1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مغربی جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے؟

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 01، 2013۔

  1. ‏اپریل 01، 2013 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    کیا مغربی جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے؟


    اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہو سکتا۔ ؎

    تراناداں امید غمگساری ہاز افرنگ است دل شاہین نہ سوزد بہر آں مرغے کہ درچنگ است​
     
  2. ‏اپریل 01، 2013 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    گو یہ بحث یہاں پر ہی ختم ہو جانی چاہئے تاہم چونکہ ہمارے دستور میں یہ الفاظ شامل کر دیئے گئے ہیں کہ ''مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے۔'' اس لئے ہم اس بات کا ذرا تفصیل سے جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ آیا ایسا ہونا ممکن ہے بھی یا نہیں؟
     
  3. ‏اپریل 01، 2013 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    فرانس کے منشورِ آزادی۔ جسے موجودہ جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے۔ کو تیار کرنے والے وہ لوگ تھے جو ایک طرف تو کلیسا کے مظالم اور ٹیکسوں سے تنگ تھے اور دوسری طرف بادشاہ کے استبداد اور اس کے ٹیکسوں سے۔ لہٰذا وہ مذہب سے بھی ایسے ہی بیزار تھے جیسے کہ بادشاہ اور اس کی استبدادی حکومت سے۔ اس منشورِ آزادی میں ان کی مذہب سے بیزاری اور بادشاہت سے دشمنی یہ دونوں باتیں واضح طور پر پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ منشور میں جہاں مختلف قسم کی پانچ مساوات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سیاسی مساوات اور جنسی مساوات اس قسم کی ہیں۔ جن کا جواز غالباً انجیل سے بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اور قرآن و سنت میں تو انہیں غلط ثابت کرنے کے لئے اتنی نصوص مل سکتی ہیں کہ ان سے ایک الگ مجموعہ تیار کیا جا سکتا ہے۔
     
  4. ‏اپریل 01، 2013 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مندرجہ بالا دونوں قسم کی مساوات دراصل ایک ہی اصل ''حق بالغ رائے دہی'' کی فروغ ہیں اور یہ سیاسی حق مغربی طرزِ انتخاب کی جان اور روحِ رواں ہے۔
    مغربی طرزِ انتخاب کا دوسرا بنیادی اصول ''کثرت رائے کو معیارِ حق'' قرار دینا ہے۔
    کثرت رائے حاصل کرنے کے لئے امیدواروں کو درخواست، تشہیر، جلسے جلوس، کنویسنگ اور ایسے ہی دوسرے ہتھکنڈے استعمال کرنا پڑتے ہیں اور کثرت رائے کے حصول کے لئے ہی مختلف سیاسی پارٹیاں وجود میں آتی ہیں۔ جن کی ہاؤ و ہو اور غل غپاڑے سے ملک انتشار کا شکار ہوتا اور اس کا امن تباہ ہوتا ہے۔
     
  5. ‏اپریل 01، 2013 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    گویا اصل مبحث یہی دو بنیادی اصول ہیں۔ حق بالغ رائے دہی کے سنجیدہ مطالعہ کے لئے انتخاب خلافت راشدہ کی پوری تاریخ مستند حوالوں سے درج کر دی گئی ہے۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نہ تو ہرکس و ناکس سے رائے لینے کی ضرورت سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے جائز سمجھتا ہے۔ پھر ہر کس و ناکس کی رائے ہم قیمت یا ہم وزن بھی نہیں ہو سکتی۔ نیز اسلام نے عورت کو ایسے امور سے مستثنیٰ ہی لکھا ہے تاکہ بے حیائی اور فحاشی کو فروغ نہ ہو اور عائلی نظام پر بھرپور توجہ دی جاسکے۔
    کثرت رائے پر سنجیدہ مطالعہ کے لئے مشورہ اور اس کے متعلق عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے دور کے اہم ترین واقعات درج کر دیئے گئے ہیں۔
     
  6. ‏اپریل 01، 2013 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ان تصریحات سے واضح ہے کہ مغربی جمہوریت میں پانچ ارکان ایسے ہیں جو شرعاً ناجائز ہیں:
    1. حق بالغ رائے دہی۔ بشمول خواتین (سیاسی اور جنسی مساوات)
    2. ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت
    3. درخواست برائے نمائندگی اور اس کے جملہ لوازمات
    4. سیاسی پارٹیوں کا وجود
    5. کثرت رائے سے فیصلہ
     
  7. ‏اپریل 01، 2013 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ان ارکانِ خمسہ میں سے ایک رکن بھی حذف کر دیا جائے تو جمہوریت کی گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی۔ جب کہ اسلامی نظامِ خلافت میں ان ارکان میں سے کسی ایک کو بھی گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ یعنی نہ تو جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظامِ خلافت میں جمہوریت کے مروجہ اصول شامل کر کے اس کے سادہ، فطری اور آسان طریق کار کو خواہ مخواہ مکدّر اور مبہم بنایا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جمہوریت ایک لا دینی نظام ہے اور اس کے علمبردار مذہب سے بیزار تھے جب کہ خلافت کی بنیاد ہی خدا، اس کے رسول اور آخرت کے تصور پر ہے اور اس کے اپنانے والے انتہائی متقی اور بلند اخلاق انسان تھے۔
     
  8. ‏اپریل 01، 2013 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ہمارے خیال میں جیسے دِن اور رات یا اندھیرے اور روشنی میں سمجھوتہ ناممکن ہے۔ بالکل ایسے ہی دین اور لا دینی یا خلافت اور جمہوریت میں بھی مفاہمت کی بات ناممکن ہے۔ لہٰذا اگر جمہوریت کو بہرحال اختیار کرنا ہے تو اسے توحید و رسالت سے انکار کے بعد ہی اپنایا جا سکتا ہے۔ ؎
    باطل دوئی پرست ہے حق لا شریک ہے شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول​
     
  9. ‏اپریل 01، 2013 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    کیا ووٹوں کے ذریعے اسلام لایا جا سکتا ہے؟
    آج کے دَو ر میں بعض اسلامی ذہن رکھنے والے حضرات اور نیک نیتی سے اسلامی انقلاب کے داعی لیڈر جب دیکھتے ہیں کہ اقتدار پر قبضہ کیے بغیر اسلامی نظام کی ترویج ناممکن ہے تو اِس کا حل انہوں نے یہ تلاش کیا ہے کہ نیک شہرت رکھنے والے امیدوار انتخاب کے لئے نامزد کیے جائیں اور عوام میں اسلامی تعلیمات کا پرچار ایسے نیک نمائندوں کی ہر ممکن امداد پر لوگوں کو ابھارا جائے تا آنکہ اسمبلی میں نیک لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ موجودہ جمہوری دور میں معاشرہ کی اصلاح اور اسلامی نظام کی ترویج کی یہی واحد صورت ہے۔
    ہمیں افسوس ہے کہ ہم اس سلسلہ میں ان کی تائید نہیں کر سکتے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ووٹوں کے ذریعہ نہ آج تک کبھی اسلام آیا ہے اور نہ آئندہ آسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوناممکن ہونا تو انبیاء اس پُر امن ذریعۂ انتقالِ اقتدار کو ضرور استعمال کرتے۔
     
  10. ‏اپریل 01، 2013 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    بنی نوعِ انسان کے لئے قرآن کریم اور حضور اکرم ﷺ کی سنت سے بہتر دستور ناممکن ہے اور قرآن کریم کی تبلیغ کے لئے جو ان تھک اور جان توڑ کوششیں حضور اکرم ﷺ نے فرمائیں دوسرا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ کو جاں نثار اور مخلص پیرو کاروں کی ایک جماعت بھی مہیا ہو گئی جو اسلام کے عملی نفاذ کے لئے صرف تبلیغ و اشاعت اور پروپیگنڈا پر ہی انحصار نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی پوری پوری زندگیاں اسی قالب میں ڈھال لی تھیں۔ صحابہؓ کی جماعت گویا قرآنی تعلیمات کے چلتے پھرتے نمونے تھے لیکن تیرہ سال کی انتھک کوششوں کے باوجود یہ تو نہ ہو سکا کہ حضور اکرم ﷺ مکّہ میں اسلامی ریاست قائم کر لیتے۔
    جب ایک بہترین دستور بھی موجود ہو اور اس کو عملاً نافذ کرنے والی جماعت بھی مثالی کردار کی مالک ہو۔ وہ تو اس دستور کو کثرت رائے کے ذریعہ نافذ نہ کر سکی تو آج کے دَور میں یہ کیونکر ممکن ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں