1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’خارجیت، سبائیت اورشیعیت‘‘ بجواب ’’رافضیت ، ناصبیت اوریزیدیت‘‘ (حصہ اول)۔

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اگست 18، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏ستمبر 14، 2012 #11
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,915
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    [​IMG]

    اس روایت کے ترجمہ میں کوتاہی ہے چنانچہ حدیث کے الفاظ تھے:
    فَجَعَلَ يَنْكُتُ[صحيح البخاري 5/ 26]۔
    اس کا ترجمہ پوسٹر نگار نے یہ کیا:
    اس ترجمہ میں ’’سرمبارک‘‘ متن میں موجود کسی بھی لفظ کا ترجمہ نہیں ہے ،متن میں يَنْكُتُ کا لفظ ہے جس کے معنی زمین کریدنا ہوتا ناکہ سر کریدنا تفصیل آگے آرہی ہے۔

    اسی طرح بریکٹ میں لکھا گیا:
    حالانکہ روایت میں تنبیہ کا کوئی مفہوم سرے سے نکلتا ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس تائید کا مفہوم نکلتا ہے یعنی ابن زیاد نے حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی تعریف کی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے مذکورہ بات کہی ہے۔



    اس روایت کو لیکر عبیداللہ بن زیاد پرتین الزامات لگائے جاتے ہیں:

    • حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لایا جانا۔
    • حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی مذمت۔
    • حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی بے حرمتی۔
    اب ذیل میں ان تینوں الزامات کا جائزہ پیش خدمت ہے:

    حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لایا جانا۔
    اس پہلو سے ابن زیاد پر کوئی الزام عائد نہیں ہوسکتا کیونکہ ابن زیاد نے تو ایسا کرنے کاحکم نہیں دیا ، ورنہ اگر یہی فلسفہ بروئے کار لایاجائے تو یہی معاملہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہوا ، چنانچہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ جنہیں پوسٹر نگار نے جلیل القدر صحابی لکھا ہے وھو کذالک ، ان کے والد محترم اورجنت کی بشارت یافتہ عظیم المرتبت صحابی زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا اورقاتل ان کے سر کو لیکرعلی رضی اللہ عنہ کے دروازے پرحاضرہوا، چنانچہ:

    امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
    أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي الْوَالِبِيَّ قَالَ : دَعَا الأَحْنَفُ بَنِي تَمِيمٍ فَلَمْ يُجِيبُوهُ ، ثُمَّ دَعَا بَنِي سَعْدٍ فَلَمْ يُجِيبُوهُ ، فَاعْتَزَلَ فِي رَهْطٍ ، فَمَرَّ الزُّبَيْرُ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ : ذُو النِّعَالِ ، فَقَالَ الأَحْنَفُ : هَذَا الَّذِي كَانَ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَاتَّبَعَهُ رَجُلاَنِ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهِ أَحَدُهُمَا فَطَعَنَهُ ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ الْآخَرُ فَقَتَلَهُ ، وَجَاءَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْبَابِ فَقَالَ : ائْذَنُوا لِقَاتِلِ الزُّبَيْرِ ، فَسَمِعَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ : بَشِّرْ قَاتَلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ، فَأَلْقَاهُ وَذَهَبَ.[الطبقات الكبرى لابن سعد: 3/ 110 واسنادہ صحیح ، واخرجہ ایضا ابن عساکر من طریق ابن سعد بہ]
    اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ، کسی بھی راوی سے متعلق اہل فن کے اقوال معلوم کرنے کے لئے اسی راوی پر کلک کریں ۔

    اوریہ روایت ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے ، چنانچہ:
    امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
    أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن منصور أنا أحمد بن عبد الواحد بن أبي الحديد أنا جدي أنا أبو بكر الخرائطي نا عمر بن شبة نا قرة ابن حبيب ناالفضل بن أبي الحكم عن أبي نضرةقال جيء برأس الزبير إلى علي فقال يا أعرابي حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا إلى جنبه قاعد أن قاتل الزبير في النار يا أعرابي تبوأ مقعدك من النار[تاريخ مدينة دمشق لابن عساکر: 18/ 421 واسنادہ قوی]۔

    نیزاسی روایت کی ایک تیسری سند بھی ہے جسے امام حاکم نے اسے روایت کیا ہے اوربعد روایت اسے صحیح قرار دیا ہے اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ان کی تائید کی ہے دیکھئے ۔[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3/ 414 رقم 5580]۔
    لیکن ہماری نظر میں یہ روایت ضعیف ہے ، اوراس سلسلے کی سب سے مضبوط اور مستند وصحیح روایت وہی ہے جسے ہم نے اوپر امام ابن سعد رحمہ اللہ کے حوالے سے پیش کیا ہے۔

    حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی مذمت۔
    بخاری کے الفاظ ہیں:
    وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا [بخاری رقم ٣٧٤٨]۔
    ان الفاظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے آپ کے حسن کی تعریف کی تھی ، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ بخاری کے ان الفاظ کی شرح میں فرماتے ہیں :
    ’’ای من المدح ‘‘ [ھدایۃ الرواۃ: ج٥ص٤٦١، حاشیہ رقم ٢]۔
    اوراس روایت کے اخیرمیں جو یہ الفاظ ہیں:
    كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [بخاری رقم ٣٧٤٨]۔
    اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ابن زیاد نے حسن کی تعریف ہی کی تھی ، جبھی تو صحابی رسول نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی مشابہت ذکر کرکے اس کی تائید کی ۔
    اوربعض روایات میں تو بالکل صراحت ہے کہ ابن زیادنے اس موقع پر حسن کی تعریف ہی کی تھی ، چنانچہ ابن حبان میں منقول اسی روایت کے الفاظ ہیں:

    مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا![صحيح ابن حبان: 15/ 429]۔
    اورترمذی کے الفاظ ہیں:
    مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، لِمَ يُذْكَرُ؟[سنن الترمذي ت شاكر 5/ 659]۔
    ان تمام روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی تعریف ہی کی تھی ۔


    حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی بے حرمتی۔
    بخاری کے الفاظ ہیں:
    فَجَعَلَ يَنْكُتُ[صحيح البخاري 5/ 26]۔

    ’’ينكت‘‘ کا معنی ہوتا ہے سوچ یا غم کی حالت میں باریک اورچھوٹی لکڑی یا انگلی سے زمین کریدنا۔
    اہل عرب کا معمول تھا کہ وہ غوروفکر یا غم کی حالت میں ایساکرتے تھے۔

    امام ابن الأثيررحمه الله (المتوفى606)نے کہا:
    (نَكَتَ) فِيهِ «بَيْنا هُوَ يَنْكُتُ إذِ انْتَبه» أَيْ يُفَكِّر ويُحدِّث نفسَه. وَأَصْلُهُ مِنَ النَّكْتِ بالحَصَى، ونَكْت الأرضِ بالقَضيب، وَهُوَ أَنْ يُؤثِّرَ فِيهَا بطَرَفِه، فِعْلَ المُفَكِّر المَهْموم. وَمِنْهُ الْحَدِيثُ «فجعَل يَنْكُتُ بقَضيب» أَيْ يَضْرب الأرضَ بطَرَفه. وَحَدِيثُ عُمَرَ «دخَلْت الْمَسْجِدَ فَإِذَا الناسُ يَنْكُتون بالحَصى» أَيْ يَضْربون بِهِ الْأَرْضَ. [النهاية في غريب الحديث والأثر 5/ 113]۔

    لسان العرب میں ہے:
    فَجَعَلَ يَنْكُتُ بقَضيبٍ أَي يَضْرِبُ الأَرض بطَرَفه. ابْنُ سِيدَهْ: النَّكْتُ قَرْعُكَ الأَرضَ بعُود أَو بإِصْبَع. وَفِي الْحَدِيثِ: بَيْنَا هُوَ يَنْكُت إِذ انْتَبه ؛ أَي يُفَكِّرُ ويُحَدِّثُ نفسَه، وأَصلُه مِنَ النَّكْتِ بالحَصى. ونَكَتَ الأَرضَ بِالْقَضِيبِ: َهُوَ أَن يؤَثر فِيهَا بِطَرَفِهِ، فِعْلَ المُفَكِّر الْمَهْمُومِ [لسان العرب 2/ 100]۔

    امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب قائم کیا ہے:
    بَابُ الرَّجُلِ يَنْكُتُ الشَّيْءَ بِيَدِهِ فِي الأَرْضِ[صحيح البخاري 8/ 48]۔
    پھر اس کے تحت ایک جنازہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت سے متعلق حدیث ہے اور یہ غم کا موقع ہوتا ہے اس میں ہے:

    فَجَعَلَ يَنْكُتُ الأَرْضَ بِعُودٍ[صحيح البخاري 8/ 48]۔
    معلوم ہوا کہ اہل عرب کے یہاں ینکت کا عمل سوچ اور غم کے وقت ہوتا تھا ، اورشہادت حسین اورحسین رضی اللہ عنہ کے سر کے مشاہدہ سے ابن زیاد بھی سوچ اورغم میں پڑگیا اور اس سے بھی اسی طرح کا عمل ہوا یعنی وہ پہلے کسی چھوٹی اورباریک لکڑی سے زمین کریدرہا تھا ۔

    چنانچہ علامه عينى رحمه الله (المتوفى855) نے اس جملہ کی شرح کرتے ہوئے کہا:
    قَوْله: (فَجعل ينكت) ، أَي: فَجعل عبيد الله بن زِيَاد ينكت أَي: يضْرب بقضيب على الأَرْض فيؤثر فِيهَا[عمدة القاري شرح صحيح البخاري 16/ 241]۔

    پھرجب حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کو اس نے بغور دیکھا تو تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا اور اور تعریف کرتے ہوئے اس نے اسی لکڑی سے جس سے زمین کرید رہا تھا حسین رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف اشارہ کیا جیساکہ دیگرروایات میں اور آپ کے حسن کی تعریف کی ۔

    یادرہے کہ کسی بھی روایت میں یہ صراحت نہیں ہے کہ ابن زیاد کا یہ عمل سر کے ساتھ مباشرۃ تھا بلکہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دورسے اس لکڑی کے ذریعہ اشارہ کیا تھا ، اس کی دلیل یہ ہے کہ بخاری سمیت متعدد روایات میں صرف ينكت کریدنے کا ذکر ہے ، اور عربی زبان میں عام طور سے اس سے زمین کریدنا ہی مراد ہوتا ہے اوربعض روایات میں اس کے ساتھ اضافہ بھی ہے مگر کسی میں آنکھ کا ذکر ہے کسی میں ناک کا ذکر ہے کسی میں ہونٹ کا ذکر ہے اور کسی میں دانت کاذکرہے۔
    یہ اختلاف بتلاتا ہے کہ کریدنے کاعمل زمین کے ساتھ تھا اورچہرے کی طرف فقط اشارہ کیا گیا تھا جسے بعض رواۃ نے آنکھ ، بعض نے ناک ، بعض نے ہونٹ اوربعض نے دانت کے ساتھ ذکریا ۔

    اوربعض روایات میں اشارہ کی صراحت بھی ہے چنانچہ ترمذی کے الفاظ ہیں:

    فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ[سنن الترمذي ت شاكر 5/ 659]۔
    علامہ مبارکپوری ترمذی کے اس جملہ کی شرح میں لکھتے ہیں:
    (فَجَعَلَ يَقُولُ) أَيْ فَجَعَلَ (عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يُشِيرُ بِقَضِيبِ) [تحفة الأحوذي 10/ 192 ]۔
    جناب عتیق الرحمن سنبھلی صاحب لکھتے ہیں:
    اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے اس طرز عمل پر صحابی رسول انس رضی اللہ عنہ نے کوئی نکیر نہیں کہ بلکہ عبیداللہ کی طرف سے مدح حسن کی تائید کی ، اگرعبیداللہ بن زیاد نے گستاخانہ طورپر ایسی کوئی حرکت کی ہوتی تو دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے والے انس رضی اللہ عنہ ضرور نکیر کرتے ۔
    یادرہے کہ فتح الباری وغیرہ میں طبرانی وبزار کے حوالے سے نکیرکی جو روایت منقول ہے وہ سخت ضعیف ہے، اسی طرح ابن زیاد سے متعلق یہ روایت کہ اس کی موت پر اس کے سر میں بھی سانپ داخل ہوا یہ بھی ضعیف ومردود ہے۔

    لہٰذا قرین انصاف بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ ابن زیاد نے کوئی گستاخی ہرگزنہیں کی ہوگی اوراحترام ہی سے پیش آیا ہوگا۔

    بلکہ ایک صحیح روایت کے مطابق تو عبداللہ بن زیادنے اس موقع پر حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت سے یاد کیا(أنساب الأشراف للبلاذري: 3/ 226 واسنادہ صحیح) اوراہل عرب ازراہ تعظیم کنیت سے یاد کیا کرتے تھے ، چنانچہ اس روایت پرتبصرہ کرتے ہوئے جناب عتیق الرحمن سنبھلی صاحب لکھتے ہیں:

    اوراسی بلاذری کی صحیح روایت میں یہ بھی ہے کہ:
    وأمر ببناته ونسائه فكان أحسن مَا صنع بهن أن أمر لهن بمنزل في مكان معتزل فأجرى عليهن رزقا وأمر لهن بكسوة ونفقة.ولجأ ابنان لعبد اللَّه بْن جعفر إِلَى رجل من طيّئ فضرب أعناقهما وأتى ابْن زياد برءوسهما!!! فهم (ابن زياد) بضرب عنقه وأمر بداره فهدمت. [أنساب الأشراف للبلاذري: 3/ 226 واسنادہ صحیح]۔
    اس روایت پرغور کیجئے کیا اس طرح کے کردار کا مالک شخص حسین رضی اللہ عنہ کی توہیں کرسکتا ہے ، جب ابن زیاد عبداللہ بن جعفرکے بچوں کے قتل پر آگ بگولہ ہوگیا اورقاتل کو سزاء دی اس کے گھر کو گروادیا تو پھر یہی عبیداللہ بن زیاد حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر کوئی نازیبا حرکت کیسے کرسکتا ہے بلکہ ظن غالب ہے کہ جس شخص نے حسین رضی اللہ عنہ کا سر پیش کیا تھا اسے عبیداللہ بن زیاد نے ضرور قتل کیا ہوگا ، چنانچہ بعض روایات میں اس کی صراحت بھی ہے چنانچہ بعض روایات میں ہے:

    حزّ رأسه وأتي به عبيد الله وهو يقول: أوقر رکابي فضّة وذهبا ... أنا قتلت الملک المحجّبا .......خير عباد الله أمّا وأبا فقال له عبيد الله بن زياد: إذا کان خير الناس أما وأبا وخير عباد الله، فلم قتلته؟ قدّموه فاضربوا عنقه! فضربت عنقه. [ العقد الفريد:5/ 130 ، العواصم من القواصم: 240 ، الصواعق المحرقة: 2/ 577 ، سمط النجوم: 3/ 185 ، مروج الذهب ج3 ص141. ]۔
    اس روایت کی کوئی صحیح سند ہمیں نہیں مل سکی لیکن عبداللہ بن جعفرکے بیٹوں کا سر لانے والے کے ساتھ عبیداللہ بن زیاد نے جو کچھ کیا اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کا سر لانے والے کو بھی عبیداللہ بن زیاد نے معاف نہ کیا ہوگا بلکہ اس کی گردن مروادی ہوگی جیساکہ اس روایت میں ہے ۔

    شیخ عبدالمعید مدنی حفظہ اللہ سابق ایڈیٹر مجلہ الاستقامہ(عربی) لکھتے ہیں:
    اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ عبیداللہ بن زیاد کا مذکورہ عمل ازروئے گستاخی نہیں تھا بلکہ فکروغم میں وہ لکڑی سے زمین کریدرہا تھا اورحسین رضی اللہ عنہ کے حسن کو دیکھ کراس نے اسی لکڑی سے آپ کے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 14، 2012 #12
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,915
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    [​IMG]

    اول تو عبیداللہ کا جرم ثابت ہی نہیں تاہم اگرثابت بھی مان لیں تو اس سے یزید کا کیا تعلق؟؟
    اگریزید نے سزا نہیں دی تو پہلے یہ تو ثابت کیا جائے کہ پورے عالم اسلام میں کسی ایک نے بھی یزید سے یہ مطالبہ کیا کہ عبیداللہ بن زیاد کو سزادی جائے؟
    اور تو اور خود اہل بیت جب یزید کے پاس پہنچے تو کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ ابن زیاد کو سزا دی جائے ؟؟

    اگریہ مطالبہ نہیں ہوا تو پھر دوباتوں میں کوئی ایک بات ہے:

    اول: عبیداللہ بن زیاد نے ایساجرم کیا ہی نہیں ۔
    دوم: حالات سازگار نہیں تھے کہ سزا دی جائے۔

    ان دونوں میں سے جو بات بھی ہو یزید پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا ، ورنہ اس منطق سے علی رضی اللہ عنہ پر بھی یہ جرم عائد ہوسکتا ہے کیونکہ عظیم المرتبت صحابی زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا اورقاتل ان کے سر کو لیکرعلی رضی اللہ عنہ کے دروانے پرحاضرہوا، اورعلی رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کوئی سزا نہیں دی تو کیا علی رضی اللہ عنہ بھی اس جرم کاحصہ بن گئے نعوذ باللہ۔
    اوراس سے بھی بڑھ کر بات یہ کہ خلیفہ سوم اورداماد رسول عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اوراس کے بعد خلافت علی رضی اللہ عنہ ہی کے پاس تھی لیکن علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی سزا نہ بلکہ سزا دینا تو دور کی بات اس کے برعکس قاتلیں عثمان کو عہدے عطاء کئے ، تو کیا اس طرح علی رضی اللہ عنہ بھی نعوذ باللہ اس جرم کاحصہ بن گئے؟؟؟
    یادرہے کہ قاتلین عثمان سے متعلق تو علی رضی اللہ عنہ سے مطالبہ بھی ہوا کہ انہیں سزا دلوائیں ۔

    صاف بات یہ ہے کہ جس طرح علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی مجبوری تھی اسی طرح یزید بن معاویہ کے سامنے بھی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے۔
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یزید کو اہل مدینہ و اہل مکہ پر حملہ کی طاقت تھی پھرقاتلیں حسین رضی اللہ سے قصاص کی طاقت کیونکر نہ تھی ۔
    عرض ہے کہ یہی بات تو علی رضی اللہ عنہ سے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو اہل جمل واہل صفین پر حملہ کی طاقت تو تھی مگر قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف کارروائی کی طاقت نہ تھی ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 15، 2012 #13
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,915
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    [​IMG]

    بریکٹ کی خط کشیدہ عبارت خودساختہ ہے جسے ابراہیم نخعی کے اس قول میں زبردستی شامل کرلیا گیا ہے۔
    غوکرکریں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ صرف قاتلین حسین کی بات کرہے رہے ہیں ، اور پوسٹ نگار نے بریکٹ میں قاتلیں کے ساتھ حامیان کا ابھی اضافہ کردیا ، اورغالبا ان حامیان سے ان کی مراد وہ لوگ ہیں جویزید کی مذمت نہیں کرتے ۔

    بہرحال امام نخعی کے اس قول میں قاتل حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق بات ہے اوریزید کا قتل حسین رضی اللہ عنہ میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 24، 2012 #14
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,915
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں