1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا صیغہ صدوق توثیق ہے؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از علی عمران, ‏اگست 03، 2019۔

  1. ‏اگست 03، 2019 #1
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ۔
    کیا کسی محدث کا کسی راوی کو صدوق کہہ دینا اس راوی کی توثیق ہے؟ اگر کسی راوی کے لیے کتب اسماء الرجال میں صرف صدوق کے الفاظ ہی موجود ہوں تو کیا اس راوی ثقہ تسلیم کیا جائے گا؟ کیا لفظ صدوق سے کوئی راوی معیاری ثقہ ثابت ہوتا ہے؟
    تمام احباب سے گزارش ہے کہ محدثین کے اقوال سے بندہ ناچیز کے سوال کا جواب دے دیں۔شکریہ۔
    @کفایت اللہ
    @خضر حیات
    @ابن داود
    @اسحاق سلفی
     
  2. ‏اگست 03، 2019 #2
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

  3. ‏اگست 03، 2019 #3
    علی عمران

    علی عمران مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2019
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

  4. ‏اگست 04، 2019 #4
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,529
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    کلمہ صدوق اہل نقد کے نزدیک اس راوی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ثقہ سے کمتر ہو، یعنی اس میں توثیق کے تمام مطلوبہ اوصاف موجود ہوں، صرف ضبط میں کچھ کمی ہو اور اس کی روایت میں بعض حالات میں وہم پیدا ہوجاتا ہو۔

    وَمَشْهُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُدْوَةِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَنَّهُ حَدَّثَ، فَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ فَقِيلَ لَهُ: أَكَانَ ثِقَةً فَقَالَ كَانَ صَدُوقًا، وَكَانَ مَأْمُونًا وَكَانَ خَيِّرًا وَفِي رِوَايَةٍ: وَكَانَ خِيَارًا الثِّقَةُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ
    كتاب مقدمة ابن الصلاح معرفة أنواع علوم الحديث

    یہ مثال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صدوق کا مرتبہ ثقہ سے کم ہے اس لیے امام ابن مہدی ؒ سے ابوخلدۃ کے بارے میں پوچھا گیا: تو انہوں نے اس کے لیے صدوق کا لفظ بولا جو اس راوی کے مقبول ہونے کا تقاضا کرتا ہے پھر بیان کیا کہ ثقہ کا لفظ شعبہ و سفیان اور ان جیسے دیگر رواۃ پر بولا جائے گا۔

    صَدُوقٌ، أَوْ مَحَلُّهُ الصِّدْقُ أَوْ لَا بَأَسَ بِهِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: هُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَيُنْظَرُ فِيهِ
    ابن ابی حاتم (الرازی) نے کہا: جب کسی کے بارے میں "صدوق" یا "محلہ الصدق" یا "لا باس به" کہا جائے تو یہ راوی ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جن کی حدیث لکھی جاتی ہے اور ان کے بارے میں تحقیق جاری رکھی جاتی ہے۔
    تدريب الراوي
     
  5. ‏اگست 05، 2019 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,730
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ثقہ و صدوق دونوں کی روایت قابل حجت ہوتی ہے، صرف مرتبے میں فرق ہے کہ ثقہ صدوق سے اعلی درجے کا ہوتا ہے۔ جس طرح کے حجۃ یا ثبت یا متقن وغیرہ کے الفاظ خالی ثقہ سے اولی ہیں۔
    وہم کا احتمال صدوق کیا ثقہ کی روایت میں بھی ہوسکتا ہے، لیکن عمومی حکم بیان کرتے ہوئے اس کا ذکر کرنا درست نہیں۔
    جس میں وہم کا احتمال زیادہ ہو، اسے صرف ’صدوق‘ نہیں، بلکہ صدوق کے ساتھ یہم یا اوہام وغیرہ کے الفاظ سے ذکر کیا جاتا ہے۔ ایسے راوی کی روایت حسن درجے کی نہیں ہوتی، لیکن صدوق کی روایت حسن لذاتہ کے درجے میں قابل حجت ہوتی ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 07، 2019 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,181
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ﴿صدوق﴾ اپنے درجہ میں صیغہ توثیق ہے، اس کی روایت مقبول قرار پاتی ہے، مگر ایسی صورت میں کہ جب ایسے راوی کی رویت اس سے بلند درجہ راوی کے مخالف ومنافی آئے، تو ایسی روایات شاذ یا معلول قرار پاتی ہیں!
    علم حدیث کی اصطلاح ﴿شاذ﴾ کا مطالعہ فرمائیں، ان شاء اللہ راویوں کے درجات سے منطبق مسائل سمجھ آئیں گے!
     
    Last edited: ‏اگست 07، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں