1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یوسف سراج کا قبیلہ اور عاصمہ جہانگیر

'الولا والبرا' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدہ, ‏فروری 17، 2018۔

  1. ‏فروری 17، 2018 #1
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    تمہید: دو دن پہلے محترم خضر بھائی کی جارحانہ پوسٹیں پڑھیں کہ جس میں وہ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود کہ رہے ہیں کہ میں مکمل جواب دے کر رکوں گا جسکو میری پوسٹیں اچھی نہ لگیں وہ بلاک وغیرہ کر سکتا ہے تو بہت تعجب ہوا کہ اتنا بڑا کون سا مسئلہ ہوا ہے تو خضر بھائی کو ٹیگ کر کے وجہ پوچھی تو انہوں نے جو لنک لگایا اسکو دیکھ کر انکے جارحانہ رویے کا علم ہوا وہ محترم یوسف سراج بھائی کی پوسٹ تھی جس میں انہوں نے عاصمہ جہانگیر پر اپنے قبیلے کے لوگوں کے موقف کو غلط ثابت کرنے کی قرآن و حدیث سے(اپنے تئیں) کوشش کی تھی اسی وقت خضر بھائی کو ٹیگ کیا کہ میں بھی ان شاءاللہ اسکی وضاحت لکھوں گا جو اب یہاں لکھ رہا ہوں
    میں ہر جگہ یہی بات بار بار دہراتا رہتا ہوں کہ ہم موحد بھائیوں کو ہمیشہ آپس میں اکٹھے ہو کر رہنا چاہئے جیسا کہ سارے ہمارے سارے مخالفین آپس میں ہمارے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں اللہ نے بھی یہی کہا ہوا ہے کہ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر۔ پس میرا یہاں محترم یوسف بھائی سے اختلاف اپنی جگہ رہے گا اور اس پر میں کھل کر لکھوں گا مگر وہ مجھے پھر بھی دوسروں سے عزیز ہی رہیں گے
    میں سب سے پہلے انکی وہ پوسٹ مکمل لگاؤں گا جس میں انہوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ملامت کیا ہے اور پھر اس پوسٹ کی ایک ایک بات کو لے کر اس پر اپنی وضاحت دوں گا کوئی بات چھوڑوں گا نہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ انکی کچھ باتوں کو لے کر سیاق و سباق سے ہٹ کر تنقید کی ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 17، 2018 #2
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    مسئلہ عاصمہ: میرا دماغ کیوں الٹ گیا ہے؟ یوسف سراج

    کچھ دوست پریشان ہیں کہ آخر عاصمہ کے بارے اپنے قبیلے سے الگ ہو کر اس قدر زور سے بات کہنے کی مجھے ضرورت کیا ہے؟ عاصمہ ایسی رابعہ بصری بھی نہ تھی کہ اس کا دفاع کرنا عین حق یا نا گزیر ہوتا۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں وہ فاسقہ خاتون تھی۔ لبرل تھی اور ڈٹکے کی چوٹ پر تھی۔ اس نے کھلم کھلا اسلام کے بارے کچھ باتیں بھی کیں۔ جن میں سے بعض تو سخت اذیتناک بھی تھیں۔ وہ پاکستان کے بارے بھی منفی باتیں کرتی رہی۔ وہ سب باتیں چھپی ہوئی نہیں، ریکارڈ پر ہیں۔ جن سے انکار ممکن نہیں۔ چنانچہ بیشتر مذہبی لوگ اس کے خلاف ہیں۔ وہ اسے رسوا کرنے یا اس کی رسوائی کو عام کرنے کے خاطر خواہ دلائل بھی دے رہے ہیں۔ بلکہ وہ اس موت پر خوشی منانے کو جائز بلکہ سنت اور مستحب بھی قرار دے رہے ہیں۔ ادھر چالیس کے قریب ناموں پر مشتمل ایک فتوی نما موقف بھی مشتہر کیا جا رہا ہے۔ پھر مقبولِ عام عوامی جذبات بھی عاصمہ کے خلاف ہیں۔ سارا مذہبی منظر نامہ اس کے خلاف ہے۔ اس عاجز کا سارا قبیلہ اس کے خلاف ہے۔ یعنی جس راہ کا انتخاب کیا، وہ دریا کے الٹے رخ تیرنا ہے، جہاں ہر قدم پر دس ہاتھ غوطہ دینے کو بھی لپک رہے ہیں۔ چنانچہ عاصمہ کے خلاف لکھ کر تو داد اور ثواب کمایا جا سکتا ہے، اس کے حق میں لکھ کر نہیں۔ عاصمہ یا اس کے قبیلے سے اس عاجز کا دور دور تک کوئی رشتہ و پیوند بھی نہیں۔ یعنی ساری جمع تفریق کے بعد کسی طور بھی اس کے حق میں بات کرنا نرے گھاٹے کا سودا ہے۔ بدنامی عین واجب ہے اور بظاہر دنیا دشوار اور عاقبت برباد ہوتی نظر آتی ہے۔ پھر آخر کیوں ایسی نرم بات کہنےکو اس عاجز کا دماغ الٹ گیا ہے، کہ جس سے مقبول مذہبی بیانیے کو نقصان اور عاصمہ کو فائدہ پہنچے؟
    1۔ بات عاصمہ کی نہیں، بات اسلامی موقف کی ہے، بات قرآن کے اس فرمان کی ہے۔ دشمن بھی مقابل ہو تو انصاف ہی کی بات کہو، عدل سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹو۔ خواہ یہ تمھارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔ چنانچہ میرے نزدیک بات عاصمہ کی نہیں ، لبرلز کی نہیں، بات اسلام کی ہے۔
    2_ جب زیادہ تر مذہبی لوگ اس کے خلاف ہیں تو آخر مجھے اپنی الگ بات کہنے کی ضرورت کیوں؟ چپ بھی تو رہا جا سکتا تھا؟
    ۔۔۔۔یہ سوال ہی دراصل جواب ہے۔ چونکہ حقیقی موقف دینے والے علما کسی وجہ سے خاموش ہیں۔ چنانچہ ان کی جگہ جذباتی لوگ اسلام کا غلط رخ پیش کر رہے ہیں ، سو بولنا لازم ٹھہرا۔ کسی بھی مسلک کا کوئی ایک بڑا نام بول پڑتا تو بھلا ایک کالم لکھنے والے کو اس موضوع کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی؟
    کیا ثبوت ہے کہ یہ جذباتی لوگوں کا موقف ہے، مفتیان کا نہیں؟
    اولا اس میں کسی بھی مسلک کے کسی جید عالم نے فتوی نہیں دیا، چالیس ناموں والی جو ایک تحریر سامنے آئی، اس میں سوائے دو ناموں کے کوئی مفتی نہیں۔ باقی سب نام ہیں، جو مفتی بہرحال نہیں۔
    ثانیا یہ فتوی ہے بھی نہیں۔ فتوی کسی چیز پر مفتی کے فہم کے مطابق شرعی حکم ہوتا ہے۔ اس میں ایک سوال ہوتا ہے، شرعی دلائل کی روشنی میں جس کا تجزیہ ہوتا ہے، اور آخر میں سوال کا واضح جواب یعنی شرعی حکم۔ جبکہ یہاں آپ دیکھتے ہیں کہ اس تحریر میں ایسا کچھ نہیں۔ پھر دو میں سے ایک مفتی صاحب سے ذاتی طور پر رابطہ کر کے اس خاکسار نے پوچھا تو انہوں نے فرمایا، یہ فتوی ہر گز نہیں۔ میرا یہ مزاج بھی نہیں۔ نہ اس کا یہ موقع اور محل ہی تھا۔ معلوم ہوا، ان سے اور طرح سے بات کرکے ، ان کا نام ڈال دیا گیا۔
    یہ فتوی ہو بھی کیسے سکتا ہے، کہ جس کے آخر میں حتمی شرعی رائے دینے کے بجائے لکھا گیا آپ خود فیصلہ کر لیجیے۔ اگر یہ فتوی ہے تو تاریخ اسلامی میں اپنی طرز کا واحد فتوی کہ جس میں فیصلہ کرنے کے بجائے عوام سے فیصلہ پوچھا گیا ہے۔ سو یہ ایک بے کاغذ کی تحریر ہے، جس پر کئی نام لکھے ہیں۔ اور بس!
    (ویسے اب اس تحریر سے نام کاٹ دئیے گئے ہیں )
    شرعی فتوی اگر لینا ہو، تو اسے یوں ہونا چاہیے:
    معروف مفتیوں کے لیٹر ہیڈ پر ان کے دستخطوں اور مہروں کے ساتھ۔
    شرعی جرم کی تفصیل
    لاگو ہونے والے دلائل
    اور دو ٹوک شرعی حکم
    جس پر حکم لگے گا، یہ اس کے نام سے ہوگا اور حکم واضح ہوگا۔ یعنی فلاں فلاں جرموں کی وجہ سے عاصمہ جہنمی ہے یا کافر ہے۔
    جب تک یہ نہیں ہوجاتا ، نام نہاد ہی سہی، آپ کے خیال میں منافق ہی سہی مگر موصوفہ مسلمان ہے۔ کیسی مسلمان؟
    کئی خطرناک غلطیاں کرنے والی مسلمان۔
    اس کا حال اور انجام؟ اللہ کو معلوم!
    کسی کو کافر کہنے کا اسلامی پراسیس کیا ہے؟
    کسی کے واضح کفریہ کلمات کا ارتکاب کر لینے کے باوجود اسے کافر نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ
    اس کی جہالت دور نہ کر دی جائے۔
    یہ معلوم نہ کر لیا جائے کہ اس نے کہیں جبر و اکراہ کے تحت تو یہ نہیں کہا۔
    یہ تسلی نہ کر لی جائے کہ کیا واقعی اسے ان کلمات کے معانی اور اس کے اثرات کا ٹھیک ٹھیک پتہ پتہ ہے؟
    ظاہر ہے، یہ سارے مرحلے عاصمہ کے لیے اب ممکن نہیں، کہ زندگی میں یہ سب کیا نہ گیا اور اب وہ اپنے انجام سے جا ملی۔
    اگر یہ نہیں ہو پاتا تو مجرم فاسق و فاجر ہو سکتا ہے، کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ چنانچہ ایسے شخص کا جنازہ پڑھا جائے گا، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، اور اس کے احوال اللہ کے سپرد کیے جائیں گے۔
    ہاں لوگ اپنے طور پر اس کے اچھے یا برے ہونے کے تبصرے کر سکتے ہیں۔ یہ مگر اسلام کا حکم نہیں۔ اس کے اثرات البتہ ہوتے ہیں۔ ایک حد تک میت کے اچھے برے ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے، لیکن بہرحال یہ مسلمہ قاعدہ نہیں۔ کبھی الٹ بھی ہوتا ہے، جہنمی سمجھا جانے والا جنتی اور جنتی سمجھا جانے والا جہنمی بھی ہو سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ حدیث رسول سے جن کا جنتی یا جہنمی ہونا آشکار ہو چکا، باقی سب کے متعلق اچھا یا برا گمان تو رکھا جا سکتا ہے، کسی کو بالضبط جنتی یا جہنمی نہیں کہا جا سکتا۔
    دوسری بات اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ نام لے کر (By Name) کافر یا جنتی و جہنمی کہنے میں حد درجہ محتاط رہتے ہیں۔ شیخ الحدیث حافظ شریف صاحب فیصل آباد کے معروف اور ممتاز عالم ہیں، پورے فیصل آباد کے علمی حلقے میں ان کا نام اور احترام ہے، بیان فرماتے ہیں کہ عرب عالم شیخ صالح فوزان سے کسی نے اندرا گاندھی کے متعلق پوچھا، کیا وہ جہنمی ہے۔ متعدد بار نام لینے کے باوجود انھوں نے ایک بار بھی نام لے کر نہیں کہا کہ اندرا گاندھی جہنمی ہے، ہر بار جواب میں فرمایا، جس کا کفر پر خاتمہ ہو وہ جہنمی ہے۔ واضح رہے، اندرا گاندھی نے شاید ایک بار بھی مسلمان ہونے کا اعلان یا اعتراف نہیں کیا۔ نام تک مسلمانوں والا نہیں۔ چنانچہ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں یہ احتیاط آج کس طرح پاش پاش کی جا چکی ہے۔ یہ معاملہ دراصل اس لیے بھی مشکل ہے کہ حدیث کے مطابق اگر کسی کو کافر کہا گیا اور اللہ کے نزدیک وہ مسلمان ہوا تو یہ کفر کافر کہنے والے پر پلٹ آتا ہے۔ اندازہ کیجیے، اسامہ بن زید رسول اللہ ص کے لاڈلے صحابی سے عین حالت جنگ میں ایک ایسا دشمن قتل ہوگیا، جس نے جلدی جلدی (بظاہر تلوار سے ڈر کر) کلمہ پڑھ لیا تھا۔ معلوم ہونے پر رسول رحمت اس قدر ناراض ہوئے کہ کتنی ہی دیر بار بار فرماتے رہے، اسامہ! تم نے کلمہ پڑھنے والے کو قتل کر دیا۔۔۔ اسامہ نے عرض کی، یا رسول اللہ! کلمہ تو اس نے ڈر کے پڑھا تھا، فرمایا ،اسامہ کیا تم نے اس کا دل چیر کے دیکھ لیا تھا؟ اسامہ خواہش کرنے لگے، کاش وہ اس فعل کے بعد مسلمان ہوئے ہوتے۔
    اس عاجز نے آج کے کالم میں عبداللہ بن ابی منافق کے متعلق وضاحت سے لکھا کہ منافق اعظم ہونے کے باوجود رسول رحمت کا اس کے ساتھ سلوک کیا رہا۔
    صحابی رسول عکرمہ ابو جہل کے بیٹے تھے۔ ترمذی شریف میں حدیث ہے، ایک دن کسی نے ان کے کافر باپ ابو جہل کو برا بھلا کہا، تو ظاہر ہے، بیٹا ہونے کے ناتے ان کے چہرے پر اداسی دیکھی گئی۔ نبی رحمت نے فرمایا، لا تسبو الاموات فتوذوالاحیا
    مردوں کو برا بھلا کہہ کر زندوں کو اذیت مت پہنچاؤ۔
    اللہ اللہ! اگر اسلام کے دشمن اول کو برا کہنے سے بھی زندوں کو تکلیف ہو تو اسلام مداوا فرما دیتا ہے۔
    سیدہ عائشہ کی روایت ہے، مردوں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ انھوں نے جو اعمال کیے، وہ ان کے نتائج و ثمرات بھگتنے/سمیٹنے کو آگے پہنچ چکے۔
    اب جب آپ اتنا کچھ جان چکے تو چند باتوں پر غور کیجیے
    1- بالضبط کافر، جنتی یا جہنمی کہنا ایک باقاعدہ پراسیس ہے، جس کے تحت زد جید علما معتوب شخص کو جہل، اکراہ اور وضاحت کا موقع دینے کے بعد کسی کو کافر ڈکلیئر کریں گے۔ ہر پوسٹ لکھنے اور بظاہر دینی جذبہ رکھنے والا نہیں۔ بہرحال اس پراسیس نہ ہونے تک خود کو مسلمان کہنے والا شخص مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔
    2- عبداللہ بن ابی جیسا اسلام کے خلاف دائمی سازشیں کرنے والا اور کفر بکنے والا بھی ہو تو رسول اقدس اس کی بخشش کیلیے ہر ممکن تدبیر بروئے کار لاتے ہیں۔
    3_ مردہ ابو جہل بھی ہو اور اگر اسے برا بھلا کہنے سے کسی زندہ کو تکلیف پہنچتی ہو تو اسے برا بھلا کہنا رسول رحمت نے ممنوع فرمایا ہے۔
    اب آپ خود دیکھ لیجیے کہ ہم نے کتنا اپنے اس دین پر عمل کیا۔ طنز کرنے اور کسی کو کافر کرنے سے نہیں، دین پر عمل کرنے سے آدمی دیندار بنتا ہے۔
    واضح رہے!
    میری پیش کردہ احادیث و دلائل سے کوئی عالم انکار نہیں کر سکتا۔ انھیں انکار اگر ہے تو اس سے ہے، کہ ان دلائل کو اس وقت پیش نہ کیا جائے، ان کے خیال میں اس سے عاصمہ یا لبرل ازم کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
    میری گزارش یہ ہے، کہ اسلام فائدہ ہی دینے آیا ہے، اس میں کہیں نہیں لکھا کہ مولوی طبقے کو فائدہ ہو تو حدیث بیان کر دو ، لبرل طبقے کو ہو تو نہ کرو۔
    پھر اس سے بھی زیادہ میرا درد کچھ اور ہے، میں یہ برداشت کر سکتا ہوں کہ میرے دوست مجھ سے ناراض ہو جائیں، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی میرے دین پر یہ تہمت لگائے کہ یہ تو مردوں پر قہقہے لگاتا اور لواحقین کے انسانی جذبات تک کا خیال نہیں کرتا۔
    میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا رسول تو عبداللہ بن ابی کے جنازے پڑھنے چل پڑتا ہے، میرا رسول تو یہودی میت کے لیے احتراما اٹھ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔
    اور اگر کسی زندہ کا دل دکھتا دیکھے تو میرا رسول ابو جہل تک کو برا بھلا کہنے سے روک دیتا ہے۔
    تو آؤ اے لوگو! دیکھو! یہ ہے، میرا دین۔ یوں ہے، میرے دین میں انسانیت کی قدر۔
    ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
    ناصحو ، پندگرو ، راہگزر تو دیکھو
    اچھا اے پڑھنے والو! تم سب کو قسم ہے ، اپنے پیدا کرنے والے کی، مجھے بتاؤ، یہ مجھے چھپانا چاہیے یا بتانا چاہئے؟ اس سے دین کو فائدہ ہوتا ہے یا نقصان؟
    کسی نے کہا، سب ناراض ہو جائیں گے،
    میں نے سوچا، اللہ نہ ہو،
    کسی نے کہا، علما اذیت میں ہیں۔
    سوچا تو کیا دین کو اذیت میں ڈال دوں؟
    سنو! میں قسم کھاتا ہوں، میں اپنی کسی انا کے لیے یہ نہیں لکھتا۔ میں اپنے کسی عناد اور شخصی مفاد کے لیے یہ نہیں لکھتا۔ میں بس اپنے دین کی خوشنما شناخت کے لیے یوں لکھ مر رہا ہوں۔ بے وقوف کہلا رہا ہوں۔ تمھیں خوب پتہ ہے، میں لبرلز کا نہیں ہوں، نہ وہ میرے ہیں، افسوس، یہ لکھ کے میں آپ کو بھی کھو رہا ہوں۔ مگر میں رک نہیں سکتا۔ میں ٹھہر نہیں سکتا۔ آپ اپنے موقف میں درست ہو سکتے ہیں اور میں غلط ہو سکتا ہوں۔ مگر میرے نزدیک یہی موقف درست اور میں اسے چھپا نہیں سکتا۔ خدا میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو!​
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 17، 2018
  3. ‏فروری 17، 2018 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اب میں نیچے ایک ایک کر کے انکی ہر بات کا جواب لکھنا ہے لیکن سب سے پہلے میں انکی اس پوسٹ میں سے ایک عبارت کی وضاحت کرنا چاہوں گا جس کے تحت ہی پھر میرا یہ جواب پڑھا جائے

    پس میری بھی بات اپنے بھائی کی دشمنی میں نہیں ہے بلکہ اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے جو اوپر محترم بھائی نے بیان کیا ہے کہ ولا یجرمنکم شنان قوم علی ان لا تعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقوی تو اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ کو اپنے محترم یوسف سراج بھائی سے بے پناہ پیار ہو تو پھر تو یہ آپ پہ دہرا فرض آ جاتا ہے کہ آپ اسکی اصلاح کریں پس میری یہ تحریر ان ارید الا الاصلاح ما استطعت کے تحت ہی ہے اور اگر اس میں مجھ سے کوئی سخت بات ہو جائے تو اسکو ما استطعت کے تحت ہی سمجھا جائے کہ مجھے استطاعت ہی اللہ نے اتنی دی تھی میں کیا کروں
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 17، 2018 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی محترم سراج بھائی اللہ کا شکر کریں کہ اللہ نے آپ کو ایسے دوست دیئے کہ جب آپ اپنے موحدین بھائیوں کی ملامت کے ساتھ جس رابعہ بصری کا غیر شرعی اور پرزور دفاع کرنے لگے تو انہوں نے پریشان ہو کر آپ کو روکا
    محترم بھائی عاصمہ کے فاسقہ و فاجرہ ہونے کا خیال بھی آپ اپنی طرف منسوب نہیں کرنا چاہتے آگے یہ کہا بھی کہ جن سے انکار ممکن نہیں مگر اپنی طرف اس خیال کو منسوب کرنا مصلحت کے خلاف ہو پس قلم کار والا معاملہ گول مول کر دیا گیا شاید یہ ڈر ہو کہ جس طرف میڈیا کی اکثریت کا دریا بہ رہا ہے مجھے اسکے الٹ بہتا نہ خیال کر لیا جائے کیونکہ اس میڈیا کے خطرناک دریا کے الٹ بہنے کی ہمت نہیں رکھتا (چاہے خود یہ کہتے ہوں کہ میں نے دریا کے الٹے رخ تیرنے کا انتخاب کیا)

    جی محترم خضر حیات بھائی نے انکے دلائل دیئے ہیں اور ایک سلفی کو تو دلائل ہی چاہئے ہوتے ہیں اگر کوئی مفاد کا معاملہ نہ ہو سلفی تو خود دلائل ہی مانگتا ہے نہ کہ ثم یصر مستکبرا کان لم یسمعھا کی تصویر بنتا ہے ہاں اگر دلائل ہی غلط دیئے جا رہے ہوں تو بھی وہ انکا رد کرتا ہے وہ دلائل محترم خضر بھائی کی فیس بک وال پر دیکھے جا سکتے ہیں

    محترم بھائی معاف کرنا کہ جس طرح آپ نے باقی بھائیوں کو شریعت کے دریا کے مخالف بہنے کا تاثر دیا اور خود کو بظاہر عوام کے مخالف اور شریعت کے دریا کے موافق تیرنے کا تاثر دیا تو کوئی یہ بھی کہ سکتا ہے کہ
    دریا یہاں مختلف بہ رہے ہیں ایک دین داروں کا دریا ہے اور اسی طرح ایک بہتی گنگا کا دریا ہے جب تک کوئی انسان دینداروں کے دریا میں تیرتا رہے گا تو وہاں معاملہ اور ہو گا مگر جب انسان اس دریا کو ہی چھوڑ دے گا کسی اور دریا میں تیرنا شروع کر دے گا تو پھر وہ پچھلے دریا کی مثال نہیں دے سکتا کہ میرا رخ اسکے مطابق ہے یا مخالف
    مثلا غامدی پہلے جماعت اسلامی میں تھا مگر جب اسنے (مفادات یا غلطی) کی وجہ سے بہتی گنگا کے دریا میں تیرنا شروع کیا تو اب وہ بھی مثالیں دیتا ہے کہ جی میں تو قادیانیوں کا کفر نہیں سمجھتا اور میں پاکستان کے دریا کے مخالف تیر رہا ہوں تو ہم کہیں گے وہ بھلے مخالف تیرتا رہے ہم تو پہلے یہ دیکھیں گے کہ وہ تیر کس دریا میں رہا ہے
    اسی طرح عبدالستار ایدھی بھی ایک دریا میں تیرا تھا جو نہ صرف محترم سراج بھائی کے قبیلے کے مخالف دریا تھا بلکہ پورے پاکستانی عوام کے مخالف دریا تھا جب اسنے قادیانیوں کے بارے کچھ اسی طرح کا کہا تھا کہ وہ بھی نیک کام کر رہے ہیں انکو بھی اجر ملے گا اب بھلا وہ یہ اپنی خصوصیت بتا سکتا ہے کہ میں بے نظیر ہوں اور میں ہی درست ہوں کیونکہ میں دریا کے مخالف تیر رہا ہوں
    آپ ہی اپنی اداؤوں پہ ذرا غور کریں
    ہم کہیں گے تو شکایت ہو گی

    یہ مقبول مذہبی بیانیہ میں بھی اپنے بھائیوں پہ طنز واضح ہے بھائی جان جہاں تک ثواب کمانے کا معاملہ ہے تو بہت سے کام خالی ثواب کمانے کے لئے نہیں کیے جاتے جیسا کہ اوپر لکھا ہے اسی لئے فیض صاحب فرما گئے ہیں کہ
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 17، 2018 #5
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی محترم یوسف سراج بھائی اوپر آپکی کوٹ کردہ آیت میں اللہ کہتا ہے کہ ولایجرمنکم شنان قوم علی ان لا تعدلوا کہ کسی سے دشمنی ہونا تمھیں اس پہ مائل نہ کرے کہ تم انصاف کا دامن ہی چھوڑ دو پس عاصمہ سے دینداروں کی دشمنی تھی تو انکو انصاف کا دامن اس کے خلاف بھی نہیں چھوڑنا چاہئے تھا
    تو محترم بھائی جس قرآن میں یہ آیت ہے وہاں تو پھر یہ بھی آیت ہے کہ اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم
    مثلا خالد سجنا وزیرستان میں مارا گیا ہے یا اس سے پہلے حکیم اللہ محسود مارا گیا اسکے اوپر پاکستان میں بہت لے دے ہوتی رہی سید منور حسن نے جو کہا وہ بھی سب کو معلوم ہے اب اسکے بارے آپکے مقبول مذہبی بیانیے کا موقف بھی موجود ہے کہ اس سجنا کا جہاد شرعی نہیں تھا اور وہ انڈیا کا ایجنٹ تھا وغیرہ وغیرہ (اور میرا بھی یہی موقف ہے) لیکن یہ انسانیت کا درس دینے والے عوام کو ٹی ٹی پی کے حق میں انسانیت کا درس کیوں نہیں دیتے وہاں انکو ولا یجرمنکم والی آیت نہیں یاد آتی
    دیکھیں کہا جاتا ہے کہ عاصمہ جہانگیر واقعی بہت بہادر تھی علماء میں اتنی بہادری نہیں تھی کہ وہ فوج یا عدالتوں یا سیاستدانوں کو للکار سکیں مگر وہ ان سے بھی بہادر تھی مگر میں کہوں گا کہ اسکی یہ بہادری صرف اور صرف اسلام اور پاکستان کے خلاف تھی جس بہادری کو امریکہ انڈیا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور انڈیا اور اسرائیل کے خلاف اسکی بہادری کو سانپ سونگھ جاتا تھا اسکی وجہ یہی تھی کہ امریکہ پاکستان کو ایک تو سیکولر بنانا چاہتا تھا تاکہ ودوا لو تدھن فیدھنون کا معاملہ پورا ہو سکے دوسرا امریکہ چاہتا تھا کہ طالبان افغانستان کو چھوڑ کر پاکستان کے سر پڑ جائیں پس اس نے پاکستان میں پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے عاصمہ کو بہادر بنایا (بہادر بنانے کا لفظ میں نے جان بوجھ کر لکھا ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ وہ بہادر نہیں تھی بلکہ بنائی گئی تھی کیونکہ اگر بہادر ہوتی تو بہت پہلے جب اسکے پیچھے امریکہ کا ہاتھ نہیں تھا اور اسکو قتل کی دھمکی ملی تھی تو اس وقت امریکہ نہ بھاگتی) فوج جب بدنام ہو گی تو پھر لوگ ادھر ہی جہاد شروع کر دیں گے اور کوئی انڈیا یا افغانستان جا کر جہاد نہیں کرے گا اور امریکہ کی گل خلاصی ہو جائے گی یہ بات ان گمراہ ٹی ٹی پی والوں کو بھی سمجھ نہیں آتی
    اسی بارے تو پھر ہمارے دشمن (ٹی ٹی پی) والے یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ
    یوسف صاحب عاصمہ جہانگیر امریکہ انڈیا اسرائیل کے کہنے پر دو چیزوں کو ہٹ کر رہی تھی ایک اسلام کو ہٹ کر رہی تھی دوسرا پاکستان اور پاک فوج کو ہٹ کر رہی تھی جبکہ اسکے مقابلے ٹی ٹی پی والے اسلام کو ہٹ نہیں کر رہے تھے بلکہ صرف پاکستان اور پاک فوج کو ہٹ کر رہے تھے تو پھر زیادہ خطرناک تو عاصمہ تھی تو جو طوفان اسکے حق میں اٹھایا گیا اس سے کہیں زیادہ طوفان اگر ٹی ٹی پی کے حکیم اللہ محسود یا خالد سجنا وغیرہ کے حق میں اٹھایا ہوتا تو پھر یہ اوپر والی آیت کو کوٹ کرنے درست ہوتا ورنہ پھر جو یہ دریا کے مخالف چلنے کا دعوی ہے تو اصل میں یہ تو میڈیا کے دریا کے موافق چلنا ہے کیونکہ ٹی ٹی پی کے کیس میں چونکہ میڈیا کا دریا اور دینداروں کا دریا ایک ہی سمت میں بہ رہے ہیں پس یوسف صاحب آسانی سے بہاو کے موافق چلتے رہے مگر چونکہ عاصمہ کے معاملہ میں دینداروں کا دریا میڈیا کے دریا کے مخالف تھا اور میڈیا کا دریا زیادہ تند ہے پس دینداروں کے مخالف ہو کر بھی میڈیا کے موافق بہنا بہت آسان لگا

    (جاری ہے)
     
  6. ‏فروری 17، 2018 #6
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جب بے نظیر پہلی دفعہ وزیراعظم بنی تھی تو حوا کی بیٹی کے حق میں بہت سے پروگرام ٹی وی پہ چلائے گئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ
    بول کہ لب آزاد ہیں ترے
    ہم بھی بے شک آزاد ہو کر بولیں مگر ان بے دینوں کی طرح میڈیا کے دریا کے بہاو میں بولنا لازمی نہیں ہوتا شریعت کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے


    انتہائی معذرت کے ساتھ صرف سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان کرنا چاہوں گا یہاں مکمل اطلاق نہیں مگر اس سے سمجھنا آسان ہو جائے گا
    ایک بہرا کسی کی عیادت کے لئے گیا تو خود ہی سوچتا رہا کہ میں اس سے پوچھوں گا کہ علاج کس سے کروا رہے ہیں تو وہ کسی بڑے ڈاکٹر کا نام لے گا تو میں کہوں گا کہ بڑا اچھا ہے جلد رزلٹ نکل آئے گا اسی طرح اور بھی باتیں سوچیں جب وہاں مریض کے پاس بیمار پرسی کے لئے گیا تو پوچھا کہ کس سے علاج کروا رہے ہیں تو مریض پریشان تھا کہا کہ عزرائیل سے علاج کروا رہا ہوں تو اس بہرے نے کہا کہ بڑا اچھا ہے جلد رزلٹ آئے گا ۔۔۔
    میرا اپنے پیارے بھائی سے یہی سوال ہے کہ جب آپ کو پتا چلا کہ علماء کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش ہیں تو اس خاموشی کو آپ نے اپنے حق میں کیسے سمجھ لیا کہ سارے علماء جو خاموش ہیں وہ آپ کے حق میں موقف رکھتے ہیں یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ انکا موقف ان چالیس علماء کی طرح ہی ہو مگر کسی وجہ سے خاموش ہوں جیسا کہ آپ نے خود لکھا ہے
    اب جب آپ کو علم ہوا کہ کوئی ایک نام بھی نہیں بولا اور آپ کا بولنا لازم ہی ٹھہرا تھا تو کم از کم ان نہ بولنے والے چند علماء سے ہی پوچھ لیتے کہ آپ تو خاموش ہیں میں آپکی جگہ پہ بولنے لگنا ہوں تو کیا بولوں بلکہ پہلے تو ان سے یہ پوچھنا چاہئے تھا کہ​

    اب میں بولوں کہ نہ بولوں​

     
  7. ‏فروری 17، 2018 #7
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    لگتا ہے ہمارے محترم بھائی نے یہ جلدی میں لکھا ہے سوچ سمجھ کر نہیں لکھا
    یوسف بھائی کا موقف ہے کہ یہ جذباتی لوگوں کا موقف ہے
    اپنے اس موقف پہ محترم بھائی نے دو ثبوت دیئے ہیں
    پہلا یہ کہ اس میں کسی بھی مسلک کے جید عالم نے فتوی نہیں دیا
    ثانیا یہ کہ یہ فتوی نہیں ہے
    اب پہلے ثبوت کو ہی دیکھیں تو پتا چل جاتا ہے کہ انہوں نے جلدی میں لکھا ہے کیونکہ خود انکے مطابق بھی ان چالیس ناموں میں جید علماء بہت سے موجود ہیں خیر ہم حسن ظن رکھتے ہوئے انکو جلدی کا فائدہ دیتے ہیں کہ وہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون کے تحت اس پہلے ثبوت سے رجوع کر لیں
    البتہ اگر رجوع کرنے کی بجائے وہ یہ کہیں کہ جی میں نے فتوی نہ دینے کی بات کی ہے موقف نہ دینے کی بات نہیں کی تو محترم بھائی یاد رکھیں دوسرا ثبوت ہی آپ نے اس بارے دیا ہے کہ ـثانیا یہ فتوی نہیں ہےـ
    پس اگر پہلے ثبوت میں آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ فتوی نہیں تو دوسرے ثبوت میں بھی پھر یہی کہنا چاہ رہے ہیں

    محترم بھائی یہ تو ایسا اعتراض ہے کہ جس کا کسی نے دعوی ہی نہیں کیا کسی بھائی نے اگر کوئی ایسا دعوی کیا ہو کہ جی چالیس مفتیان کا فتوی ہے تو تب یہ اعتراض ہو سکتا ہے وہاں تو چالیس علماء کے موقف کی بات ہو رہی ہے پس اس اعتراض کی سمجھ نہیں آئی
     
    Last edited: ‏فروری 17، 2018
  8. ‏فروری 17، 2018 #8
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یا للعجب
    محترم بھائی واللہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کتنی جلدی میں یہ لکھا ہے کہ ہر بات دوسرے سے متضاد لگ رہی ہے میں نے اوپر کمنٹس کو چار پوائنٹس میں کر دیا ہے تاکہ وضاحت میں آسانی ہو
    ۱۔ پہلے پوائنٹ میں کہا کہ ایک مفتی صاحب ذاتی رابطہ کر کے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ فتوی ہر گز نہیں ( یعنی وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ یہ فتوی نہیں بلکہ صرف ہمارا موقف ہے پس ان مفتی صاحب نے ان کے ذاتی رابطہ کرنے پر بھی اس موقف کی تردید نہیں کی البتہ اس کو فتوی کہنے سے منع کیا)
    ۲۔ اب دوسرے پوائنٹ میں ہمارے پیارے بھائی کہ رہے ہیں کہ معلوم ہوا کہ ان سے اور طرح سے بات کر کے ان کا نام ڈال دیا گیا تو میرا سوال ہے کہ یہ نام کس جگہ ڈال دیا گیا کیا انکا نام کسی فتوی میں ڈالا گیا یا صرف موقف رکھنے والوں میں ڈالا گیا۔ اگر تو محترم بھائی کے ہاں انکا نام کسی فتوی میں ڈال دیا گیا تو پھر ان کے ساتھ فراڈ کہا جا سکتا ہے لیکن جہاں انکا نام ڈالا گیا اسکو خود محترم یوسف بھائی بھی فتوی نہیں مان رہے اور دوسرا یہ بھی کہ رہے ہیں کہ وہ مفتی بھی ذاتی رابطہ میں اس کو فتوی نہیں مان رہے بلکہ ایک موقف ہی مان رہے ہیں یعنی اس کو فتوی بھی نہیں مان رہے اور اعتراض بھی یہ کر رہے ہیں کہ انکا نام فراڈ سے اس میں ڈال دیا گیا محترم بھائی جب آپ کے ذاتی رابطہ میں انہوں نے واضح بتایا کہ یہ فتوی ہر گز نہیں (بلکہ موقف ہے) اور جہاں ڈالا گیا اسکو بھی آپ موقف ہی کہ رہے ہیں بلکہ موقف منوا رہے ہیں تو پھر اعتراض کی واللہ اس قلم کاری کی مجھ ناچیز کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی اللہ آپ کو آپ کے خلوص پر اجر عظیم دے امین
    ۳۔ تیرے پوائنٹ میں بھی یہی منوانے کی کوشش ہے کہ یہ فتوی نہیں بلکہ چالیس بندوں کا ایک موقف ہے تو محترم بھائی اسکو محل نزاع بنایا کس نے ہے
    ۴۔ چوتھے پوائنٹ میں بھی یہی بات ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ یہ فتوی نہیں

    (جاری ہے۔۔۔)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں