1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

کیا سٹور کی اشیاء پر زکوۃ واجب ہے ؟

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از طارق اقبال, ‏اپریل 20، 2017۔

  1. ‏اپریل 20، 2017 #1
    طارق اقبال

    طارق اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 28، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    ایک دوکان کہ جس کا سامان تجارت بےبی سائیکلز، کھلونے اور ڈیکوریشن کی اشیاء ہیں اور ابھی تک اس سے کوئی منافع بھی حاصل نہیں‌ہوا بلکہ ایک سال گزرنے کے باوجود خسارہ ہی ہے تو کیا اس مالک کو زکوۃ ادا کرنا ہوگی ؟ شکریہ
     
  2. ‏اپریل 20، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,458
    موصول شکریہ جات:
    1,959
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    زکوٰة راس مال (یعنی پونجی ) پر ہے یامنافغ پر الخ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    زکوٰۃ راس المال یعنی پونجی پر ہے، یا منافع پر ہے مثلاً زید نے پانچ ہزار روپے سے تجارت شرع کی۔ ایک سال گزرنے پر اس کو ایک ہزار منافع ہوا اور دوسرے سال چھ ہزار سے تجارت کی تو سال گزرنے پر پھر ایک ہزار منافع ہوا تو پلے سال اور دوسرے سال کتنے روپے کی زکوٰہ ادا کرے، اسی صورت سے تیسرے سال سات ہزار سے تجارت شروع کی تو سال ختم ہونے پر اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوا تو وہ زکوٰہ دے گا یا نہیں؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    زکوٰۃ اصل مال پر ہے جس پر پورا سال گذرا ہو، صورت مرقومہ میں پہلے سال پانچ ہزار کی واجب ہو گی، اور دسرے سلا چھ ہزار کی۔ نفع بعد وصول آئندہ سال میں محسوب ہو گا۔ چونکہ زکوٰہ اصل مال پر از قسم عبادت ہے، اس لیے جس سال نفع نہیں ہوا۔ا س سال بھی زکوٰۃ واجب ہو گی۔ (اہل حدیث ۲۰رمضان ۱۳۵۰ھج) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۶۸)
    فتاویٰ علمائے حدیث
    جلد 7 ص 82

    محدث فتویٰ

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    سنن ابوداود میں حدیث شریف ہے :
    « عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ» (سنن ابی داود ، کتاب الزکاۃ )
    جناب سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے "
    عون المعبود شرح ابی داود میں اس حدیث کے تحت لکھا ہے :

    وقال في سبل السلام والحديث دليل على وجوب الزكاة في مال التجارة
    واستدل للوجوب أيضا بقوله تعالى أنفقوا من طيبات ما كسبتم الآية قال مجاهد نزلت في التجارة
    قال بن المنذر الإجماع قائم على وجوب الزكاة في مال التجارة

    یعنی سبل السلام میں علامہ صنعانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مال تجارت میں زکوۃ کے واجب ہونے پر دلیل ہے ،
    اسی طرح مال تجارت میں زکاۃ قرآن مجید کی یہ آیت بھی دلیل ہے :
    (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ ۔۔۔ ) سورۃ البقرۃ 267
    ترجمہ :اے ایمان والو! اپنی پاکیزه کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، "
    امام مجاہد کہتے ہیں یہ آیہ مال تجارت میں زکاۃ کے ضمن میں نازل ہوئی ،
    اور امام ابن المنذرؒ فرماتے ہیں : مال تجارت پر ( اگر بقدر نصاب ہو ) تو زکوٰۃ کے وجوب پر اجماع ہے "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلئے آپ مال تجارت پر زکاۃ ادا کریں ، ان شاء اللہ مال میں برکات ، اور تجارت میں نفع ہوگا ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اپریل 20، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 20، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,458
    موصول شکریہ جات:
    1,959
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    سعودی عرب کی علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
    کا فتوی ہے کہ :
    ـــــــــــــــــــــــــــ
    كيف تحسب الزكاة لعروض التجارة؟
    السؤال الرابع من الفتوى رقم (5395)
    س4: زكاة عروض التجارة هل تقوم حسب ثمن الشراء، أم حسب الثمن الموجود في السوق عند حلول الزكاة، وهل الحول يعتد به عند تمام النصاب أم عند أول جمع المال؟ فمثلا إن جمع رجل مالا دون النصاب، ثم عند اقتراب تمام الحول تم النصاب، فهل يزكيه عند تمام سنة من بدء جمعه أو يستأنف به حولا جديدا بداية عندما تم النصاب؟
    ج4: يبدأ الحول من يوم تم النصاب، لا من اليوم الذي ملك فيه المسلم نقدا أو عروض تجارة أقل من النصاب، ففي المثال الذي ذكرته لا يبدأ الحول من يوم بدأ يجمع، بل يبتدئ الحول من يوم تم عنده النصاب، وتعتبر قيمة عروض التجارة في الزكاة يوم يحول عليها الحول.
    وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... عضو ... نائب رئيس اللجنة ... الرئيس
    عبد الله بن قعود ... عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ :
    س 4: ادائیگی زکوۃ کا وقت آنے پر سامان تجارت پر زکوۃ کا حساب آیا اس کی قیمت خرید کے اعتبار سے کیا جائے گا یا اس وقت بازار میں موجود قیمت کے اعتبار سے؟...
    سامان تجارت كی زکوة كا حساب كیسے كیا جائے
    سوال نمبر: 4 - فتوی نمبر: 5395
    ( جلد کا نمبر 9، صفحہ 318)
    س 4: ادائیگی زکوۃ کا وقت آنے پر سامان تجارت پر زکوۃ کا حساب آیا اس کی قیمت خرید کے اعتبار سے کیا جائے گا یا اس وقت بازار میں موجود قیمت کے اعتبار سے؟ اور کیا مدت کا حساب نصاب کے پورا ہونے کے بعد سے ہوگا یا مال جمع کرنا شروع کرنے کے وقت سے ہوگا؟ مثال کے طور پر ایک شخص نے نصاب کی مقدار سے کم مال جمع کیا ہے، پہر سال کے پورا ہونے تک اس کے پاس نصاب کی مقدار پوری ہوگئی، تو کیا یہ شخص مال جمع کرنے کے وقت سے حساب کرکے ایک سال کی زکوۃ نکالے گا؟ یا پھر نصاب پورا ہونے کے بعد سے سال کا حساب لگائے گا؟
    ـــــــــــــــــــــ
    جواب:
    سال کا حساب نصاب کی مقدار پورا ہونے کے بعد سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ اس دن سے جس دن کوئی مسلمان نصاب سے کم مقدار مال یا سامان تجارت کا مالک بنا ہو، اور جس مثال کا آپ نے ذکر کیا ہے اس میں سال کی ابتدا مال کو جمع کرنا شروع کرنے کے دن سے نہیں، بلکہ اس دن سے ہوتی ہے جس دن یہ مال نصاب کی مقدار کو پہنچا ہے، اور سامان تجارت کی زکوۃ میں اس دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا جس دن اس پر سال مکمل ہوا ہے۔
    وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
    رکن ركن کمیٹی کےنائب صدر صدر​
    عبد اللہ بن قعود عبد اللہ بن غدیان عبدالرزاق عفیفی عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں