1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کھانا کھاتے ہوئے گفتگو کرنا :

'تمدن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 28، 2015۔

  1. ‏مئی 28، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,869
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    کھانا کھاتے ہوئے گفتگو کرنا :

    الحمد للہ:

    سنت نبویہ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے کھانے کے دوران بات کرنا منع قرار دیا جائے، اور زبان زد عام یہ بات کہ: "طعام پر نہ سلام نہ کلام" شرعی طور پر بے بنیاد بات ہے۔

    بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا کھانے کے دوران گفتگو کرنا ثابت ہے۔

    چنانچہ صحیح بخاری: (3340) اور مسلم: (194) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کاشانہ پیش کیا گیا، آپ کو شانے کا گوشت پسند تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسےاپنے دندانِ مبارک سے کاٹ کر کھانے لگے، اور آپ نے فرمایا: (میں قیامت کے دن لوگوں کا سربراہ ہونگا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کیسے ہوگا۔۔۔) " اس کے بعد آپ نے شفاعت سے متعلق لمبی حدیث نقل کی۔


    اور اسی طرح صحیح مسلم : (2052)میں ہے کہ: جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اہل خانہ سے سالن کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: "ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہی ہے" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکہ منگوایا اور آپ اسی کے ساتھ کھانا کھانے لگے، اور کھانے کے دوران آپ فرما رہے تھے: (سرکہ ایک اچھا سالن ہے، سرکہ ایک اچھا سالن ہے)


    نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:


    "اس حدیث میں کھانا کھانے والوں کو مانوس کرنے کیلئے بات کرنے کا ذکر ہے، جو کہ مستحب ہے"انتہی
    "شرح صحيح مسلم"(14/7)

    امام نووی رحمہ اللہ نے کھانا کھانے والوں کو مانوس کرنے کا جو تذکرہ کیا ہے، یہ چیز عرب کے ہاں معروف ہے، اور یہ مہمان نوازی کا اہم جزو ہے۔

    شاعر کہتا ہے:


    وَرُبَّ ضَيْفٍ طَرَقَ الْحَيَّ سُرًى


    رات کے وقت بہت سے مہمان محلے میں دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں

    صَادَفَ زَاداً وَحَدِيْثاً مَا اشْتَهَى


    پھر مرضی کا کھانا اور گفتگو پاتے ہیں

    إِنَّ الْحَدِيْثَ طَرَفٌ مِنَ القِرَى


    کیونکہ مہمان سےکلام کرنا بھی مہمان نوازی کا حصہ ہے

    ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:


    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، جیسے کہ پہلے سرکہ والی حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سوتیلے بیٹے عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو کھانا کھلاتے ہوئے فرمایا: (بسم اللہ پڑھو، اور اپنے سامنے سے کھاؤ)" انتہی
    "زاد المعاد " (2/366)

    ان احادیث میں کھانا کھاتے ہوئے بات کرنے کا جواز ملتا ہے، اور کھانے کے دوران جن احادیث میں بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یا ممانعت کی گئی ہے، ان میں سے کوئی حدیث بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔

    حافظ سخاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:


    "مجھے کھانا کھانے کے دوران گفتگو کی نفی یا اثبات کے بارے میں کسی حدیث کا علم نہیں ہے"انتہی
    "المقاصد الحسنہ " (صفحہ: 510)

    شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:


    "کھانے پر گفتگو کرنے کا وہی حکم ہے جو عام حالات میں گفتگو کرنے کا ہے، لہذا کھانے کے دوران اچھی بات اچھی اور بری بات بری ہوگی" انتہی
    " سلسلہ الهدى والنور " کیسٹ نمبر:(15/1)

    واللہ اعلم.


    بشکریہ الاسلام سوال و جواب
     
  2. ‏مئی 28، 2015 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,550
    موصول شکریہ جات:
    4,373
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    کھانا کھانے کے دوران گفتگو نہیں کرنی چاہئے کیونکہ دوران گفتگو اگر لقمہ کا چھوٹا سا ذرہ بھی سانس کی نالی کو چھو جائے تو حالت زار ہو جاتی ھے اور اگر یہ سانس کی نالی میں گر جائے تو موت واقع ہو جاتی ھے۔

    والسلام
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 28، 2015 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,869
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    وعیلکم السلام :

    کیسی طبعت ہے آپ کی !

    بھائی جب حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سامنے آ جائے تو حدیث کا مقدم رکھا جائے ناکہ اپنی رائے کو -

    اور اسی طرح صحیح مسلم : (2052)میں ہے کہ: جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اہل خانہ سے سالن کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: "ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہی ہے" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکہ منگوایا اور آپ اسی کے ساتھ کھانا کھانے لگے، اور کھانے کے دوران آپ فرما رہے تھے: (سرکہ ایک اچھا سالن ہے، سرکہ ایک اچھا سالن ہے)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں