1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کشمیر فتویٰ : 'آدھی بیوہ کی چارسال بعد شادی جائز'

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏دسمبر 28، 2013۔

  1. ‏دسمبر 28، 2013 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    کشمیر فتویٰ : 'آدھی بیوہ کی چار سال بعد شادی جائز'
    کشمیر میں ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء نے ایک متقفہ فتوی کے ذریعے چار سال سے زیادہ عرصے سے لاپتہ افراد کی بیویوں کو جنھیں 'آدھی بیوہ' بھی کہا جاتا ہے دوسرا نکاح کرنے کو جائز قرار دے دیا ہے۔

    واضح رہے کشمیر میں چوبیس سال سے جاری مسلح شورش کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ ہو گئے ۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت کو دبانے کے لئے فوج اور نیم فوجی اداروں نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے فرضی جھڑپوں میں ہلاک کیا ہے جس کی وجہ سے وادی میں چھہ ہزار سے زائد گمنام قبروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    انسانی حقوق کے اداروں کی تحقیق کے مطابق کشمیر میں ایسی ڈیڑھ ہزار خواتین ہیں جن کے خاوند لاپتہ ہیں۔ ان خواتین کے دوبارہ شادی سے متعلق چونکہ مسلم علماء کے درمیان اتفاق نہیں ہو رہا تھا۔ علماء نے اس معاملہ پر غور کرنے کے لئے جمعرات کو کشمیر میں ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا جس کے دوران اُنیس سو انتالیس میں منظور کئے بھارت کے مسلم میریج ڈیزولیوشن ایکٹ کی توثیق کی گئی۔ مسلم علما نے بتایا کہ اس اتفاق رائے کے بعد اب جو فتوی جاری کیا جائے گا، اس کی رو سے بھی لاپتہ افراد کی مسلم بیوائیں چار سال بعد دوبارہ نکاح کی اہل ہونگی۔

    قابل ذکر ہے کہ اُنیس سو انتالیس میں منظور کئے گئے بھارتی قانون ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ کی رو سے بھی معمول کے حالات میں کوئی شخص لاپتہ ہو جائے تو چار سال بعد اس کی بیوی دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔ لیکن انڈین پینل کوڈ کے مطابق ایسے افراد کے بارے میں سات سال بعد یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ ان کی موت ہو گئی۔

    انسانی حقوق کے ادارہ کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ 'ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ' یا مسئلہ شرعی حکم الگ حالات کے تحت تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی علما نے مفقود الخبر افراد کے بارے میں فتوی دیا تھا، یعنی عام حالات میں تجارت یا سفر کے دوران کوئی لاپتہ ہو جائے یا رضاکارانہ طور کسی دوسرے ملک چلا جائے تو چار سال بعد دوبارہ شادی ہو سکتی ہے۔ 'لیکن کشمیر میں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ کس نے گرفتار کیا اور گمشدگی کے دوران انجام کیا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اس شرعی حکم میں اجتہاد کرتے ہوئے ترمیم کی سخت ضرورت تھی۔'

    فتوی کی روشنی میں میریج ڈیزولیوشن ایکٹ کی توثیق کی گئی

    علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی سے روایت کیا ہے کہ : 'جس خاتون کا شوہر مفقود الخبر {لاپتہ} ہو جائے تو عِدّت کے چار ماہ دس دن کا عرصہ چھوڑ کر اگر چار سال تک وہ واپس نہ آجائے تو خاتون دوبارہ نکاح کی اہل ہوگی۔'

    وسطی کشمیر کے میر واعظ سیّد لطیف بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نہایت اہم فتوی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علما کے درمیان گو کہ اس بات پر اختلاف تھا، لیکن ڈیڑھ ہزار خواتین کی سماجی زندگی کو علما کے اختلاف کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ میر واعظ بخاری کہتے ہیں: 'وہ خواتین پہلے ہی ایک صدمے سے دوچار ہیں، اور سماج میں انہیں قبولیت کی ضرورت ہے۔ یہ فتوی ایک اہم فیصلہ ہے۔'

    جمعـہء 27 دسمبر 2013
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں