1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کاش نمازی حضرات اس کا بھی کچھ خیال کریں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏دسمبر 30، 2019۔

  1. ‏دسمبر 30، 2019 #1
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    21
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے‘‘۔ (صحیح بخاری )

    اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث سے تقریباً سارے مسلمان واقف ہیں اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا کر ثواب کماتے ہیں تاہم مسجد کے دروازے پر جوتے چپل اتار کر اندر چلے جاتے ہیں جو کہ مسجد کے راستے میں تکلیف دہ چیز رکھنے والا عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے ہنگم اور تکلیف دہ نظارہ بھی پیش کر رہا ہوتا ہے جس سے غیرمسلموں میں مسلمانوں کی غلط تصویر مرتسم ہوتی ہے جو کہ کسی بھی مہذب قوم کا خاص کر مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہونا چاہئے جبکہ مسجد کے دروازے پر بے ہنگم جوتا چپل اتار کر جانا بعض گناہوں کا موجب بھی ہے۔

    باجماعت نماز تو ہمیں نظم و ضبط کا درس دیتا ہے لیکن مسجد کے دروازے پر ہی ہم مسلمان اس نظم و ضبط کا مظاہرہ نہیں کرتے یعنی کہ ہمارا نماز ہمیں کچھ نہیں سکھا پاتا۔

    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے کسی بھی کام میں یہ پسند کرتا ہے کہ اُسے عمدگی اور سلیقہ سے کیا جائے“۔ (شعب الایمان ،باب فی الامانات وما یجب من أو أھما الیٰ أھلھا:7،ص:232،ط،مکتبہ الرشد،ریاض)

    جبکہ نماز باجماعت جیسی عظیم عبادت کے معاملے میں مسجد کے دروازے پر ہم عمدگی اور سلیقے سے کام نہیں کرتے اور اپنا جوتا یا چپل بے ہنگم طریقے سے چھوڑ کر اندر چلے جاتے ہیں جس کی وجہ کر نماز جیسی عظیم عبادت کرنے سے پہلے ہم کئی سنگین گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

    ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا مسجد کے دروازے پر بے ہنگم جوتا چپل چھوڑ کر جانا دوسرے نمازیوں کو ایذا پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور کسی مسلمان کو ایذا پہنچانا حرام ہے اور گناہ کا کام ہے۔

    مسجد کا دروازہ دراصل میں مسجد میں داخل ہونے کا راستہ ہے اور راستے کے معاملے میں اذیت پہنچانے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ’’جس نے مسلمانوں کو راستے کے معاملے میں تکلیف دی، تو اس پر اُن کی لعنت ثابت ہو جائے گی‘‘۔(یہ حدیث سیدنا محمد بن حنفیہ، سیدنا حذیفہ بن اسید اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی: 2294)

    مسجد کے دروازے پر بے ہنگم جوتے چپل میں پھنس کر کوئی بھی نمازی خاص کر بوڑھا آدمی یا کوئی بچہ گر کر زخمی ہوسکتا ہے یا گرنے کی وجہ کر اس کی جان بھی جاسکتی اور اس کی نمازیں یا جماعت فوت ہوسکتی ہیں، جس کے قصوروار مسجد کے دروازے پر بے ہنگم جوتے چپل اتار کر جانے والے ہونگے اور وہ گناہ کے مرتکب ہوںگے۔

    مساجد کے دروازے پر بے ہنگم طریقے سے چوتے چپل اتار کر جانا گندگی پھیلانے والا کام ہے جبکہ اسلام میں صفائی نصف ایمان ہے۔ اس طرح جوتے پھینکنے سے وبائی جراثیم مسجد اور گھر میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ آجکل جماعت کے اوقات میں اکثر مساجد کے دروازے پر جوتے چپل کا انبار کچڑا خانے کا منظر پیش کرتا ہے لیکن افسوس کہ نہ ہی مسجد میں نماز کیلئے آنے والے حضرات ہی اس کا کوئی خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی مسجد انتظامیہ ہی کو اس گندگی کو دور کرنے کی فکر کرتی ہے۔ کاش نمازی حضرات اس کا بھی کچھ خیال کریں۔


    مسجد سے نکلتے ہوئے کوئی شخص جلدی میں غیر ارادی طور پر ان بے ہنگم جوتے چپل میں سے کسی اور کا جوتا یا چپل پہن کر جا سکتا ہے جس کی وجہ کر دوسرا مسلمان پریشان ہوگا اور بدگمان ہوگا کہ دیکھو میرا جوتا چوری کر لیا جبکہ ایسی بدگمانی گناہ ہوگی۔

    اگرچہ جوتے مسجد کے اندر سے بھی چوری ہو جاتے ہیں لیکن مسجد کے دروازے پر جوتے چپل چھوڑنے والے چور کو جوتے چوری کرنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں اور گناہ کرنے کی ترغیب اور چوری کرنے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔

    آجکل اکثر مساجد میں ریک بنے ہوئے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ اپنے جوتے چپل ریک میں لے جاکر قرینے سے رکھیں تاکہ کسی نمازی کو تکلیف نہ ہو اور ہم گناہوں سے بچ جائیں۔

    ہمارے اسلاف کا یہ طریقہ تھا کہ وقار اور سکون کے ساتھ مسجد تک تشریف لاتے پھر مسجد کے دروازے پر جوتا اتار کر اسے اُلٹا کرکے تین بار چھاڑتے پھر اُسے لے جاکر ایک طرف قرینے سے رکھتے کیونکہ وہ نبی ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے والے تھے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

    ’’جب تم اقامت سنو تو نماز کی طرف چل پڑو۔ لیکن سکون و وقار کو ملحوظ خاطر رکھو۔ تیز تیز دوڑ کر نہ آؤ۔ جو نماز مل جائے وہ پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے وہ مکمل کر لو‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔

    افسوس کہ آج ہم اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی باتوں کو نہیں مانتے۔ سکون اور وقار کو بالائے طاق رکھ کر جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دوڑتے ہوئے مسجد آتے ہیں۔ جوتے ادھر اُدھر پھینکتے ہیں اور ہانپتے ہوئے جماعت میں شریک ہوجاتے ہیں اور اس جلد بازی میں مسجد کے دروازے پر کئی گناہ کر چکے ہوتے ہیں جبکہ اُس وقت بھی ہم حالت نماز میں ہوتے ہیں، جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

    ’’جب کوئی شخص بہترین وضو کرکے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم نہ ملائے کیونکہ وہ نماز میں ہے‘‘۔ (یعنی کہ وہ نماز میں ہے لہٰذا کوئی فضول کام نہ کرے)۔ (ابوداؤد، صححہ الالبانی)۔

    اللہ تعالی ہمیں ہر فضول کام سے اور گناہوں سے بچائے۔ ہمیں سکون اور وقار کے ساتھ مسجد جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ٹھیک ٹھیک نمازیں ادا کرنے والا بنائے۔ ہماری نمازوں کو اور دیگر عبادات کو قبول فرمائے۔آمین

    فقط دعاؤں کا طالب: محمد اجمل خان
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں