1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ دعا حدیث سے ثابت ہے؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از مزمل حسین, ‏اپریل 05، 2017۔

Tags:
  1. ‏اپریل 05، 2017 #1
    مزمل حسین

    مزمل حسین رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 07، 2013
    پیغامات:
    76
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاته
    ایک بہن نے پوچھا ہے کہ وہ اہل حدیث ہونے سے قبل یہ دعا پڑھا کرتی تھیں کیا یہ دعا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
    @اسحاق سلفی


    17355131_611975632325022_1118600937_n.jpg
     
  2. ‏اپریل 05، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ دعاء درج ذیل حدیث میں منقول ہے ، تخریج و تحقیق کے ساتھ پیش ہے ؛
    أخبرنا ابن منيع قال: حدثنا هدبة بن خالد قال: حدثنا الأغلب بن تميم قال: حدثنا الحجاج بن فرافصة عن طلق بن حبيب قال: جاء رجل إلى أبي الدرداء - رضي الله عنه - فقال: يا أبا الدرداء قد احترق بيتك، قال: ما احترق الله عَزَّ وَجَلَّ - لم يكن ليفعل ذلك؛ لكلمات سمعتهن من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من قالها (3) أول نهاره؛ لم تصبه مصيبة حتى يمسي، ومن قالها آخر النهار لم تصبه مصيبة حتى يصبح: "اللهمّ أنت ربي لا إله إلا أنت، عليك توكلت، وأنت رب العرش العظيم، ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن، لا حول ولا قوّة إلا بالله العلي العظيم، أعلم أنّ الله على كل شيء قدير، وأنّ الله قد أحاط بكلّ شيء علمًا، اللهمّ إنّي أعوذ بك من شرّ نفسي، ومن شرّ كلّ دابة أنت آخذ بناصيتها، إنّ ربّي على صراط مستقيم".
    ترجمہ :
    ایک شخص سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ابو درداء تمہارا گھر خاکستر ہو گیا ہے!
    تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "میرا گھر نہیں جلا، اللہ تعالی میرے گھر کو نہیں جلائے گا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا سنی ہے، جو شخص اس دعا کو دن کی ابتدا میں پڑے تو اسے شام تک کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی، اور جو اسے شام کو پڑھے تو اسے صبح تک کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی: "
    آگے وہی دعاء نقل کی )
    اسے علامہ أبو بكر أحمد بن محمَّد بن إسحاق۔ المعروف "ابن السُّنِّيِّ" رحمہ اللہ نے اپنی کتاب " عمل اليوم والليلة " :(57) میں،اور امام طبرانی نے " الدعاء " : (343) میں اور امام بیہقی نے :" دلائل النبوة " (7/121) میں اغلب بن تمیم ، حجاج بن فرافصۃ، طلق بن حبیب کی سند سے بیان کیا ہے۔

    علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "یہ حدیث ثابت نہیں ہے؛ اس کی سند میں "اغلب "نامی راوی ہے ، جس کے بارے میں :
    یحیی بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ليس بشيء "[اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے]
    امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: " منكر الحديث "[وہ منکر الحدیث ہے، یعنی سخت ضعیف ہے]" انتہی
    " العلل المتناهية " (2/352)

    نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے " نتائج الأفكار " (2/401) میں ضعیف قرار دیا ہے۔

    شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اس کی سند سخت ضعیف ہے، اس کی سند میں راوی "اغلب" کے بارے میں امام بخاری وغیرہ کہتے ہیں: " منكر الحديث "[وہ منکر الحدیث ہے] جبکہ حجاج بن فرافصہ بھی کمزور راوی ہے " انتہی
    " السلسلة الضعيفة " (6420)
    واللہ اعلم۔۔۔
    مزید تحقیق کیلئے شیخ البانی ؒ کے شاگرد شیخ ابو اسامہ سلیم الہلالی کی تخریج "عجالة الراغب المتمني " ملاحظہ فرمائیں
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 06، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جیسا کہ آپ نے دیکھا اسناد کے لحاظ سے یہ دعاء درجہ صحت کو نہیں پہنچتی ،
    تاہم دعا کے یہ الفاظ نہ صرف صحیح بلکہ بہت عمدہ کلمات ہیں ، شیخ کبیر علامہ ابن باز رحمہ اللہ اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :
    ولكن إذا عمل به الإنسان رجاء أن ينفعه الله به فهو ذكر طيب، وهو ذكر عظيم ذكر طيب لا بأس به، لكن من غير اعتقاد أنه يحصل به هذا المطلوب، وبغير اعتقاد أنه سنة، لكنه ذكر من أعظم الذكر المشروع، ذكر طيب عظيم مشروع، لكن لا يعتقد فيه هذا الشيء الذي جاء فيه،
    یعنی روایت میں منقول فوائد و ثمرات کا اعتقاد رکھے بغیر اور اس کے مسنون ہونے کا اعتقاد رکھے بغیر اگر ان الفاظ کو پڑھا جائے تو دعاء و ذکر کیلئے یہ بہت عمدہ ،پاکیزہ کلمات ہیں ،
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں