1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہ حدیث اور اثر صحیح ہے یا نہیں

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏مارچ 02، 2016۔

  1. ‏مارچ 02، 2016 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﻣﯿﮟ
    ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ
    ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮐﮫ ﻧﮧ ﮬﻮﺍ
    (ﺍﻟﺸﻔﺎﺀ,ﺟﻠﺪﻧﻤﺒﺮ ,2
    ﺻﻔﺢ ﻧﻤﺒﺮ 195)

    ﺧﻼﻓﺖِ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ
    ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﺎ ﮔﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﺑﻦ
    ﺍﻣﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ . ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ
    ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ
    ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ
    ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﺎﻡ ﺳﺰﺍﺅﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
    ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﯽ
    (ﺍﻟﺸﻔﺎﺀ,
    ﺟﻠﺪﻧﻤﺒﺮ ,2
    ﺻﻔﺢ ﻧﻤﺒﺮ 196
     
  2. ‏مارچ 02، 2016 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @خضر حیات
    @رضا میاں
     
  3. ‏مارچ 02، 2016 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,338
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ روایت بلا کسی سند اور حوالہ کے ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
    وَبَلَغ الْمُهَاجِر بن أَبِي أُمَيَّة أَمِير الْيَمَن لأبي بَكْر رَضِي اللَّه عَنْه أَنّ امْرَأة هناك فِي الرّدّة غَنَّت بِسَبّ النبي صلى الله عليه وسلم فَقَطَع يَدَهَا وَنَزَع ثَنِيّتَهَا فبَلَغ أَبَا بَكْر رَضِي اللَّه عَنْه ذَلِك فَقَال لَه لَوْلَا مَا فَعَلْت لأمَرْتُك بِقَتْلِهَا لِأَنّ حَدّ الْأَنْبِيَاء لَيْس يُشْبه الحُدُود
    الشفا بتعريف حقوق المصطفى - وحاشية الشمني (2/ 222)
    شفا للقاضی کے ایک دوسرے نسخے کے حاشیہ میں لکھا ہوا ہے :
    في اثر رواه ابن سعد وابن عساكر.الشفا بتعريف حقوق المصطفى - محذوف الأسانيد (2/ 490)
    یعنی طبقات ابن سعد اور تاریخ ابن عساکر میں اس کی اصل موجود ہے ۔ علامہ علی القاری شرح الشفاء کے اندر اس کی تخریج یونہیں بیان کی ہے (شرح الشفا (2/ 407)
    یہ روایت کنز العمال میں مزید اضافے اور سیف بن عمر التمیمی ( ضعیف فی الحدیث عمدۃ فی التاریخ ) کی کتاب ’’ الردۃ و الفتوح ‘‘ کے حوالے کےساتھ ملی ہے :
    عن الأشياخ أن المهاجر بن أبي أمية وكان أميرا على اليمامة رفع إليه امرأتان مغنيتان غنت إحداهما بشتم النبي صلى الله عليه وسلم فقطع يدها ونزع ثناياها، وغنت الأخرى بهجاء المسلمين فقطع يدها ونزع ثنيتها، فكتب إليه أبو بكر: بلغني التي فعلت بالمرأة التي تغنت بشتم النبي صلى الله عليه وسلم، فلولا ما سبقتني فيها لأمرتك بقتلها، لأن حد الأنبياء ليس يشبه الحدود فمن تعاطى ذلك من مسلم فهو مرتد، أو معاهد فهو محارب غادر، وأما التي تغنت بهجاء المسلمين فإن كانت ممن يدعي الإسلام فأدب دون المثلة وإن كانت ذمية فلعمري لما صفحت عنه من الشرك لأعظم، ولو كنت تقدمت إليك في مثل هذا لبلغت مكروها، وإياك والمثلة في الناس، فإنها مأثم ومنفرة إلا في القصاص. "سيف في الفتوح".
    كنز العمال (5/ 568) برقم 13992
    اسی روایت کو علامہ تقی الدین سبکی نے بھی نقل کیا ہے :
    وروى سيف وغيره أن المهاجر بن أبي أمية ـ وكان أميرًا على اليمامة أو نواحيها ۔۔۔ پھر مکمل روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں : فإن قيل: لِمَ لا كتب إليه أبو بكر بقتلها؟ قلنا: لعلها أسلمت، أو لأن المهاجر حدها باجتهاده فلم ير أبو بكر أن يجمع بين حدين
    السيف المسلول على من سب الرسول (ص: 123، 124)
    التوضيح لشرح الجامع الصحيح (31/ 545) میں بھی یہ آثار بیان ہوئےہیں ۔
    بلکہ یہی روایت ان سب سے پہلے تاریخ طبری کے اندر بھی موجود ہے :
    كَتَبَ إِلَيَّ السَّرِيُّ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: وَقَعَ إِلَى الْمُهَاجِرِ امْرَأَتَانِ مُغَنِّيَتَانِ، غَنَّتْ إِحْدَاهُمَا بشتم رسول الله ص، فَقَطَعَ يَدَهَا، وَنَزَعَ ثنيتَهَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: بَلَغَنِي الَّذِي سِرْتَ بِهِ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي تَغَنَّتْ وَزَمَرَتْ بِشَتِيمَةِ رَسُولِ الله ص، فَلَوْلا مَا قَدْ سَبَقْتَنِي فِيهَا لأَمَرْتُكَ بِقَتْلِهَا، لأَنَّ حَدَّ الأَنْبِيَاءِ لَيْسَ يُشْبِهُ الْحُدُودَ، فَمَنْ تَعَاطَى ذَلِكَ مِنْ مُسْلِمٍ فَهُوَ مُرْتَدٌّ، أَوْ مُعَاهِدٍ فَهُوَ مُحَارِبٌ غَادِرٌ.
    تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (3/ 341)
    لیکن اس کی سند میں بھی سیف موجود ہے باقی سند کیسی ہے ، واللہ اعلم ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ : اس روایت کی صحت سند محتاج ثبوت ہے ۔
    پہلی روایت سے متعلق اگلی پوسٹ میں۔
     
    Last edited: ‏مارچ 02، 2016
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 02، 2016 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,338
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ واقعہ قاضی نے ابن قانع کے حوالے سے بلاحوالہ بیان کیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :
    وَرَوَى ابن قانِع أَنّ رَجُلًا جاء إِلَى النَّبِيّ صلى القه عَلَيْه وَسَلَّم فَقَال يَا رَسُول اللَّه سَمِعْت أَبِي يَقُول فيك قولًا قَبيحًا فقتله فَلَم يشُقّ ذَلِك عَلَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْه وَسَلَّم۔
    الشفا بتعريف حقوق المصطفى - وحاشية الشمني (2/ 222)
    اس روایت کے بارے میں بھی کافی جستجو کی ہے ، لیکن کہیں سند کے ساتھ نہیں مل سکی ، اوپر والی روایت کےسلسلے میں جن کتب کا ذکر کیا ہے ، ان میں سے بعض میں بلا سند مذکور ہے ۔
    لہذا اس روایت سے بھی استدلال کرنے کے لیے اس کی صحت ثابت کرنے کی ضرورت ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 02، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,338
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سیوطی نے بھی مناہل الصفا فی تخریج أحادیث الشفاء کے اندر ان دونوں روایات کی تخریج و تحقیق بیان نہیں کی ۔ دیکھیں ( مناہل الصفا ص 243 )
     
  6. ‏مارچ 02، 2016 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    اصل میں ان کی تحقیق میں نے اس لیے کروئی تھی کے بریلوی حضرت اس سےیہ مسئلہ ثابت کررہیں ہیں کہ عام شخص کا بھی گستاخ رسول کو قتل کرسکتا
     
  7. ‏مارچ 02، 2016 #7
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    جزاک اللہ خیرا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں