1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

یوم عرفہ کی فضیلت و اہمیت

'عربی سیکھیں' میں موضوعات آغاز کردہ از Bint e Rafique, ‏اگست 28، 2017۔

  1. ‏اگست 28، 2017 #1
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنا دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ سبحان اللہ

    اللہ عزوجل سال بھر کی تمام راتوں میں دنیائے آسمان پر نازل ہوتے ہیں جیسے اس کی شان کو لائق ہے

    سوائے یومِ عرفہ کے دن اللہ عزوجل دن کے وقت نزول فرماتے ہیں صرف اس دن کی عظمت کیلئے.
    -------
    محمد ﷺ نے فرمایا:
    _صِيامُ يومِ عَرَفَةَ ، إِنِّي أحْتَسِبُ على اللهِ أنْ يُكَفِّرَ السنَةَ التي قَبلَهُ ، و السنَةَ التي بَعدَهُ ، و صِيامُ يومِ عاشُوراءَ ، إِنِّي أحْتَسِبُ على اللهِ أنْ يُكَفِّرَ السنَةَ التِي قَبْلَهُ_
    الراوي : أبو قتادة | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الجامع
    الصفحة أو الرقم: 3853 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
    مختصر ترجمہ:
    *یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنا دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ گزرا ہوا سال اور آنے والا سال*
    -------
    صرف ایک روزہ رکھنا جو تقریبا 14 گھنٹے کا ہوگا جس سے مکمل دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے
    احتیاط کریں کہ کہیں آپ سے یہ اجر ضائع نہ ہو جائے یعنی ضرور روزہ رکھیں
    اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اور آپ کو اس اجر سے محروم نہ کرے۔
     
  2. ‏اگست 28، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,892
    موصول شکریہ جات:
    2,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    یہ بات صحیح حدیث سے ثابت سے جو صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں مروی ہے اور آپ نے اپنی پوسٹ میں نقل کی ہے :
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہ بات بھی کئی صحیح احادیث سے ثابت ہوتی ہے :
    عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا، حين يبقى ثلث الليل الآخر، فيقول: من يدعوني فأستجيب له، ومن يسألني فأعطيه، ومن يستغفرني فأغفر له "
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا پروردگار جو بڑی برکتوں اور بلند ذات والا ہے آخر تہائی رات میں ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو دوں، کوئی ہے جو مجھ سے بخشش چاہے میں اسے بخش دوں۔“ (ٍصحیح بخاری 1145، صحیح مسلم 765 )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہ بات کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ تعالی یوم عرفہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، اس پر جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ بالکل ضعیف ہے :
    علامہ ناصر البانی لکھتے ہیں :
    " إذا كان يوم عرفة، إن الله ينزل إلى السماء الدنيا. فيباهي بهم الملائكة فيقول: انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا ضاحين من كل فج عميق، أشهدكم أني قد غفرت لهم، فتقول الملائكة: يا رب فلان كان يرهق، وفلان وفلانة، قال: يقول الله عز وجل: قد غفرت لهم. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فما من يوم أكثر عتيق من النار من يوم عرفة ".
    ضعيف.
    رواه ابن منده في " التوحيد " (147 / 1) وأبو الفرج الثقفي في " الفوائد " (78 / 2 و92 / 1) والبغوي في " شرح السنة " (1 / 221 / 1 مخطوط و7 / 159 - طبع المكتب الإسلامي)
    (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة 679 )

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ہاں یوم عرفہ کے کئی فضائل صحیح احادیث میں موجود ہیں ، اور اسی فورم پر کئی پوسٹوں میں منقول ہیں ، ایک صحیح ہم یہاں بھی پیش کیئے دیتے ہیں :

    عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ "
    سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کو آگ سے اتنا آزاد کرتا ہو جتنا عرفہ کے دن آزاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور فرشتوں پر بندوں کا حال دیکھ کر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ کس ارادہ سے جمع ہوئے ہیں؟۔“ ( صحیح مسلم )
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 29، 2017 #3
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیر بهبهائی اسحاق
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں