1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہمیں کبھی نہ مرنا ہے

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد تاج, ‏جنوری 26، 2019۔

  1. ‏جنوری 26، 2019 #1
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    ہمیں کبھی نہ مرنا ہے

    مجھے کبھی نہ مرنا ہے سننے میں شاید کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن ہماراجو لائف سٹائل ہےاسے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ جیسے ہمیں کبھی نہ مرنا ہے۔ اللہ سے نڈر ہو کر ، موت سے بے خبر ، آخرت سے انجان جس طرح اپنی زندگی ہم گزار رہے ہیں تو شاید ہمیں لگتا ہے کہ موت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔
    حرام حلال کی تمیز ختم ہو گئی ،وقت کی قلت نے رشتوں میں نفرتیں اور دوریاں پیدا کردیں، طاقت نے ظالم بنا دیا ، شہرت نے اندھا بنا دیا ، زیادہ علم و شعور نے دماغ خراب کر دیا، برینڈ ڈ چیزوں نے اوقات کو بُھلا دیا ، زیادہ دولت نے دوسروں کو حقیر بنا دیا،بیوی کے آتے ہی والدین کا نافرمان بنا دیا، دنیاوی چیزوں نے مغرور بنا دیا،غرور وتکبر نے انسان سے جانور بنا دیا، مصیبتوں میں بھائی کو قصائی بنا دیا، بُرے حالات میں اپنوں نے رُلا دیا، دنیا پانے کے لیے آخرت کو بُھلا دیا،لوگوں کو خوش کرنے میں اللہ کو ناراض کر دیا ، مصروفیت نے نماز سے روک دیا ،بے صبری نے نا شکرا بنا دیااور جینے کی خواہش نے موت کو بُھلا دیا۔
    ہم دنیا میں ایسے جی رہے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ہمیں موت بھی آنی ہے۔پیسے کا غرور ، طاقت کا تکبر، والدین کا نافرمان، دنیا کی مستی ، عمل سے دور ، دین سے دوری ، عارضی چیزوں سے محبت ، نماز میں لاپرواہی، بے روزے داری ، دوسروں کے حالات پرہنسنا،حرام کمانے کو ترجیح دینا یہ سب موت سے بے خبر ی نہیں تو اور کیا ہے۔جن چیزوں پر آج اتنا تکبر کرتے ہو کیا یہ ہمیشہ تمھارے ساتھ رہنے والی ہیں؟ کیا تم انہیں اپنے ساتھ لے جائو گے ؟ کیا روزِ قیامت یہ تمہارے کام آئیں گی؟ نہیں ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔آج جو کچھ تم دنیا میں کر رہے ہو یادرکھو اس کا پل پل کا حساب تم سے اللہ لے گااور جس موت سے تو بے خبر جی رہا ہے ایک پل میں تجھے اپنے ساتھ لے جائے گی۔آج انسان ہو کر انسان پر ظلم کرتا ہے، اس کو ذلیل ورُسوا کرتا ہے، اس کو حقیر سمجھتا ہے، اس پرلعن طعن کرتا ہے ، دوسروں کی موت پہ ہنستا ہے،یتیموں اور مسکینوں کو دھکے دیتا ہے کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ یہ وقت ایسے ہی رہنے والا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ موت بس دوسروں کو ہی آنی ہے ؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ان سب کا حساب تجھے نہیں دینا ہے تو سن اللہ کی قسم تجھے موت آنی ہے اور ایک دن تیرا نام ونشان اس دنیا سے مٹ جائے گا اور جن چیزوں پر تُو مان کرتا ہے وہ سب کچھ یہیں رہنے والا ہے۔
    اللہ نے زندگی ایک بار دی ہے کیوں نا ہم اسے ایسے گزاریں جیسے ہمیں اس کے بارے حکم دیا گیا ہے۔ کیوں نا ہم لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے اپنے اللہ کو خوش کریں، کیوں نا ہم اپنے والدین کی خدمت کرکے جنت میں جانے کا رستہ تلاش کریں، کیوں نا جو دولت اللہ نے ہمیں نوازی ہے اس سے دوسروں کی مدد کریں اور اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں، کیوں نا ہم صبروشکر سے کام لے کر اپنی زندگی آسانبنائیں ، کیوں نا ہم نماز کی پابندی کر کے ہم اپنےدلوں کو سکون دیں۔اللہ کے لیے اپنی زندگی کو ایسے گزاروں کہ اللہ بھی تم سے راضی ہو اور اللہ کے بندے بھی۔
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿آل عمران: ١٠٢﴾
    اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

    حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ "، يَعْنِي الْمَوْتَ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ. سنن ترمذی:حدیث نمبر: 2307
    ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“ ۱؎۔
    تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجنائز ۳ (۱۸۲۵)، سنن ابن ماجہ/الزہد ۳۱ (۴۲۵۸) (تحفة الأشراف: ۱۵۰۸۰)، و مسند احمد (۲/۲۹۳) (حسن صحیح)
    وضاحت: ۱؎: موت کی یاد اور اس کا تصور انسان کو دنیاوی مشاغل سے دور اوروی مشاغل سے دور اور معصیت کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے، اس لیے بکثرت موت کو یاد کرنا چاہیئے اور اس کے پیش آنے والے معاملات سے غافل نہیں رہنا چاہیئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں