1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گناہوں کی بخشش کا آسان نسخہ......خطبہ جمعہ حرم مدنی

'خطبات حرمین' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران اسلم, ‏جنوری 13، 2013۔

  1. ‏جنوری 13، 2013 #1
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    گناہوں کی بخشش کا آسان نسخہ...... 23 محرم 1434ھ

    خطیب: عبدالمحسن القاسم
    خطبہ جمعہ حرم مدنی
    پہلا خطبہ
    إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهدِه الله فلا مُضِلَّ له، ومن يُضلِل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، صلَّى الله عليه وعلى آله وأصحابه وسلَّم تسليمًا كثيرًا.
    أما بعد
    اللہ کے بندو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بے شبہ تقویٰ مینارہ ہدایت اور تقویٰ سے اعراض حقیقی بدقسمتی ہے۔
    اے مسلمانو!
    اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ جو اللہ کی اطاعت کرے گا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا جنت اور جو اس کی نافرمانی کرے اس کے لیے دردناک عذاب کا وعدہ ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کو معمولی سے معمولی اعمال کا حساب بھی دینا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [الزلزلة: 8]
    لوگوں کے گناہ بہت زیادہ ہیں ان میں سے کچھ تو پہاڑوں جتنے بھی ہوتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    «يجِيءُ يوم القيامة ناسٌ من المُسلمين بذنوبٍ أمثال الجبال»؛ رواه مسلم
    اور کچھ لوگوں کے گناہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے:
    «.. حُطَّت خطاياه وإن كانت مثلَ زَبَد البحر»
    کچھ گناہ قلبی ہوتے ہیں جیسے یہ اعتقاد رکھنا کے اللہ کے علاوہ بھی کوئی ذات نفع یا نقصان دے سکتی ہے، یا اللہ پر کامل توکل کا نہ ہونا یا تکبر و حسد وغیرہ۔
    اسی طرح کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق قول کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسا کے غیر اللہ کو پکارنا، غیر اللہ کی قسم اٹھانا اور جھوٹ و غیبت وغیرہ۔
    اور بعض گناہوں کا تعلق عمل کےساتھ ہوتا ہے، جیسا کہ قبروں کا طواف کرنا، قتل،چوری اور زنا وغیرہ۔
    شرک ایک ایسا گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ توبہ کے بغیر معاف نہیں کریں گے۔ اور شرک کرنے والا ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا۔ علاوہ بریں کبیرہ گناہ بھی توبہ کیے بغیر معاف نہیں ہوتے البتہ بعض اوقات صدقِ دل کےساتھ کیے جانے والے اعمال صالحہ کے باوصف کبیرہ گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ایک نافرمان نے کتے کو پانی پلایا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے گئے۔ کبیرہ گناہ کرنے والا اگر توبہ کیے بغیر مر جائے تو اللہ کی مشیت کےتحت ہے، اللہ چاہے تو اس کو عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔
    اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو اللہ تعالیٰ صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا [النساء: 31]
    ابن کثیرؒاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    صغیرہ گناہوں کو مٹانے کے لیے تین چیزیں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں: صحیح عقیدہ، قول اور اعمال صالحہ۔
    اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا ہے وہ اپنا ہاتھ دن کو دراز کرتا ہے کہ رات کو گناہ کرنے والا دن کو توبہ کر لے اور رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا رات کے اندھیرے میں اس کی طرف لوٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ [النساء: 27]
    ابن آدم کے گناہ بہت زیادہ ہیں، لیکن وہ جس قدر بھی بڑھ جائیں اللہ کا فضل ان سے بہت وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو اس لیے مشروع کیا ہے تاکہ اس کے ساتھ اللہ لوگوں کے گناہوں کو مٹا دے۔ صدق و یقین کے ساتھ متصف توحید خالص گناہوں کو مٹا ڈالتی ہے۔ حدیث قدسی میں ہے:
    «.. ومن لقيَني بقُراب الأرض خطيئةً لا يُشرِكُ بي شيئًا لقيتُه بمثلها مغفرةً»؛ رواه مسلم
    اللہ تعالیٰ کے ہاں توحید کی عظمت بہت زیادہ ہے۔ ہفتے میں دو دن ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ ہر اس مسلمان کو معاف کر دیتے ہیں جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو۔
    نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    نماز کی بہت زیادہ فضیلت و اہمیت کی وجہ سے اس سےمتعلقہ افعال و اقوال کرنے سے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں۔ دیکھیے اذان ایک قولی عبادت ہے جس کے باوصف اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کے گناہ مٹا دیتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    ایک حدیث کے الفاظ ہیں:
    «ولا يتوضَّأُ رجلٌ مسلمٌ فيُحسِنُ الوضوءَ فيُصلِّي صلاةً، إلا غفَرَ الله له ما بينَه وبينَ الصلاة التي تلِيها»؛ متفق عليه.
    اور جب نمازی نماز کی غرض سے مسجد میں جاتا ہے تو اس کے ایک قدم سے ایک برائی مٹادی جاتی ہے اور دوسرا قدم اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بلند ہو جاتا ہےاسی طرح مکمل وضو کرنااور نماز کے بعد اگلی نماز کا انتظار کرنا غلطیوں کے مٹنے اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
    جو شخص مسجد میں آتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فرشتوں کی اس کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کی صورت میں تحفہ عطا کرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    ابن بطالؒ کہتے ہیں:
    اسی طرح ایک حدیث میں ہے:
    نماز کے بعد بھی کچھ ایسے اذکار ہیں جو گناہوں کی بخشش کا باعث ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے:
    پانچ نمازیں بھی گناہوں کے مٹنے کا سبب ہیں۔ نبی کریمﷺنے صحابہ کرام سے پوچھا:
    پورے ہفتے میں کچھ ایسی عبادات ہیں جو صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    رمضان میں کیے جانے والے اعمال بھی گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں۔صحیح بخاری میں ہے:
    عرفہ کا روزہ سالِ ماضی اور ایک آنے والے سال کے گناہوں کو کفارہ بن جاتا ہے۔ اور عاشورا کا روزہ گزشتہ سال کے کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
    اسی نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:
    حج بھی گناہوں کی بخشش کا سبب ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
    یہ اللہ تعالیٰ کا مؤمنین پر فضل ہے کہ وہ مؤمنین کے اقوال و اعمال ، چاہے وہ تھوڑے ہی ہوں، کےساتھ گناہوں کو مٹاتا رہتا ہے۔ اسی طرح اگر مؤمن کو کوئی تکلیف یا پریشانی بھی پہنچے تو اللہ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:
    مختلف نوع کے اعمال صالحہ جیسے تلاوت قرآن، والدین کی اطاعت اور صلح رحمی وغیرہ سے بھی گناہ جاتے رہتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ [هود: 114]
    نبی کریمﷺ کا بھی فرمان ہے:
    بہت سارے اذکار ایسے ہیں جو گناہوں کو دھو ڈالتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    ایک حدیث میں ہے:
    بہت سے مشروع افعال ایسے ہیں جو کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ہیں اور گناہوں کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں۔ مخلوق خدا پر احسان گناہوں کے مٹنے کا سبب ہے۔ ایک حدیث میں ہے
    اسی طرح عفو و درگزر بھی گناہوں کی بخشش کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ [النور: 22]
    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ احسان بھی کیا ہے کہ جب وہ اپنی مجالس ختم کرنے کے بعد مخصوص کلمات پڑھتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    کھانا جہاں جسم کے لیے مفید اور باعث قوت ہے وہیں اگر مسلمان کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرے تو اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کھانا کھانے کے بعد یہ کلماتے کہے:
    الحمدُ لله الذي أطعمَني هذا ورزَقنيه من غير حولٍ مني ولا قوةٍ
    بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ملاحظہ کیجئے کہ انسان کو کسی قسم کی کوئی تکلیف یا رنج و غم کا سامنا ہو تو اس سے بھی گناہ مٹ جاتے ہیں۔نبی مکرمﷺ نے فرمایا:
    اسی طرح مرض بھی مریض کے گناہوں کا سبب ہو جاتی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    مجالس ذکر بھی گناہوں کے مٹنے کا سبب ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
    رات کا تیسرا حصہ بھی گناہ معاف کروانے کا بہت اچھا وقت ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لے آتے ہیں۔ اور کہتے ہیں:
    صدق دل سے توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا [الزمر: 53]
    جب بندہ توبہ کر لیتا ہے تو اس کی غلطی کا مؤاخذہ نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے فرمایا:
    ابن ابی العز فرماتے ہیں:
    مسلمانان گرامی!
    گناہوں کے جسم، مال اور اولاد پر بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ انسان کو ضرورت ہے کہ اس کی غلطیاں شب و روز مٹائی جاتی رہیں۔ نعمتیں گناہوں کی وجہ سے جاتی رہتی ہیں چھوٹی سی تکلیف سے بھی بندے کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔
    ایک حدیث میں ہے:
    اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے، اس نے اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنے کے بہت سے طریقے بتلا دئیے ہیں۔ تاکہ اس کے بندے گناہ کے بعد اس سے معافی کے طلبگار ہوں۔ بے شبہ اس کی طرف وہی رجوع کرتا ہے جو اس کے قریب ہو، اور خوش بخت وہ ہے جو شب و روز اپنی مغفرت کا طلبگار رہے۔
    أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى [طه: 82]
    بارك الله لي ولكم في القرآن العظيم، ونفعني الله وإياكم بما فيه من الآياتِ والذكرِ الحكيم.

    دوسرا خطبہ
    الحمد لله على إحسانه، والشكرُ له على توفيقِهِ وامتِنانه، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له تعظيمًا لشأنه، وأشهد أن نبيَّنا محمدًا عبدُه ورسولُه، صلَّى الله عليه وعلى آله وأصحابه وسلَّم تسليمًا مزيدًا.
    مسلمانان گرامی!
    ثم اعلموا أن الله أمركم بالصلاةِ والسلامِ على نبيِّه، فقال في مُحكَم التنزيل: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الذِيْنَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيْمًا [الأحزاب: 56].
    اللهم صلِّ وسلِّم على نبيِّنا محمدٍ، وارضَ اللهم عن خلفائه الراشدين الذين قضَوا بالحق وبه كانوا يعدِلون: أبي بكرٍ، وعمر، وعثمان، وعليٍّ، وعن سائر الصحابةِ أجمعين، وعنَّا معهم بجُودِك وكرمِك يا أكرم الأكرمين.
    اللهم أعِزَّ الإسلام والمسلمين، وأذِلَّ الشرك والمشركين، ودمِّر أعداء الدين، واجعل اللهم هذا البلد آمِنًا مُطمئنًّا وسائر بلاد المسلمين يا رب العالمين.
    اللهم أصلِح أحوالَ المُسلمين في كل مكان، اللهم اصرِف عنهم الفتنَ ما ظهرَ منها وما بطَن، اللهم احقِن دماءَهم، واحفَظ أعراضَهم وأموالَهم، اللهم اصرِف عنهم شرَّ شِرارهم وكيدَ فُجَّارهم، ووحِّد كلمتَهم على الحق والتقوى والتوحيد يا ذا الجلال والإكرام.
    اللهم من أرادَ الإسلامَ أو المُسلمينَ بسُوءٍ فاجعل كيدَه في نحره، وألقِ الرُّعبَ في قلبه، ودمِّره تدميرًا يا قوي يا عزيزُ.
    اللهم وفِّق إمامنا لهُداك، ومُنَّ عليه بالعافية والشفاء يا ربَّ العالمين، ووفِّق جميعَ ولاة أمور المسلمين للعملِ بكتابك، وتحكيمِ شرعك يا ذا الجلال والإكرام.
    رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [البقرة: 201].
    اللهم أنت الله لا إله إلا أنت، أنت الغنيُّ ونحن الفقراء، أنزِل علينا الغيثَ ولا تجعَلنا من القانِطين، اللهم أغِثنا، اللهم أغِثنا، اللهم أغِثنا.
    رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ [الأعراف: 23].
    عباد الله:
    إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90].
    فاذكروا الله العظيم الجليل يذكركم، واشكروه على آلائه ونعمه يزِدكم، ولذكر الله أكبر، والله يعلم ما تصنعون.


    لنک
     
  2. ‏جولائی 07، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    IMG_20170707_222715.jpg
     
  3. ‏جولائی 10، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    IMG_20170710_151153.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں