1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا ہندوں کو دکھا کر گائے ذبح کرنا درست ہے؟؟

'ہندو مت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏مارچ 23، 2015۔

  1. ‏مارچ 23، 2015 #1
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں گئوماتا کہتے ہیں مسلمان کو بھی ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ سے(ان کو دکھا کر) اجتناب کرنا چا ھیے جب ہم ہندؤں کو دکھا کر اور چڑا کر گائے ذبح کریں گے تو کیا وہ اس پر قرآن نہیں جلائیں گے؟مسجدیں شہید نہیں کریں گے۔ اس پر میری رائے یہ ہے کہ ہمیں ان کو دکھا کر یہ کام نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالی فرمان عالی شان ہے:
    (وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ))
    خبردار تم لوگ انھيں بْرا بھلا نہ كہو جن كو يہ لوگ خدا كو چھوڑ كر پكارتے ہيں كہ اس طرح يہ دشمنى ميں بغير سمجھے بوجھے خدا كو بر ا بھلا كہيں گے ہم نے اسى طرح ہر قوم كے لئے اس كے عمل كو آراستہ كرديا ہے اس كے بعد سب كى بازگشت پروردگار ہى كى بارگاہ ميں ہے اور وہى سب كو ان كے اعمال كے بارے ميں باخبر كرے گا (الانعام:108)
    يعنی جب كفار كے رد عمل اور مقابلے كا انديشہ ہو تو اس صورت ميں انھيں اور ان كے مقدسات كو برا بھلا كہنا اور گالى دينا حرام ہے،ايسے غلط رويے سے پرہيز كرنا چاہيئے جو دين كے خلاف دشمنوں كے سرگرم ہونے اور مسلمانوں كے مقدسات كى بے حرمتى و اھانت كا باعث بنے،جاہلانہ حركتوں اور باتوں كے جال سے بچنے كے ليے، غصے اور جذبات كو قابو ميں ركھنا ضرورى ہے،جماعۃ الدعوۃ کے کارکنان نے نظریہ پاکستان کو منانے کا یہ ایک نیا طریقہ نکالا ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ ایک گائے ذبح کی جائے تو کیا ان بھائیوں کا یہ عمل درست ہے تمام بھائیوں سے التماس ہے کہ اپنا اپنا موقف پیش کریں۔
     
    Last edited: ‏مارچ 23، 2015
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 24، 2015 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جماعۃ الدعوۃ کے متعلق آپ کے پاس اس بیان کا ثبوت ہو تو پیش کیجیئے بھائی۔کچھ دن پہلے جماعۃ الدعوۃ کے امیر کا انٹرویو میری نظر سے گزرا ہے ، ایک سوال پر انھو ں نے کہا کہ مذہب منوانے کے لیے ہم کوئی ایسے کام نہیں کرتے ، رفاہی کامو ں میں ان کی زیادہ امداد پاکستانی ہندو وں کو ہی جاتی ہے، اور اگر ہم ایسا کریں تو ہندو ہمارے خلاف ہو جائیں۔ یہ ان کا جواب تھا۔ @عبدہ ، بھائی کچھ اس متعلق بتائیں!
     
  3. ‏مارچ 24، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    فیس بک پر یہ خبر باتصویر گردش کر رہی ہے کہ کوئٹہ میں جماعۃ الدعوۃ کے کسی جلوس کے اختتام پر یہ کا سرانجام دیا گیا ہے ۔
    کوئی ندیم اعوان صاحب ، ہفت روزہ جرار سے منسلک ہیں ، ان کی فیس بک پروفائل پر بھی یہ تصویر موجود ہے ۔
     
  4. ‏مارچ 24، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کسی منچلے نے یہ بھی سوال کردیا ہےکہ :
    انڈیا کے نام پر ذبح کردہ اس گائے کا گوشت حلال ہے کہ نہیں ؟
    (مسکراہٹ )
     
  5. ‏مارچ 25، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  6. ‏مارچ 25، 2015 #6
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بہنا مجھے اس بارے اپنی جماعت یا کسی اور اہل حدیث کے بڑے مفتی کی رائے کا علم تو نہیں البتہ ہمارے عام کارکنان اور خطیب ایسا کرتے رہتے ہیں
    جہاں تک گائے کے ذبح کرنے کا تعلق ہے تو میرے خیال میں یہ کسی کے خداوں کو برا کہنے کی بات نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم کے بدلے میں کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ وہاں ہمارے مسلمان بھائیوں کو گائے ذبح نہیں کرنے دے رہے جو ہم کھاتے ہیں تو پہل انھوں نے کی تو جواب میں کوئی ایسی بات نہیں
    اگر اس طرح معاملہ کریں تو وہ تو اس گائے کا پیشاب بھی پیتے ہیں اب وہ گائے ذبح کرنے کی طرح کل کو ہمیں یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ تم ہمارے خدا کے پیشاب کی بے حرمتی کرتے ہو جو اسکے چھینٹے پڑ جانے پر کپڑے بدلتے ہو وغیرہ
    ویسے تو کچھ جگہوں پر اسکے خلاف بھی دلائل ملتے ہیں کہ انکے بتوں کی توہین کی گئی مگر میرے خیال میں کم از کم محارب کافر کے ساتھ خاص کر جب وہ ابتدا کریں تو فتوی کچھ اور طرح ہو گا جیسے جنگ احد میں جب ابو سفیان نے کہا تھا کہ لنا العزی ولا العزی لکم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اللہ مولانا ولامولی لکم
    باقی ہمارے صاحب علم بھائی زیادہ مدلل جواب دے کر میری اصلاح کر سکتے ہیں
     
  7. ‏مارچ 29، 2015 #7
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    میں نے تو کئی بار یہ چیز بھی دیکھی ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کےمیگزین پر صلیب اور یہودیوں کے سٹار کو ٹوٹا ہوا دکھایا گیا ہے ، جب ہم ان کے مذہبی مقدسات کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے تو وہ بھی بدلے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔عبدہ بھائی کیا کسی بھی جماعتی عالم یا مفتی نے اس سے جماعتی کارکنان کو منع کیا ہے؟جہاں تک سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بات کا تعلق ہے تو وہ ایک علمی جوا ب ہے یہ کام تو ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی سر انجام دے رہے ہیں،اور ہندو ہمارے قرآن کو جلائیں گے توہمیں قطعا اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ ہم بھی جواب میں ان کی کسی مذہبی چیز کی بے حرمتی کریں، اگر ہم بھی ایسا ہی کریں گے تو ان میں اور ہم میں کیا فرق ہوگا؟
     
  8. ‏مارچ 30، 2015 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حکومت گائے ذبح کرنے پر ملک گیر پابندی لگانے کی کوشش کریگی، بھارتی وزیر داخلہ

    30مارچ‬‮2015

    اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ این ڈی اے حکومت اتفاق رائے سے گائے ذبح کرنے پر ملک گیر پابندی عائد کرنے کی کوشش کریگی، اس ملک میں گائے ذبح کرنا برداشت نہیں کیا جاسکتا ہم گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کیلئے تمام ممکنہ کوشش کریں گے اور اس مقصد کیلیے اتفاق رائے پیدا کیاجائے گا، یہ بات انھوں نے اپنے ایک مذہبی تقریب کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔راج ناتھ سنگھ کا بی جے پی کی حکمرانی کی ریاستوں مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا میں گائے ذبح پر پابندی کاحوالہ دیتے ہوئے بی جے پی رہنما نے کہا کہ کسی کو بھی گائے ذبح کرنے پر پابندی کے ہمارے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے اس سلسلہ میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت نے سخت قانون نافذ کر رکھا ہے اور مہاراشٹرا حکومت بھی ایسا ہی کرنے جارہی ہے راجناتھ سنگھ نے مہاراشٹرا کے تحفظ حیوانات بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بل میں گائے اور بیلوں کو زبح کرنے پر پابندی کی شق شامل کرکے اسے صدر کوبھیجا جارہا ہے اور اہم اس میں مزید تاخیر برداشت نہیں کرسکتے۔ اس موقع پر اچاریہ شوامنی نے کہاکہ مرکز بجٹ سیشن کے دوران ایک ایسا قانون بنائے جس کے تحت گائیوں کی جگہ بیلوں کو ذبح کرنے پر بھی پابندی عائد ہوراج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کو گایوں کے ذبح کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کیلیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت درکار ہے۔


    http://javedch.com/international/2015/03/30/29749
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں