1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یوٹیوب و دیگر بین ویب سائٹ اوپن کریں

'آئی ٹی ماہرین و ویب ماسٹرز' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏فروری 24، 2013۔

  1. ‏فروری 24، 2013 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    یوٹیوب و دیگر بین ویب سائٹ اوپن کریں​


    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    کیا آپ یو ٹیوب یا دیگر بین ویب سائٹس اوپن کرنا چاہتے ہیں ؟
    اور ایسا نہیں کر پا رہے تو گھبرائیے مت صرف یہ پروگرام ڈاؤن لوڈ کر کے اسے چلائیے اور ہر بین ویب سائٹ آسانی سے کھولئے۔۔۔۔!

    اس لنک پر کلک کریں خود بخود ہی ڈاؤن لوڈنگ شروع ہو جائے گی جب اس کو اوپن کریں گے تو سامنے ایک فائل کھلے گی تھوڑی دیر بعد ایک چھوٹی سے چڑیا نظر آئے گی اس کے نیچے لکھا ہوگا turn on لیں جی یوٹیوب اون ہو گئی


    [SUP](محمد داؤد)[/SUP]
     
  2. ‏فروری 24، 2013 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    یہ ایک اور لنک بھی پیش ھے اسے کھولیں اور اوپر YouTube Proxy پر کلک کریں اور پھر نیچے جہاں YouTube لکھا ہوا نظر آ رہا ھے اس کے آگے ProxFree پر کلک کریں تو یوٹیوب آپکے سامنے۔

    والسلام
     
  3. ‏فروری 24، 2013 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام
    کنعان بھائی! کیا یوٹیوب سے گستاخانہ فلم ہٹا دی گئی ہے؟
     
  4. ‏فروری 24، 2013 #4
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    حکومت پاکستان نے یوٹیوب اس لیے بین کی ہوئی ہے کہ اس پر نبی کریمﷺ کی گستاخانہ فلم موجود ہے۔
    ایسے میں کیا ہمیں پروگرام ڈاؤن لوڈ کر کے یوٹیوب چلانی چاہیئے؟
     
  5. ‏فروری 24، 2013 #5
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    ایک دو باتوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ اہل علم کے مابین گفتگو پر دلائل کی رو سے جو بات راجح ہوگی وہی میرا مؤقف ہوگا۔

    1۔ اگر یہ خبیث حرکت کفار نیٹ دنیا میں کونے کونے پر کرناشروع کردیتے ہیں تو کیا ہمیں انٹر نیٹ استعمال کرنا چھوڑ دینا چاہیے؟ چھوڑنےاورنہ چھوڑنے کی وجہ پر روشنی ڈالی جائے۔

    2۔ اگر کفار کی غلیظ حرکتوں کی وجہ سے یوٹیوب پر ایسی فلم اپلوڈ کردی گئی ہے۔ جو کہ کسی محب رسولﷺ کی برداشت سے باہر ہے تو کیا اسی لمحے ہمیں یوٹیوب پر زیادہ سے زیادہ اسلامی مواد، سیرت رسولﷺ پر مواد شیئر کرنے کا زیادہ فائدہ ہوگا یا قطع تعلقی کا ؟

    3۔ جب اہل کتاب کی عورت سےنکاح اسلام نےجائز قرار دیا ہے تو کیا وہ عورت ہمارے اللہ تعالیٰ کو اور ہمارےنبی کریمﷺ کومانتی ہوتی ہے؟ اگر نہیں مانتی ہوتی تو پھر اسلام نے ایسی عورت سے رشتہ ازدواج منسلک کرنے کا حکم کیوں دیا ہے؟
     
  6. ‏فروری 24، 2013 #6
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    نیٹ کے کونے کونے میں یہ حرکت کفار کیسے کر سکتے ہیں بھائی جان! یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ ہماری دینی ویب سائٹس پر بھی معاذ اللہ ایسی حرکتیں شروع کر دیں ہم اپنی ویب سائٹس کے ذریعے دفاع کرتے رہیں گے۔
    تو پھر آپ کے خیال میں حکومت پاکستان کا یوٹیوب کو بین کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ اگر یہ فیصلہ غلط ہے تو اس کی ٹھوس وجہ بتا دیجئے۔
    اور اگر آپ اس فیصلے کو درست سمجھتے ہیں تو بتائیے کہ ہمیں اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے یوٹیوب سے قطع تعلق برقرار رکھنا چاہیے یا پروگرامز کے ذریعے استعما ل کرنا چاہیے۔
    اس بات کا مذکورہ بحث کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
     
  7. ‏فروری 24، 2013 #7
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاکم اللہ خیرا قاسم بھائی
    بالفرض اگر کردیں تو ؟ ۔۔۔ اور ویسے میرے خیال میں یہ ناممکن بھی نہیں۔۔ کیونکہ وجہ ان کے پاس کنٹرول کا ہونا ہے۔
    کیا ہماری دینی ویب سائٹس کی ہوسٹنگ وغیرہ ہمارے پاس ہی ہوتی ہے؟ ۔۔ بھائی اصل کنٹرول تو ایسے لوگوں کے پاس ہی ہے۔ جو یاتو خود ان چیزوں کو قدر کی نگاہ سےدیکھتے ہیں یا ایسے لوگوں کے ہم نوا ہوتے ہیں۔۔
    کیا ایسے لوگ دینی ویب سائٹس کووزٹ کرتے ہیں؟ دینی ویب سائٹس پر تو ایسے لوگ ہی آئیں گے جو پہلے اس چیز کو نفرت کی نگاہ سےدیکھتے ہیں۔۔ اگر ایک پلیٹ فارم ہمارے پاس ایسا ہے جہاں پر ہر سوچ کابندہ آتا ہے تو کیوں نہ ہم دفاع اسی پلیٹ فارم پر کریں ؟۔۔ ہاں جب وہ لوگ اس بات پر بھی پابندی لگا دیں کہ ہم لوگ یوٹیوب پر کوئی چیز اپلوڈ بھی نہ کرسکیں تو پھر کلی طور بائیکاٹ کے حق میں ہوں۔۔ لیکن جب تک ہم اپنی طرف سے ڈیٹا اپلوڈ کرسکتے ہیں تو پھر ہمیں سیرت النبیﷺ پر زیادہ سے زیادہ مواد اپلوڈ کرنا چاہیے۔۔
    اور پھر کیا یہ کنفرم ہے کہ حکومت پاکستان نے بغیر کسی مغربی پالیسی کے بین کیا ہوا ہے ؟ جہاں تک میرا ذہن کام کرتا ہے یوٹیوب کو بھی کسی حکمت کےتحت بین کیا گیا ہے۔۔کیونکہ جب بین نہیں تھی، تب وزٹ کرنے پر مین صفحہ پر کچھ اسلامی ویڈیوز بھی دکھائی دیتی تھی، لیکن جب سےبین کیاگیا ہے تو مین صفحہ پر گند ہی گند ہوتا ہے۔۔۔ اچھا ایک اور بات حکومت پاکستان کل کو پابندی ہٹا دیتی ہے تو ؟۔۔۔ تب تک یوٹیوب موویز، گانے، ڈرامے اور پتہ نہیں کس طرح کے فحاشی پر مبنی ڈیٹا سے بھر چکی ہوگی۔۔
    اس لیے جہاں تک میراخیال ہے یوٹیوب اس مقصد کےلیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ آپ وہاں پر اسلامک ڈیٹا اپلوڈ کریں اور پہلے سےموجود اسلامک ڈیٹا کو زیادہ سے زیادہ شیئر ووزٹ کرنے کے ساتھ کومنٹس وغیرہ دیں۔۔۔ باقی اہل علم ہی روشنی فرمائیں گے۔۔
    حکومت پاکستان نے یوٹیوب بند کیوں کی؟ گستاخ فلم کی وجہ سے ؟ ان ظالموں کو کسی بھی طرح نقصان دینے کی وجہ سے ؟ مسلمانوں کے جلسےجلوس اور مظاہروں کی وجہ سے؟ یا کسی اور پالیسی کی وجہ سے؟اور پھر اگر کل کو بین ہٹا دیاجاتا ہے تو بین کا کیا فائدہ ہوا ہوگا ؟
    میرا سوال دوبارہ پیش ہے
    ’’ اسی لمحے ہمیں یوٹیوب پر زیادہ سے زیادہ اسلامی مواد، سیرت رسولﷺ پر مواد شیئر کرنے کا زیادہ فائدہ ہوگا یا قطع تعلقی کا ؟ ‘‘
    دیکھیں بھائی یہ فیصلہ حکومت کا ہے کسی خلیفہ کا نہیں۔؟ اور آپ بھی واقف ہونگے کہ حکومت کس طرح کےلوگوں کے ہاتھ میں ہے؟ اور کون لوگ اس حکومت کو استعمال کررہے ہیں؟ اس لیے اگر دینی مقاصد کےلیے استعمال کیاجائے تو میرے خیال میں کوئی حرج نہیں۔۔ واللہ اعلم
    بھائی اس بات کا تعلق ہے۔ جس کو واضح کرونگا۔۔آپ بتائیں کہ
    یوٹیوب کو دینی مقاصد کےلیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
     
  8. ‏فروری 24، 2013 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    یوٹیوب پر جس میٹیریل کے ہٹ جانے کا آپ فرما رہے ہیں میں ایسی چیزیں یوٹیوب پر نہیں دیکھتا اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہٹایا گیا ھے اور کیا نہیں۔ میں جب کوئی ایسی خبر سنتا ہوں تو بہت محتاط ہوتا ہوں اور اپنی فیملی کو بھی محتاط کر دیتا ہوں کہ یوٹیوب پر اس نام کا کلپس نہ دیکھیں۔

    کسی طالب علم نے کہیں لکھا تھا کہ اسے تعلیم کی غرض سے یوٹیوب پر لیکچر کے حوالہ سے مدد درکار ھے اس لئے کوئی اس پر بتا دے کہ اسے پاکستان میں کیسے استعمال کیا جائے جس پر میں نے اس فارم میں بھی یہی طریقہ پیش کیا ھے اور یہاں پر بھی ریگولر ہونے کی وجہ سے اسے لگایا ھے کہ شائد کسی طالب علم کو اس پر ضرورت پڑے۔

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ یوٹیوب استعمال نہیں کرنی چاہئے تو اس پر رپورٹ کریں اگر انتظامیہ سمجھتی ھے کہ اس دھاگہ کو ہٹا دینا چاہئے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

    والسلام
     
  9. ‏فروری 25، 2013 #9
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    گستاخانہ ویڈیو کے باوجود یوٹیوب کو دیکھنا کیسا عمل ہے؟


    السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کافی دنوں سے حکومت پاکستان نے یوٹیوب پر پابندی لگائی ہوئی ہے، چونکہ وہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی والی فلم اس سے نہیں‌ ہٹا رہے ہیں، اگر حکومت اس پر پابندی لگاتی ہے یا یوٹیوب گستاخانہ مواد جان بوجھ کر نہ ہٹائے تو کیا ایسے حالات میں پھر بھی یوٹیوب پر وزٹ کیا جا سکتا ہے، کیا یہ گناہ کے زمرہ میں آتا ہے؟
    جواب:
    ہمارا ملک مسلم ممالک میں سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے سب سے زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ یہاں ذہین لوگوں کی کمی ہے نہ ہی باہمت و باکردار لوگوں کی نہ ہی قیادت کا فقدان ہے، نہ ہی وسائل کی کمی ہے۔ اللہ تعالی نے وطن عزیز کو بہت سی نعمتوں سے مالامال کیا ہے۔ لیکن ہم بدقسمتی سے جمہوری ڈکٹیٹرشپ کے خونی پنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے اوپر مسلط نام کے حکمران ہیں جو سامراج کے نوکروں اور غلاموں کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی کوئی رائے ہے نہ حکومت، نہ مرضی اور نہ ہی عوام کو شہری حقوق میسر ہیں۔ بظاہر تو یہ آزاد ہیں لیکن درحقیقت یہ غلام ہیں اور ان کا حکومتی ڈھانچہ جس کو یہ جمہوریت کہتے ہیں اندر سے کھوکھلا ہے۔ بقول شاعر:

    دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
    تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری​


    اس لیے ہمارے ملک میں کبھی یہ نہیں سوچا جاتا کہ یوٹیوب، فیس بک، موبائل سروس وغیرہ بند کرنے سے ہماری ترقی پر کتنا برا اثر پڑے گا۔ جو حکم اوپر سے آ جائے اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔ اپنی سوچ سمجھ استعمال کرنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ کتنے لوگ جو یوٹیوب سے لیکچر تیار کرتے ہیں، ان کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں آجکل یوٹیوب سے کافی حد تک مدد لی جاتی ہے جس سے لوگوں کو محروم کیا گیا ہے۔ اس کا سبق ہمیں ہمسایہ ملک سے ہی سیکھ لینا چاہیے تھا کہ غیرمسلم حکومت ہونے کے باوجود انہوں نے یوٹیوب پہ گستاخانہ فلم کو بین کر دیا ہے لیکن پوری یوٹیوب کو بین نہیں کیا۔ اسی طرح باقی ممالک میں سے کافی ایسے ہیں، جنہوں نے یوٹیوب پر گستاخانہ فلم کو بلاک کر دیا ہے لیکن باقی چیزوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اب بتائیں ہمارا فیصلہ درست ہے یا ان کا؟
    اگر معاشرے میں زندہ رہنا ہے تو دور جدید کے ساتھ ساتھ چلنا ہوگا۔ یہ کوئی مسائل کا حل نہیں، کتنی چیزیں بلاک کرو گے؟ کس طرح جیو گے؟ اگر یہی صورت حال رہی تو تم زندہ بھی نہیں رہو گے۔ اسلام اس طرح زندگی کی بھیک مانگنے کا درس نہیں دیتا۔ اگر زندہ رہنا ہے تو ہمیں اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہو گا اور اسلام کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھنا ہو گا تاکہ مسلم وغیر مسلم اسلام کی اصلیت کو سمجھ سکیں۔ جب اسلامی تعلیمات عام ہوں گی تو ہر بچہ بوڑھا اسلام کے اصلہ چہرے سے واقف ہو گا، پھر کوئی ایسی جسارت نہیں کر سکے گا کہ وہ اسلام یا پیغمبر اسلام کے بارے میں غلط فلم بنائے یا اسلام کو بدنام کرے کیونکہ لوگوں میں اسلام کا اصل چہرہ موجود ہو گا تو کوئی بھی کسی ایک بدبخت کی باتوں میں نہیں آئے گا۔ جب تک ہم میں یہ ہمت اور کردار پیدا نہ ہوگا اس وقت تک ذلیل وخوار ہی ہوتے رہیں گے۔ ایک دوسرے پر فتوے ہی لگاتے رہیں گے تو ہم پر ظلم ہوتا رہے گا جب تک ہم سب مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہو جائیں گے۔

    اب آخر میں یہ بتانا ضروری ہے کہ یوٹیوب بنیادی طور پر کوئی غلط چیز نہیں ہے، ہمیں خود ہی ایسا قدم اٹھانا چاہیے کہ گستاخانہ کلپس کو بلاک کر دیا جائے اور باقی یوٹیوب کو استعمال کیا جائے اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ بند رکھنے سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہے نقصان ہمارا ہی ہے، اس لیے اس کو استعمال کرنا گناہ نہیں ہے۔ احتجاج تو اس وقت کیا جائے جب اس کا کوئی فائدہ بھی ہو۔ لہذا ہمیں یوٹیوب استعمال کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کرنے چاہیں کہ ایسا مواد جو آقا علیہ الصلاۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور باقی ہستیوں کی گستاخی پر مبنی ہو تو اس کو یوٹیوب پر آنے ہی نہ دیا جائے اگر کوئی بدبخت ایسی حرکت کرے بھی تو اس کو فورا ختم کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیابی نہ پا سکے۔

    المختصر یوٹیوب استعمال کرنا گناہ نہیں ہے لیکن اس کے استعمال کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    فتویٰ آن لائن
     
  10. ‏فروری 25، 2013 #10
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    میرے بھائی مجبوری کی بات الگ ہے۔ یوٹیوب کے حوالے سے یہ جو تھریڈ شروع کیا گیا ہے اس میں یوٹیوب کے عام استعمال پر بات ہو رہی تھی۔ آپ بتائیں گے پاکستان میں کتنے فیصد یوٹیوب کے صارفین ہیں جو یوٹیوب پر دینی ڈیٹا اپلوڈ کرتے ہیں؟
    میرے خیال سے یہ تعداد دس فیصد سے بھی کم ہوگی۔ باقی نوے فیصد کے بارے میں بھی آپ کی وہی رائے ہے؟ یقیناً ایسے لوگوں کے بارے میں نرمی دی جا سکتی ہے جن کے لیے یوٹیوب استعمال کرنا مجبوری ہے۔ میرے چھوٹے بھائی کے یونیورسٹی کے لیکچرز یوٹیوب پر ہوتے ہیں اس لیے میں نے اس کو یوٹیوب کے استعمال سے منع نہیں کیا۔ لیکن آپ سیرت النبیﷺ پر ڈیٹا اپلوڈ کرنے کا نام لے کر یوٹیوب کے استعمال کی اجازت تو تمام لوگوں کو مرحمت فرما رہے ہیں۔ جس کی تائید آپ کا منسلک کردہ فتویٰ بھی کر رہا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ مفتی صاحب علامہ طاہر القادری صاحب کے خوشہ چیں ہیں۔
    ہمارے مسلمان جیسے تیسے بھی ہیں میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نبی کریمﷺ کے ساتھ ان کی جذباتی محبت اور والہانہ لگاؤ موجود ہے۔
    میری یہی رائے حکمرانوں کے بارے میں بھی ہے(چند مستثنیات سے قطع نظر) کہ وہ حرمت رسولﷺ کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے ساتھ کوئی ہاتھ نہیں کر سکتے۔
    اس لیے خدا را! اس جذباتی وابستگی کو سازش کا لبادہ نہ اوڑھائیے۔
    اگر آپ کا یہ موقف ہے کہ یوٹیوب کو صرف اسلامک ڈیٹا اپلوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور صرف لازمی مجبوری کی صورت میں استعمال کیا جائے تو میں آپ سے متفق ہوں۔ لیکن اگر پاکستان میں اس کے عام استعمال کی اجازت دی جائے جیسا کہ آپ کے پیش کردہ مفتی صاحب نے شد و مد کے ساتھ کہا ہے تو میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ اور حکومت پاکستان کے اس قدم کو سراہتے ہوئے ان کی تائید کروں گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں