1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا سند کے صحیح ہو جانے سے متن کا صحیح ہونا امر واقعی ہے ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏جون 22، 2019۔

  1. ‏جون 22، 2019 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    محمد عبد الرحمن کاشفی اڑیشوی

    الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین اما بعد

    علماء مصطلح الحدیث نے یہ ذکر کیا ہے کہ بعض محدثین فقط اسانید کی صحت پر حکم لگاتے ہیں نہ کہ متن حدیث پر،ان کی بعض تقریرات ملاحظہ فرمائیں:-
    ابن صلاح رحمہ اللہ نے نے اپنے مقدمے میں فرمایا کہ فلاں حدیث صحیح الاسناد ہے یا حسن الاسناد ہے نہ کہ حدیث صحیح ہے یا حدیث حسن ہے کیونکہ کبھی کبھار یہ کہ دیا جاتا ہے کہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے صحیح ہے لیکن متناً صحیح نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایسی حدیثوں کو ہم شاذ یا معلول جانتے ہیں.

    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے النکت علی کتاب بن الصلاح کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا- یہ محض ایک عام حکم کے طور پر بیان کر دینا کہ محدثین فقط سند ہی پر نظر رکھتے ہیں یہ بالکل غلط رائے ہے،محدثین کے یہاں یہ معاملہ مطرد نہیں ہے بلکہ ہر ایک محدث کے طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد ہی انکے منہج سے واقف ہونا ممکن ہے.

    امام سخاوی رحمہ اللہ نے نے فتح المغیث میں کہا کہ کبھی سند صحیح ہوتی ہے یا حسن【 اس لئے کہ کبھی سند میں اتصال،عدالت اور ضبط کی شروط جمع ہو جاتے ہیں】 نہ کہ متن جبکہ متن میں شذوذ اور علت موجود ہوتے ہیں.نیز کسی راوی کی مخالفت ثقات کے حق میں ہوتی ہے یا وہ ثقات سے ہٹی ہوئی نادر بات کر گزرتا ہے،یہ چیزیں روایت کو ضعیف اور ناقابل احتجاج بنا دیتی ہیں.

    ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا یہ بات معلوم ہے کہ صحت سند حدیث کے صحیح ہونے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے لیکن فقط صحت سند صحت حدیث کو مستلزم نہیں ہے.معلوم ہوا صحیح حدیث وہ حدیث ہے جس میں مجموعی طور پر تمام شروط سنداً و متناً متوفر ہوں یعنی سند کا صحیح ہونا معلوم ہو،شذوذ و نکارت منتفی ہوں، نہ کسی راوی کی کسی ثقہ راوی سے مخالفت ہو اور نہ ہی ان ثقات سے ہٹی ہوئی بات ہی نقل کی کر دیا گیا ہو.

    جس کی مثال یہ ہے:- امام حاکم اور بیہقی نے شعبہ کے طریق سے نقل فرمایا ہے، وہ عمر بن مرہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابی الضحی سے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کے قول 《اللہ الذی خلق سبع سماوات و من الأرض مثلهن》 کے تحت فرماتے ہیں (في كل أرض نحو إبراهيم.)
    ہر زمین میں ابراہیم علیہ السلام کی طرح کوئی نبی ہیں.

    امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا اس حدیث کی سند تو صحیح ہے لیکن مرہ کی وجہ سے متن میں یہ شذوذ پیدا ہو گیا ہے.
    واللہ اعلم و علمہ اتم.

    Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. difa-e- hadis
    جوابات:
    12
    مناظر:
    1,427
  2. ابن قدامہ
    جوابات:
    0
    مناظر:
    420
  3. ابن قدامہ
    جوابات:
    1
    مناظر:
    361
  4. ابن قدامہ
    جوابات:
    1
    مناظر:
    517
  5. محمد أحمد
    جوابات:
    1
    مناظر:
    717

اس صفحے کو مشتہر کریں