1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یوم عاشوراء کا روزہ ، سال گزشتہ کا کفارہ بن جاتا ہے - سب بھائی اور بہن ضرور رکھیں (جزاک اللہ)

'نفلی روزے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 12، 2013۔

  1. ‏نومبر 12، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    یوم عاشوراء کا روزہ ، سال گزشتہ کا کفارہ بن جاتا ہے - سب بھائی اور بہن ضرور رکھیں (جزاک اللہ)


    1465180_495222650575304_557088828_n.jpg
     
    Last edited: ‏اکتوبر 19، 2015
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 12، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    یوم عاشوراء کا روزہ ، سال گزشتہ کا کفارہ بن جاتا ہے
    حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشوراء (محرم کی دس تاریخ) کے روزہ کے متعلق سوال کیے گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
    عاشوراء کے روزہ کے مراتب:۔

    بعض اہل علم نے عاشوراء کے روزہ کے تین حالات ذکر کئے ہیں :۔

    ١۔ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں اس کے ساتھ روزہ رکھنا.

    ٢۔ صرف عاشوراء (یعنی دس محرم) ہی کا روزہ رکھنا .

    ٣۔ ایک دن اس سے پہلے اور ایک دن اس کے بعد روزہ رکھنا یعنی مسلسل تین دن اور یہ طریقہ سب سے بہتر ہے .

    ۔ اور صرف یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے . (یہ فتوی الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا ہے)

    عاشوراء روزہ کی مناسبت :۔

    آج یعنی دس محرم کو اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام اوران کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کے ظلم سے نجات عطا فرمائی تھی اس لئے بطور شکریہ اللہ تعالیٰ کیلئے روزہ رکھنا چاہیے.
    اس مناسبت کے تعلق سے چند فائدے :۔

    ١۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے.

    ٢۔ یوم عاشوراء سے ایک دن پہلے یا ایک بعد میں روزہ رکھنا مستحب ہے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے جیسا کہ اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے .

    ٣۔ اس دن کی بہت عظیم فضیلت ہے اور اس کی حرمت بہت قدیم ہے .

    ٤۔ اس میں اس بات کی وضاحت ہے کہ سابقہ امتوں میں وقت کی تحدید چاند کے اعتبار سے ہوا کرتی تھی نہ کہ انگریزی مہینوں کے اعتبار سے ، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے کہ دس محرم وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے فوعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا اور موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی .

    ٥۔ یہ (روزہ رکھنا) وہ خوبی ہے جو سنت سے اس دن کے متعلق ثابت ہے ، باقی رہے دیگر اعمال جو اس دن کئے جاتے ہیں تو وہ سب کے سب بدعت ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے خلاف ہیں.

    یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بے شمار فضل و احسان ہے کہ وہ ایک دن کے روزہ کے عوض پورے ایک سال کے گناہ معاف کردیتا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ عظیم فضل والا ہے .

    میرے بھائی ! اس فضل کو حاصل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہو اور اپنا نیا سال اطاعت اور خیرات (نیکیوں) کے حصول میں سبقت کرتے ہوئے شروع کرو بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں.

    ( یہ اقتباس ، الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی کتاب (الضیاء اللامع) اور شیخ صالح فوزان الفوزان حفظہ اللہ کی کتاب (الخطب المنبریة) سے ماخوذ ہے ) ( مترجم : ابو فیصل سمیع اللہ رحمہ اللہ)
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 13، 2013 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    صرف اکیلے یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم

    کیامیں صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتاہوں یعنی اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد میں روزہ نہ رکھوں ؟

    الحمدللہ


    شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

    یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔

    ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

    یہی سوال لجنۃ الدائمۃ سے کیاگيا تواس کا جواب تھا :

    یوم عاشوراء کا اکیلا روزہ رکھنا جائز ہے ، لیکن افضل اوربہتر یہ ہے کہ اس سے دن قبل یا بعد میں بھی روزہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ سنت طریقہ ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے ۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اگر میں اگلے برس تک باقی رہا تو نومحرم کا روزہ رکھوں گا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1134 ) ۔

    ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ : دس کے ساتھ نومحرم کا بھی ۔

    اللہ تعالی کی توفیق بخشنے والا ہے ۔

    دیکھیں : اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ الافتاء ( 11 / 401 ) ۔

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 13، 2013 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    يوم عاشوراء كے ساتھ گيارہ تاريخ كا بھى روزہ ركھنا فقھاء كيوں مستحب قرار ديتے ہيں ؟

    يوم عاشوراء كے متعلق ميں نے سارى احاديث كا مطالعہ كيا ہے ليكن كسى ميں بھى يہ نہيں ملا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہود كى مخالفت كرتے ہوئے گيارہ محرم كا روزہ ركھنے كا اشارہ كيا ہو، بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا تو فرمان يہ ہے كہ:
    " اگر ميں آيندہ برس زندہ رہا تو ميں نو اور دس تاريخ كا روزہ ركھوں گا " يہوديوں كى مخالفت كرتے ہوئے، اسى طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كى بھى گيارہ تاريخ كا روزہ ركھنے كى راہنمائى نہيں فرمائى.
    اس بنا پر كيا يہ بدعت تو نہيں كہلائيگى كہ جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہيں كيا ہم وہ كر رہے ہيں، اور نہ ہى صحابہ كرام نے ايسا كيا ہے ؟
    اور كيا اگر كسى شخص كا نو محرم كا روزہ رہ جائے تو دس محرم كا روزہ كفائت كر جائيگا يا نہيں ؟

    الحمد للہ:

    علماء كرام نے گيارہ محرم كا روزہ ركھنا اس ليے مستحب قرار ديا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ كرام كو ايسا كرنے كا حكم ديا تھا.

    مسند احمد كى روايت ميں ہے كہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    اس حديث كو صحيح قرار دينے ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، شيخ احمد شاكر نے اسے حسن قرار ديا ہے، اور مسند احمد كے محققين حضرات اسے ضعيف كہتے ہيں.

    اور ابن خزيمہ نے اسے ان الفاظ كے ساتھ روايت كيا ہے ديكھيں: ابن خزيمۃ حديث نمبر ( 2095 ) علامہ البانى رحمہ اللہ كہتے ہيں: ابن ابى ليلى كے سوء حفظ كى بنا پر اس كى سند ضعيف ہے، اور عطاء وغيرہ نے اس كى مخالفت كى ہے، انہوں نے اسے ابن عباس سے موقوف روايت كيا ہے، اور اس كى سند امام طحاوى اور بيھقى كے ہاں صحيح ہے " انتہى

    اس ليے اگر حديث حسن ہے تو يہ حسن ہے، اور اگر ضعيف ہے تو اس طرح كے مسئلہ ميں علماء كرام تساہل سے كام ليتے ہيں، كيونكہ ا سكا ضعف تھوڑا سا ہے، نہ تو يہ موضوع ہے اور نہ ہى مكذوب، اور اس ليے بھى كہ يہ فضائل اعمال ميں ہے خاص كر محرم الحرام ميں روزے ركھنے كى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ترغيب دلائى ہے.

    حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    امام بيھقى نے يہ حديث سنن الكبرى ميں مندرجہ بالا الفاظ كے ساتھ روايت كى ہے، اور ايك دوسرى روايت ميں يہ الفاظ ہيں:
    اتحاف المہرہ ميں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان الفاظ كے ساتھ رويت كيا ہے كہ:

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    اسے احمد اور بيھقى نے ضعيف سند كے ساتھ روايت كيا ہے، كيونكہ محمد بن ابى ليلى ضعيف ہے، ليكن اس نے اكيلے يہ روايت نہيں كى بلكہ صالح بن ابى صالح بن حي نے اس كى متابعت كى ہے " انتہى
    اس طرح يہ روايت نو اور دس اور گيارہ تاريخ كا روزہ ركھنے كے استحباب پر دلالت كرتى ہے.
    بعض علماء نے گيارہ تاريخ كے روزے كے استحباب كا ايك اور سبب بيان كيا ہے يہ دس تاريخ كى احتياط ہے، كيونكہ بعض لوگ محرم كے چاند ميں غلطى كر سكتے ہيں، اس ليے يقينى طور پر معلوم نہيں كہ كونسا دن دس تاريخ كا تھا، اس ليے اگر كوئى مسلمان شخص نو اور دس اور گيارہ تاريخ كا روزہ ركھ ليتا ہے تو اس نے يوم عاشورا كا روزہ ركھ ليا.


    اور امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    اس سے يہ واضح ہوا كہ تين روزوں كو بدعت كہنا صحيح نہيں ہے.
    ليكن اگر كوئى شخص نو محرم كا روزہ نہيں ركھ سكا تو وہ اكيلا دس محرم كا روزہ ركھ لے تو اس ميں كوئى حرج نہيں اور يہ مكروہ نہيں ہوگا، اور اگر وہ اس كے ساتھ گيارہ محرم كا روزہ ملا لے تو يہ افضل ہے.

    مرداوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 13، 2013 #5
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  6. ‏نومبر 13، 2013 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    • ۔ حضرت ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کی عزت وتکریم کرتے اور اس دن روزہ رکھتے دیکھاتورسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے (یہود سے) زیادہ حقدار ہیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے روزہ کا حکم دیا۔
    ( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1125)
    • ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔

    ( صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 172)
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 14، 2013 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    رمضان كى قضاء كى موجودگى ميں عاشورا كا روزہ ركھنا

    مجھ پر رمضان كى قضاء ہے اور ميں عاشوراء كا روزہ ركھنا چاہتا ہوں، تو كيا ميرے ليے قضاء سے قبل عاشوراء كا روزہ ركھنا جائز ہے؟
    اور كيا ميں عاشوراء دس اور گيارہ محرم كا روزہ رمضان كى قضاء كى نيت سے ركھ سكتا ہوں، اور كيا مجھے عاشوراء كے روزے كا اجروثواب حاصل ہو گا ؟

    الحمد للہ :

    اول:

    جس شخص پر رمضان المبارك كے ايك يا ايك سے زيادہ دنوں كى قضاء ہو وہ نفلى روزہ نہ ركھے، بلكہ وہ اپنى قضاء سے ابتدا كرے اور پھر نفلى روزے ركھے.

    دوم:

    جب وہ دس اور گيارہ محرم الحرام كا روزہ رمضان المبارك كے چھوڑے ہوئے روزوں كى قضاء كى نيت سے رزہ ركھے تو يہ جائز ہے، اور يہ اس كے ذمہ دو يوم كى قضاء ہو گى، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    اور اميد ہے ركھى جاسكتى ہے كہ آپ كو اس دن كے روزے اور قضاء كا اجروثواب حاصل ہو گا.
    ديكھيں: فتاوى منار الاسلام، للشيخ محمد ابن عثيمين رحمہ اللہ ( 2 / 358 )

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 14، 2013 #8
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,789
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا
     
  9. ‏اکتوبر 29، 2014 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10730883_653381418111107_3344037315250883135_n.png
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 02، 2014 #10
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,552
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں