ہونے والا سیشن تو ضرور ہی ختم ہو جائے گا۔نتیجہ یہ کہ وہاں پہنچ کر بھی ڈاکٹر طاہر مسعود کو سیشن سنے بغیر، یہ شعر سناتے ہوئے بے نیلِ مرام واپس آنا پڑے گا کہ:

    جو ہونی تھی سو، بات ہو لی کہارو
    چلو، لے چلو اب تو ڈولی کہارو​
     
  2. ‏اپریل 19، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,731
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ثانی صاحب عنوان میں’’اسلم فرخی‘‘ جبکہ ’’تحت العنوان ‘‘ ہرجگہ’’آصف فرخی ‘‘ لکھا ہوا ہے ۔
    یہ بھی کوئی طنز و مزاح والا معاملہ تو نہیں ؟ یہ بھی واضح کردیں کہ یہ ابونثر صاحب کی طرف سے ہے یا آپ کی کاوش ہے ؟
     
  3. ‏اپریل 19، 2014 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    کاوش ابو نثر کی ہے اور ”کاپی پیسٹ“ ہے۔ عنوان چونکہ خود ”لکھا“ ہے، اس لئے اس میں غلطی سے ”آصف“ کی جگہ ان کے والد ”اسلم“ کا نام لکھا گیا۔ (ابتسامہ) آصف فرخی بھی ایک بڑے ادیب ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں