1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہندو کا قرآنی آیت سے استدلال، کہ نعوذباللہ محمد رسول اللہ درست طریق پر نہ تھے۔

'عصر حاضر کے فتنے' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏جولائی 26، 2013۔

  1. ‏جولائی 26، 2013 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم

    قرآن میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں۔
    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ( اللہ تعالیٰ) کی طرف کوئی جھوٹ بات منسوب کرتے، تو ہم اس ( محمد رسول اللہ ) کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ اور ظاہر ہے، شہ رگ کاٹنے سے وفات ہوجاتی۔

    اب مسلمانوں میں دو قسم کے عقیدہ والے لوگ ہیں۔ ایک کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں۔ اور ایک کہتے ہیں کہ حیات ہیں۔لیکن دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں۔ جو کہتے ہیں وفات پاچکے ہیں۔ ان کے نزدیک اس آیت سے کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ثم نعوذباللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ پر جھوٹیں باتیں منسوب کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فوت کردیا۔ اور جو کہتے ہیں کہ حیات ہیں۔لیکن دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں۔ تو پھر پردہ فرمانے کا کیا مطلب؟ جب اللہ تعالیٰ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بولتے ہی نہیں تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پردہ بھی نہ فرماتے۔

    یہ ایک ہندو کا سوال ہے۔ ۔ براہ کرم مجھے قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔ اللہ تعالی مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو۔آمین
     
  2. ‏جولائی 26، 2013 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    وعلیکم السلام

    سب سے پہلی بات یہ کسی کتاب لیا گیا ہے، اگر کتاب کا نام معلوم ہو جائے تو شاید جواب بھی اسی کے اگلے صفحے پر موجود ہو،
    دوسری بات کیا اس ہندو نے قرآن کریم کی اس آیت کا ذکر نہیں کیا جس میں الله تعالی فرماتا ہے
    كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۗ
    ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے
    جب ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہی ہے تو کبھی نہ کبھی رسول الله علیہ وسلم کی وفات تو ہونی ہی تھی اس میں حیرانی والی کیا بات ہے؟؟!

    تفسیر ابن کثیر
    تفسیر احسن البیان
     
    • شکریہ x 6
    • زبردست x 6
    • علمی x 5
    • پسند x 3
    • متفق x 1
    • معلوماتی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 27، 2013 #3
    بابر تنویر

    بابر تنویر مشہور رکن
    جگہ:
    الریاض ، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 02، 2011
    پیغامات:
    223
    موصول شکریہ جات:
    684
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    دوستو، ان دونوں باتوں کا مدلل جواب تو علماء بہتر انداز سے دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر مجھ سے یہ سوال کیا جاتا تو میرا جواب کچھ اس طرح ہوتا
    ذرا اس آیت کے الفاظ پر غور فرما لیجیۓ :
    اور اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا ۔ تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے ۔ پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔''
    ایک جواب تو سیدھا سادا ہے کہ کیا آپ کی وفات شہ رگ کاٹے جانے سے ہوئ؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ بلکہ آپ کی وفات طبعی طور پر ہوئ۔ تو اس آیت سے ان کا استدلال باطل ثابت ہوتا ہے۔
    دوسری بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بشر تھے اور بشر ہونے کی حیثیت سے ان کی دنیاوي زندگي تو ایک مقررہ وقت تک ہی تھی۔ جس کا ذکر تو قران پاک میں ہی موجود ہے۔
    سورہ غافر کی آيت نمبر 77۔
    فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ
    پھر صبر کر بے شک الله کا وعدہ سچا ہے پھر جس (عذاب) کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھا دیں یا ہم آپ کو وفات دے د یں تو ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائیں گے
    اسی طرح سورہ الزمر کی آیت نمبر 30
    إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ
    بے شک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے
    ان دونوں آیات میں اللہ تعالی نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ اے نبئ اس دنیا میں آپ کا قیام بالکل اسی طرح عارضی ہے جس طرح کسی دوسرے انسان کا۔ اور ان آيات سے آپ کا پردہ فرمانے والا نظریہ بھی باطل ثابت ہوتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 8
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 5
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 27، 2013 #4
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    سمپل سی بات ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے ایک دوسرا پہلو دکھایا ہے۔جیسا کہ اور بھی بہت سی جگہ پر ایسا کیا گیا۔
    اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کی تردید ٖقرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے کہ جو کہ تکمیل قرآن کے حوالے سے نازل ہوئی یعنی اللہ نے اپنے نبی پر دین کو مکمل کیا۔۔۔۔
    اور اس موقعہ پر وہاں موجود سب صحابہ نے آپ کی تصدیق کی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 27، 2013 #5
    محمد عثمان

    محمد عثمان رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 29، 2012
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    594
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ۔۔۔ جس ہندو نے یہ اعتراض کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ پاگل ہے، اور اس قسم کے لوگوں کو علمی انداز سے سمجھائی بات سمجھ نہیں آتی۔ آپ اس سے صرف اتنا کہیئے کہ:

    " اگر آپ کے والد آپ کی والدہ محترمہ سے کہیں کہ اگر تو نے بدکاری کی تو تجھے جان سے مار دونگا۔۔۔ اور چند دنوں کے بعد آپ کی والدہ کا انتقال ہو جائے، تو کیا ثابت ہو گیا کہ آپ کی والدہ بدکار تھیں، اور ان کو مارنے والے آپ کے والد تھے، ۔۔۔؟" تنبیح و واقعہ میں کچھ تو فرق کرو۔۔۔

    الفاظ کی سختی معاف۔۔۔ میرا خون کھولتا ہے ان جاہل مشرکوں کی ایسی باتیں سن کر۔۔۔
    جزاک اللہ کثیرا۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • پسند پسند x 6
    • زبردست زبردست x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 27، 2013 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    یہ ابتدائی مکی دَور کی آیات کریمہ ہیں۔ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد تقریباً عرصہ بیس سال سے زیادہ نبی کریمﷺ کا اس دنیا میں رہنا اور اللہ کے حکم سے ترقی پر ترقی اور فتوحات حاصل کرتے جانا (حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لوگ جوق در جوق فوجوں کی صورت میں اسلام میں داخل ہونے لگے) اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نبی کریمﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔

    وگرنہ معاذ اللہ ثم معاذ باللہ اگر آپﷺ سچے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ فوراً آپ کو دوسروں کیلئے عبرت کا نشان بنا دیتے۔

    یہی ان آیات کریمہ کا مستفاد ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم!

    باقی موت تو ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفرّ نہیں۔ جو اس دنیا میں آیا، اس نے فوت ہو کر واپس اپنے خالق حقیقی کے پاس جانا ہے۔ فرمانِ باری ہے:
    ﴿ وَما جَعَلنا لِبَشَرٍ‌ مِن قَبلِكَ الخُلدَ ۖ أَفَإِي۟ن مِتَّ فَهُمُ الخـٰلِدونَ ٣٤ كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۗ وَنَبلوكُم بِالشَّرِّ‌ وَالخَيرِ‌ فِتنَةً ۖ وَإِلَينا تُر‌جَعونَ ٣٥ ﴾ ... سورة الأنبياء
    آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ مرگئے تو وه ہمیشہ کے لئے ره جائیں گے (34) ہر جان دار موت کا مزه چکھنے والا ہے۔ ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے (35)
     
  7. ‏جولائی 28، 2013 #7
    ام کشف

    ام کشف رکن
    جگہ:
    islamabad
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2013
    پیغامات:
    124
    موصول شکریہ جات:
    382
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ نبی پاک شاعر ہیں مجنون ہیں تو آپ ان کی باتوں سے دربردشتہ نہ ہوں یہ ان کی خام خیالیاں ہیں اب یہ بات کہاں تک درست ہے اللہ تعالٰی ہی جانتے ہیں لیکن اس طرح کے اعتراضات ہی اس بات کے صحیح ہونے کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ واقعی اسلام بت پرستی کو دنیا سے ختم کرنے کے لئے نازل کیا گیا تھا
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 29، 2013 #8
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41



    ان الفاظ پر غور کریں اور جلد از جلد درستگی کریں
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 29، 2013 #9
    محمد نعمان مسعود

    محمد نعمان مسعود رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2013
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    181
    تمغے کے پوائنٹ:
    41




    میں نے اس مفہوم کی روائت سنی ہوئ ہے ۔کیا یہ حدیث کے الفاظ ہیں یا بعض اہل علم کا کہنا ہے ؟
     
  10. ‏جولائی 29، 2013 #10
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم بہنا!
    آپ کس بات کی درستگی کی بات کر رہی ہیں؟ اس کی وضاحت کریں۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں