1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام مھدی کا ظہور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے؟

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ڈیفینڈر, ‏فروری 09، 2015۔

  1. ‏فروری 09، 2015 #1
    محمد ڈیفینڈر

    محمد ڈیفینڈر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2012
    پیغامات:
    83
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    imam-mehdi-ka-zahoor.jpg
    کیا امام مھدی کا ظہور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے؟ نیز بعضے لوگوں کا کہنا ہے کہ محدثین اور فقھاء نے امام مھدی کے ظہور کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔ برائے مہربانی اس مسئلے پر روشنی ڈالیے؟ آیا کہ واقعی میں انکا ظہور ثابت ہے کہ نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً
    (محمد رئیس ، رحیم یار خان)
    الجواب بعون الوہاب:
    امام مھدی کے ظہور کے بارے میں کثیر احادیث صحیحہ ثابت ہیں جس کا انکار یا کوئی تاویل دینا درست نہیں۔ صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں مختلف اسناد سے امام مھدی کا ظہور ثابت ہے اور ساتھ ساتھ کئی ایک سلف کے اقوال بھی موجود ہیں۔ چند احادیث پیش خدمت ہیں۔
    رسول اللہ فرماتے ہیں:
    ’’یکون فی آخر امتی خلیفة یحثی المال حثیا ولا یعدّہ عدّاً‘‘
    ’’میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو (لوگوں میں) گنے بغیر مال اڑائے گا یعنی تقسیم کرے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۹۱۳)
    سیدنا ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’یخرج فی آخر امتی المھدی، یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتھا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیة وتعظم الامة یعیش سجا او ثمانیا یعنی ححجا‘‘
    ’’میری امت کے آخر میں مھدی آئے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ بارشیں نازل فرمائے گا اور زمین اپنے نباتات اگلے گی عدل و انصاف سے مال تقسیم کرے گا ، مویشی زیادہ ہو جائیں گے اور امت کا غلبہ ہوگا وہ (اپنے ظہور کے بعد) سات یا آٹھ سال زندہ رہے گا۔‘‘ (المستدرک للحاکم، ج۴، ص۵۵۸)
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’المھدی منا اھل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة‘‘
    ’’مھدی ہمارے اہل بیت میں سے ، اللہ اسے ایک ہی رات میں درست کر دے گا۔‘‘
    (مسند احمد بن حنبل ، رقم: ۶۴۵)
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’لا تذھب الدنیا ، اولا تنقضيي الدنیا متی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطئی اسمہ اسمی‘‘
    ’’دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک عربوں کا بادشاہ (حاکم) میرے اہل بیت سے ایک آدمی نہ بن جائے جس کا نام میرے نام جیسا (یعنی محمد) ہوگا۔‘‘
    (سنن ابی داؤد، رقم: ۴۶۸۲، سنن الترمذی: ۶۶۳۰)
    مندرجہ بالا احادیث ظھور مھدی پر واضح دلالت کرتی ہیں۔ ان احادیث کے علاوہ اور بھی کئی احادیث اور آثار ہیں جو صحت کے مقام پر فائز ہیں ۔جن کا انکار کرنا کسی صاحب ایمان کو ذیب نہیں دیتا۔ ظہور مھدی پر کئی ایک اہل علم نے مقالے اور کتب تحریر کی ہیں چند نام پیش خدمت ہیں۔
    مرعی بن یوسف بن اٴبی بکر الکرمی الجنبلی نے اس پر کتاب لکھی ہے ’’فوائد الفکر فی ظہور المھدی المنتظر‘‘
    امام للسیوطی نے ’’العرف الوردی فی اخبار المھدی‘‘ میں ذکر فرمایا ہے۔
    محمد بن عبدالسلام بن عبدالسید البدزنخی نے ’’الاشاعة فی اشراط الساعة‘‘ میں امام مھدی کا ذکر فرمایا ہے۔
    ملا علی قاری نے اس پر ایک مستقل کتاب لکھی ’’رسالة المھدی من اٰل الرسول ‘‘۔
    مؤرخ ابو عبداللہ محمد بن جعفر الکتافی نے بھی اپنی کتاب ’’نظم المتناثر من الحدیث المتواتر‘‘ میں امام مھدی کا ذکر فرمایا ہے۔
    تفصیل کے لیے عصر حاضر کے نامور عالم ڈاکٹر عبدالعلیم عبدالعظیم البستوی کی کتاب ’’المھدی المنتظر‘‘ کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا۔
    ظہور مھدی پر اہل علم کے اقوال:
    امام البیھقی (المتوفی ۴۵۸ھ) فرماتے ہیں۔
    ’’والاحادیث فی التنصیص علی خروج المھدی اصح البتہ اسنادا‘‘
    (تھذیب الکمال للمزی، ج۶، ص۵۹۷)
    ظھور مھدی پر جو احادیث ہیں وہ صحیح ترین اسناد کے ساتھ ہیں۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ الحرانی (المتوفی ۷۲۸ ھ) فرماتے ہیں:
    ’’ان الاحادیث التی یحتج بھا علی خروج المھدی احادیث صحیحة رواھا ابو داؤد والترمذی واحمد وغیرھم‘‘ (منھاج السنة، ج۴، ص۴۱۱)
    ’’ان احادیثِ صحیحہ ظھور مھدی پر جس سے حجت لی جاتی ہے اس کو روایت ابو داؤد ، ترمذی اور احمد نے کیا ہے۔‘‘
    امام ابن القیم الجوزیة (المتوفی ۷۵۱ھ) فرماتے ہیں:
    ’’وینتظرون خروج المھدی من اھل بیت النبوة یملاٴ الارض عدلا کما ملئت جورا‘‘ (اغاثة اللھفان من مصائد الشیطان، ج۲، ص۳۳۲)
    ’’امت منتظر ہے امام مھدی کے خروج کی جو اہل بیت سے ہوں گے (جب وہ آئیں گے ) تو زمین کو انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔‘‘
    امام ابن کثیر (المتوفی ۷۴۴ھ) اپنی کتاب ’’کتاب الفتن والملاحم‘‘ میں باب قائم کرتے ہیں کہ:
    ’’فصل ذکر المھدی الذی یکون فی اٰخر الزمان وھو احد الخلفاء الراشدین والائمة المھدین‘‘ (الفتن والملاحم ، ج۱، ص۲۷)
    ’’یہ فصل ہے امام مھدی کے ذکر کے بارے میں جو آخری زمانے میں ہوں گے اور وہ خلفاء الراشدین اور الائمہ المھدین میں سے ہوں گے۔‘‘
    امام شمس الدین عظیم آبادی صاحب عون المعبود (المتوفی ۱۳۲۹ھ) فرماتے ہیں:
    ’’وخرجوا احادیث المھدی جماعة من الائمة منھم ابو داؤد والترمذی وابن ماجة والبزار والحاکم والطبرانی وابو یعلی الموصلی واٴسندوھا جماعة من الصحابة‘‘ (عون المعبود، ج۱۱، ص۳۶۱)
    ’’امام مھدی کی احادیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے نکالا ہے جن میں ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، بزار، حاکم، طبرانی ، ابو یعلی اور اسے روایت کیا ہے صحابہ کی ایک جماعت نےجن میں ابن عباس، ابن عمر، طلحہ، عبداللہ بن مسعود، ابو ہریرہ، انس، ابو سعید الخدری، ام حبیبہ، ام سلمہ، ثوبان ، قرة بن ایاس، علی الھلالی، عبداللہ بن حارث نے روایت فرمایا ہے۔‘‘
    عبدالرحمن مبارکپوری (المتوفی ۱۳۵۳ھ) صاحب تحفة الاحوذی فرماتے ہیں:
    ’’فالقول بخروج الامام المھدی وظھور وھو القول الحق والصواب واللہ تعالیٰ اعلم‘‘ (تحفة الاحوذی، شرح الترمذی، ج۶، ص۴۸۵)
    ’’پس امام مھدی کا خروج اور ظہور کا قول حق ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔‘‘
    مندرجہ بالا احادیث صحیحہ اور مختصر اقوال سے ثابت ہوا کہ ظھور امام مھدی پر سلف کا اجماع تھا اور ان دلائل کی رو سے متواتر احادیث کا انکار ایمان کے لیے بے انتہا نقصان دے ہے۔ لہٰذا ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو آپ نے حق کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔ خروج دجال، نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ظھور امام مھدی سے متعلق صریح احادیث و آثار موجودہیں۔ موجود دور میں کئی ایمان میں امراض پیدا ہوئے ہیں ، جن میں ایک بڑا مرض انکار حدیث کا بھی ہے اور ان احادیث کا انکار اسی انکار حدیث کی مرہون منت ہے۔ میری گذارش ہے کہ احادیث پر ایمان لا کر قرآن مجید پر ایمان کا ثبوت دیں اور احادیث صحیحہ کا انکار کر کے قرآن مجید کے انکار کی دلیل مہیا نہ کریں۔

    شیخ محمد حسیں میمن حفیظہ اللہ
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 10، 2015 #2
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم و رحمت الله

    امام مہدی رح سے متعلق یہ تحقیق بھی ملاحظه کریں -لنک یہاں نیچے دیا گیا ہے -

    https://therealislam1.files.wordpress.com/2009/06/zuhuremahdi.pdf

    نوٹ: یہ تحقیق علم حدیث "السماء الرجال" کی روشنی میں پیش کی گئی ہے- لہٰذا احادیث نبوی سے محبّت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ غیر جانب داری سے اس کا مطالعہ کریں اور پھر اس پر جرح کریں - بغیر سوچے سمجھے کسی پر منکرین حدیث کا الزام لگانا درست نہیں - ذہن میں رہے کہ مذکورہ تحقیق میں بڑے بڑے آئمہ نے مہدی کی روایات کے روایوں پرجرح کی ہے-

    حدیث مہدی میں یہ بھی ہے کہ "مہدی من اھل بیت" - جب کہ سنی علماء کی اکثریت جانتی ہے کہ اہل بیت صرف و صرف آل علی و فاطمه رضی الله عنہ نہیں ہیں- ان میں سب سے پہلے نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی ازواج مطہرات رضوان الله اجمعین آتی ہیں پھر بنو عبّاس بھی اہل بیت میں شمار ہوتے ہیں -ایک صحیح روایت میں حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کو بھی "سلمان منا اہل بیت" قرار دیا گیا ہے-تو آخر امام مہدی اہل بیت کی کس شاخ سے تعلق رکھتے ہونگے ؟؟؟

    ایک سوال اور ہے کہ مہدی کی روایات ترمزی، ابو داؤد، اور ابن ماجه وغیرہ میں تو کثرت سے ہیں لیکن امام بخاری رح کی صحیح میں مہدی سے متعلق ایک بھی روایت موجود نہیں -جب کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امام بخاری رح کے استاد فضل بن وکیع کے پاس مہدی سے متعلق روایات موجود تھیں لیکن بخاری رح نے اس کو اپنی کتاب میں "قیامت کی علامت" کے عنوان کے تحت تحریرکرنا مناسب نہیں سمجھا (آخر کیوں)؟؟- موطا امام مالک رح جو احادیث نبوی پر مرتب کی گئی سب سے پہلی قابل اعتماد کتاب ہے- مہدی کے ذکر سے خالی ہے- شاید یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رح نے بھی مہدی کی روایات کو اپنی "صحیح" میں لینے سے احتراز کیا ہے- جہاں تک امام مسلم رح میں مہدی سے متعلق روایات کا تعلق ہے توان روایات کو صرف مہدی سے منسوب کیا گیا ہے لیکن اس میں بھی "مہدی" نام واضح نہیں-

    بہر حال یہ کچھ احتمالات ہیں مہدی سے متعلق روایات پر- امید ہے کہ کوئی صاحب علم اس کا جواب دیں گے-
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 10، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مہدی علیہ السلام سے متعلق صحیح عقیدہ

    مسلمانان اہل سنت کا مہدیؑ سے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے، وہ سات سال تک حکومت کریں گے، روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، ان کے زمانہ ہی میں حضرت عیسیؑ کا نزول ہوگا۔ حضرت عیسیٰ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔ امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ کے ساتھ مل کر دجال کا مقابلہ کریں گے اور اس کو قتل کریں گے۔ زیر نظر کتابچہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق سب سے پہلے ان احادیث کو بیان کیا گیا ہے جن میں امام مہدی علیہ السلام کا صراحت کے ساتھ تذکرہ ہے، اس کے بعد اس ضمن میں آثار کو جمع کیا گیا ہے اور پھر ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے جن میں امام مہدی علیہ السلام کا تذکرہ تو موجود ہے لیکن صراحت کے ساتھ نہیں ہے۔ ان تمام احادیث و آثار پر صحت و ضعف کا حکم بھی لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد امام مہدی کے اوصاف، مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کو کیسے پہچانیں؟ کے عنوانات سے مواد موجود ہے اور آخر میں اختصار کے ساتھ چند دعویداران مہدویت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کتابچہ کے مصنف عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے کتابچہ کی تیاری میں شیخ عبدالعظیم بستوی کی کتاب ’الأحادیث الواردۃ فی المھدی فی میزان الجرح والتعدیل‘ سے مدد لی ہے :
    http://kitabosunnat.com/kutub-library/مہدی-علیہ-السلام-سے-متعلق-صحیح-عقیدہ.html
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 08، 2015 #4
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    @خضر حیات بھائی کیا آپ کچھ صحیح احادیث یہاں لکھ سکتے ہیں جن میں مہدیؑ کا ذکر ہو - الله آپ کو جزا ے خیر دے امین -
     
  5. ‏مارچ 09، 2015 #5
    محمد ڈیفینڈر

    محمد ڈیفینڈر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2012
    پیغامات:
    83
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    63

    بھائ اوپر پوسٹ میں چند لکھی ہیں وہاں ملاحضہ کرہیں
     
  6. ‏مارچ 09، 2015 #6
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    @
    محمد علی جواد

    بھائی جب صحیح احادیث پیش کر دی گئی ہیں تو آپ کے اشکالات کیا ہیں -
     
  7. ‏مارچ 10، 2015 #7
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    مہدی کی روایات معنوی طور پر متواتر ہیں محدثین کی نظر میں؛کاندھلوی صاحب کی جرح مردود ہے؛ان کا نقطہ نظر احادیث کے باب میں بالکل غلط ہے جیسا کہ مولانا ارشاد الحق صاحب اثری دامت برکاتھم کی تنقید سے واضح ہے۔
    کتاب کا لنک دے دیں ارباب انتظام تو مفید رہے گا
     
  8. ‏مارچ 10، 2015 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  9. ‏مارچ 10، 2015 #9
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    مہدی کی روایات تواتر کے درجے پر ہیں ؟؟؟ مگر حیرت انگیز طور پر امام بخاری رح نے مہدی کے خروج سے متعلق ایک بھی روایت اپنی کتاب میں نہیں درج کی ؟؟؟ جب کے ان کے استاد فضل بن وکین کے پاس روایات مہدی موجود تھیں- کیا امام بخاری نے ان روایات سے متعلق اس نظریے تواترکا انکار کیا ؟؟؟
     
  10. ‏مارچ 10، 2015 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم و رحمت الله -

    مہدی رح سے متعلق روایات میں تواتر کے باوجود انتہائی اضطراب پایا گیا ہے - جن کی بنا پر ان روایات کی صحت انتہائی مشکوک ہے - کبھی ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے ؟؟ جب کہ بخاری کی حدیث میں "حضرت عیسی علیہ سلام" کو امام عدل کہا گیا ہے - اس طرح کبھی انھیں فاطمه رضی الله عنہ کی اولاد سے فرمایا گیا ہے تو کبھی ابن عباس رضی الله عنہ کی اولاد سے گردانا گیا ہے - ؟؟؟ کبھی سفیانی (حضرت ابو سفیان رضی الله عنہ کی نسل سی ایک خلیفہ) سے جنگ کرتے ہوے دکھایا گیا ہے (بنو امیہ کی عداوت میں) - تو کبھی یہ کہا گیا ہے کے وہ شام کے قطب و ابدال سے بیت لیں گے (جب کہ قطب و ابدال خالصتا صوفیانہ مذہب کی اصطلاح ہے - اس کا اسلام سے تعلق نہیں)- اس کے علاوہ حیرت انگیز طور پر امام بخاری رح نے مہدی کے خروج سے متعلق ایک بھی روایت اپنی کتاب میں نہیں درج کی ؟؟؟ جب کے ان کے استاد فضل بن وکین کے پاس روایات مہدی موجود تھیں-تو کیا امام بخاری نے ان روایات سے متعلق اس نظریے تواترکا انکار کیا ؟؟؟ نا ہی مہدی سے متعلق روایات کا موطاء امام مالک میں کوئی اتا پتا ملتا ہے - جب کہ امام مالک رح مدنی صحابہ کرام سے متعلق اخذ کردہ تمام روایات کو اپنی کتاب موطاء میں درج کیا ہے- مطلب یہ کہ یہی لگتا ہے کہ مدنی صحابہ میں آنے والے مہدی سے متعلق نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی کوئی ایک بھی مشہور حدیث معلوم نہیں تھی- جب ہی موطاء امام مالک میں مہدی سے متعلق ایک بھی روایت موجود نہیں - جب کہ یہ محدثین کی طرف سے مدون کی گئی پہلی مستند احایث کی کتاب ہے-

    مزید یہ کہ اکثر احادیث نبوی میں "مہدی" کا لفظ نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کے لئے بھی استمعال کیا ہے - اس کی ایک مثال حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کی پاک شخصیت ہے جن کے بارے میں نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم کا ارشاد پاک ہے "معاویہ رضی الله عنہ میری امّت کے مہدی ہیں " (صحیح مسلم )-

    عجیب بات ہے کہ جن امّت کے مہدی حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ہیں- ان ہی کی نسل سے ایک سفیانی نام کے خلیفہ کو قرب قیامت پیدا کرکے مہدی آخر الزمان سے لڑوایا جا رہا ہے اوراس سفیانی کے لشکر کو مقام "بیدا" پر دھنسایا جا رہا ہے؟؟؟ -

    بظاهر تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اہل سنّت بھی بنو امیہ خلاف گھڑی گئی اس طرح کی سبائی داستانوں کا اس بری طرح شکار ہو گئے- کہ ان کی اس گھڑی گئی شخصیت کے زیر اثر اسی کے مد مقابل ایک اور مہدی کی شخصیت کا وجود گھڑ لیا گیا - تا کہ اہل تشیع کے باطل مہدی کا مقابلہ کیا جا سکے اور اس سبائی مہدی کو جھوٹا قرار دیا جا سکے- سوال ہے کہ امام بخاری و امام مالک رح جیسی جید شخصیات کو مہدی کے وجود سے آخر کیا دشمنی تھی کہ انہوں نے اس نام کی شخصیت کو اپنی کتب میں "قرب قیامت کی نشانیوں" کے باب میں جگہ ہی نہ دی؟؟- (واللہ اعلم)-
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں