1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہم کہاں تک آ گئے؟؟

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از باربروسا, ‏مئی 14، 2013۔

  1. ‏مئی 14، 2013 #1
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    ایک "سیکولر" اور ایک "اسلام پسند" میں ویسے تو بڑے بڑے فرق کچھ اور ہیں لیکن ایک فرق یہ بھی ہے کہ سیکولر کی ساری نظر دنیا پر ہوتی ہے اور اسلام پسند دنیا اور آخرت دونوں کو سامنے رکھتا ہے ، مشہور آیات ہیں آئے ایک بار پھر انہیں اس تناظر میں دیکھ لیتے ہیں ۔


    فمن النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ﴿٢٠٠﴾ وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿٢٠١﴾
    اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
    اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔
    (البقرہ)


    اب سیکولرز کی ساری توجہ دنیا کی لیپا پوتی ، بناؤ سنگھار اور فوائد سمیٹنے میں تک محدود رہتی ہے جبکہ اہل ایمان آخرت اور دنیا کو حسین امتزاج اور ایسی شان کے ساتھ بروئے کار لاتے ہیں کہ اول تو دونوں میں سے کسی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اگر کوئی ایسا موقع آ جائے کہ دنیا اور آخرت میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو بلا تردد دنیا کو آخرت پر قربان کر دیتے ہیں ۔
    دنیا کا بڑے سے بڑا فائدہ اپنے دین پر ضرب لگتے دیکھ کر چھوڑ دیں گے اور آخرت کا فائدہ دنیا کا نقصان برداشت کر کے کرنے میں بھی ذرہ برابر دل کی تنگی محسوس نہ کریں گے۔


    ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں ۔معروف معنوں میں اسلام پسندوں سے ہٹ کر عام مسلمان ، آج کے دور کا گیا گزار مسلمان بھی ہزار بدکاریوں اور بے عملیوں کے باوصف اپنے عقیدے کو ہاتھ سے دے کر کچھ بھی لینے سے انکار تو اور بھی شدید ہو جاتے ہے بلکہ تو ایسی پیش کش کرنے والے یا کرنے والوں کے ہی درپے ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دور نبوی میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو قیصر روم کا خط اور ان کی رد عمل اسی چیز کی ایک مثال ہے۔


    اگر کسی کو کسی بت پر مکھی کا چڑھاوا چڑھانے پر زندگی کی امان ملتی ہے تو مسترد ہے ، اگر قبر پر دھاگہ لٹکانے سے بچے کی بشارت ملتی ہے تو لائق التفات نہیں اور اگر بقول اقبال اجتماعی مصلحت بھی حاصل ہوتی ہے تو ناقابل قبول ہے:

    دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
    ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

    اب یہ اسلام پسندوں کا پالا مروجہ عبادات کے علاوہ ان "غیر معروف" عبادات سے پڑتا ہے جو دور حاضر میں بدلے ہوئے لات و منات کے لیے بجا لائی جا رہی ہیں !!

    یہاں کیا ہوتا ہے ؟؟ اکثر روایتی تصورات عبادت تک محدود مسلمان عامی یا علماء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو چونکہ عبادت کو مسجد تک ہی محدود سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تو بات ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ یہاں پر کسی دنیاوی فائدے تو تج کر ایمان کا جھنڈا بلند کیے کھڑے ہوں !

    یہ توقع، اور امید، بجا طور پر اس جدید صنم کدے اور اس میں پوجے جانے والے جمہوریت کی دیوی کی حقیقت کو سمجھنے والوں سے ہی ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے۔

    اچھا اب اس میدان میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام پسندوں کا یہ طبقہ نفاذ اسلام نہ ہو سکنے کے "یقین کامل " کے باوجود ۔۔۔۔۔۔پھر بھی "کچھ نہ کچھ " فوائد حاصل کرنے کے لیے ، "میدان خالی نہ چھوڑنے" کی دلیل دیتے ہوئے جمہوری میدان میں خیمہ زن نظر اتا ہے، اگرچہ انکار کے کلمات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں !!

    "میدان خالی نہ چھوڑنے " کی بحث ایک الگ موضوع ہے لیکن یہاں صرف دنیا کی مصلحتوں کو آخرت پر ترجیح دینے کی جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ خون رلاتی ہے۔

    اب کیسے ترجیح دی جاتی ہے یہ بھی دیکھ لیں ۔

    مثال کے طور پر ملک بھر سے اسمبلی کی 300 سیٹیں ہیں ، اسلامی جماعتیں یا جماعت ان میں سے کوئی 200 پر امیدوار کھڑے کرتی ہیں اور ان میں سے جیتنے کی امیدواری کوئی 10 سے بیس فیصدی کی ہوتی ہے ، یہ فیصدی بھی میں بہت مبالغے اور مثالی صورتحال کے حؤالے سے انتہائی عدد ذکر کر رہا ہوں ورنہ اصل صورتحال اس سے کہیں کم تر ہے۔

    اب اسلام کے نفاذ سے اس درجے پر اتر آیا جاتا ہے کہ اسلام تو نہیں آئے گا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ اور ضرورتیں ہیں جو پوری ہو جائیں گی کچھ اور فوائد حاصل ہو جائیں گے۔ اسلامی نظام کے لیے ہم اگلے الیکشن میں پھر کوشش کر لیں گے ، فی الوقت اتنا ہی میسر ہے تو کیا کریں !!۔ اس سارے کچھ میں وہ نکتہ فراموش ہو جاتا ہے جس کو جواز بنا کر ہم اس نظام میں داخل ہوئے تھے ، اور وہ یہ کہ ہمیں یہ کفر قبول تو نہیں ہے لیکن اسلام لانے کے لیے یہی راستہ چھوڑا گیا ہے سو اب اسی کو اختیار کرنا پڑے گا۔

    آپ نے دیکھا کس خوبی کے ساتھ پہلے ہم امید اور پھر مایوسی کا شکار ہوئے لیکن اس جمہوری نظام نے ہمیں بھاگنے نہیں دیا اور "کچھ نہ کچھ" فائدے نے ہمیں باندھے رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں اسلام پسند اس "اسلامی" نظام سے اسلام کے قیام کی توقع کو صفر پر رکھتے ہوئے بھی چند فوائد کے لیے اس نظام میں شریک ہوتے ہیں اور طویل طویل عرصہ اس کی حمایتیں تک کرتے ہیں ، جائیکہ اس کی حقیقت کو کھولتے پھریں اور لوگوں پر واضح کرنے کا فریضہ انجام دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں "فوائد" سمینٹنے کی سطح پر وہ آخرت کا فائدہ نہ ملنے پر بھی ، بلکہ آخرت کا نقصان عظیم ہونے پر بھی دنیا سے چمٹے رہنا ہی قرین انصاف خیال کرکے انتخابات کو جہاد اور اس جدوجہد کو مبارک سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔

    تو اب تحریر کا پہلا پیرا ایک بار پھر پڑھیں اور دیکھیں کہ لبرلز اور سیکولرز ہمیں کہاں سے چلا کر کہاں لے آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی نظام کی ایک اصولی جدوجہد سے لیکر وہ ہمیں اپنے لیول تک گرا تو نہیں چکے؟؟ کہ ان کا مطمح نظر بھی چند دنیاوی مفادات ہیں اور ہمارا مقصد بھی کچھ نہ کچھ فوائد سمیٹنے سے آگے کچھ نہیں !! اگرچہ زبان سے ہم خود کو اور دوسروں کو بہت کچھ اور کہتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں