1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی کو یہ کہنا کہ "فلاں دوست کو میرا سلام کہنا" کیسا ہے؟

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو عبدالله, ‏مئی 31، 2015۔

  1. ‏مئی 31، 2015 #1
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتهُ
    معزز اہل علم سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست ہے۔ جزاکم اللہ خیرا
    جب کوئی ہمیں کہتا ہے کہ فلاں کو میرا سلام کہنا تو یہ سلام آگے کہنا کیسا ہے؟
    اس رسم کی ابتدا کہاں سے ہوئی، کیا خیرالقرون میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟
    اگر کوئی شخص یہ سلام آگے نہ کہے تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟

    @اسحاق سلفی @عبدہ
    @خضر حیات @انس @کفایت اللہ @سرفراز فیضی @ابوالحسن علوی
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 31، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    صحیح مسلم(2447) وغیرہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ہے کہ جبرئیل نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، جواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جبرئیل پر سلام بھیجا۔
    اس حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ سلام بھیجنا جائز ہے ۔ اور سلام پہنچانا ، پھر جس کو پہنچایا جائے اس کا جواب دینا ، یہ دونوں چیزیں واجب ہیں ۔ جیساکہ سلام کے بارے میں عمومی نصوص سے پتہ چلتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 01، 2015 #3
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ المُنْذِرِ الكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» ، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ۔۔وَفِي البَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ
    ’’سنن ترمذی،ح:2693‘‘شیخ البانی نے صحیح کہا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں