1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یومِ عاشوراء کواہل و عیال پر فراخی کرنا !!!

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 04، 2014۔

  1. ‏نومبر 04، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    13245_376005532566491_2793940119930709332_n.png

    یومِ عاشوراء کواہل و عیال پر فراخی کرنا

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:
    مَن وَسَّعَ عَلَی عَیَالِهِ یَومَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللہُ عَلَیهِ سَائِرَ سَنَتِهِ

    " جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر (کھانے میں) کشادگی

    کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال کشادگی کرے گا۔"

    ضعیف:

    اس حدیث کو امام بیہقی نے کئی سندوں سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی استنادی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :" یعنی یہ تمام سندیں اگرچہ ضعیف (کمزور) ہیں لیکن ایک دوسرے کو ملانے سے قوی ہو جاتی ہے۔"

    ٭امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔
    (کما فی المنار المنیف لابن القیم : ص۱۱۱)

    ٭امام شوکانی، علامہ طاہر پٹنی اور علامہ ابن عراق رحمہم اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں سلیمان راوی مجہول ہے۔

    (الفوائد المجموعة: ص۹۸، تذکرۃ الموضوعات: ص۱۱۸، تنزیعه الشریعة: ۱۸۸/۲)

    ٭امام سخاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی تمام اسناد ضعیف ہیں۔
    (المقاصد الحسنة: ص ۶۷۴)

    ٭شیخ البانی نے اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے اور اس کی وارد تمام سندوں کے بارے میں کہا ہے کہ : "یعنی اس کی تمام سندیں واہی (کمزور) ہیں اور بعض سندیں ضعف کے اعتبار سے شدید ہیں
    (الضعیفۃ: ۶۸۲۴)

    ٭ مزید دیکھئے:

    أسنی المطالب (ص۲۹۲)، العلل المتناھیة (۵۵۳/۲)، الاسرار المرفوعة (ص۴۷۴)، (الآثار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة: ص ۱۰۰)

    فائدہ:

    یومِ عاشوراء کو قسما قسم کے کھانے پکا کر کھنا اور اپنے اہل و عیال وغیرہ کو کھلانا، حلوہ تقسیم کرنا یا اس دن سرمہ ڈالنا وغیرہ، ان کا موں میں سے کوئی کام نہ تو نبی ﷺ سے ثابت ہے اور نہ سلف صالحین سے اور نہ ہی کسی مستند عالم نے اسے جائز قراردیاہے اور اس کے استحباب و فضیلت کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ تمام ضعیف وناقابل حجت ہے۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "اس سلسلے میں نہ نبی ﷺ سے کوئی صحیح حدیث وارد ہے اور نہ کسی صحابی سے، نہ اسے ائمہ مسلمین بشمول ائمہ اربعہ وغیرہم نے مستحب گردانا ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں اس کا تذکرہ منقول ہے۔ نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین سے کوئی روایت نہیں، نہ صحیح ، نہ ضعیف ، نہ کتب صحاح میں اس کا ذکر ہے اور نہ کتب سنن میں اور خیر القرون میں سے بھی ایسی کوئی روایت معلوم نہیں۔"
    (مجموع الفتاویٰ: ۲۹۹/۲۵)
    حافظ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    "اور ان (موضوع احادیث) میں سے عاشوراء کے دن سرمہ ڈالنا، زیب وزینت، وسیع خرچ کرنا اور (مخصوص) نمازیں پڑھنا وغیرہ فضیلتوں میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے، صرف روزوں کی فضیلت ثابت ہے، ان کے علاوہ سب کچھ باطل ہے۔"
    (المنار المنیف: ص۱۱۱)
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 18، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وسئل شيخ الإسلام:
    عما يفعله الناس في يوم عاشوراء من الكحل والاغتسال والحناء. والمصافحة وطبخ الحبوب وإظهار السرور وغير ذلك إلى الشارع: فهل ورد في ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث صحيح؟ أم لا؟

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ سے سوال کیا گیا کہ :
    محرم دس تاریخ یوم عاشوراء کو لوگ جو سرمہ ، غسل ،مصافحہ ،اور خصوصی کھانے پکانے کا اہتمام کرتے ہیں ،تو اس معاملہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث مروی ہے یا نہیں ؟
    فأجاب:
    الحمد لله رب العالمين، لم يرد في شيء من ذلك حديث صحيح عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا عن أصحابه ولا استحب ذلك أحد من أئمة المسلمين. لا الأئمة الأربعة ولا غيرهم. ولا روى أهل الكتب المعتمدة. في ذلك شيئا لا عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا الصحابة ولا التابعين لا صحيحا ولا ضعيفا لا في كتب الصحيح

    ترجمہ :
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "اس سلسلے میں نہ نبی ﷺ سے کوئی صحیح حدیث وارد ہے اور نہ کسی صحابی سے، نہ اسے ائمہ مسلمین بشمول ائمہ اربعہ وغیرہم نے مستحب گردانا ہے اور نہ کسی مستند کتاب میں اس کا تذکرہ منقول ہے۔ نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین سے کوئی روایت نہیں، نہ صحیح ، نہ ضعیف ، نہ کتب صحاح میں اس کا ذکر ہے اور نہ کتب سنن میں اور خیر القرون میں سے بھی ایسی کوئی روایت معلوم نہیں۔"
    (مجموع الفتاویٰ: ۲۹۹/۲۵)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں