1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ویڈیو بیانات اور پروفائل پر تصاویر لگائے بنا دعوت دین کا کام نہیں ہو سکتا؟

'جدید مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏مئی 20، 2019۔

  1. ‏مئی 20، 2019 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    فورم کے ایک معزز رکن نے ان باکس میں ایک سوال کیا ہے ،سوال عمومی فائدہ کا ہے ،اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اوپن فورم پر اس پر بات کی جائے ۔۔۔۔۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    سوال یہ ہے :
    کیا ویڈیو بیانات اور پروفائل پر تصاویر لگائے بنا دعوت دین کا کام نہیں ہو سکتا؟

    ضرورتیں ناجائز کاموں جائز بنا دیتی ہیں؟ کیا تصاویر بنانا بھی اسی مجبوری کے تحت آتا ہے ۔
    ہم کسی کو تصاویر کی حرمت پر بیان دیں تو وہ علماء کرام کی پروفائل پکچرز اور ویڈیو بیان سامنے لے آتے ہیں ۔
    اگر واقعی اس طرح تصاویر بنانا فمن الضطر غیر باغی ولا عادی میں آتا ہے تو مجھے اطمنان دلائیں کہ ویڈیو کے لیے تصاویر بنانا اور فیس بک کے لیے تصاویر بنانا جائز ہے ۔

    جزاک اللہ خیرا کثیرا فی الدارین ۔

    محترم اساتذہ کرام ۔
     
  2. ‏مئی 21، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    عصر حاضر میں ویڈیو بنانے اور اور دیکھنے تک ہر شخص کی رسائی ہے ،
    میڈیا یا الیکٹرانک یعنی برقی ذرائع ابلاغ میں سب سے اہم اور مؤثر ذریعہ "ویڈیو " ہی سمجھا جاتا ہے ؛
    اور سوشل میڈیا پر سیاسی اور مذہبی ابلاغ کیلئے بھی ویڈیو کو نمایاں اہمیت حاصل ہے
    انہی وجوہ کی بنا پر اس کے شرعی حکم کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں ہوسکتا،
    چونکہ ویڈیو کا تعلق بظاہر تصویر سے بنتا ہے ،اور تصویر سازی اسلام میں منع ہے ،
    اس لئے موجودہ دور کے اہل علم سے بارہا اس موضوع پر رجوع کیا جاتا ہے اور چونکہ یہ جدید اور حادث چیز ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی ماہیت و اثرات کے پیش نظر اس کے متعلق اجتہاد سے کام لیا جائے گا ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قال الشيخ ابن عثيمين : " والصُّور بالطُّرُقِ الحديثة قسمان :
    الأول : لا يَكُونُ له مَنْظَرٌ ولا مَشْهَد ولا مظهر ، كما ذُكِرَ لِي عن التصوير بِأَشرطة الفيديو ، فهذا لا حُكْمَ له إطلاقاً ، ولا يَدْخُل في التحريم مطلقاً ، ولهذا أجازه العلماء الذين يَمْنَعونَ التّصوير على الآلة الفوتوغرافية على الورق وقالوا : إن هذا لا بأس به ، حتى إنه قيل هل يجوز أن تصوَّر المحاضرات التي تلقى في المساجد ؟ فكان الرأي ترك ذلك ، لأنه ربما يشوش على المصلين ، وربما يكون المنظر غير لائق وما أشبه ذلك .
    القسم الثاني : التصوير الثابت على الورق ......
    ولكن يبقى النظر إذا أراد الإنسان أن يُصوِّر هذا التصوير المباح فإنه تجري فيه الأحكام الخمسة بحسب القصد ، فإذا قُصد به شيءٌ مُحَرَّم فهو حرام ، وإن قُصد به شيءٌ واجب كان واجباً . فقد يجب التصوير أحياناً خصوصاً الصور المتحركة ، فإذا رأينا مثلاً إنساناً متلبساً بجريمة من الجرائم التي هي من حق العباد كمحاولة أن يقتل ، وما أشبه ذلك ولم نتوصل إلى إثباتها إلا بالتصوير ، كان التصوير حينئذٍ واجباً ، خصوصاً في المسائل التي تضبط القضية تماماً ، لأن الوسائل لها أحكام المقاصد . إذا أجرينا هذا التصوير لإثبات شخصية الإنسان خوفاً من أن يُتَّهم بالجريمة غيره ، فهذا أيضاً لا بأس به بل هو مطلوب ، وإذا صوّرنا الصورة من أجل التمتع إليها فهذا حرام بلا شك " انتهى من "الشرح الممتع" (2/197).

    ترجمہ :
    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " موجودہ نئے طريقہ سے تصوير كى دو قسميں ہيں:

    پہلى قسم:
    نہ تو اس تصوير كا كوئى مشہد ہو اور نہ ہى مظہر، جيسا كہ مجھے ويڈيو كى ريل ميں موجود تصاوير كے متعلق بتايا گيا ہے، تو اس كو مطلقا كوئى حكم حاصل نہيں، اور نہ ہى مطلقا يہ حرمت ميں داخل ہوتا ہے، اس ليے جو علماء كاغذ پر فوٹو گرافى سے منع كرتے ہيں ان كا كہنا ہے: اس ميں كوئى حرج نہيں، حتى كہ يہ سوال كيا گيا:
    آيا مساجد ميں ديے جانے والے دروس اور ليكچر كى تصوير بنانى جائز ہے ؟
    تو اس كے جواب ميں رائے يہى تھى كہ ايسا نہ كيا جائے، كيونكہ ہو سكتا ہے يہ چيز نمازيوں كے ليے تشويش كا باعث ہو، اور ہو سكتا ہے منظر بھى لائق نہ ہو.

    دوسرى قسم:

    كاغذ پر موجود تصوير.......
    ليكن يہ ديكھنا باقى ہے كہ: جب انسان مباح تصوير بنانا چاہے، تو اس ميں مقصد كے اعتبار سے پانچ احكام جارى ہونگے، لہذا اگر اس نے كسى حرام چيز كا قصد كيا تو يہ حرام ہوگى، اور اگر اس سے واجب مقصود ہو تو يہ واجب ہے، كيونكہ بعض اوقات تصوير واجب ہو جاتى ہے، اور خاص كر متحرك تصوير، مثلا جب ہم ديكھيں كہ كوئى شخص جرم كر رہا اور اس جرم كا تعلق حقوق العباد سے ہے يعنى وہ كسى كو قتل كر رہا ہے اور ہم اس كو تصوير كے بغير ثابت ہى نہيں كر سكتے، تو اس وقت تصوير بنانى واجب ہوگى.

    اور خاص كر ان مسائل ميں جو معاملات كو مكمل كنٹرول كرتے ہيں، كيونكہ وسائل كو احكام مقاصد حاصل ہيں، اگر ہم اس خوف اور خدشہ كى بنا پر يہ تصوير بنائيں كہ كہيں مجرم كے علاوہ كسى اور كو اس جرم ميں نہ پھنسا ديا جائے تو اس ميں بھى كوئى حرج نہيں بلكہ تصوير بنانا مطلوب ہو گا، اور اگر تفريح كى بنا پر تصوير بنائى جائے تو بلاشك و شبہ يہ حرام ہے. انتہى.
    ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 197 ).
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور علمی تحقیقات اور فتاوی کیلئے سعودی علماء کی مستقل کمیٹی کا فتوی ہے :
    وقد سئل علماء اللجنة الدائمة للإفتاء : هل يجوز التصوير بالكاميرا (آلة التصوير) وهل يجوز التصوير بالتليفزيون، وهل يجوز مشاهدة التليفزيون وخاصة في الأخبار؟
    فأجابوا : "لا يجوز تصوير ذوات الأرواح بالكاميرا أو غيرها من آلات التصوير، ولا اقتناء صور ذوات الأرواح ولا الإبقاء عليها إلا لضرورة كالصور التي تكون بالتابعية أو جواز السفر، فيجوز تصويرها والإبقاء عليها للضرورة إليها.
    وأما التليفزيون فآلة لا يتعلق بها في نفسها حكم وإنما يتعلق الحكم باستعمالها، فإن استعملت في محرم كالغناء الماجن وإظهار صور فاتنة وتهريج وكذب وافتراء وإلحاد وقلب للحقائق وإثارة للفتن إلى أمثال ذلك ، فذلك حرام، وإن استعمل في الخير كقراءة القرآن وإبانة الحق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وإلى أمثال ذلك ، فذلك جائز، وإن استعمل فيهما فالحكم التحريم إن تساوى الأمران أو غلب جانب الشر فيه " انتهى .
    "فتاوى اللجنة الدائمة" (1/458) .

    مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

    كيا كيمرہ يا ٹيلى ويژن كى تصوير جائز ہے، اور كيا ٹى وى ديكھنا خاص كر خبريں ديكھنا جائز ہيں ؟

    كميٹى كا جواب تھا:
    " كيمرہ يا دوسرے آلات تصوير كے ساتھ ذى روح كى تصوير اتارنى جائز نہيں، اور نہ ہى ذى روح كى تصاوير باقى ركھنا جائز ہيں، صرف ضرورت والى مثلا شناختى كارڈ يا پاسپورٹ والى تصوير اتروانى اور اسے ركھنا جائز ہے، كيونكہ اس كى ضرورت ہے.
    ليكن ٹى وي ايك ايسا آلہ ہے جسے فى نفسہ كوئى حكم حاصل نہيں، ليكن اس كے استعمال كے اعتبار سے حكم ہوگا، اس ليے اگر تو يہ حرام يعنى گانے اور گندى فلميں اور ڈرامے ديكھنے، اور پرفتن تصاوير ديكھنے، اور جھوٹ و بہتنا الحاد اور حقيقت كو توڑ موڑ كر بيان كرنے اور فتن و فساد كو ابھارنے والے پروگرام ديكھنے كے استعمال ہو تو يہ حرام ہے.

    اور اگراسے خير و بھلائى مثلا قرآن مجيد كى تلاوت اور حق بيان كرنے اور امر بالمعروف و النہى عن المنكر جيسے پروگرام ديكھنے ميں استعمال كيا جائے تو يہ جائز ہے.

    اور اگر اسے دونوں قسم كے پروگراموں كے ليے استعمال كيا جائے تو پھر اسے حرام كا حكم ہى ديا جائيگا، چاہے دونوں چيزيں برابر ہوں، يا پھر برائى والى جانب غالب ہو" انتہى.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 458 ).

    والحاصل : أن التصوير بالفيديو أو بالهاتف ونقل ذلك إلى الحاسب أو غيره من الأجهزة لا يأخذ حكم التصوير المحرم .
    ثالثا :
    وأما النظر إلى هذه الصور الموجودة على الفيديو أو الحاسب أو الهاتف ، فإن لم تشتمل على حرام ، فلا حرج في النظر إليها ، ومن أمثلة الحرام هنا : نظر الرجل إلى صور النساء الأجنبيات عنه ، ونظر المرأة إلى صور النساء الكاشفات عن عوراتهن ، أو إلى صور الحفلات التي يختلط فيها الرجال بالنساء على وجه يثير الفتنة ، فإن النظر إلى ذلك محرم ، وكذلك إذا اشتمل ملف الفيديو على صوت الموسيقى والمعازف .
    قال الشيخ ابن جبرين حفظه الله : " النظر إلى الصور عبر جهاز التلفاز أو الفيديو ونحوه : ومن المنكرات أيضا : النظر إلى تلك الصور الفاتنة والتفكه بالنظر فيها ، تلك الصور التي تعرض في الأفلام عبر أجهزة الفيديو والتلفاز وغيرهما ، والتي تعرض فيها صور النساء المتبرجات ، سيما التي تذاع من البلاد الأجنبية كالبث المباشر ، وما يعرض بواسطة ما يسمى ( بالدش ) وما أشبهها .
    إنها والله فتنة وأي فتنة ، حيث إن الذي ينظر إلى تلك الصور لا يأمن أن تقع في قلبه صورة هذه المرأة أو صورة هذا الزاني أو هذا الذي يفعل الفاحشة أمام عينيه ، وهو يمثل له كيفية الوصول إليها . فلا يملك نفسه أن يندفع إلى البحث عن قضاء شهوته ، إذا لم يكن معه إيمان حيث أكب على النظر إلى هذه الصور ، سواء كانت مرسومة أو مصورة في صحف ومجلات ، أو كانت مرئية عبر البث المباشر ، أو تعرض في الأفلام ونحوها .
    إن هذه المعاصي والمحرمات المتمكنة قد فشت كثيرا وكثيرا ، ودعت إلى فواحش أخرى ، فالمرأة إذا أكبت على رؤية هؤلاء الرجال الأجانب لم تأمن أن يميل قلبها إلى فعل الفاحشة ، وإذا رأت المرأة هؤلاء النساء المتفسخات المتبرجات المتحليات بأنواع الفتنة ، لم تأمن أن تقلدهن فترى أنهن أكمل منها عقلا ، وأكمل منها اتزانا وقوة ، فيدفعها ذلك إلى أن تلقي جلباب الحياء ، وأن تكشف عن وجهها ، وأن تبدي زينتها للأجانب ، وأن تكون فتنة وأي فتنة " انتهى من موقع الشيخ على الإنترنت .
    وما قاله الشيخ في التلفاز يقال في الفيديو وغيره .
    والله أعلم .
    المصدر: الإسلام سؤال وجواب

    https://islamqa.info/ar/answers/101257/


    حاصل يہ ہوا كہ: ويڈيو يا موبائل سے تصوير لے كر اسے كمپيوٹر وغيرہ دوسرے آلات ميں داخل كرنا حرام تصوير كے حكم ميں نہيں آتا.

    سوم:

    اور ويڈيو يا كمپيوٹر يا موبائل ميں موجود تصاوير كو ديكھنے كے بارہ ميں گزارش يہ ہے كہ: اگر يہ تصاوير حرام پر مشتمل نہ ہوں تو انہيں ديكھنے ميں كوئى حرج نہيں، حرام كى مثال يہ ہے كہ: مرد غير محرم عورتوں كى تصويريں ديكھيں، يا پھر عورت كا عورتوں كى ايسى تصاوير ديكھنا جو پرفتن اعضاء ننگے كيے ہوں، يا پھر ان تقريبات اور محفلوں كى تصاوير ديكھنا جس ميں مرد و عورت كا اختلاط ہو، اور فتنہ پھيلے، كيونكہ اسے ديكھنا حرام ہے، اور اسى طرح جب ويڈيو ميں موسيقى اور گانا بجانا شامل ہو تو بھى ديكھنا حرام ہے.

    شيخ ابن جبرين حفظہ اللہ كہتے ہيں:

    " ٹى وى يا ويڈيو كے ذريعہ تصوير ديكھنا بھى برائى ميں شامل ہے، ان پرفتن تصاوير كو ديكھنا اور اسے ديكھ راحت محسوس كرنا بھى برائى ہے، وہ تصاوير ويڈيو اور ٹى وى وغيرہ كے ذريعہ فلموں ميں دكھائى جاتى ہيں، جن ميں بےپردہ عورتيں پيش كى جاتى ہيں، اور خاص كر وہ فلميں جو دوسرے ممالك سے پيش كى جاتى ہيں، اور جسے آج كل ڈش كہا جاتا ہے كے ذريعہ براہ راست پيش كيا جا رہا ہے اللہ كى قسم يہ فتنہ ہے.

    ايسا فتنہ كہ جو بھى ان تصاوير كو ديكھتا ہے خطرہ ہے كہ اس فاحشہ اور زانى كى تصوير اس كے دل ميں گھر كر جائے، يا پھر اس كى آنكھوں كے سامنے سكرين پر جو فحش كام ہو رہا ہے ديكھنے والا اس تك پہنچنے كا طريقہ ڈھونڈتا پھرے، اور اپنى شہوت پورى كرے بغير كوئى چارہ نہ ہو اور وہ خواہشات ميں پڑ جائے، جو فحش كام ميں پڑنے كا سبب اور باعث بنے.

    تو جب وہ يہ تصاوير ديكھ رہا ہے اس وقت اس كے ساتھ ايمان نہيں رہتا چاہے وہ تصوير ہاتھ سے بنى ہوں يا پھر اخبارات اور ميگزين ميں چھپى ہوئى ہوں، يا پھر براہ راست ڈش پر دكھائى جا رہى ہو، يا پھر فلموں وغيرہ ميں پيش كى جا رہى ہوں.

    يہ گناہ و معاصى اور حرام كام بہت زيادہ پھيل چكے ہيں، اور اس كى كثرت ہو چكى ہے، اور يہى نہيں بلكہ يہ دوسرے فحش كام كى بھى دعوت ديتا ہے، جب عورت ان غير محرم مردوں كو ديكھتى ہے تو پھر اس كا دل فحاشى كى طرف مائل ہونے لگےگا.

    اور جب عورت ان بےپرد اور فاحشہ عورتوں كئى قسم كے فتنہ و فساد ميں پڑى ہوئى عورتوں كو ديكھے گى تو خطرہ ہے كہ دوسرى عورتيں اس كى نقل كرتے ہوئے وہ بھى ايسا كرينگى، تو يہ عورت خيال كريگے كى وہ ان عورتوں سے زيادہ عقلمند ہے، اور اس سے طاقت و قوت ميں بہتر ہے، تو يہ اس كے حياء كا پردہ اتارنے كا باعث بن جائے اور اپنا چہرہ ننگا كر بيٹھے، اور اپنى زيبائش و زينت اجنبى اور غير محرم مردوں كے سامنے ظاہر كرنے لگے، اور فتنہ و خرابى كا باعث بن جائے، اس سے بڑھ كر اور كيا فتنہ ہو گا " انتہى

    ماخوذ از: شيخ ابن جبرين كى ويب سائٹ.

    شيخ نے جو كچھ ٹى وى كے بارہ ميں كہا ہے ويڈيو كے بارہ ميں بھى وہى كہا جائيگا.

    واللہ اعلم .
     
  3. ‏مئی 21، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    تصویر اور ویڈیو کا شرعی حکم
    شیخ @رفیق طاھر حفظہ اللہ
    مکمل سوال :
    الیکٹرانک تصویر جو سکرین پر نظر آتی ہے متحرک یعنی ویڈیو ہو یا ساکن یعنی سادہ تصویر , اسکا شریعت اسلامیہ میں کیا حکم ہے ۔ بہت سے اہل علم مووی کے جواز کا فتوى دیتے ہیں اور کچھ اس سے منع کرنے والے بھی ہیں ۔ ہم شش وپنج میں ہیں کہ کس طرف جائیں ۔ کچھ علماء اسے مطلق طور پر جائز کہتے ہیں اور کچھ صرف دینی مقاصد کے لیے اسے درست قرار دیتے ہیں ۔ کتاب وسنت کی ورشنی میں ہماری رہنمائی فرما دیں کہ ہاتھ سے بنائی گئی تصویر اور جدید کمیرے یا موبائل وغیرہ سے کھینچی گئی تصویر کا کیا حکم ہے ۔ اور متحرک تصویر یعنی ویڈیو بنانا جائز ہے یا نہیں ۔ اور کیا تصویر کی حرمت میں جو علت ہے وہ ان جدید تصویروں میں بھی پائی جاتی ہے ؟ یا انکا معاملہ مختلف ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
    تصویر کشی اللہ رب العالمین نے حرام کر رکھی ہے , رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالى نے فرمایا : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيخْلُقُوا حَبَّةً وَلْيخْلُقُوا ذَرَّةً
    [ صحيح بخاري كتاب اللباس باب نقض الصور (5953)]
    اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق جیسی تخلیق کرنا چاہتا ہے , یہ کوئی دانہ یا ذرہ بنا کر دکھائیں ۔
    نیز فرمایا: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يوْمَ الْقِيامَةِ الْمُصَوِّرُونَ
    [صحيح بخاري كتاب اللباس باب عذاب المصورين يوم القيامة (5950)]
    الله کے ہاں قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔
    مزید فرمایا : أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ
    [صحيح بخاري كتاب اللباس باب ما وطئ من التصاوير (5954)]
    قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقالی کرتے ہیں ۔

    مندرجہ بالا احادیث اور دیگر بہت سے دلائل تصویر کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں , اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر امت کا اتفاق ہے ۔ اور جو اختلاف ہے وہ اس بات میں واقع ہوا ہے کہ تصویر بنانے کے جدید ذرائع فوٹوگرافی , مووی میکنگ وغیرہ کیا حکم رکھتی ہے ؟
    کچھ اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ تصاویر نہیں ہیں بلکہ یہ عکس ہے , اور عکس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے , لہذا فوٹو گرافی اور مووی بنانا جائز اور مشروع عمل ہے ۔ جبکہ اہل علم کا دوسرا گروہ اسے بھی تصویر ہی سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تصویر کی جدید شکل ہے , چونکہ تصویر کی حرمت میں کوئی شبہہ نہیں ہے , لہذا فوٹو گرافی اور ویڈیو ناجائز اور حرام ہے ۔ اہل علم کا ایک تیسرا گروہ یہ رائے رکھتا ہےکہ یہ تصویر ہی ہے , لیکن بامر مجبوری ہم دین کی دعوت و تبلیغ کی غرض سے ویڈیو کو استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ رائے اکثر اہل علم کی ہے جن میں عرب وعجم کے بہت سے علماء شامل ہیں ۔ یعنی اس تیسری رائے کے حاملین نے ویڈیو کو اصلاً مباح اور حلال قرار نہیں دیا ہے ,

    لیکن دینی اصول " اضطرار" کو ملحوظ رکھ کر قاعدہ فقہیہ " الضرورات تبيح المحظورات " ( ضرورتیں ناجائز کاموں کو جائز بنا دیتی ہیں ) پر عمل پیرا ہوتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کے اس تیز ترین دور میں ویڈیو کو تبلیغ دین کے مقاصد میں بامر مجبوری استعمال کرنا مباح قرار دیا ہے , یعنی دعوت و تبلیغ کے علاوہ , یہ گروہ بھی اسے ناجائز ہی سمجھتا ہے , اور بلا امر مجبوری اسے جائز قرار نہیں دیتا ہے ۔ اس اعتبار سے اس گروہ کی رائے مقدم الذکر دونوں گروہوں کی رائے کے مابین ہے ۔ لیکن مسئلہ چونکہ اجتہادی ہے اس میں خطأ کا امکان بھی بہر حا ل موجود ہی ہے , لہذا دیکھنا یہ ہے کہ ان تینوں فریقوں کے کیا دلائل ہیں اور ان تینوں میں سے مضبوط دلائل کس گروہ کے پاس ہیں کیونکہ اجتہادی مسئلہ میں بھی جب مجتہدین کی آراء مختلف ہو جائیں تو حق اور صواب کسی ایک ہی گروہ کے پاس ہوتا ہے۔ اور ہماری تحقیق کے مطابق دوسرے گروہ کی بات مبنی برحق ہے ۔ اور پہلا گروہ اسے عکس قرار دیکر غلطی پر ہے اور تیسرا گروہ " اضطرار" کا لفظ بول کر "حیلہ" کا مرتکب ہے۔ اس اجما ل کی تفصیل ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں : سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیں کہ عکس اور تصویر میں کیا فرق ہے ؟ عکس اسوقت تک باقی رہتا ہے جب تک معکوس سامنے موجود ہو , اور جونہی معکوس سامنے سے غائب ہو جائے عکس بھی غائب ہو جاتا ہے ۔ اور پھر جس پانی یا آئینہ پر عکس دیکھا گیا ہے دوبارہ اس آئینہ پر وہ عکس کبھی نہیں دیکھا جاسکتا جبتک معکوس کو دوبارہ آئینہ کے روبرو نہ کیا جائے ۔ اور تصویر در اصل اسی عکس کو محفوظ کرلینے سے بنتی ہے ۔!!! کیونکہ مصور کسی بھی چیز کو دیکھتا ہے تو اس چیز کا عکس اسکی آنکھیں اسکے دماغ میں دکھاتی ہیں پھر اسکے ہاتھ اس عکس کو کسی کاغذ , چمڑے , لکڑی یا پتھر , وغیرہ پر محفوظ کر دیتے ہیں تو اسکا نام تصویر ہو جاتا ہے جسکی حرمت پر احادیث دلالت کرتی ہیں اور تمام امت جنکی حرمت پر متفق ہے ۔ اختلاف صرف واقع ہوا ہے تو جدید آلات سے بنائی جانے والی تصاویر پر , لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ ان آلات یعنی کیمرہ وغیرہ سے بنائی جانے والی تصاویر بھی تصاویر ہی ہیں عکس نہیں ہیں !!! , کیونکہ اس دور جدید جسطرح اور بہت سے کام مشینوں سے لیے جانے لگے ہیں اسی طرح تصویر کشی کا کام بھی جدید آلات کے سپرد ہوگیا ہے ۔ ان کیمروں سے تصویر کھینچنے والا اپنے ہاتھ سے صرف اس مشین کا بٹن دباتا ہے جسکے بعد وہ سارا کام جو پہلے پہلے ہاتھ سے ہوتا تھا اس سے کہیں بہتر انداز میں وہ مشین سر انجام دے دیتی ہے ۔ اور ویڈیو کیمرے کے بارہ میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ یہ متحرک تصویر بناتا ہے , حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ ویڈیو کمیرہ بھی متحرک تصویر نہیں بناتا بلکہ ساکن تصاویر ہی بناتا ہے لیکن اسکی تصویر کشی کی رفتار بہت تیز ترین ہوتی ہے , ایک ویڈیو کیمرہ ایک سیکنڈ میں تقریبا نو صد (900) سے زائد تصاویر کھینچتا ہے , اور پھر جب اس ویڈیو کو چلایا جاتا ہے تو اسی تیزی کے ساتھ انکی سلائیڈ شو کرتاہے ۔ جسے اس فن سے نا آشنا لوگ متحرک تصویر سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ متحرک نہیں ہوتی بلکہ ساکن تصاویر کا ہی ایک تسلسل ہوتا ہے کہ انسانی آنکھ جسکا ادراک نہیں کرسکتی ۔ آپ دیکھتے ہیں جب پنکھا اپنی پوری رفتا ر سے چل رہا ہو تو اسکی جانب دیکھنے والے کو پنکھے کے پر نظر نہیں آتے بلکہ اسے پنکھے کی موٹر کے گرد ایک ہالہ سا بنا دکھائی دیتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اسکے پر نہیں ہیں بلکہ ایک شیشہ سا ہے جو اسکے گرد تنا ہوا ہے ۔ جبکہ ذی شعور اور صاحب علم افراد یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد یقین رکھتے ہیں کہ یہ ہماری آنکھوں کا دھوکہ ہے , پنکھے کے پر یقینا موجود ہیں اور وہی گھوم کر ہمیں ہوا دے رہے ہیں , لیکن جس شخص نے پنکھے کو ساکن حالت میں نہ دیکھا ہو گا شاید وہ اس بات پر یقین نہ کرسکے ۔ یہ تو ایک پنکھے کی مثال ہے جسکی رفتار ویڈیو کیمرے سے کم ازکم پانچ گنا کم ہوتی ہے ۔ہماری اس بات کو وہ لوگ بخوبی سمجھتے ہیں جو" مووی میکنگ اور ایڈیٹنگ" کے فن سے آشنا ہیں یا "کمپیوٹر کے سافٹ ویر " ایڈوب فوٹو شاپ" کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں ۔ الغرض ویڈیو کیمرہ بھی متحرک تصویر نہیں بناتا ہے بلکہ وہ بھی ساکن تصاویر ہی کھینچتا ہے اور انہی کی " سلائیڈ " "شو" کرتا ہے ۔ اور ان کیمروں سے لی جانے والی تصاویر میں عکس کا پہلو ہر گز نہیں پایا جاتا ہے کیونکہ یہ تصاویر عکس کے بر عکس کسی بھی وقت دیکھی جاسکتی ہیں , خواہ وہ شخص جسکی تصاویر لی گئی ہیں دنیا سے ہی کیوں نہ چل بسا ہو۔ رہی تیسرے گروہ کی اضطرار والی بات تووہ بھی بلکل غلط ہے !!! کیونکہ اضطرار میں ممنوعہ کاموں کو سرانجام دینے کی جو رخصت اللہ نے دی ہے اس میں بھی قید لگا ئی ہے کہ "غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ " [البقرة : 173] نیز فرمایا "غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ" [المائدة : 3] یعنی بوقت اضطرار , بقدر اضطرار ممنوع وحرام کی رخصت ہے , وقت اضطرار کے بعد یا قدر اضطرار سے زائد نہیں !!! اور پھر شریعت نے لفظ " ضرورۃ " نہیں بلکہ " اضطرار" بولا ہے۔ اور فقہی قاعدہ " الضرورات تبيح المحظورات" انہی آیات سے مستفاد ہے اور اس میں بھی لفظ ضرورت کا معنى اضطرار ہی ہے ۔
    اضطرا ہوتا کیا ہے ؟ یہ سمجھنے کے لیے ہم انہی آیات پر غور کریں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے تو بات بہت واضح ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں : " إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيكُمُ الْمَيتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيرِ اللّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ " [البقرة : 173] یقینا تم پر صرف اور صرف مردار , خون , خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے لیے پکارا گیا (ذبیحہ وغیرہ) حرام کیا گیا ہے , تو جو شخص مجبور ہو جائے ,حدسے بڑھنے والا اور دوبارہ ایسا کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی گنا ہ نہیں ہے یقینا اللہ تعالى بہت زیاد ہ مغفرت کرنیوالا اور نہایت رحم کرنیوالا ہے ۔
    اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھوک کی وجہ سے اگر کوئی شخص مجبور ہو جائے اور اسکی دسترس میں کوئی حلال چیز نہ ہو , اور بھوک کی بناء پر اسکی زندگی کو خطرہ لاحق ہو اور حرام کھانے سے اسکی جان بچ سکتی ہو تو اسکے لیے رخصت ہے کہ جسقدر حرام کھانے سے اسکی جان بچ سکتی ہے صرف اسقدر حرام کھالے اس سے زائد نہ کھائے , پیٹ بھرنا شروع نہ کردے اور پھر دوبارہ اس حرام کی طرف نگا ہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ جبکہ دین کی دعوت و تبلیغ کے لیے یہ کوئی مجبوری نہیں ہے کہ ویڈیو بنائی جائے , اور دعوت دین ویڈیو کے ذریعہ نہیں آڈیو کے ذریعہ ہی ہوتی ہے حتى کہ ویڈیو میں نظر آنے والے عالم دین کی تصویر لوگوں کو راہ ہدایت پرلانے کا باعث نہیں بنی ہے بلکہ اسکی آواز میں جو دلائل کتاب وسنت کے مذکور ہوتے ہیں وہ کسی بھی شخص کے راہ ہدایت اختیار کرنے یا حق بات پر عمل کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔ یادر ہے کہ ہم مطلقا ویڈیو یا تصاویر کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی صاحب علم مطلقا تصویر یا ویڈیو کو ناجائز کہہ سکتا ہے , کیونکہ ممنوع صرف ذی روح جانداروں کی تصاویر ہیں , بس ویڈیو میں ذی روح کی تصاویر نہ ہوں تو اسکی حلت میں کسی قسم کا کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ہے ۔ مذکورہ بالا دلائل کی رو سےیہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ تصویر کی جدید ترین تمام تر صورتیں ناجائز ہیں ان صورتوں میں سے کسی کوبھی اپنا کر ذی روح کی تصویر کشی نہیں جاسکتی ہے اور یہ تصا ویر ہی ہیں عکس نہیں , اور دعوت دین کے بہانے انہیں اضطرار قرار دینا فہم کا سہو ہے ۔
    هذا والله تعالى أعلم , وعلمه أكمل وأتم , ورد العلم إليه أسلم , والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم هذا, والله تعالى أعلم, وعلمه أكمل وأتم, ورد العلم إليه أسلم, والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم, وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم وكتبه أبو عبد الرحمن محمد رفيق الطاهر‘ عفا الله عنه

    مصدر: http://www.rafiqtahir.com/ur/play-swal-43.html
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں