1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا صرف نیکی کا حکم دینا تبلیغ ہے برائی سے منع کرنا نہیں؟

'تبلیغی جماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏مارچ 13، 2014۔

  1. ‏مارچ 13، 2014 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    فورم پر ایک تھریڈ پڑھنے کو ملا جس میں تبلیغی جماعت کے مزاج "کسی کو مت روکو" کے متعلق ان کے دلائل جس میں موسی علیہ السلام کا ایک واقعہ لکھا گیا تھا، پیش کیا گیا، اور ان کے دلائل کے متعلق استفسار کیا گیا کہ کیا یہ درست ہیں اور ان سے کیا گیا استدلال درست ہے؟ آئیے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کیا تبلیغی جماعت کا یہ نظریہ درست ہے؟
    امر بالمعروف ونهي عن المنكر
    امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایک اہم دینی فریضہ ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر امة جن امور پر کہا وہ امور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے اور اللہ پر ایمان لانا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّـهِ۔۔۔سورۃ آل عمران
    ترجمه: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو
    اب غور کیجئے، اگر کوئی اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے صرف نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع نہ کرے تو کیا وہخیر امة کہلانے کے لائق ہے؟

    اب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے اہم دینی فریضے کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:

    وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٤﴾۔۔۔سورۃ آل عمران
    ترجمہ: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں

    يُؤْمِنُونَ بِٱللَّـهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ﴿١١٤﴾۔۔۔سررۃ آل عمران
    ترجمہ: یہ اللہ تعالیٰ پر اورقیامت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں، بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ نیک بخت لوگوں میں سے ہیں

    ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ۔۔۔سورۃ الاعراف
    ترجمہ: جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں

    وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّـهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ ٱللَّـهُ ۗ إِنَّ ٱللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٧١﴾۔۔۔سورۃ التوبہ
    ترجمہ: مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے

    ٱلتَّـٰٓئِبُونَ ٱلْعَـٰبِدُونَ ٱلْحَـٰمِدُونَ ٱلسَّـٰٓئِحُونَ ٱلرَّٰكِعُونَ ٱلسَّـٰجِدُونَ ٱلْـَٔامِرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱلْحَـٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّـهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿١١٢﴾۔۔۔سورۃ التوبہ
    ترجمہ: وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے، (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے

    ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُوا۟ بِٱلْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا۟ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّـهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ ﴿٤١﴾۔۔۔سورۃ الحج
    ترجمہ: یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے

    آپ نے دلائل ملاحظہ کیے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں کاموں (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کا اکٹھے ذکر کیا، محض نیکی کی دعوت دینا کوئی کمال نہیں، ساتھ برائی سے روکنا بھی بہت اہم ہے، بلکہ اگر کوئی برائی سے رُک جائے تو اسے نیکی کا حکم دینا زیادہ آسان ہے، برائی سے منع کرنا ایک بہت ہی اہم بات ہے، قرآن مجید میں خود اللہ تعالیٰ نے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دینے والا کہا وہاں ڈرانے والا بھی کہا۔ قرآنی دلائل ملاحظہ فرمائیں:
    إِنَّآ أَرْسَلْنَـٰكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْـَٔلُ عَنْ أَصْحَـٰبِ ٱلْجَحِيمِ ﴿١١٩﴾۔۔۔سورۃ البقرۃ
    ترجمہ: ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہوگی

    وَبِٱلْحَقِّ أَنزَلْنَـٰهُ وَبِٱلْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴿١٠٥﴾۔۔۔سورۃ الاسراء
    ترجمہ: اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا۔ ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے

    بلکہ اس آیت میں تو پہلے نذیر کا ذکر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّـهَ ۚ إِنَّنِى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ ﴿٢﴾۔۔۔سورۃ ھود
    ترجمہ: یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں

    اور پھر برائی کا ارتکاب کرنے پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے جس سے انبیاء ڈرانے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی کئی آیات میں صرف "نذیر" کہا۔ قرآنی دلائل ملاحظہ کریں۔
    إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿١١٥﴾۔۔۔سورۃ الشوری
    ترجمہ: میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں

    وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَـٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قُلْ إِنَّمَا ٱلْـَٔايَـٰتُ عِندَ ٱللَّـهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿٥٠﴾۔۔۔سورۃ العنکبوت
    ترجمہ: انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں

    تو ان آیات کو بھی سامنے رکھیں اور تبلیغی جماعت کے موقف کو بھی سامنے رکھیں اور انصاف سے دیکھیں کہ تبلیغی جماعت کا نظریہ کس قدر غلطی پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ صرف وہی منسلک ہوتا ہے جسے یا تو علم نہیں ہوتا یا پھر اس کا تحقیق مزاج نہیں ہوتا، جو بھی تحقیقی، فکری مزاج رکھتا ہے وہ اس جماعت سے منسلک نہیں ہوتا، اور اگر ہو بھی جائے تو زیادہ دیر ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ اسی وجہ سے تبلیغی جماعت سے بہت سے لوگ الگ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق دین اسلام کی تبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں