1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا علی رضی اللہ عنہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کو قاتل عثمان کہا ؟

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏مارچ 17، 2014۔

  1. ‏مارچ 17، 2014 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام أحمد بن يحيى، البلاذري (المتوفى 279)نے کہا:
    حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا أبو النصر، حدثنا إسحاق بن سعيد، عن عمرو بن سعيد، حدثني سعيد بن عمرو:عن (؟) ابن حاطب قال: أقبلت مع علي يوم الجمل إلى الهودج وكأنه شوك قنفذ من النبل، فضرب الهودج، ثم قال: إن حميراء إرم هذه أرادت أن تقتلني كما قتلت عثمان بن عفان. فقال لها أخوها محمد: هل أصابك شيء؟ فقالت: مشقص في عضدي. فأدخل رأسه ثم جرها إليه فأخرجه.
    ابن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ (اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے) ہودج کے قریب آیا: اس وقت یہ ہودج تیروں کی بوچھار سے خاردار چوہے کے خار کی طرح لگ رہا تھا۔تو علی رضی اللہ عنہ نے اس ہودج کو مارا اور کہا:یہ حمیراء (عائشہ رضی اللہ عنہا) ہے ، اس پر تیر چلاؤ ! یہ مجھے قتل کرناچاہتی ہے جس طرح اس نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمدنے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ کو کوئی تیرلگا تو نہیں؟ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بازو میں ایک تیر پیوست ہے۔پھر محمدبن ابی بکر نے اپنا سر ھودج میں داخل کیا اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف کھینچ کرتیر نکال دیا۔[أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 3/ 46 واسنادہ ضعیف و منقطع]

    یہ روایت ضعیف ہے اور بے ہودہ بات پر مشتمل ہونے کے سبب باطل ومن گھڑت ہے۔
    تفصیل ملاحظہ ہو:
     
    • زبردست x 5
    • شکریہ x 1
    • پسند x 1
    • متفق x 1
    • معلوماتی x 1
    • مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 17، 2014 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    پہلی علت


    ’’سعیدبن عمرو‘‘ کی جہالت:
    ابن حاطب سے روایت کرنے والے ’’سعیدبن عمرو‘‘ معلوم نہیں کون ہیں ۔
    ابن حاطب کے شاگردوں میں ان کاتذکرہ نہیں ملا اور نہ ہی ’’عمرو بن سعيد‘‘ کے اساتذہ میں ان کا ذکر ہے ۔ کیونکہ عمروبن سعید بھی بذات خود مجہول ہے کماسیاتی۔
     
  3. ‏مارچ 17، 2014 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    دوسری علت

    انقطاع
    عمروبن سعید کے مجہول ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ثبوت نہیں ملتا کہ ان کی ملاقات ابن حاطب رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی ہے یا نہیں ، لہذا یہاں سند کے اتصال کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔
     
  4. ‏مارچ 17، 2014 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تنبیہ بلیغ
    رافضیوں کاکہنا ہے کہ یہاں پر ’’سعیدبن عمرو‘‘ سے مراد ’’سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص القرشی ہیں‘‘ ہیں اور یہ ثقہ ہیں۔

    عرض کہ :

    اولا:
    اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہاں پر ’’سعیدبن عمرو‘‘ سے ’’سعیدبن عمرو القرشی‘‘ مراد ہیں ، راوی کے تعین کا بنیادی ذریعہ اساتذہ وتلامذہ کا رشتہ ہے اور یہاں اس رشتہ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔اوراس رشتہ کے لئے خارجی قرائن بھی موجود نہیں ہیں۔
    بلکہ قرینہ یہ بتلاتا ہے کہ اس سند میں ’’سعیدبن عمروالقرشی‘‘ ہوہی نہیں سکتے کیونکہ یہاں ان کے اپنے بیٹے ’’اسحاق بن سعید‘‘ ان سے ایک واسطہ سے روایت کررہے ہیں جبکہ دیگر مقامات ’’اسحاق بن سعید‘‘ براہ راست اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔

    ثانیا:
    بالفرض اگر ہم یہ تسلیم بھی کہ یہاں ’’سعیدبن عمرو‘‘ سے مراد ’’سعیدبن عمرو القرشی ‘‘ ہیں تو ایسی صورت میں یہ راوی ثقہ تو ثابت ہوجائیں گے لیکن سند منقطع رہے گی کیونکہ ابن حاطب رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ ابن حاطب کے شاگردوں میں نہ تو ان کا ذکر ہے اور نہ ہی ان کے اساتذہ میں ابن حاطب رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 17، 2014 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تیسری علت


    عمروبن سعید کی جہالت:
    ’’سعیدبن عمرو‘‘سے روایت کرنے ولا ’’عمروبن سعید ‘‘ مجہول و نامعلوم ہے ۔’’اسحاق بن سعید‘‘ کے اساتذہ میں یا ’’سعیدبن عمرو‘‘ مجہول یا ’’سعیدبن عمروالقرشی‘‘ کے تلامذہ میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔

    بعض روافض کاکہنا ہے کہ یہاں عمروبن سعید سے مراد ’’عمروبن سعید القرشی ، الثقفی ، البصری ‘‘ ہیں جو ثقہ ہیں۔
    عرض ہے کتب رجال میں یہ صراحت قطعا نہیں ملتی کہ ’’عمروبن سعید البصری ‘‘ سے اسحاق نے روایت کیا ہے بلکہ ''عمروبن سعید البصری '' یہ بصری ہیں اور بصری رواۃ سے اسحاق کا روایت کرنا ہی ثابت نہیں ہے۔

    تنبیہ:
    امام طبراني رحمه الله (المتوفى360) نے کہا:
    حدثنا الحسين بن إسحاق التستري، ثنا يحيى الحماني، ثنا إسحاق بن سعيد، عن عمرو بن سعيد القرشي، حدثني أبي، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل , فقال: ما عمل إن عملت به دخلت الجنة؟ قال: «أنت ببلد يجلب به الماء؟» قال: نعم. قال: «فاشتر بها سقاء جديدا ثم استق فيها حتى تخرقها، فإنك لن تخرقها حتى تبلغ بها عمل الجنة»[المعجم الكبير للطبراني 12/ 104]

    اس سند میں عمروبن سعید القرشی سے اسحاق بن سعید کو روایت کرنے والا بتلایا گیا ہے لیکن یہ سند موضوع اور من گھڑت ہے کیونکہ اسے یحیی الحمانی نے بیان کیا جو سخت ضعیف راوی بلکہ بعض نے اسے کذاب بھی کہاہے دیکھیں عام کتب رجال۔
     
  6. ‏مارچ 17، 2014 #6
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تنبیہ اول
    کیا عمروبن سعید ، اسحاق کے بھائی ہیں؟




    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ’’عمروبن سعید‘‘ یہ اسحاق بن سعید کے بھائی ہیں ۔

    عرض ہے کہ:
    اولا:
    اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ ’’عمروبن سعید‘‘ یہ اسحاق کے بھائی ہیں تو صرف ان کی جہالت عین رفع ہوگی اور جہالت حال باقی رہے گی ، کیونکہ اسحاق کے بھائی ’’عمروبن سعید ‘‘ کی بھی توثیق کہیں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے مجہول الحال ہونے کے سبب یہاں پرعلت باقی رہے گی۔
    ثانیا:
    ہماری نظر میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ جس سے یہ پتہ چلے کہ اس سند میں مذکور ’’عمروبن سعید‘‘ یہ اسحاق کے بھائی ہیں ، کیونکہ کتب رجال کی رو سے ان دونوں بھائیوں کا آپس میں استاذ وشاگرد ہونا ثابت نہیں ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 17، 2014 #7
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تنبیہ دوم
    کیا عمروبن سعید اسحاق کے دادا ہیں؟


    رافضیوں کو جب ’’عمروبن سعید‘‘ کی توثیق نہیں ملی تو یہ بوکھلاہٹ میں یہ کہنے لگے کہ اس سند میں عمروبن سعید یہ ’’عمرو بن سعيد بن العاص ‘‘ ہیں یعنی اسحاق بن سعید کے دادا ہیں ۔ اوریہاں اسحاق اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ۔اوران کے دادا ان کے والد سے روایت کرتے ہیں۔

    عرض ہے کہ :
    اولا:
    اس توجیہ کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کتب رجال میں یہ صراحت نہیں ہے کہ اسحاق اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔اوران کے دادا اپنے بیٹے سے روایت کرتے ہیں۔
    دوم:
    یہ توجیہ مان لینے پر سند کی صورت حال انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے ۔کیونکہ اس صورت میں ۔ایک پوتا اپنے دادا سے ایسی روایت نقل کرتاہے جس روایت کو دادا کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے اسی پوتے کے باپ سے ہی نقل کرتاہے۔غورکریں کتنی مضحکہ خیز صورت حال ہے۔اگر یہ روایت اسحاق کے والد ہی بیان کرتے ہیں تو ان اسحاق نے اسے اپنے والد سے روایت کرنے کے بجائے اپنے دادا سے کیونکہ روایت کیا ؟
    بالفرض اگر ان کے دادا نے ہی یہ روایت سنائی ہو تو سوال یہ ہے کہ ان کے پوتے نے عالی سند حاصل کرنے کے لئے اپنے باپ سے یہ بات کیوں نہیں پوچھی ؟ یہ بہت بڑا عجوبہ ہے اس پر یقین کرنے کے ٹھوس دلیل چاہے محض احتمالات سے اس طرح کی باتوں پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 17، 2014 #8
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تنبیہ سوم
    کیا سند میں تصحیف ہوئی ہے؟


    بعض رافضیوں نے دیکھا کسی طرح بات نہیں بن رہی ہے تو انہوں نے یہ دعوی ٹھونک دیا کہ سند میں تصحیف ہوئی ہے اور اصل سند اس طرح ہے:
    حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا أبو النصر، حدثنا إسحاق بن سعيد، بن عمرو بن سعيد، حدثني سعيد بن عمرو

    یعنی ’’اسحاق بن سعید ‘‘ اور ’’عمربن سعید‘‘ کے درمیان جو ’’عن‘‘ تھا اسے ’’بن‘‘ بنادیا یعنی دونوں کو ایک راوی بنادیا ۔
    غوکریں ’’عمروبن سعید‘‘ کا سراغ نہیں ملا تو اسے اسحاق کا باپ بنادیا گیا ، تاکہ اس کی توثیق تلاش کرنے سے چھٹی مل جائے۔


    عرض ہے کہ سندوں میں اس طرح کی تصحیفات ہوجاتی ہیں ، ہیں اس سے انکار نہیں ہے ۔ اور ’’بن ‘‘ کا ’’عن‘‘ بن جانا بھی کوئی بعید نہیں ہے لیکن یہاں پر ہم درج ذیل وجوہات کی بنا پر اس تصحیف کا امکان نہیں مان سکتے :

    اولا:
    انساب الاشراف کی یہ سند کسی اور کتاب میں دستیاب نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس تصحیف کا دعوی کیا جائے۔
    ثانیا:
    ابوالنضر کا یہ معمول ہمیں نہیں ملتا کہ وہ سند میں اپنے استاذ اسحاق کا ذکر کرتے ہوئے اتنا لما تعارف دیتے ہوں ، یعنی ’’حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد ‘‘ پورا کہتے ہوں۔
    ثالثا:
    اسحاق بن سعید سند میں اپنے والد کو عام طور سے حدثنی ابی یا حدثنا ابی کہہ کر ذکر کرتے ہیں اور بہت ہوگیا تو حدثنی سعید کہہ دیتے ہیں ۔ ان کا یہ معمول ہمیں نہیں ملتا کہ یہ سند میں اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ’’ابی ‘‘ نہ کہنے کے بجائے نہ صرف ان کا نام لیتے ہوں بلکہ ان کی ولدیت بھی ذکر کرتے ہوں۔
    رابعا:
    اس روایت کا متن واضح حقائق کے خلاف ہے ۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا پوری امت کی ماں ہیں ، جنت کی بشارت یافتہ ہیں ، اللہ کی تائید سے آپ ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں ، اورعثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کرنا تو دور کی بات آپ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے لئے میدان میں اتر گئیں بھلا آپ عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیسے کرسکتی ہیں ؟
    لہٰذا جو روایت اس قدر بے ہودہ اور سفید جھوٹ پر مبنی ہو اس کی سند میں موجود خرابی کو ظن وقیاس کی بنیاد پر قطعا درست نہیں کیا جاسکتا۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 17، 2014 #9
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    خلاصہ کلام یہ کہ:
    یہ روایت سندا سخت ضعیف ہے اور متن واضح حقائق کے خلاف ہے لہٰذا یہ روایت باطل اور مبنی بر جھوٹ ہے ۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 17، 2014 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    بہت زبردست تحقیق پیش کی ہے آپ نے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. عمر اثری
    جوابات:
    0
    مناظر:
    215
  2. عامر عدنان
    جوابات:
    2
    مناظر:
    260
  3. علی عمران
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,128
  4. اسحاق سلفی
    جوابات:
    6
    مناظر:
    676
  5. زیشان علی
    جوابات:
    2
    مناظر:
    818

اس صفحے کو مشتہر کریں