1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا عورت کو مطمئن کیا جاسکتا ہے؟

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏ستمبر 04، 2013۔

  1. ‏ستمبر 04، 2013 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    کیا عورت کو مطمئن کیا جاسکتا ہے؟


    بازار میں اک نئی دکان کھلی جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام بازار کی طرف چل پڑا ۔ سبھی دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا ۔ "اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے " پھر نیچے ھدایات دی گئی تھیں ۔۔۔...
    " اس دکان کی چھ منزلیں ہیں ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا ، جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اسمنزل پر کوئی پسند نہ آے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے ۔مگر ایک بار اوپر جانےکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سواے باھر نکل جانے کے "
    ایک خوبصورت لڑکی کو سب سے پہلے دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا، پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا ۔ " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں" لڑکی آگے بڑھ گئی۔دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔ " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں اور بچوں کو پسند کرتے ہیں " لڑکی پھر آگے بڑھ گئی۔تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا ۔ " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں " یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کے لئے رک گئی ' مگر پھریہ سونچ کر کہ چلو ایک منزل اور جا کر دیکھتے ہیں۔ وہ اوپر چلی گئی۔چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔ " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ' خوبصورت ہیں اور گھر کےکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں " یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ' کیا ایسے بھی مردہیں دنیا میں ؟ وہ سونچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ، مگر دل نہ مانا وہ ایک منزل اوراوپر چلی دی۔وہاں دروازہ پر لکھا تھا ۔ " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ' بیحد خوبصورت ہیں ' گھر کےکاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں " اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے – وہ خیال کرنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتاہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا وہ اگلی منزل پر چلی آئی۔یہاں بورڈ پر لکھا تھا
    " آپ اس منزل پر آنے والی ٣٤٤٨ ویں خاتوں ہیں – اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے – یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ"عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے"

    ہمارے سٹور پر آنے کا شکریہ، سیڑھیاں باھر کی طرف جاتی ہیں۔

    فیس بکس سے لی گئی تحریر
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 04، 2013 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    یہ بات صرف عورت پر ہی نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں پر لاگو ہوتی ہے، یہ خواہشات میں سے ہے جس سے انسان کا دل کبھی نہیں بھرتا، انسان کبھی بھی اپنے پاس موجود وسائل سے خوش نہیں رہتا ہمیشہ آگے نکلنے کی سوچتا ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 04، 2013 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    متفق۔۔۔۔انسان کسی حال میں خوش نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 04، 2013 #4
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    خوش رہے بھی تو کیسے اس کی زندگی اور خواہشات ایک دوسرے کی متضاد ہیں جیسے جیسے زندگی کم ہوتی ہے ویسے ویسے خواہشات برھتی ہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 04، 2013 #5
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    حالی نے اس انسانی فطرت کو اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے

     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 04، 2013 #6
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی اس فطرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ
    اگر آدم کی اولاد کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہو
    (البخاري: الرقاق،بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ المَالِ)
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 05، 2013 #7
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    رسول اللہ ﷺ کی بات کے بعد کوئی بات کرنا بھی آدابِ نبوی اور شان کے خلاف ہے۔
    جہاں آپ ﷺ کی بات آئی۔
    سر تسلیم خم ہو گیا۔
    الحمد للہ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں