1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہندوستان میں اذن الامام کے بغیر گھروں میں جمعہ کا حکم۔۔

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏مئی 08، 2020۔

  1. ‏مئی 08، 2020 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    92
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    ارسال کردہ ایک سوال وجواب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہیکہ موجودہ کرفیو کی صورت حال میں باالخصوص احناف(اذن الامام کے بغیر) و وشوافع(چالیس نفر کے بغیر) کے یہاں جمعہ کی بجائے ظہر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں !
    جبکہ اس کے بر خلاف دار العلوم کے ایک تازہ فتوے میں اس کی اجازت دی گئی ہے
    بندہ یہ چاہ رہا کہ جواز جمعہ کی دلیل اور مانعین جمعہ کا جواب آجاوے
    براہ کرم عنایت فرمادیں مفتی صاحب جزاکم اللہ خیرا !
    ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
    *❊حامدا و مصلیا و مسلما❊*
    *۩الجواب بعون الملك الوهاب۩:* صورت مسؤلہ میں اذن الإمام کی شرط مفقود ہونے کے باوجود, ہندوستان میں گھروں کے اندر جمعہ قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسلام ویب میں جو نقل کیا گیا ہے وہ عند الاحناف مذہب معتمد ہے لیکن اس شرط کا انطباق ہندوستان میں نہیں کیا جا سکتا۔ اذن الامام کی شرط فقط اسلامی ممالک کے لیے خاص ہے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ دیگر شرائط کی موجودگی میں گھروں کے اندر نماز جمعہ کے قیام میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
    اللـه أعـلم بالصـواب
    *کتبه العبد محــمد عبد الرحـمن الأديـشـوي عفي عنه*
    *بمطابق : ۱۳ رمضان المبارك ۱۴۴۱؁ ھ ، بروز : پنجشنبه*[​IMG][​IMG]

    Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں