1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کاسئہ سر میں دماغ اور زبان پر لگام چاہیے ۔

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از سرفراز فیضی, ‏ستمبر 11، 2013۔

  1. ‏ستمبر 11، 2013 #1
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    کاسۂ سر میں دماغ اور زبان پر لگام چاہیے

    عبدالمعید مدنیؔ علی گڑھ
    • یکم ستمبر ۲۰۱۳ء بروز اتوارحیدرآباد میں پیس فاؤنڈیشن کی طرف سے حیدرآباد میں ایک پروگرام کا انعقاد ہوا، اس پروگرام کا نعقاد ہوا تھا اس عنوان کے تحت''عالم اسلام صہیونیت کے نرغے میں: مصرو شام کا منظر نامہ'' اس پروگرام میں جناب مولانا سلمان حسینی ندوی نے خطاب کیا، ان کا خطاب روزنامہ ''عزیزالہند''شمارہ ۲؍ستمبر کے خصوصی صفحہ نمبر۳ پر بڑے آن بان سے شائع ہوا۔ اس خطاب میں سارا زور سعودی عرب کی مذمت پر صرف ہوگیا ہے۔ خطاب جس موضوع پر کرنا تھا اسے جناب نے چھوا بھی نہیں اور دل کے پھپھولے سعودی عرب پر پھوڑے ہیں۔
    • مولانا سلمان حسینی نے اپنے خطاب میں ساری باتیں وہی کہی ہیں جو ایران کے روافض کہتے ہیں یا ہندوستان کے سرپھرے تحریکی کہتے ہیں یا پھر سعودی عرب کے بھگوڑے اور باغی کہتے ہیں۔حسینی صاحب کی تقریریں اسی طرح کی ہوا کرتی ہیں۔ جب ان کے اوپر حقائق سے دشمنی کا نشہ چڑھتا ہے تو اسی طرح کی جارحانہ اور افسانوی باتیں کرتے ہیں اور رنگ محفل جمانے کے لیے سارے اکاذیب سے اپنی تقریر کو سجانے کا جتن کرتے ہیں۔ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ کسی ملک یا فرد کے خلاف اگر کوئی صاف شفاف شبیہ کا انسان بات کرے تو وہ قابل توجہ ہو سکتی ہے لیکن اگر سلمان صاحب گفتگو کریں تو وہ لائق توجہ نہیں ہیں۔ یہ کسی صہیونیت کے گھیرے میں آکرکبھی ملائمؔ کی جی حضوری کر کے اسکی عنایت کے حقدار بنتے ہیں اور ایک کروڑ کی تھیلی پاکر مگن ہو جاتے ہیں۔ اور جب مایاوتی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو لائن کراس کر کے مایاوتی کی طرف آجاتے ہیں اور اس کی حکومت کے گرد پورے وقفے میں اپنے جیسے لوگوں کو لے کر منڈلاتے رہتے ہیں۔ اور اس یقین کے ساتھ کہ دوبارہ وہ جیت جائے گی ووٹ کاٹنے اور ملائم کو ہرانے کی پالیسی اپناتے ہیں سیاسی مجرموں کے ایک جتھے کے پیر بن جاتے ہیں۔ لیکن جب مایاوتی ہار جاتی ہے اور امیدوں کا چراغ گل ہو جاتا ہے تو سارے مریدوں سے ناطہ توڑکر پھر ملائم کو ریجھانے میں لگ جاتے ہیں،اور امام حرم کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں حرم کے نام پر بھیڑ اکٹھا کی جاتی ہے سیاسی لیڈروں کو لبھایا جاتا ہے اور مضافات لکھنؤ میں مفت میں امام حرم کے حوالے سے ذاتی اثردکھلانے کے لیے بھرپور جدوجہد ہوتی ہے، امام حرم کا استغلال، حرم کی عظمت کا استغلال ذاتی مفادات کا تحفظ، یوپی دارالحکومت میں موجود حکمرانوں کی مجبوری کہ امام حرم کی عظمت کا پاس ولحاظ رکھیں اور ان کی حیثیت کے مطابق خدمت کریں اور میزبانوں کا تعاون کریں۔
    • اس ذہنی دیوالیہ پن کے ذریعے سیاست کرنے اور بھیک اور خیرات کے لیے وفاداریاں اور چولے بدلنے والے سلمان حسینی صاحب آپ اسی اصول مفاد پرستی کی روشنی میں تھوڑی دیر کے لیے دوسروں کو دیکھیں اور فیصلہ کریں، اگر تھوڑی دیر کے اپنے اس اصول پر انصاف کا ترازو رکھیں اور شخصی تنظیمی اور حکومتی موقف کوناپیں اور بتلائیں کیا آپ اور ان کے موقف میں کوئی فرق نظر آئے گا؟ جب آپ کے اور دیگرآپ کے معتوبین کے رویّے میں کوئی فرق نہیں ہے آپ بھی ایک عالم اور موقر سید ہوکر اپنے خیراتی مفادات کے تحفظ میں دیوانگی کی حدیں پارکرکے سارے علمی، اخلاقی اور انسانی اقدارکو توڑ سکتے ہیں تو آپ کوکیا حق ہے کہ دوسرے سے سوال کریں کہ وہ آپ کی سوچ کے مطابق چلیں اور آپ کے ہم خیال رہیں اور آپ کو کیا حق ہے کہ دوسروں کو کوسیں اور گالی دیں۔ جس طرح آپ ہیں آپ کے خیال کے مطابق اس طرح وہ بھی ہیں پھر آپ کو خوش ہونا چاہیے۔
    • مولانا سلمان حسینی صاحب کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے نفس ناطقہ کو کل دنیا جانتے ہیں،اسی کو اپنی ذہانت، قابلیت، سرمایہ، حیثیت، سطوت، دبدبہ، کمائی سب کچھ جانتے ہیں، اور جب اسٹیج مل جائے تو پہلوانی کرنے لگتے ہیں اور خود اپنے کو اور حقائق کو بھول جاتے ہیں۔ جس شخص کا نفس ناطقہ ہی اس کی فکر سوچ اور سیرت و کردار بن جائے اس سے سلبیات اور اکاذیب اور کذابوں کی تصدیق کے سوا کسی خیر کی امید رکھنا عبث ہے۔
    • سلمان صاحب پرسعودی عرب کے متعلق آج جو انکشاف ہوا ہے، کیا ایک سال پہلے جب گری ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے امام حرم کو مکہ مکرمہ سے لکھنؤ تشریف لانے کے سعودی عرب کے سامنے دست سوال دراز کرنا پڑا تھا اس وقت انکشاف نہیں ہوا تھا؟اس دوہرے معیارکو کیا کہا جائے مفاد اور مصلحت کے مطابق آواز بدلنا لب و لہجہ اختیا کرنا اور خیال بدلنا کہاں کی ثقافت ہے؟ سلمان صاحب جب بھی تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے جنونی ہو جاتے ہیں انھیں اپنے ہوش و حواس پر قابو نہیں رہتا، اسٹیج پر آنے کے بعد ان کے اوپر صرف یہ دھن سوار رہتا ہے کہ لوگ واہ واہی کریں اور ان کی تقریر کے ثنا خواں بن جائیں انھیں قطعا اس کی پرواہ نہیں رہتی ہے کہ وہ سچ بول رہے ہیں یا کچھ اور۔
    • حیدرآباد کی حالیہ تقریر میں انھوں نے سعودی عرب سے متعلق اپنے اب تک کے چالیس سالہ تجربات، خیالات، جانکاری، تعلقات اور احسانات کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے متعلق سارے حقائق سے آنکھ چرا کر سعودی عرب کے بھگوڑوں باغیوں ، تحریکیت زدہ علماء کے ایرانی و صہیونی پرپیگنڈوں کو ایسے قبول کر لیا جیسے وہ وحی الہی ہوں، سخن سازی کی اس سے بڑی گھناؤنی مثال اور کیا ہوگی کہ تھوڑی دیر میں بزم خطابت میں شریک ہونے والے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے تاریخی حقائق خوبیوں اچھائیوں اور نیکیوں کو افسانہ، خرابی، برائی اور شرمیں بدل دیا جائے، سلمان صاحب کی تقریر بذات خود صہیونی سوچ رویہ اور مزاج کی اعلی شاہکار ہے، صہیونیت اس کے سوا کیا ہے کہ حقائق کو افسانہ ، خوبیوں کو خرابی، اچھائیوں کو برائی اور نیکیوں کو بدعملی کہا جائے۔
    • سلمان صاحب عالم دین ہیں اگر وہ انکاری ہیں کہ عالم ہیں اور اقراری ہیں کہ وہ اب فقط سیاسی نیتا ہیں توکسی کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے اس لیے کہ ہندوستان کا سیاسی نیتا، حقیقت سچائی انسانیت اور شرافت سے دشمنی کرنے کے بعد نیتا بنتا ہے، سلمان صاحب کی ہندوستانی ماڈل سیاسی نیتائی اسی قسم کی ہوسکتی ہے اور انھوں نے گذشتہ سال یوپی الیکشن میں اپنی ہندوستانی ماڈل سیاسی نیتائی کا بھرپور ثبوت دے دیا ہے، اور اگر سلمان صاحب اب بھی خود کو جامعۃ الامام سے فارغ التحصیل ماسٹر ڈگری کے حامل مانتے ہیں ندوہ میں کلیۃ الشریعہ کے پرنسپل ہیں، عدل و انصاف کا مطلب جانتے ہیں ثقافت و استناد کو اہمیت دیتے ہیں، عدالت و مروّت سے واسطہ رکھتے ہیں تو ان سے بڑے ادب کے ساتھ سوال ہے، کیا آپ کا خطاب عدل و انصاف، ثقاہت و اعتمادکے پیمانے پر پورا اتراتا ہے؟ یقیناًجواب نفی میں ہوگا اور جواب دیتے ہوئے شرمساری محسوس کریں گے۔
    • اگر سعودی عرب اس طرح کا ہے جس طرح اب حضور والا انکشاف کر رہے تو پھر اپنی چالیس سالہ صہیونیت نوازوں کی اپنی صہیونیت نوازی کو کیا کریں گے۔ کیا چالیس سال کی زندگی پر شرمساری کا اظہارکریں گے، یااس طویل عرصہ کو اپنی زندگی سے القط کردیں گے، یا اپنی صہیونیت نوازوں کی اپنی صہیونیت نوازی کے جرم میں ندوہ کے گیٹ پر پھانسی لگالیں گے۔ ایسے مہازل سے ان کا پالا پڑتا رہتا ہے ایک مشاہدکا بیان ہے گلف کے ایک شیخ نے جناب کو کافی تعاون دیا تھا۔ وہ کٹولی آیا ہوا تھا حساب مانگنے، ایک دن عصر بعد مسجد میں اس نے محاسبہ کی محفل جمائی، جناب حساب دینے سے عاجز رہے، وہ سخت ناراض ہو ا اور غصے سے بے قابو ہوکر ان کی ڈاڑھی پکڑ کر کھینچی اور زور سے دھکا دے دیا، ایسے لوگ ایسی اونچی باتیں کرتے ہیں جیسے دنیا ان کے لیے کھلونا ہے۔
    • ہرکسی کو امت کے مسائل کے متعلق بات کرنے کا حق ہے لیکن بات کرنے کے کچھ اصول اور پیمانے ہوتے ہیں، ایک مسلمان آزاد نہیں ہے کہ جیسے چاہے پاگلوں کی طرح منھ کھول کر بکتا جائے اسلام نے ہر شئے کے لیے اصول اور پیمانہ دیا ہے، اگر ایک عالم دین اصول اور پیمانے کے مطابق بات نہ کرے تو پھر حق و باطل، خیروشر، نیکی بدی ایک بن جائیں گے اور اچھے برے، نیک و بداور متقی ومنافق یکساں قرار پائیں گے۔ کیا حضرت سلمان حسینی کو یہ منظور ہے اگر یہ منظور ہے تو ندوہ میں تیس سالہ تدریس شریعت زیروبن جائے گی، حضرت سلمان نے جس لب و لہجہ میں حیدرآبادمیں تقریر کی ہے وہ خود ان کی نفی ہے ان کی تیس سالہ تدریس شریعت کی نفی ہے ان کی دینی جہود اگر ہوں تو ان کی نفی ہے۔ اور ۸۴؍ میں جو ایس آئی ایم نے ان کی پٹائی کی تھی وہ جائز ثابت ہوگی اگر آپ کو کسی ملک، اس کے حکمراں اس کے خاندان اور اس کے تاریخی بے مثال کارناموں، ان کے حسب و نسب کے متعلق نفی کے ساتھ من مانی فتوی لگانے کی اور بازاری گفتگو کرنے کی آزادی ہے تو آپ کو کہاں سرخاب کا پر لگا ہے کہ آپ کے متعلق لوگ من مانی بازاری باتین نہیں کر سکتے، ع ہے یہ گنبد کی صدا جیسے کہے ویسی سنے''
    • اگر سعودی علماء حکام مفتیان کرام اور علماء عظام کی حضرت کے تعنت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہو تو ذرا غور کرلیں کیا ان کے فتاوی مشورے بیانات اور حکومتی موقف کی تائیدات، دینی دلائل، فقہی نظائر، مشکلات و مسائل اور نوازل میں حلول کی کوئی وقعت نہیں ہے اور آپ ہی ایسے فرضی غیرت مند شجاع بہادر اور فقیہ ودانا نکلے ہیں کہ آپ کی بات سب سے برتر بقیہ سب کمتر، کیا ان کی سوجھ بوجھ صالحیت، شرعی دلائل کی کوئی وقعت نہیں اور آپ کی بے سروپامجنونانہ باتیں امرمبرم اور یقین کا درجہ رکھتی ہیں۔
    • اگر سعودی عرب اسی طرح ہے جیسے کہ حضور فرماتے ہیں تو سعودی اداروں کے اسٹیج سے علی میاں کی گلف کی جنگوں اور امور ملت کے مسائل میں سعودی عرب کی تائیدات کو کس خانے میں ڈالیں گے، صہیونیت کے؟ یا منافقت کے؟ یا ان کی عظمت کو بچانے کے لیے خود کو پاگل قراردیں گے یا خود کو اور ان تمام علماء امت کو پاگل قراردیں گے۔ آپ کی ساری باتیں امت کے علماء مشائخ مفتیان کرام سیاسیان عظام اور مدبران عالی مقام کے موقف کے بالکل برعکس ہے، اگر انسان سوچ سمجھ کر نہ بولے تو اس کے سامنے خطرہ ہی خطرہ رہتا ہے۔
    • سعودی عرب کے حکام بے حسب و نسب، سارے عالم اسلام کی مصیبتوں اور ذلتوں کے اصل سبب، صہیونیوں اور صلیبیوں کے حکم کے بندے اسلام کا غلط استعمال کرنے والے، دکھاوے کے شوقین، جزیرۃ العرب میں کفار کو بسانے والے، سعودی علماء کو ستانے ارو اذیت دینے والے، ملک کی دولت کے لٹیرے، صدام کو خمینی سے لڑانے والے، طالبان کو دہشت گرد قراردینے والے، عراق میں شیعہ حکومت قائم کروانے والے، ظالموں کو پناہ دینے والے، اسلام پسندوں کے خلاف سازش کرنے والے، مصر کے اسلامی انقلاب کو تباہ کرنے اور مرسی حکومت کو گرانے والے، سعودی عرب کا سیاسی اورمعاشی نظام سراسر باطل، مغرب پرستانہ، سود اور حرام پر مبنی ہے۔ گندے چینل، صہیونی اڈے، ملحدانہ کمپنیاں، سودی نظام جابرانہ شاہی تسلط، ۵؍ہزار ملین مرسی کی حکومت گرانے میں سعودی عرب نے دیا، سعودی عرب کے غیرت مند شاہی گھرانے کے افراد، غیرت مند علماء اور یونیورسٹی کے طلباء سب عاجز آچکے ہیں، سعودی عرب کے سارے ادارے صرف شاہی گھرانے کی رضا کے حصول کے لیے ہیں، مصری مافیاؤں کی آل سعود سرپرستی کرتے ہیں۔جنھوں نے ساتھ ہزار افراد کو شہید کیا ہے، ہزار ہا ہزار لوگوں کو زخمی اور بیسیوں ہزارکو جیلوں میں ڈال رہا ہے، اور ہر ڈاڑھی والے کو گولی ماری جارہی ہے۔
    یہ ہے ہندوستان کے ایک بھکاری، چندسکوں کی مالی منفعت کے لیے کفار کی بوٹ چاٹنے والے فرد کی فہرست جرائم جسے اس نے سعودی عرب کے خلاف تیار کی ہے۔ اگر اسی طرح فہرست گھر بیٹھ کر کسی کو بنانی ہو تو ایک بھٹیارن بھی ایسی فہرست بنا سکتی ہے، پھر کسی کو سلمان حسینی ندوی بننے کا مطلب کیا ہوا؟ اگر ناراض ہوں تو سعودی عرب جرائم کا اڈہ اور اگر خوش ہوں تو اس کے اندر خیر ہی خیر اور اس سے انتساب باعث افتخار اور ہردم وہاں پہونچنے کے لیے بے تابی اور میاں بیوی شاہی حج کے لیے حاضر اور وقتی آرام کے لیے ملے کمبل باندھ کر لانے کی رذالت پر خوش، جو ساتھیوں کے لیے باعث کلفت و ذلت اور شدید ناگواری کا سبب، پستی ایسی اور باتیں اتنی اونچائی سے۔
    • سعودی عرب کو ایران نے سب سے زیادہ ٹارگیٹ بنایا ہے،اوراس کے خلاف جھوٹے پرپیگنڈے کی حد کردی ہے، اور سعودی عرب میں تباہی پھیلانے کے لیے اس کے سارے جتن کیے اور اس کے خلاف ہر طرح کی سازش کی لیکن جناب کے نزدیک سعودی عرب ایران سے مل کر اسلام پسندوں کو تبا ہ کرنے میں شریک ہے ایک عالم سند یافتہ اگر اس طرح کی یاوہ گوئی کرے تو پھر اسے عالم بننے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے ایسی باتیں کہنے کے لیے نادان رہنا ہی زیادہ مناسب تھا۔
    • اگر ان سے کوئی پوچھے آپ کے ان ارشادات کا مصدر کیا ہے؟ کیا ایسی باتیں کہنے کے لیے ذہن کی اپج کافی ہے؟ یا اباحیت پسند، مغرب نواز سعودی بھگوڑوں کا ویب سائٹ ہی حوالہ اور مرجع کے لیے کافی ہے۔ اگر کسی واقعے کے مرجع کے لیے مخالفین کافی ہیں، تو پھر اسی اصول پر دشمن اسلام، اسلام کا مرجع بننے کے لیے بہت مناسب ہیں، اور کیا ان کے بارے میں نعمانی گھرانہ مرجع بننے کا اہل نہیں قرار پائے گا، جو جناب کی ساری بھاگ دوڑ کو محض ایک فتنہ و فساد قراردیتا ہے۔
    • اگر ''حزب النور'' بدکردار ہو سکتے ہیں، تو جناب اپنے بارے میں کیا فتوی دیں گے، کیا سیاسی مجرموں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ اور مایاوتی کی نظر عنایت کے لیے فقیہانہ چال آپ کو اکابر مجرمین میں شمارکرنے کے لیے کافی نہیں ہے، چھلنی بھی سوپ کوطعنہ دینے چلی ہے۔ دریدہ دہنی کی یہ درندگی کسی عالم کو زیب نہیں دیتی ہے، تمام اوچھے حربے دنیا داری کے اپنے لیے جائز اور دوسرے کے لیے ان سے ہزار بار بہتر سیاسی رویہ بدکرداری کی علامت ، ایسے شعلہ بار خطیب کے بارے میں کیا کہا جائے جو کچھ کہا جائے کم ہے، اللہ ایسی مصیبتوں سے مسلمانوں کو نجات دے۔
    • مصرو اور شام کا منظر نامہ اور صہیونیون کے نرغے پر گفتگو کرنے کی بجائے، ساری تقریر کینہ نامہ، حسد نامہ، عداوت نامہ اور دشمنی نامہ، گپ نامہ بن کر رہ گئی، ایسے مہربانوں کی نامہربانیوں کی شکایت کس سے کی جائے، جناب خود ہی مدعی خود ہی وکیل اور خود ہی جج بنے ہوئے ہیں، دراصل مسلمانوں کی ہی داخلی صہیونیت ہے جو داڑھی، ٹوپی، کرتا، پاجامہ پہنے ہوئے ہوتی ہے، اورمسلمان خطیب عالم سید حسینی ندوی بھی ہوتی ہے، اور خارجی صہیونی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے، خارجی صہیونیت اور خارجی صلیب اس وقت اتنی خطرناک نہیں جتنی خطرناک یہ داخلی اسلام اور مسلم نما صہیو نیت ہے، ایک عالم کی حیثیت سے امت کے ایک الجھے ہوئے سیاسی مسئلے میں متوازن راہ اپنا کر سلمان کو راہ عمل بتلانا چاہیے اور مصر کی فوجی حکومت کے ظلم و ستم پر خیر امت کو بیدار کرنا چاہیے اور مصادمت کی صورت حال سے بچتے ہوئے مذاکرات کی راہ دکھلانا چاہیے، لیکن جناب عالمانہ رویہ اپنانے کے بجائے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیں، اور ایک ایسی حکومت کو بچوں کا کھلونا بنارہے ہیں جس کی تین سو سالہ شاندار تاریخی ریکارڈ ہے۔
    • سعودی عرب نہ خلافت راشدہ ہے نہ اخوانی، صحابہ کی جماعت ہیں لیکن بہر حال اخوانیوں سے کہیں زیادہ سعودی حکومت کا شاندار اسلامی ریکارڈ ہے۔ اور بہترین دینی سمجھ و دین پر بے مثال عمل پیرائی ہے، انھوں نے پوری ''اسلامیت''کی تاریخ میں سب سے زیادہ اخوانیوں کی مدد کی ہے، کئی دہے تک سارے اخوانی علماء کا سعودی عرب ٹھکانا رہا۔ ان کے تہس نہس ہوتے وجود کو اس کے حکمرانوں نے بچایا، فرعون مصر سے ٹکر لی، اور ان کی غم گساری کی، مگر انھیں کیا ملا، انھوں نے سعودی عرب میں اپنی ثوریت کے ذریعہ نوجوانوں میں شوریدہ سری پیدا کردی، اور سعودی یونیورسٹیوں میں وہ باغیانہ تیور جس کا جناب نے حوالہ دیا ہے، اخوانیوں ہی کا دیا ہے، اگر باغیانہ تیور ہے تو۔ اگر آپ کو اپنے فردی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی مجرموں سے مل کر مایاوتی کی خوشنودی حاصل کرنے اسے جتانے اور اسے اپنی عوامی پکڑ بتانے کے لیے مجرمانہ جتن کرنا پڑتا ہے اور آپ بہ ہوش و حواس یہ کام کرتے ہیں ندوہ میں شریعت کا درس دیتے ہیں اور شرعی لبادہ اوڑھ کر مجرمانہ جتن کرتے ہیں تو اسی پر قیاس کر لیجیے دوسرے کو، ۲۰؍لاکھ مربع کیلو میٹر علاقے پر پھیلی تین صد سالہ حکومت کے تحفظ کے جتن کرنے کا حق نہیں ہے۔
    • آپ یہاں دور بیٹھ کر حقیقی حالات سے بے خبر پرپیگنڈوں اکاذیب اور افسانوں کی بنیاد پر سعودی عرب کو دنیا کا سب سے خراب حکومت قرار دے رہے ہیں اور صدام و خمینی کی بھی تحسین کرکے اس کے جرائم میں اضافہ کر رہے ہیں، یہ حق آپ کو کہاں سے مل گیا؟ کل صدام و خمینی کی مذمت ندوہ کے اسٹیج پر علی میاں کی قیادت میں ان کی سرگرمیوں کو مسترد کیا گیا اور آج ایک جعلی یا اصل سید شیعہ نوازی اور تحریکیت نوازی کو وقت کا سب سے بڑا کمال بتلا رہا ہے۔ اور ثوریت کو اصلی اسلام بتلا رہا ہے۔ اخوان نہ اسلام کے ٹھیکہ دار ہیں نہ انکی فکر و فہم پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے نہ ان کے دعاوی اور تعلیاں در خور اعتناء ہیں۔ اور نہ ان کی اب تک کی جہود کو مثالی قرا ر دیا جا سکتا ہے، نہ ان کو استثناء اور ثقاہت کی سند دی جا سکتی ہے، نہ ان کے سیاسی عزائم کو امت اسلامیہ کے عزائم کا نام دیا جا سکتا ہے، نہ ان کو امت کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے، وہ بھی ایک ڈھرہ ہیں جیسے دورے اسلامی ڈھرے ہیں، پھر سعودی عرب کو مسترد کرنے کے لیے بات کیوں کی جائے جیسے اخوان اللہ تعالی کے فرستادہ اور صحابہ کی جماعت ہیں وہی قابل قبول ہیں بقیہ سب مسترد ہیں۔
    مصر میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے وہ اخوانیوں ہی کے ساتھ نہیں اگر کسی غیر مسلم کے ساتھ ہو وہ بھی مسترد قابل مذمت اور مرفوض ہے، لیکن اس کا انتساب سعودی حکومت کی طرف کرنا ایسے ہی ہے جیسے بھاجپائی لیڈر نے گجرات میں پھیلے طاعون کے متعلق کہا تھا کہ طاعون پاکستان نے بھیجے ہیں، کسی ملک کے خلاف ایسا کالا اور غلیظ تعصب نہیں ہونا چاہیے کہ ایک عالم بھگوا رنگ کی سوچ کی سطح پر اتر آئے، ہمیں آپ کو روز مرہ واقعات میں ایک دوسرے کے موقف اور عمل سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آدمی کسی کے کسی ایک موقف سے ناراض ہو کر اس کے وجود ہی کا منکر بن جائے، کیا سلمان صاحب کو یہ زیب دیتا ہے، کہ جامہ سے باہر آکر صہیونی رافضی اور تحریکی لب و لہجہ میں سعودی عرب کو مسترد کردیں اور اس کے وجود ہی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں جب کہ ان کی روباہیت کا یہ عالم ہے کہ اگر حیدر آباد میں تقریر کرنے کے معا بعد سعودی عرب انھیں کسی نوازش کے لیے بلائے تو بھاگتے ہوئے پہونچیں گے اور دوسروں کو تلقین کرتے ہیں حج ویزہ کے لیے وہاں لائن نہ لگاؤ۔
    • ایک مسئلہ کو خلط ملط کرنا اور جھوٹ بول کر جذباتی گفتگو کرنا یا دوسروں کی تردید میں لب کشائی اسی لیے ہو کہ بزم آرائی کر کے واہ واہی بٹورنا ہو، کسی موقف کا اظہار نہیں تو اس سے زیادہ بدبختی، ابن الوقتی، اور فتنہ و فساد اور کیا ہوگا۔ سلمان صاحب کی بھڑکاؤ تقریر محض ایک کھیل اور تماشا ہے، اور وقتی یافت کا ایک ناٹک ہے اب تک ایسا ناٹک بہت لوگ کر چکے ہیں لیکن سعودی عرب کا کچھ نہ بگڑا البتہ ناٹکی رسوا ہو کررہ گئے اور ایسے ناٹکی جب ایسے اسٹیج پر جائیں جہاں دوسرے ڈھنگ کا ایکٹ کرنا ہو تو بڑی مہارت سے بالکل برعکس ایکٹنگ کرلیں گے یہ چھلاوہ اور مداری لوگ ملت کے لیے وبال اور درد سر ہیں۔
    • ایک اہم سوال یہ ہے کہ مصر میں کون سااسلامی انقلاب آ گیا تھا جس کے جانے پر ماتم ہو رہا ہے، فوج انتظامیہ انٹلیجینس اور سارا نظام ناصری تھا، جمال عبدالناصر کے زیر اثر ہے، اسلام پسند بیلٹ باکس کے تھرو اکثریتی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اس اکثریتی ووٹ کا کیا بھروسہ کسی طرف کھسک سکتا ہے، پورا مصر مل کریہ انقلاب لایا تھا پھر جمہوری مغربی طرز پر الیکشن ہوا، اسلام پسند جیت گئے، یہ الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوا اسلام پسندوں کو سبھوں نے براداشت کیا اور ان کی جیت کو سبھوں نے تسلیم بھی کیا، لیکن کیا بات ہے کہ ایک سال بعد اخوانی حکومت سے عدلیہ فوج انتظامیہ دین دشمن دین پسند سب روٹھ گئے، خارجی صہیونیت کی بات تو ہوتی ہے خانہ تلاشی بھی ہونی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ہماری داخلی صہیونیت مصری سیاست کو بگاڑنے میں کتنا ذمہ دار ہے۔خارجی صہیونیت کی دہائی دے کر داخلی صہونیت کو ہمیشہ چھپا دیا جاتا ہے اور لوگوں کو مس گائڈ کیا جاتاہے۔
    • اخوان اخوان نہ ہوئے اسلام ہو گئے اور مرسی مرسی نہ رہے حضرت عمر بن خطاب بن گئے، بے شک ان پر ظلم ہوا اور ناروا طور پر ان کی حکومت کو گرادیاگیا لیکن اس سے اخوان کو یہ اعزاز نہیں مل جاتا کہ وہی اسلام بن گئے اور مرسی حضرت عمر بن خطاب، اور بقیہ تمام اسلام پسند زیروناکارہ، بدکردار۔ ایک سالہ دور حکومت میں اگر مان لیا جائے کہ مرسی نے بڑی خراب کار کردگی کی پھر بھی یہ وجہ جواز نہیں بن سکتی ہے کہ ان کی حکومت گرے یا گرائی جائے اور نہ ان کے اوپر توڑے گئے ظلم وستم کو ایک لمحے کے لیے برداشت کیا جانا چاہیے لیکن اس سے یہ جواز نہیں مل سکتا ہے کہ ان کی حکومت گرنے کے سبب اسے خلافت راشدہ کا درجہ دے دیا جائے اور اس کے صدرکو خلیفۂ راشد کا،اور اس سے یہ جوازنکال لیا جائے کہ دوسروں کو مسترد کردیا جائے اور تمام سازشوں کے پیچھے ان کا ہاتھ تسلیم کیا جائے۔
    • یک رخی تصویر دکھلاکر پبلک کو بھڑکا نا اور ایک عظیم حکومت اور اس کے تین سو سالہ دور حکومت کو مسترد کرنا اور اس کی کار کردگیوں کو زیروبنا نا اور اس کے سیاسی بھگوڑوں کو امام بنانا نری ہندوستانی سستی نیتائی ہے، ایسی چیپ نیتائی کو کبھی حقیقت پسندی راس نہیں آتی ہے، عجیب ہیں ہندوستانی مسلمانوں کے ائمہ۔ جب یہی صاحب ذاتی مفاد کی کساد بازاری کا شکار ہوئے اور ان کی ولی نعمت مایاوتی ہار گئیں تو اپنی سیاسی حیثیت و منفعت کی بازیابی کے لیے سعودی عرب سے درخواست کرکے امام حرم کو بلاتے ہیں اور امام حرم کی حیثیت اور حرم شریف کی عظمت کے حوالے سے ملائم کی نگاہ میں باوقار اور باعظمت بنتے ہیں اور پبلک میں مداری بن کر اپنی اچھل کود کا تماشہ دکھلاتے ہیں اور آج عوامی شہرت حاصل کرنے کے لیے اسی سعودی عرب کو ساری برائیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں صہیونیت کا ایجنٹ،صہیونیت کے دلدادہ اور صہیونیت کے پروردہ اور صہیونی نظام کو نافذ کرنے والا اور اب سعودی عرب پر نفریں بھیج رہے ہیں اور اسے ہر خیر سے عاری قرار دے رہے ہیں، مشکل یہ ہے کہ سعودی ارباب اختیار کو منافق اور جھوٹے زیادہ راس آتے ہیں اور جب یہ اپناکام کر جاتے ہیں تب انھیں ہوش آتاہے۔
    • مصر کے حالات پر جس طرح بحث چل رہی ہے ایسا لگتا ہے جیسے مصر اخوان کی جائداد ہے اور اس پر ان کا حق حکمرانی قیامت تک محفوظ ہے اور جو اس کی مخالفت کرے سب اسلام دشمن اور مسلم دشمن ہیں، اور بحث کرنے والے جیسے مصر کے مالک ہیں اور مصر اخوانیوں کو بخشش میں دے دیا ہے، یہ سوچ انتہاائی ابنارمل اور فرقہ پرستانہ سوچ ہے ایسی سوچ بھی صہیونی سوچ ہے، صہیونی سوچ کیا ہے؟ حق کو باطل بنانا اور باطل کوحق بنانا۔ مصر کی موجودہ صورت حال ملت اسلامیہ کی ایک بگڑی ہوئی سیاسی صورت حال ہے۔ اس کا واحد حل مذاکرات ہے، فوج اور عدلیہ نے اخوان ہی نہیں وطن اور اہل وطن کے ساتھ غداری کی ہے، اور ان کا ظلم و ستم جمال عبدالناصر کے ظلم و ستم سے کم نہیں ہے، پھر بھی دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ مصادمت کا راستہ چھوڑکر مذاکرات کی راہ اپنائی جاتی اور اگر حکومت گرنے سے پہلے ہی مذاکرات کا راستہ کھولا جاتا تو بہتر تھا۔ مصادمت سے حالات خراب ہوتے ہیں، اصلاح کا واحد راستہ موجودہ صورت حال میں بیلٹ باکس کی ہے یہی راستہ اخیار کرکے ملک میں سیاسی اتھل پتھل ختم ہوا تھا اور پوزیشن و اپوزیشن ہر ایک کو یہی مطلوب ہے۔ جب سب کا مشترکہ مطلوب موجود ہے اور حل کا راستہ کھلا ہوا ہے تو آسان حل کا راستہ اپنانا بہتر ہے، جلد الیکشن ہونے سے حالات جلد نارمل ہوجاتے اور کینہ و دشمنی پنپنے نہ پاتی، لیکن اخوانی بھی ایسا لگتا ہے مصادمت کی راہ پسند کرتے ہیں اور سڑکوں پر خون ناحق بہاکر جیل جاکر اپنی مظلومیت کے ذریعے ووٹ بٹورنے کی سیاست کر رہے ہیں، مغربی جمہوریت کی یہی خرابی ہے کہ اسلامی انقلاب کے دعوی دار ملک میں اسلامی ذمہ دار انہ رویہ اپنانے کے بجائے ووت بٹورنے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، اور اخوانی فوج کے ساتھ ملک کو غارت کرنے پر لگ گئے ہیں۔
    • ایک اہم سوال یہ ہے، یہ کون سی اسلامی انقلاب پسندی ہے کہ بیلٹ باکس سے آئی حکومت کے جانے پر اس قدر ماتم کی جائے اور اہلاک حرث و نسل کا کام کیا جائے اور یہ کون سا اسلامی انقلاب تھا کہ فوج کا سربراہ اخوانی باپ کا بیٹا صدر مصر کا ہینڈ پک خود انھیں پر ٹوٹ پڑا اور خطیب کے بیان کے مطابق سات ہزار اخوانی شہید اور ۵۰؍ ازہری علماء شہید ہوئے دس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے اور بیسوں ہزار سے زیادہ جیل میں ہیں، کیا اس قتل و خوں ریزی و مصادمت کے لیے شرعی جواز ہے اور جو بھی مارے گئے ان کی موت شرعا کیسی ہوگی، اس اسلامی انقلابی سوچ پر کیا کہا جائے، کیا اب مصر نہ رہے گا، عوام نہ رہے گی، اسلام پسندی ختم ہو جائے گی،پھر مصادمت کیوں؟ جب سیاست ہی کرنی ہے تو سیاست ہی کیجیے مصادمت کیوں؟ ظاہر ہے اخوان کی مظلومیت ہے لیکن اس مظلومیت کو سڑکوں پر کیش کرنا کیا شرعا درست ہے؟ فوج سے زیادہ ان کی ذمہ داری ہے کہ عوامی نمائندہ اور سیاسی پارٹی ہونے کے ناطے ملک کے امن و امان کو بحال کرنے میں اہم رول اداکریں، سیاست بازی مغربی جمہوریت کی اور بیلٹ باکس کی اور دعوی اسلامی انقلاب کا، یہ خلط مبحث کیوں؟ اس خلط مبحث سے پبلک کو بے وقوف بنانے کا معنی کیا ہے؟
    • جس طرح مصر پر موجودہ حکومت اپنی جماعت کی پکڑ بنا رہی تھی اور سب کو نظرانداز کر رہی تھی اس سے سب کو تشویش تھی کس نے اسے یہ جواز عطا کیا تھا کہ حکومت میں کینہ پرور ی کرے اور ہر شعبہ حیات کو اپنی پارٹی کے کنٹرول میں دیدے یہ چیز ملک کے سب طبقوں کو ناپسند تھی اور بیرون ملک دوسرے ممالک کو بھی۔ انھیں خطرہ یہ ہو چلا تھا کہ جس طرح رافضی ''تصدیر الثورۃ'' کا مشن لے کر اٹھے تھے اور پورے عالم عرب کو تہس نہس کردیا تھا اور ہر ہر قدم پران کے خلاف اقدام میں صہیونی اور صلیبی حملوں کا ساتھ دیا تھا، پھر ایسی ''تصدیر الثورۃ'' کا کام تحریکی نہ کرنے لگیں، خصوصی طور پر سعودی عرب کو گذشتہ صدی کے آخری دہے میں بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے اور اب تک تحریکی ثوریت کے جراثیم وہاں موجود ہیں، جب اخوان بیلٹ باکس کے ذریعہ بنی اپنی حکومت کے لیے پورے ملک میں فوج سے لڑسکتے ہیں اور انھیں اسلامی انقلاب کا حق مل سکتا ہے تو دوسروں کو بھی اپنے ملک کے متعلق اندیشوں کی فکر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، موجودہ بگڑی صورت حال کا حل یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ سارے حکمراں اپنے ملک کو اخوان کے حوالے کر دیں اور لوگ انھیں جنت کا سرٹیفیکٹ دے دیں۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زکوۃ خیرات کے پیسوں سے بنائے اداروں کی صدارت و نظامت کے لیے کسی مملکت اور حکومت کی صدارت سے زیادہ حساسیت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سازش کرتے رہتے ہیں، کیا سلمان اور خلیل نعمانی کی باہم چپقلش اور ایک دوسرے کے خلاف موامرت سے لوگ بے خبر ہیں؟ اسی طرح دیگر جماعتوں اور اداروں کا حال ہے جمعیۃ العلماء میں چچا بھتیجہ نے کیا کچھ نہیں کیا ہے جب خیراتی اداروں کی سطح پر چپقلش موامرت اور سازش کا یہ حال ہے اور امت مسلمہ کی یہ درگت بنی ہے تو پھر عالمی سطح پر آپ کس کس پر روئیں گے؟ ہمارے اندر کی صہیونیت خارجی صہیونیت سے زیادہ تباہ کن اورخطرناک ہے،باہر کی صہیونیت اور صلیب کا ہوا کھڑا کرنا اور پبلک کو بے وقوف بنانا اور کسی کو اسلام کا ٹھیکیدار بنانا اور کسی کو دین دشمن قرار دینا دنیاداری اور بے دانشی ہے۔
    • اور اگر دیکھا جائے تو یہ طے ہوگا کہ ساتھیوں کی بے زاری کے بعد مرسی حکومت اقلیت میں آچکی تھی اور اپنا میڈیٹ بھی کھوتی جارہی تھی، آج نہیں تو کل اسے گرنا ہی تھا اسے کوئی بچا نہیں سکتا تھا۔
    • اگر کسی کو کسی کے موقف سے اختلاف ہے تو اس کو سمجھے اگر موقف غلط ہے تو اس کی معقولیت کے ساتھ تردید کرے نہ اس ایک موقف کی بنا پر اسکو شر کی آماجگاہ اور صہیون کا ایجنٹ بنادے، مولوی حضرات اختلافی مسائل پڑھا کر ایسی ذہنیت بنا لیتے ہیں کہ سیاسی فتوی بازی میں بھی بہت تیز بن جاتے ہیں، اور اپنی سرعت پسندی اور افسانوی و رومانوی مزاج کو قابلیت سمجھتے ہیں۔
    • خطیب صاحب نے نہ مصر کا منظر نامہ بیان کیا نہ شام کا اپنا کینہ نامہ بیان کر نے لگے، اور ۵؍ہزار ملین کی خبر ان پر بجلی بن کر گری اور یہ خبر بھول گئے کہ ایران لبنان، عراق اور شام کے روافض نے مل کر شام میں ۲؍لاکھ اہل سنت کو ذبح کر چکے ہیں اور پورا ملک تبا ہ ہو چکا ہے۔ پانچ ہزار کہاں سے چلا کب چلا کس کو ملا کیوں چلا، چلا بھی کہ نہیں تفصیل نہیں، گھر بیٹھ کر طے کر لیا گیا، مرسی کو گرانے کے لیے یہ رقم سعودی عرب نے دیا۔ مرسی حکومت گر گئی، فوج آگئی، غلط ہوا، ظلم ہوا لیکن کیا فوجی حکومت یہودی حکومت ہے، آگئی تو سب لڑبھڑ کر مر جائیں ملک تباہ ہوجائے یہی منظور ہے اور اگر سعودی عرب نے یہ رقم فوج کو دی کہ حکومت مستحکم ہو جائے اور معاشی بحران و تعطل جو دو سال سے چلا آرہا تھا دور ہوجرم کیا کیا؟ اسکا فائدہ پورے ملک کو نہ ہوگا، ٹھیک ہے آپ کے حساب سے ہمارے حساب سے یہ موقف غلط ہے تو اس کی تغلیط کیجیے اور مناسب ڈھنگ سے کیجیے، ہذیانی کیفیت طاری کرنے دوسروں کو مسترد کرنے حزبیت اختیار کرنے اور اخوان کو اسلام کا ٹھیکیدار بنانے کا آپ کو کس نے حق دیا، آپ دین و امت کے مفاد پر کھل کر بات کیجیے لیکن اپنی داخلی صہیونیت کا زہر کیوں پھیلا رہے ہیں، عصبیت کی آگ کیوں لگا رہے ہیں؟
    سلمان حسینی صاحب سعودی عرب کے تین سو سالہ دور حکومت میں اللہ تعالی کی اس پر بے پناہ مہربانیاں رہی ہیں اور آپ جیسے بھوکنے والے ہزاروں آئے اور چلے گئے، دسیوں حکومتیں آئیں اور گئیں شیعہ سنی صہیونی، صلیبی، کمیونسٹ، دہریہ، قوم پرست، ملحد، تحریکی ہر ایک نے انھیں اکھاڑ پھینکنے کے لیے سارا زور لگالیا، لیکن رسوا ہو کر رہ گئے آخر میں صدام، خمینی اور تحریکیوں نے پورا زور لگالیا لیکن رسوائی کے سوا انھیں کچھ ہاتھ نہ آیا، تین تین بار آل سعودکی حکومت گری اور بنی اور چل رہی ہے اگر ان کی وفاداری دین سے برقرار ہے تو ہزاروں بھونکنے والے آتے اور جاتے رہیں، اور جس دن دین سے ان کی وفاداری کمزور یا ختم ہوئی دنیا سے سارے بھونکنے والے اسے بچانا چاہیں گے تو نہیں بچا سکیں گے۔
    • سلمان صاحب نے سعودی یونیورسٹی جامعۃ الامام میں تعلیم حاصل کی پھر ان کے بیٹے نے وہیں تعلیم حاصل کی، جب دیکھو خیرات کے لیے سعودی عرب میں لائن لگائے رہے شاہی حج بھی بیوی کے ساتھ کیا، بارہا وہاں کے اداروں کی دعوت پر دورہ کیا ان کے سارے ادارے ان کے مصارف پر بنے جن کو یہ آج صہیونیوں کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں، اگر امارات اور سعودی عرب کے لوگ ان سے کہیں:
    وإن أنت أکرمت الکریم ملکتہ وإن أنت أکرمت اللئیم تمرّدا
    سلمان صاحب کو کب سے سیاسی کھیل کھیلنے کا شوق ہو گیا ہے، اگر ان کی سیاسی آنکھ سعودی عرب کی دینی ملی اور انسانی خدمات نظر نہیں آرہی ہیں یا سب ان کی نگاہ میں ریا کاری اور صہیونیت ہیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا، رسول کائنات ﷺ کو سارے کفار گالیاں دیتے ہیں بہت کم نیک طینت غیر مسلم آپ کی تکریم کرتے ہیں، سارے شیعہ و روافض خلفائے ثلاثہ اور امہات المومنین کو گالی دیتے ہیں۔ سارے تحریکی مقام صحابہ کو جانتے نہیں، احادیث کے متعلق مشکوک ہیں اور اپنے ائمہ سیاست کی بکواس کو وحی کا درجہ دیتے ہیں۔ کیا ان چیزوں سے ان حقائق پر کچھ اثر پڑتا ہے۔اسی طرح آپ کی تصدیق یا رفض کا حقائق پر کچھ بھی اثر انداز نہ ہوگا۔







    http://www.mediafire.com/view/0xv8pj37808hoc9/Mazmoon.pdf
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 11، 2013 #2
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    سعودی عرب کے متعلق جناب سلمان حسینی کی تقریر کا ایک خوبصورت تجزیہ ، مفکر جماعت فضیلۃ الشیخ عبدالمعید مدنی کی قلم سے ۔
     
  3. ‏ستمبر 11، 2013 #3
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,036
    موصول شکریہ جات:
    1,677
    تمغے کے پوائنٹ:
    296

    بہت خوب۔۔
    جزاک اللہ خیر۔۔۔۔
     
  4. ‏ستمبر 11، 2013 #4
    حیدرآبادی

    حیدرآبادی مشہور رکن
    جگہ:
    حیدرآباد دکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2012
    پیغامات:
    285
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    جواب میں کسی حد تک جذباتیت اور فریق مخالف کے خلاف عامیانہ لہجہ ہے۔ بس اگر یہ نکال کر مناسب تدوین کر لی جائے تو یہ دانشورانہ مضمون ایک تاریخ ساز حیثیت اختیار کر جائے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 11، 2013 #5
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    میں اس کو ادب سمجھ کر گوارا کرلیتا ہوں ۔
     
  6. ‏ستمبر 11، 2013 #6
    حیدرآبادی

    حیدرآبادی مشہور رکن
    جگہ:
    حیدرآباد دکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2012
    پیغامات:
    285
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    مگر ہم اسی کو تو "غیر ادب" باور کرتے ہیں :)
     
  7. ‏ستمبر 12، 2013 #7
    حیدرآبادی

    حیدرآبادی مشہور رکن
    جگہ:
    حیدرآباد دکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2012
    پیغامات:
    285
    موصول شکریہ جات:
    493
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    یا شیخ ، مدنی صاحب سے کہئے کہ ذرا ایک کلاس اس فتویٰ کی بھی لے لیں۔
    کچھ دیوبند والوں کو اپنا تماشہ بنانے کی شائد کچھ زیادہ ہی خواہش ہے ۔۔۔ یا یوں کہہ لیں "سرخیوں میں بسے رہنے کی خواہش"!
    کارٹون کے بعد اب ایک نیا فتویٰ فوٹوگرافی سے متعلق بھی ۔۔۔
    فوٹوگرافی غیر اسلامی اور گناہ ہے
    ایک مزے کی بات ایک مفتی صاحب نے کی ۔۔۔۔
    ۔۔۔ انہیں جب بتایا گیا کہ سعودی عرب میں اس کی اجازت ہے تو انہوں نے کہا : "صرف اس لیے کہ وہ ہم سے زیادہ امیر ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صحیح بھی ہیں!"
    اور فتویٰ دینے والے مفتی صاحب نے اسی سعودی عرب والی مثال پر فرمایا : "انہیں ایسا کرنے دیں ، ہم تو اس کی اجازت نہیں دیں گے ، وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ سب صحیح نہیں ہے۔"

    فوٹو اور ویڈیو گرافی سے متعلق غالبا ایک تفصیلی مذاکرہ کی رپورٹ یہیں محدث فورم پر موجود ہے۔ اس کی ایک کاپی دارالعلوم دیوبند کو بھیج دی جائے تو کیا ہی خوب بات ہو۔ کلیم حیدر بھائی ذرا اس مذاکرہ والے تھریڈ کا لنک دینے کی زحمت فرمائیں
     
  8. ‏ستمبر 30، 2013 #8
    عرفان عالم بن عبدالصبور

    عرفان عالم بن عبدالصبور مبتدی
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2013
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    اللہ جزاء خیر دےمحترم عبدالمعید المدنی صاحب کو جنہوں نے مولانا سلمان صاحب کی حقیقت پر خوبصورت تجزیہ کیا اور فضیلۃ الشیخ معراج ربانی نے اپنے خطبہ جمعۃ بموضوع " سلمان ندوی کی سعودی دشمنى" سے اس کا تکملہ کیا۔

    اللہ علماء کرام کو باعث فتنہ نہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں