1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺗﮑﺮﯾﻢ - رقیب الاسلام سلفیؔ

'مسلمانوں کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از رقیب الاسلام سلفی, ‏فروری 16، 2018۔

  1. ‏فروری 16، 2018 #1
    رقیب الاسلام سلفی

    رقیب الاسلام سلفی مبتدی
    جگہ:
    ممبئی
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2017
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺗﮑﺮﯾﻢ

    ﺟﮩﺎﮞ ایک طرف ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ہم مسلمانوں ﻧﮯ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺳﺎﺗھ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻭہیں ہم نے اپنے مذہب ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯبہت زیادہ دوریاں اختیار کر لی ہیں۔
    ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻼﺯﻡ servant ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ قائد و ﺭﮨﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ان کی ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ کی ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﮨﻢ ذمہ داری ﮨﮯ۔
    ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺗﮑﺮﯾﻢ کھﻮﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺎ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﻤﺠھ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﺐ ﺳﮯ ﻣﻠﺖ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﺯﻭﺍﻝ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
    ﯾﮧ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺳﺎﻟﮩﺎ ﺳﺎﻝ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪﮐﯽ ﺍﻗﺘﺪﺍﺀ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﻣﺴﺠﺪ میں موجود ﺗﻤﺎﻡ تر ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ سےﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ۔۔امام بھی تو مسجد کا ہی ایک حصہ ہے۔
    ﺟﺒﮑﮧ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺆﺫﻥ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﺐ ﻧﻤﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯﮨﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﻀﻮﻟﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﯿﺎﮦ ﻣﯿﮟ ہم اسراف و تبزیر کے شکار ہیں ، اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں فضول خرچی کے ساتھ پیسہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﭽھ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ہاتھ سیکوڑ کر اپنی اپنی جیبیں ٹٹولتے نے لگتےﮨﯿﮟ۔


    ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ کہ جس ﺍﻣﺎﻡ کے پیچھے ہم پانچ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھتے ہیں،جو ہمیں ﺩﺭﺱﻗﺮﺁﻥ ﻭ حدیث کا درس دیتا ہےﺍﺳﮯ ﻣﮩینہ مکمل ہونے ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ چھ ﺳﺎﮌﮬﮯچھ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮯ آٹھ ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﯾﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﺎ خان ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ۔ شہرِ ممبیٔ (Mumbai) کا بھی یہی حال ہے جبکہ ممبئ اقتصادی اعتبار سے capital of India ہے۔


    محترم قارئین: غیر ادیان میں دیکھیں جہاں ایک پنڈت بھی کم از کم 20000 کماتا ہے اور پادری کی تو بات ہی الگ ہے۔۔۔
    ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻬﻮﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯﭘﮍﮬﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﻮ ﮔﺎ ؟؟؟؟؟؟؟
    ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﮑﮍ ﻧﻤﺎﺯیوں ﮐﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﮨﻞ ﻣﺤﻠﮧسے ﭘﻮﭼھ ﮔﭽھ ﮨﻮ ﮔﯽ،ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﻮٔﺩﺑﺎﻧﮧ گزارش ہیکہ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ﮐﮯ ﺑﺲ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺪﻫﺎﺭ ﺳﮑﮯ۔
    ﯾﮧ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺳﺒﻬﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﻼﺡ ﻭ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﻭ ﺍﺗﺤﺎﺩﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍپنی امور زندگی کو ﭼﻼ ﺳﮑﯿﮟﺍﯾﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ۔
    کیونکہ وہ امام ۵ / وقت کی نماز کی وجہ سے کہیں اور نہ نوکری کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی تجارت کرنے دیتے نام نہاد ذمہ داران۔
    ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺻﺮﻑ ﺻﻼﺡ ﻭ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﻬﺎﺋﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ
    ﻟﮩﺬﺍ ﻣﺴﺠﺪ کی نقاشی،ﭘﻨﮑﮭﮯ، ﻗﺎﻟﯿﻦ اور منارہ وﻏﯿﺮﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻣﺎﻡ ومؤذن ﺻﺎحبان ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ۔
    ایک آخری گزارش میں ایک بات کہنا چاہونگا کہ : 99 فی صد امام اپنے گھر اور فیملی کے ذمہ دار Dependable ہیں، لہذا ہمیں ان کی فکر ہونی چاہیئے اور ان کے لئے مثبت راہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔۔


    ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺁﻣﯿﻦ۔

    آپ کا بھایٔ
    رقیب ابن رشید سلفیؔ
    کرلا، ممبیٔ، ہند
    [​IMG]
     

اس صفحے کو مشتہر کریں