1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب

'یہودیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏ستمبر 25، 2013۔

  1. ‏ستمبر 25، 2013 #21
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ((وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا یَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ، یَھُوْدِيٌ وَلَا نَصْرَانِيٌ، ثُمَّ یَمُوْتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِہِ، إِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔))1
    ''اُس ذات اقدس (اللہ رب العالمین) کی قسم جس کے ہاتھ میں مجھ محمد (بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اس زمانے (یعنی میری بعثت سے لے کر قیامت تک) کا کوئی یہودی اور نہ ہی کوئی نصرانی (اور نہ ہی کوئی تیسرا کافر) ایسا نہ ہوگا کہ وہ میرے بارے میں سن لے (کہ میں اللہ تعالیٰ آخری نبی ہوں) اور اس دین کے بارے میں جان لے کہ جسے میں دے کر بھیجا گیا ہوں (قرآن و سنت والا دین حنیف) اور وہ ایمان نہ لایا تو وہ ضرور جہنم میں جائے گا۔''
    اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ: پچھلی تمام شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں اور نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت آپ کی بعثت کے بعد اب دنیا کی آخری شریعت ہے۔ اس لیے ہر وہ شخص کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں موجود تھا یا قیامت تک کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی دور میں موجود ہو، اُس پر نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں آنا واجب ہے۔
    انہی یہودیوں کے ایک باطنی حسد و بغض کی خبر دیتے ہوئے ہمارے محبوب نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور آپ کا کوئی بھی فرمان وحی الٰہی کے بغیر نہیں ہوتا تھا۔
    ((مَا حَسَدَتْکُمُ الْیَھُوْدُ عَلٰی شَيْئٍ مَّا حَسَدَتْکُمْ عَلٰی السَّلَامِ وَالتَّأْمِیْنِ))2
    ''فرمایا: مسلمانو! یہودی تمہارے ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اور آمِیْن'' کہنے سے جتنا جلتے ہیں اتنی کسی اور بات سے ان کو جلن نہیں ہوتی۔''
    (ان باتوں کی وجہ سے وہ لوگ تم سے بہت حسد کرتے ہیں) نماز میں آمین کہنے سے یہودی اس لیے جلتے ہیں کہ: اللہ عزوجل کی سکھلائی ہوئی دعا کے مطابق امام جب سارے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہتا ہے: غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِیْنَ ''اے اللہ! ان لوگوں کا راستہ اور دین ہمیں نہیں چاہیے کہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا ہے اور نہ ہی گمراہوں کا۔'' اور پھر مقتدی بلند آواز سے کہتے ہیں ''آمین'' اے اللہ! ہم سب کی یہ دعا قبول کرلے... تو ان یہودیوں کو اس لیے جلن ہوتی ہے کہ مغضوب علیہم سے مراد یہودی ہیں۔ اور مسلمانوں کے ایک دوسرے کو السلام علیکم کہنے سے یہودیوں کو اس لیے تکلیف پہنچتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں: ہم تو مسلمانوں کو باہم لڑانے میں رات دن ایک کیے پھرتے ہیں مگر یہ ہیں کہ جب بھی آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے کو سلامتی کا پیغام دیتے ہیں۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 أخرجہ مسلم، في کتاب الإیمان، باب: وجوب الإیمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، إلی جمیع الناس ، ونسخ الملل بملتہ، حدیث: ۳۸۶۔
    2 صحیح سنن ابن ماجہ، رقم : ۶۹۷۔
     
  2. ‏ستمبر 25، 2013 #22
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یہ یہودی وہ قوم ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ آخر زمانے میں یہ لوگ کفر اور شر فساد والی اُس چھاؤنی میں ہوں گے جس کا قائد اعلیٰ ربوبیت کا اعلان کرنے والا دجال ہوگا۔ جبکہ اس کے مدمقابل ایمان اور خیر، بھلائی کی چھاؤنی سیّدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زیر قیادت ہوگی کہ جس میں تمام اہل ایمان و اسلام ہوں گے۔ پھر اللہ عزوجل اپنے محبوب بندے اور جلیل القدر پیغمبر جناب عیسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے ہاتھوں دجال اور یہودیوں کو قتل کریں گے۔ (اس وقت جنابِ عیسیٰ بن مریم بحیثیت پیغمبر نہیں بلکہ بحیثیت اُمتی ہوں گے۔ یعنی نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کی حیثیت سے۔ علیہ التحیۃ والسلام )مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے اس واقعہ کی خبر اللہ عزوجل نے اپنے حبیب و خلیل نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی خفی کے ذریعے دے رکھی ہے اور پھر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو یوں بیان فرمایا ہے:
    ((قَالَ عِیْسٰی: اِفْتَحُوا الْبَابَ، فَیَفْتَحُوْنَ وَوَرَائَہُ الدَّجَّالُ، مَعَہُ سَبْعُوْنَ أَلْف یَھُوْدِيٌّ، کُلُّھُمْ ذُوْ سَیْفٍ مَحَلِّی وَسَاجٍ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَیْہِ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ۔ وَیَنْطَلِقُ ھَارِبًا، وَیَقُوْلُ عِیْسَی: إِنَّ لِيْ فِیْکَ ضَرْبَۃً لَنْ تَسْبقني، فَیُدْرِکُہُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ، فَیَقْتُلُہُ، فَیُھْزِمُ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ۔))1
    ''عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: دروازہ کھولو! اور وہ دروازہ کھول دیں گے۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پچھلی جانب دجال اور اس کے ہمراہ ستر ہزار یہودی ہوں گے۔ ہر یہودی کے پاس ساگوان کی لکڑی کے دستے والی نہایت چمکدار، تیز دھار تلوار ہوگی۔ جب عیسیٰ علیہ السلام دجال کی طرف دیکھیں گے تو وہ اس طرح گھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔وہ وہاں سے بھاگ اٹھے گا۔ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام اُس سے فرمائیں گے: تجھے ایک ہی وار کے ساتھ قتل کرنا میرے حق میں لکھا جاچکا ہے، اس لیے تو مجھ سے بھاگ نہیں سکتا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام دجال کو مشرقی بابِ لُد کے پاس جالیں گے اور اسےقتل کر ڈالیں گے۔ اس کے بعد اللہ عزوجل یہودیوں کو نہایت بری طرح کی شکست سے دو چار کر ڈالیں گے۔'' (حتیٰ کہ علاقہ فلسطین کے اس میدان جنگ کا ہر درخت اور ہر پتھر مسلمان مجاہدین کو آواز دے کر بتلائے گا کہ دیکھو میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہے آؤ اسے قتل کرو)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1 صحیح الجامع الصغیر، رقم : ۷۸۷۵۔
     
  3. ‏ستمبر 25، 2013 #23
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَھُوْدَ۔ فَیَقْتُلُھُمُ الْمُسْلِمُوْنَ۔ حَتَّی یَخْتَبِیَٔ الْیَھُوْدِیَّ مِنْ وَّرَائِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ۔ فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ: یَا مُسْلِمُ! یَا عَبْدَ اللّٰہِ! ھَذَا یَھُوْدِيٌّ خَلْفِيْ۔ فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ إِلَّا الْغَرْقَدَ۔ فَإِنَّہُ مِنْ شَجَرِ الْیَھُوْدِ۔))1
    ''قیامت قائم نہ ہوگی مگر یہ ہے کہ اس سے پہلے پہلے مسلمان یہودیوں سے (آخری معرکہ) لڑیں گے۔ پھر مسلمان ان کو قتل کرتے چلے جائیں گے حتیٰ کہ یہودی اگر کسی پتھر یا کسی درخت کی آڑ میں چھپا ہوگا تو وہ پتھر اور درخت بول اٹھے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ میرے پیچھے ایک یہودی چھپا بیٹھا ہے۔ ادھر آ اور اس کو قتل کردے۔ سوائے شجر غرقد کے۔ (وہ نہیں بولے گا) اس لیے کہ وہ یہودیوں کا درخت ہوگا۔'' (غرقد ایک کانٹے دار درخت ہے جو بیت المقدس کی طرف بہت ہوتا ہے)
    سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہوکر صلیب کو توڑ ڈالنے والے عمل، خنزیر کو قتل کرکے دنیا سے مٹا دینے، دین اسلام کے حکم کو دنیا پر نافذ کردینے اور اسلام کے علاوہ ہر قانون اور دستور کو باطل کردینے والی یہود کے نزدیک ہر ناگواری کے باوجود کہ انہیں خوب معلوم ہے: ایسا ہوکر رہے گا اور اُن کی سازشوں پر حق غالب آکر رہے گا، ان ظالموں نے کھلا انکار کرتے ہوئے کفر و شر اور فساد و دہشت گردی کی راہ پر چلنا آخر زمانے تک اختیار کر رکھا ہے۔
    سیّدنا عیسیٰ بن مرین (اور امام مہدی جناب محمد بن عبد اللہ) ـ علیہم السلام کی قیادت میں ایک جانب مسلمان مجاہدین اور دوسری طرف کانے دجال اور یہودیوں کے مابین اس آخری معرکہ اور جنگ و قتال کا یہ آخری نتیجہ ہوگا اور اس معرکہ میں دجال کافر، قوم یہود اور ان کے تمام حلیفوں اور مددگاروں پر اللہ عزوجل کی خاص مدد کے ساتھ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام اور مسلمان مجاہدین رحمہم اللہ جمیعاً کی یہ شاندار فتح ہوگی۔ یہ وہی آخری معرکہ اور جنگ عظیم ہے کہ جس میں یہودی اور ان کے تمام حلیف و مددگار اپنی ہر طرح کی قوت، طاقت، تسلط اور دنیاوی ترقی جھونک دینے کے باوجود پوری پوری کوشش کریں گے کہ وہ اس جنگ سے دور رہیں۔ اس کے لیے وہ کئی حربے اختیار کریں گے۔ جیسے کہ: روئے زمین پر کسی بھی ملک اور شہر میں صحیح، سچے اور اصلی (عین قرآن و سنت کے مطابق منہج نبوی علی صاحبہ التحیۃ والسلام پر عمل پیرا ہوکر) اسلامی لشکر یا جماعت حقہ کے ساتھ جنگ و قتال قائم کرکے انہیں وہاں پر اُلجھائے رکھنا، (جیسے آج کل یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر دنیا کے مختلف مقامات پر یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں) پراپیگنڈہ اور نشر و اشاعت کے ذریعے دین حنیف کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے والے عمل کو مسلسل جاری رکھنا اور آخری معرکہ کے اسباب کو ہمیشہ ختم کرتے رہنے کا عمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس راہ کو ہموار رکھنے کے لیے مسلمانوں پر دنیا جہان میں ہر جگہ پر ظلم و استبداد اور زیادتیاں کرنے والے جرائم کا ارتکاب بھی کر رہے ہیں۔ اسی طرح اہل اسلام پر فریادوں کی پامالی میں انسانی حقوق کی آخری حد تک بے حرمتی کر رہے ہیں۔ (عراق، گوانتا، فلسطین و اسرائیل اور افغانستان و پاکستان کی جیلوں میں جو انسانیت سوز سلوک یہ یہود و نصاریٰ، رب کائنات کے، انبیاء کرام علیہم السلام کے اور دین حنیف کے دشمن کر رہے ہیں کیا یہ سب کچھ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے؟)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    1أخرجہ مسلم في کتاب الفتن وأشراط الساعۃ۔ ۷۳۳۹۔
     
  4. ‏ستمبر 25، 2013 #24
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام، نبی اسلام اور مسلمانوں کے ان دشمنوں کی طرف سے بغیر کسی ہچکچاہٹ، بغیر کسی رحم دلی اور بغیر کسی شفقت کے ہر ایک بوڑھے ضعیف مسلمان، ہر چھوٹے بچے، مسلمان کمزور عورت اور عاجز مسلمان بیمار کا خون بہانے اور ان کے زندہ جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے جرائم کا جو ارتکاب ایک تسلسل سے جاری ہے، کیا ہر سمجھدار آدمی سے یہ سب کچھ پوشیدہ ہے؟ نہیں بلکہ آج دنیا کے ہر انسانوں کو ان کے ان جرائم کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہودیوں نے کم از کم جو کوشش کی ہے وہ یہ کہ انہوں نے صدیوں پر محیط اس مسلسل جنگ کا نتیجہ دنیا کے سامنے برعکس پیش کیا ہے۔ یعنی یہ ظالم بھیڑیے خود کو دنیا کے امن کا ٹھیکیدار اور ساری دنیا کے خیر خواہ بتلاتے ہیں اور امن و سلامتی والے دین کے حامل مسلمانوں کو دہشت گرد اور فسادی گردانتے ہوئے دنیا کے سامنے انہیں ایک مجرم قوم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
    لیکن ہم سب اہل اسلام کو یہ بات کافی ہونی چاہیے کہ اس بات کو خوب جانا جائے کہ: مسلمان ہی اہل امن و ایمان اور مضبوط و وسیع خیر بھلائی والے ہیں۔ بلاشبہ اللہ کے مومن بندے مسلمان ہی وہ لوگ ہیں کہ جو مستقبل قریب میں سیّدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوں گے۔ کسی ایک بھی مسلمان آدمی کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اس نظریہ اور اس بات کی غلطی کرتے ہوئے گمان کرے کہ نعوذ باللہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا تعلق اہل کفر سے ہوگا اور آپ شر، فساد اور دہشت گردی کو تقویت دینے والے ہوں گے؟ بلکہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو آدمی ایسا گندہ گمان رکھتا ہے وہ کافر مرتد ہے۔

    اللہ تعالی کی پسند اور ناپسند
     
  5. ‏ستمبر 25، 2013 #25
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں