• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا رکوع میں شامل ہونے سے رکعت مل جاتی ہے؟

شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کچھ عرصہ قبل مینے مدرک رکوع سے متعلق کچھ مختصر دلائل پیش کئے تھےِ۔ بعد میں احساس ہوا کے اس حوالے سے ایک مکمل مضمون کی ہی ضرورت ہے۔ اس لئے اس مضمون میں مینے وہ تمام دلائل ذکر کر رکھے ہیں جن تک میری رسائی ہوئی۔ صحیح اور ضعیف دونوں

دلائل کی طوالت کے بائث خلاصہ شروع میں ذکر کرتا چلوں:
کیا امام کے ساتھ رکوع میں ملنے والے شخص کی رکعت ہو جاتی ہے؟ اس حوالے سے تمام مرفوع روایات ضعیف ہیں۔ البتہ صحابہ سے ثابت ہے کہ بے شک رکوع میں ملنے والے کی رکعت ہو جاتی ہے۔


ان کے دلائل جو کہتے ہیں کہ محض مدرک رکوع مدرک رکعت نہیں ہے

1. جو شخص رکوع میں آملتا ہے اس کی نماز کے دو ارکان چھوٹ جاتے ہیں (قیام اور فاتحہ) تو اس کی رکعت کیسے ہو سکتی ہے؟


2. حضرت ابو ہریرہ
ا) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقِ، قَالَ: قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «لَا يُجْزِئُكَ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْإِمَامَ قَائِمًا قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ»
القراءة خلف الإمام للبخاري (ص36)
"تمہاری رکعت اس وقت تک جائز نہیں جب تک تم امام کو کوع سے پہلے قیام کی حالت میں نہ پا لو"
صحيح
شیخ البانی نے کہا: یہ ابو ہریرہ سے ثابت ہے (إرواء الغليل 2/265)
حافظ زبير علی زئی نے حسن کہا (نصر الباری ص183)

ب) قَالَ مُسَدَّدٌ: ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ رُكُوعًا فَلَا يَعْتَدَّ بتلك الركعة".
إتحاف الخيرة 2/197/1325
“جو شخص لوگوں کو رکوع کی حالت میں پائے تو وہ رکعت نہ شمار کرے”
ضعیف
شیخ البانی نے کہا: یہ ابو اسحاق کے عنعنہ کہ وجہ سے ضعیف ہے (إرواء الغليل 2/265)


3. یہ قول امام بخاری سے ثابت ہے اور اس کو امام علی ابن المدینی کی طرف بھی منصوب کیا گیا ہے
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
ان کے دلائل جو کہتے ہیں کہ مدرک رکوع مدرک رکعت ہے

1. حضرت ابو ہریرہ کی مذکورہ حدیث دلیل کامل نہیں ہے۔ اس میں فاتحہ کا تو ذکر ہی نہیں، تو اس سے استدلال کیوں؟

امام ابن رجب کہتے ہیں:
وهذا يقتضي أنه لو كبر قبل أن يركع الإمام، ولم يتمكن من القراءة فركع معه كان مدركاً للركعة، وهذا لا يقوله هؤلاء، فتبين أن قول هؤلاء محدث لا سلف لهم (فتح الباري لابن رجب 7/114)
"اس روایت کا تو تقاضا ہے کہ کوئی شخص رکوع سے پہلے نماز میں شامل ہو جائے جبکہ اس کو قرات نصیب نا ہوئی ہو اور پھر وہ رکوع کر لے تو اس کی رکعت ہو جائے گی۔ لیکن یہ لوگ (جو کہتے ہیں رکوع پا لینے سے رکعت نہیں ملتی) تو ایسا نہیں کہتے، اس سے واضع ہوتا ہے کہ ان کا قول محدث (بدعتی) ہے اور ان کا اس میں کوئی سلف نہیں"

مزید یہ کہ اگر ابو ہریرہ کا یہ قول اس انداز میں مان بھی لیا جائے تو دوسرے صحابہ سے اس کى مخالف ثابت ہے۔​
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
2. مرفوع روایات
ا) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا بَشَّارٌ الْخَيَّاطُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي بَكَرَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكَرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ، يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ السَّاعِي؟ "قَالَ أَبُو بَكَرَةَ: أَنَا، قَالَ: "زَادَكَ اللهُ حِرْصًا، وَلَا تَعُدْ "
مسند أحمد 5/42/20435
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ مسجد ائے تو آپ ﷺ رکوع میں تھے۔ تو آپ ﷺ نے ان کے جوتوں کی آواز سنی کہ وہ جلد بازی کر رہے ہیں کہ کہیں ان کی رکعت نہ چھوٹ جائے۔ پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ بے دریافت کیا ’جلدی کرنے والا کون ہے؟‘ حضرت ابو بکرہ نے فرمایا میں ہوں۔ فرمایا: ’اللہ تمہارے حرص میں اضافہ کرےِِ، لیکن اسے دوبارہ مت کرنا‘
ضعیف
بشار الخیاط مجہول ہے۔ اگر یہ بشار بن عبد الملك المزني ہے تو یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے۔
اس کی متابعت بکار بن عبد العزیز نے کی ہے (الاستذکار 2/317) لیکن یہ بھی ضعیف راوی ہیں (التھذیب 1/478)
اس جیسا ہی کچھ جز القراءہ ص 48 میں ہے۔ لیکن اس میں بھی ابو خلف عبد اللہ بن عیسی الخزار ضعیف ہے (المیزان 2/470)
یہ روایت رکعت کے ادراک کے مفہوم سے ہٹ کر صحیح سند سے کئی جگہ وارد ہے (بخاری 1/156/783)


ب) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جِئْتُمْ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَارْكَعُوا، وَإِنْ كَانَ سَاجِدًا فَاسْجُدُوا، وَلَا تَعْتَدُّوا بِالسُّجُودِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الرُّكُوعُ "
السنن الكبرى للبيهقي 2/128/2576
’جب تم آو اور امام رکوع میں ہو تو رکوع کرو، اور اگر سجدے میں ہو تو سجدہ کرو لیکن سجدے کو شمار مت کرنا جب تک اس کے ساتھ رکوع نہ ہو‘
ضعیف
اس میں وہ رجل مبھم ہے جس سے عبد العزیز بیان کر رہے ہیں، اور انہوں نے اس کے صحابی ہونے کی صراحت نہیں کی۔
اس کے کچھ شاذ طرق میں الگ الگ صحابہ کے نام آے ہیں جن سے عبد العزیز روایت کر رہے ہیں:
-عبد الرحمن بن عمرو بن جبلہ (متروک [اللسان 3/424]) کے طریق میں یہ ابن ابی لیلی عن معاذ سے بیان ہے (العلل الدارقطنی 6/58)-
-المتفق والمفترق 1/367/180 میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف عن ابیہ کی سند ہے۔ یہ بھی ضعیف ہے: اسماعيل بن زياد الدولابی مجهول ہے اور منصور بن دينار کو جمهور نے ضعیف کہا ہے۔
-شیخ البانی نے مسائل أحمد وإسحاق لإسحاق بن منصور المروزي 1/127/1 کے ایک نسخے سے ایک طریق ذکر کیا ہے جس میں عبد العزیز نے اس کو ابن مغفل المزنی سے روایت کیا ہے (سلسلة الصحيحة 3/185/1188)۔ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’اگر ابن مغفل سے مراد عبد اللہ بن مغفل المزنی (صحابی) ہیں تو ان سے عبد العزیز بن رفیع کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں‘ (ماہنامہ الحديث 30/17)۔
بہر حال یہ تمام روایات شاذ ہیں کیونکہ ایک جماعت نے اس کو عبد العزیز عن رجل بیان کیا ہے جس میں شعبہ (السنن الكبرى 2/128/2576)، الثوری (مصنف عبد الرزاق 2/281/3373)، جریر (مصنف ابن أبي شيبة 1/227/2601) اور ابو بکر بن عیاش (مصنف ابن أبي شيبة 1/227/2602) شامل ہیں۔ بلکہ اس کو امام دارقطنی نے بھی مرسل قرار دیا ہے (العلل الدارقطنی 6/58)-

پ) حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، أن سعيد بن الحكم حدثهم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني يحيى بن أبي سليمان، عن زيد بن أبي العتّاب وابن المَقبُري عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إذا جئتُم إلى الصلاة ونحن سجود فاسجُدوا، ولا تعدُّوها شيئًا، ومَن أدرك الركعةَ فقد أدركَ الصلاةَ"
سنن أبي داود 2/167/893
’جب تم نماز کے لئے آو اور ہم سجدہ کر رہے ہوں تو تم بھی سجدہ کرلو لیکن اس کو کچھ شمار نہ کرنا۔ اور جس نے رکعت پا لی اس نے نماز پا لی‘
منکر
امام بخاری کیتے ہیں: ’يحيى منكر الحديث ہے‘ (جز القراءة ص: 57)

ت) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ»
المعجم الأوسط 4/252/4119
’جس نے رکعت پا لے اس نے سجدہ پا لیا‘
ضعیف
يزيد بن عياض بن جعدبہ متروک ہے [التهذيب 11/352]
اس ہی الفاظ سے ایک قول حضرت ابو ہرہرہ کہ طرف منصوب ہے (موطأ مالك 1/10/19)۔ اس کا ذکر اگے آئے گا

ٹ) أنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا قَبْلَ أَنْ يُقِيمَ الْإِمَامُ صُلْبَهُ»
صحيح ابن خزيمة 3/45/1595
’جس نے نماز میں سے ایک رکعت پائی اس نے امام کے قمر سیدھے کرنے سے پہلے اس کو پایا‘
ضعیف
یحیحی بن حمید ضعیف ہے (اللسان 6/250)۔ اس روایت کو قرہ (ضعیف) سے سوید بن عبد العزیز (ضعیف) نے بھی بیان کیا ہے لیکن اس میں قمر سیدھے ہونے کا ذکر نہیں کیا (المعجم الأوسط 1/174/546)۔
مزیید یہ کہ یہ روایت زہری سے ایک جماعت نے بیان کیا ہے (معمر، مالک، يونس، عقيل، ابن جريج، ابن عيينہ، اوزاعی اور شعيب [الضعفاء الكبير للعقيلي 4/398]) اور کسی نے قمر کا ذکر نہیں کیا۔

ث) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ , ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ بَحْرٍ الْبُزُورِيُّ , ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , ثنا أَبُو يَزِيدَ الْحَصَّافُ الرَّقِّيُّ وَاسْمُهُ خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ , نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ الرُّكُوعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا أُخْرَى , وَمَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرُّكُوعَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى فَلْيُصَلِّ الظُّهْرَ أَرْبَعًا»
سنن الدارقطني 2/320/1603
’جس کو جمعے کی نماز کی آخری رکعت مل جائے تو وہ اس میں ایک اور شامل کر دے۔ اور جس کو آخری رکعت کا رکوع نا ملے تو وہ پھر ظہر کی چار رکعات ہی پڑھ لے‘
منکر
سليمان بن ابی داود الحرانی منكر الحديث ہے [اللسان 3/90]

ج) روى ابن منده في المعرفة [2/16/2] عن جعفر بن ربيعة عن عبد الله بن عبد الرحمن بن السائب عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن الأزهر حدثه عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا جئتم الصلاة ونحن سجود فاسجدوا ولا تعدوها شيئا، ومن أدرك الركعة فقد أدرك الصلاة".
سلسلة الأحاديث الصحيحة 3/186/1188 بحوالہ شیخ البانی
’جب تم نماز کے لئے آو اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کر لو لیکن اسے شمار مت کرنا۔ اور جس نے رکعت پا لی اس نے نماز پا لی‘
ضعیف
عبد الله بن عبد الرحمن بن السائب اور عبد الحميد بن عبد الرحمن بن الازهر دونوں مجهول ہیں۔ شيخ البانی کیتے ہیں: ’اس کی سند ضعيف ہے‘ (سلسلة الأحاديث الصحيحة 3/186/1188)

چ) وبه ثنا أبو علي الأنصاري، ثنا عبيد الله بن منصور الصباغ، ثنا أحمد بن صالح ولم يكن هذا الحديث إلا عنده، ثنا عبد الله بن وهب، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أدرك الإمام وهو راكع فليركع معه وليعتدها من صلاته"
المنتقى من مسموعات مرو للضياء المقدسي ص 121
’جو شخص امام کو رکوع کی حالت میں پا لے تو وہ اس کے ساتھ رکوع کر لے اور رکعت شمار کر لے‘
ضعیف
ابو علی محمد بن هارون الانصاری متهم بالکذب ہے (الميزان 4/57)۔ شیخ البانی کہتے ہیں: ’یہ قابل استشہاد نہیں‘ (إرواء الغليل 2/262)​
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
3. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
ا) وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُعَارِضًا لِمَا رَوَى الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
القراءة خلف الإمام للبخاري ص 36
امام بخاری کہتے ہیں کہ عبد الرحمن بن اسحاق نے مقبری سے ابو ہریرہ سے اس کے خلاف بیان کیا ہے جو اعرج نے بیان کیا ہے (اعرج والی روایت گزر چکی ہے)۔
امام بخاری نے مکمل سند ذکر کی نا ہی متن اور نا ہمے مل سکا۔
یہ عبد الرحمن بن اسحاق المدنی حسن الحدیث ہے، لیکن امام بخاری نے اعرج والی روایت کو ہی ترجیح دی ہے۔ اس روایت کے بعد امام بخاری عبد الرحمن کے بارے میں کہتے ہیں: ’اور یہ شخص ایسا نہیں کہ اس کے حافظے پر بھروسہ ہو جب کہ اس کی مخالفت کی ہو اس نے جو اس سے کم تر نہیں (یعنی الاعرج)‘


ب) عن مالك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ، وَمَنْ فَاتَهُ قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ فَاتَهُ خَيْرٌ كَثِيرٌ»
موطأ مالك 1/10/19
امام مالک کو یہ بات پہنچی کہ حضرت ابو ہریرہ کہا کرتے تھے ’جس نے رکعت پا لے اس نے سجدہ پا لیا۔ اور جس سے ام القرآن کی قرات چھوٹ گئے اس سے خیر کثیر چھوٹ گیا‘
ضعیف
امام مالک نے اسے بلاغا ذکر کیا ہے، اس کی سند نہیں۔​
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
4. حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ
ا) عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «إِذَا أَدْرَكَتَ الْإِمَامَ رَاكِعًا فَرَكَعْتَ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ فَقَدْ أَدْرَكْتَ، وَإِنْ رَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ فَقَدْ فَاتَتْكَ»
مصنف عبد الرزاق الصنعاني 2/279/3361
"اگر تم امام کو رکوع میں پاو اور تم رکوع کر لو اس سے پہلے کہ وہ اٹھ جائے تو تم نے (رکعت) پا لی۔ اور اگر وہ تمہارے رکوع میں پہنچنے سے پہلے اٹھ گيا تو تمہاری (رکعت) فوت ہوگئی"
صحیح
شیخ البانی نے کہا: اس کی سند صحیح ہے (إرواء الغليل 2/263)
امام بیہقی نے اس کو روایت کرتے ہوئے (2/128/2580) امام مالک کو بھی شامل کر دیا ہے۔ لیکن اس میں ولید بن مسلم ہے جو تدلیس تسویہ کرتا تھا۔
اور میرے خیال میں امام بیہقی کی مراد امام مالک سے وصلا (عن نافع) اس کو بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ مرسل ہی مراد تھی جیسے کہ انہوں نے اگے تفصیل سے بیان کی (2/128/2582)۔ اور یہ مرسل روایت موطا میں بھی ہے (موطأ مالك 1/10/18)


ب) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «إِنْ وَجَدَهُمْ وَقَدْ رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ كَبَّرَ وَسَجَدَ، وَلَمْ يَعْتَدَّ بِهَا»
مصنف ابن أبي شيبة 1/227/2603
حضرت ابن عمر اور زید بن ثابت سے روایت ہے کہ"اگر تم لوگوں کو پاو کہ انھوں نے رکوع سے سر اٹھا لیا ہے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرو اور اس کو شمار نا کرو"
ضعیف
سالم نے حضرت زید بن ثابت سے نہیں سنا (تحفة التحصيل ص121)۔
مزید یہ کہ امام عبد الرزاق نے اس کو مرسل بیان کیا ہے، سالم کے ذکر کے بغیر (المصنف 3355)۔
اس ہی طرح امام عبد اللہ بن احمد نے بھی ابراهيم بن سعد عن الزھری مرسلا بیان کیا ہے (مسائل الإمام أحمد لعبد الله 379)۔
اور معمر زھری کی حدیث میں کبھی کبھار غلطی کرتے تھے (شرح علل الترمذي 2/674)۔
پس یہ حدیث مرسل ہی محفوظ ہے۔ واللہ اعلم
ایسی ایک روایت موطا مالک میں بھی آئی ہے لیکن بلاغا (1/10/18)۔ اس کا ذکر حضرت زید سے روایات میں آئے گا


پ) مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقُولُ: إِذَا فَاتَتْكَ الرَّكْعَةُ فَقَدْ فَاتَتْكَ السَّجْدَةُ
موطأ مالك 1/10/17
"اگر تمہاری رکعت فوت ہو جائے، تو تمہارا سجدہ بھی فوت ہو گیا"
صحیح
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
5. حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ
ا) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، مِنْ دَارِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَكَعَ الْإِمَامُ، فَكَبَّرَ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْتُ مَعَهُ، ثُمَّ مَشَيْنَا رَاكِعَيْنِ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّفِّ، حَتَّى رَفَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ أَنَا، وَأَنَا أَرَى لَمْ أُدْرِكْ، فَأَخَذَ بِيَدِي عَبْدُ اللَّهِ فَأَجْلَسَنِي، وَقَالَ: «إِنَّكَ قَدْ أَدْرَكْتَ»
مصنف ابن أبي شيبة 1/229/2622
زید بن وھب کہتے ہیں کہ میں اور ابن مسعود ان کے گهر سے مسجد کی طرف نکلے۔ جب ہم مسجد پہنچے تو امام رکوع میں تھا۔ تو ابن مسعود نے تکبیر کہہ کر رکوع کیا، اور میں نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا۔ پھر ہم رکوع کی حالت میں ہی چلتے ہوئے صف تک پہنچے اور پھر لوگوں نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر جب امام اپنی نماز سے فارغ ہوا تو میں اپنی نماز پوری کرنے کھڑا ہو گیا، یہ سمجھتے ہوئے کہ میری رکعت چھوٹ گئی تھی۔ تو حضرت ابن مسعود نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر بٹھایا اور فرمایا "تمہے رکعت مل چکی تھی"
صحیح
شیخ البانی نے کہا: اس کی سند صحیح ہے (إرواء الغليل 2/263)
حافظ زبير علی زئی نے کہا: اس کی سند صحیح ہے (ماہنامہ الحديث 30/13)
اس کی ایک اور سند بھی مصنف عبد الرزاق الصنعاني (2/238/3381) ہے جس کے تعلق سے
شیخ ابو یحیی زکریا بن غلام قادر نے فرمایا: صحیح (ما صح من اثار الصحابة :1/380)
امام ھیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں (مجمع الزوائد 2/77)
امام ابن عبد البر نے فرمایا: متصل صحيح (الاستذكار 2/314)
شیخ ارنووط نے فرمایا: صحيح (حاشية شرح مشكل الآثار 14/208)


ب) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ الرُّكُوعَ فَقَدْ أَدْرَكَ»
الأوسط في السنن 4/196/2023
صحیح
’جس نے رکوع پا لیا اس نے رکعت پا لی’
شیخ البانی نے کہا: اس کی سند صحیح ہے (إرواء الغليل 2/262)
شیخ ابو یحیی زکریا بن غلام قادر نے فرمایا: صحیح (ما صح من اثار الصحابة :1/378)


پ) عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّ هُبَيْرَةَ بْنَ يَرِيمَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَا: «مَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فَلَا يَعْتَدَّ بِالسَّجْدَةِ»
مصنف عبد الرزاق (2/281/3371)
’جو رکوع نہ پائے وہ سجدون کو شمار نہ کرے‘
صحیح
امام ھیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں (مجمع الزوائد 2/77)
حافظ زبير علی زئی نے فرمایا: یہ آثار باسند صحیح ثابت نہیں (ماہنامہ الحديث 30/15)
شیخ یاسر فتحی نے فرمایا: صحیح سند کے ساتھ موقوف (فضل الرحيم الودود 9/532)


ت) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، عَنْ يزيْدِ بْنِ أَحْمَرَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَمَشَى إِلَى الصَّفِّ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِنَّهُ يَعْتَدُّ بِهَا، وَإِنْ رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ فَلَا يَعْتَدُّ بِهَا»
المعجم الكبير للطبراني 9/271/9357
’جب تم میں سے کوئی رکوع کرے اور اس حالت میں صف کی طرف چل کر آئے اس سے پہلے کہ لوگ اپنے سر رکوع سے اٹھا لیں تو وہ رکعت شمار کر لے۔ اور اگت وہ اس کے صف تک پہنچنے سے پہلے سر اٹھا لیں تو وہ رکعت شمار نہ کرے‘
ضعیف
يزيد بن احمر مجھول ہے اور حجاج بن ارطاہ میں ضعف ہے۔ وہ مدلس بھی ہیں اور یہاں سماع کی صراحت نہیں​
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
6. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
ا) وَمَا قَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ خَارِجَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَرْكَعُ عَلَى عَتَبَةِ الْمَسْجِدِ , وَوَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يَمْشِي مُعْتَرِضًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَعْتَدُّ بِهَا إِنْ وَصَلَ إِلَى الصَّفِّ أَوْ لَمْ يَصِلْ
شرح مشكل الآثار 14/207
زید بن ثابت مسجد کے دروازے پر رکوع کر لیتے اپبا منہ قبلہ رخ کر کے، اور پھر اس حالت میں چل کے صف تک اتے۔ اور وہ رکعت شمار کر لیتے چاہے صف تک پہبچ پاتے یہ نہیں۔
شیخ البانی نے فرمایا: اس کی سند جید ہے (إرواء الغليل 2/264)
شیخ ارنووط نے فرمایا: حسن (حاشية شرح مشكل الآثار 14/207)
شیخ یاسر فتحی نے فرمایا: میرے زدیک یہ شاذ ہے اور محفوظ وہ ہے جو گزرا ہے (رکعت شمار کرنے والی بات کے بغیر - شرح مشكل الآثار 14/206 وغیرہ) صحیح مدنی سند کے ساتھ، اور اس کی متابعت بھی موجود ہے۔ اور مجھے خدشہ ہے کہ ابو مریم نے ابن ابی الزناد سے مدینہ میں نہیں بلکہ بغداد میں حدیث سنی (فضل الرحيم الودود 7/492)
لیکن میں کہتا ہوں کہ امام علی بن المدینی نے بالجزم رکوعملنے سے رکعت مل جانے والی رائے کو حضرت زید بن ثابت سے منسوب کیا ہے (القراءة خلف الإمام للبخاري ص 36) اور وہ ائمہ علل میں سے ہیں


ب) حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ؛ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الله بْنَ عُمَرَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَا يَقُولاَنِ: مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَمن قبل أن يرفع الإمام رأسه فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ.
موطأ مالك 1/10/18
امام مالک تک یہ بات پینچی کہ حضرت زید اور حضرت ابن عمر یہ کہا کرتے تھے کہ ’جس کو رکعت مل گئی اس سے پہلے کہ امام سر اٹھائے تو اس کو سجدہ مل گیا‘
ضعیف
امام مالک نے سند نہیں بیان کی​
 
شمولیت
اکتوبر 28، 2019
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
25
7. حضرت علی رضی اللہ عنہ
عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّ هُبَيْرَةَ بْنَ يَرِيمَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَا: «مَنْ لَمْ يُدْرِكِ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فَلَا يَعْتَدَّ بِالسَّجْدَةِ»
مصنف عبد الرزاق الصنعاني (2/281/3371)
حضرت علی اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ ’جو رکوع نہ پائے وہ سجدون کو شمار نہ کرے‘
صحیح
اس کا ذکر حضرت ابن مسعود کے تحت گزرا ہے۔


8. حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ «أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ رَكَعُوا، فَيَرْكَعُ مَعَهُمْ، ثُمَّ يَدْرُجُ رَاكِعًا حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، ثُمَّ يَعْتَدَّ بِهَا»
حديث علي بن حجر السعدي عن إسماعيل بن جعفر المدني ص 218
حضرت ابو بکرہ نماز کے لئے گھر سے نکلتے اور اگر دیکھتے کہ لوگ رکوع میں ہیں تو آپ بھی (کھڑے کھڑے) رکوع فرما لیتے۔ پھر رکوع کی حالت میں ہی صف میں داخل ہو جاتے اور رکعت شمار کر لیتے
ضعیف
القاسم بن ربيعہ کا حضرت ابو بکرہ سے سماع نہیں ثابت


9. یہی رائے جمہور فقھاء کی ہے:
امام احمد [مسائل أبي داود 250]
امام الشافعی [اختلاف احديث 10/173]
امام ابن حبان [صحيح ابن حبان 5/570]
امام البيهقی [السنن الكبرى للبيهقي 2/129]
امام ابن قدامی [المغني 2/35] امام ابن تيميہ [المجموع 23/320]
امام ابن القيم [إعلام الموقعين 2/360]
اور امام ابن رجب (کما تقدم)
اور امام اسحاق بن راھویہ نے تو اجماع نقل کیا ہے [مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه 2/530]


واللہ تعالی اعلم
الانتھی
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
صحيح مسلم: کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ: بَاب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاةَ:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ

رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے امام کے ساتھ نماز میں رکوع پا لیا تحقیق اس نے نماز (کی رکعت) پا لی ۔
سنن أبي داود کتاب الصلاۃ باب فِي الرَّجُلِ يُدْرِكُ الْإِمَامَ سَاجِدًا كَيْفَ يَصْنَعُ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ [حكم الألباني: حسن]

رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے (مسجد میں) آؤ ہم سجدہ میں ہوں تو (ہمارے ساتھ) سجدہ کرو اور اس کو کسی شمار میں نہ لاؤ ۔ اور جس نے (امام کے ساتھ) رکوع پا لیا تحقیق اس نے نماز (کی رکعت) پا لی۔

السنن الكبرى للبيهقي: باب ادراك الامام في الركوع:
عن عبدالله يعنى ابن مسعود قال من لم يدرك الامام راكعا لم يدرك تلك الركعة

عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے امام کو رکوع میں نہیں پایا تحقیق اس نے وہ رکعت نہیں پائی ۔

عن عبد الله قال من لم يدرك الركعة فلا يعتد بالسجود
عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رکوع نہیں پایا وہ سجدوں کو نہ گنے ۔

عن ابن عمر انه كان يقول من ادرك الامام راكعا فركع قبل ان يرفع الامام رأسه فقد ادرك تلك الركعة
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے ’’جس نے امام کو رکوع میں پایا اورامام کے سر اٹھانے سے پہلے رکوع میں چلا گیا تحقیق اس نے وہ رکعت پالی ‘‘۔

زيد بن وهب قال خرجت مع عبد الله يعنى ابن مسعود من داره إلى المسجد فلما توسطنا المسجد ركع الامام فكبر عبد لله وركع وركعت معه ثم مشينا راكعين حتى انتهينا إلى الصف حين رفع القوم رؤسهم فلما قضى الامام الصلوة قمت وانا ارى انى لم ادرك فاخذ عبد الله بيدى واجلسني ثم قال انك قد ادركت
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر سے مسجد کی طرف نکلے۔ جب ہم مسجد کے وسط میں پہنچے تو امام رکوع میں چلا گیا۔ عبد اللہ (ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے تکبیر کہی اور رکوع کر لیا میں نے بھی ان کے ساتھ رکوع کرلیا۔ پھر ہم رکوع کی حالت میں (کھسکتے ہوئے) چلے۔ ہم صف میں پہنچ گئے لوگوں کے سر اٹھانے تک۔ جب امام نے نماز مکمل کی میں کھڑا ہؤا، میں سمجھتا تھا کہ میں نے رکعت نہیں پائی۔ عبد اللہ (ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے میرا ہاتھ پکڑا اور بٹھا دیا اور کہا کہ بے شک تم نے رکعت پالی۔

اعتتراض:
رکوع میں آکر ملنے والے سے دو اہم اجزاء نماز چھوٹ جاتے ہیں، ایک قیام جو کہ بالاتفاق نماز کا رکن ہے، دوسرا سورہ فاتحہ پڑھنا
جواب:
رکوع میں آکر ملنے والا تکبیر تحریمہ کہتا ہے اور یہ حالت قیام (نا کہ قیام) میں کہی جاتی ہے۔ تکبیر کہتے ہی اس کا قیام ہو جاتا ہے اس کا قیام فوت نہیں ہوتا۔
آقا علیہ السلام ہی کا فرمان ہے کہ امام کی قراءت مقتدی کو کفایت کرتی ہے۔ امام چونکہ سورہ فاتحہ او ر دیگر سورت کی قراءت کرتا ہے لہٰذا مقتدی کی نماز سورہ فاتحہ والی ہوئی بغیر سورہ فاتحہ کے نہ رہی۔

 
Top