1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا فقط متنِ حدیث کا علم کافی ہے؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏جون 22، 2019۔

  1. ‏جون 22، 2019 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    از محمد عبد الرحمن کاشفی اڑیشوی

    علم حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے چند حضرات کو آپ یہ کہتے ہوئے سنتے ہونگے کہ ہمیں متن کافی ہے.

    یہ طریقہ صحیح نہیں وجہ اسکی یہ ہے کہ اگر متن کافی ہوتا تو محدثین عظام کو اسانید جمع کرنے کی حاجت کیوں پیش آتی؟

    اور یہ بھی چند حضرات سے بارہا سنتے ہونگے کہ محدثین عظام سب کچھ کر چکے ہیں، *پکا پکایا حلوہ تیار ہونے کے بعد بھلا اب سند سند کی رٹ لگانے کی کیا ضرورت؟*

    اصل بات یہ ہے کہ یہ قول بھی صحیح نہیں. اسکی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہر صدی میں حسب ضرورت اصحاب علم و فضل حدیث کی تشریح،اختصار،تنظیم،تعقب،تنقید،تکمیل،تعلیل کے لئے قلم کو حرکت دیتے رہے.آج عقلمندوں نے بھی ایسی باتوں کو ہوا دینے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی انکا کہنا ہے 'ہمیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے،ہمارے پاس سب کچھ ہے'.

    اس میں دو رائے نہیں کہ متن اصل روح ہے جس سے احکام و مسائل مستنبط ہوتے ہیں مگر جس پر اس روح کا مدار ہے(سند) اس کو فراموش کرنا کیسی دانائی ہے؟

    ہندوستاں ایک زمانہ میں کئی روشن ادوار کو دیکھا اور کئی سنہری کلیاں اس کے چمن علم میں کھل اٹھے اور ان مسکراتے گلوں نے پوری دنیا کو اپنے فیض سے معطر کیا.

    *مولانا زکریا کاندھلوی رح(أوجز المسالك)،مولانا انور شاہ کشمیری رح(فيض الباري)،خليل أحمد ساہرنپوری رح(بذل المجہود)،شمس الحق عظیم آبادی رح(عون المعبود)اور عبد الرحمن مبارکپور رح(تحفۃ الاحوذی)* جیسے عظیم المرتبت علماء پیدا ہی نہیں ہوتے اگر وہ بھی ایسی سوچ رکھتے جیسے فکری انحطاط سے ہم دوچار ہیں.

    معلقات یا بلاغات پڑھنے کا مقصد یہ نہیں کہ اس پر انحصار کیا جائے اور اندھادھند انہیں بیان کر دیا جائے.
    بلوغ المرام یا مشکاۃ جیسی کتابوں کا مقصد موجودہ عام متون کی معرفت ہے.اور اس باب میں یہ بہت ہی اہم کتابیں ہیں.اور اس میں آمدہ حدیثوں کی صحت کی پہچان آگے کی بڑی کتابوں سے ہوگی اور اسکے بعد ہی وہ روایات قابل استدلال ہونگی.
    جہاں تک صحیحین(بخاری و مسلم) کی روایتیں ان کتابوں میں ہیں اس پر اجماع اور تلقی قبول کی بنیاد پر بلا چوں وچرا بیان کر سکتے ہیں البتہ بقیہ روایات کو علم رجال کی کسوٹی میں پرکھنا ہوگا اور تمام طرق کو جمع کرنا پڑیگا پھر صحت کے یقین ہونے کے بعد ہی اس سے استدلال و استنباط کر سکتے ہیں.

    مزید باتیں آگے آ رہی ہیں.

    Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں