1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا بے عمل مسلمان شفاعت رسول ﷺ کا مستحق ہے؟

'شفاعت' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏مارچ 01، 2012۔

  1. ‏مارچ 01، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    کیا بے عمل مسلمان شفاعت رسول ﷺ کا مستحق ہے ؟

    سوال:
    جواب:
    الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ وآلہ وصحبہ وبعد:
    جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرتا ہے اور نماز، روزہ، حج، زکوۃ پر عمل نہیں کرتا اوران چاروں ارکان کے وجوب کا انکار کرتا ہے یا ان میں سے کسی رکن کے وجوب کا منکر ہے حالانکہ اسے علماء کے ذریعے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ اعمال فرض ہیں تو ایسا شخص مرتد ہوجاتا ہے۔
    لیکن اگر وہ ان اعمال کے ترک پر مصر ہو تو اسے اسلامی حکمران مرتد ہونے کی وجہ سے سزائے موت دے گا اور اسے قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی نہ کسی اور نیک آدمی کی۔
    اگر وہ صرف نماز سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے ترک کردے تو اس کے متعلق علمائے کرام کا زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ وہ کافر ہوجاتاہے اور یہ ایسا کفر ہے کہ وہ ملت اسلامیہ سے بھی خارج ہوجاتا ہے چہ جائیکہ وہ زکوۃ، روزہ اورحج بیت اللہ کا بھی تارک ہوتو پھر تو بدرجۂ اولی کافر ہوگا۔ لہذا اگر وہ اسی حالت میں فوت ہوجائے تو وہ نبی کریمﷺ یا کسی اور نیک آدمی کی شفاعت کا مستحق نہیں ہوگا ([1])۔بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ان ارکان کا تارک عملی کافر کہلائے گا، حقیقی کافر نہیں ہوگا۔ لہذا اسلام سے خارج نہيں ہوگا۔ ان علماء کی رائے میں بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب مسلمان اگر ایمان کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو شفاعت کا مستحق رہے گا۔ (فتوی رقم1727)
    وباللہ التوفیق وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم اللجنۃ الدائمۃ (مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیقات وافتاء، سعودی عرب)
    (فتاوی دارالافتاء، سعودی عرب، جلد دوم، ص33، ط دارالسلام)​

    [1] اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 04، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏دسمبر 04، 2013 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس آیت سے اس مسئلے کا استدلال ٹھیک نہیں ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں