1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

M. L. M ایک فتنہ

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از شانف بیگ, ‏جنوری 30، 2017۔

  1. ‏جنوری 30، 2017 #1
    شانف بیگ

    شانف بیگ رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2016
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    45
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    السلام علیکم
    (MLM(Multi Level Marketing آج کے دور کا ایک اسان طریقہ جس سے گھر بیٹھے ہوئے لاکھوں روپیہ کمایا جا سکتا ہے. لیکن اصل میں یہ بہت بڑا فتنہ ہیں جس میں ہمارے نوجوان بھائی پھنستے جا رہے ہیں. میرے بہت سے دوست اس فتنہ میں مبتلا ہیں.
    میں فورم پر موجود سبھی بھائیوں اور شیخ محترم سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس پوسٹ پر ضرور تبصرہ کرے
    اس کے بارے میں جو بھی معلومات ہو چاہے چھوٹی ہو یا بڑی کیسی بھی معلومات کون کون سی کمپنیاں یہ کام کرتی ہے وغیرہ وغیرہ. اس مسعلہ پر کچھ بھی چھوٹنا نہیں چاہیے.
     
  2. ‏جنوری 30، 2017 #2
    شانف بیگ

    شانف بیگ رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2016
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    45
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    میں چاہتا ہوں کہ اس مسعلہ پر کوئی بھی بات نا چھوٹے.
     
  3. ‏فروری 02، 2017 #3
    شانف بیگ

    شانف بیگ رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2016
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    45
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

  4. ‏فروری 02، 2017 #4
    شانف بیگ

    شانف بیگ رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2016
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    45
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

  5. ‏فروری 02، 2017 #5
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,104
    موصول شکریہ جات:
    310
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    ملٹی لیول مارکیٹنگ کا تعارف (بشکریہ وکی پیڈیا)
    Multi-level marketing (MLM), also called pyramid selling,[1][2][3][4] network marketing,[3][5][6] and referral marketing,[7] is a controversial, pyramid-
    shaped marketing strategy where profit is theoretically derived from two revenue streams: from direct sales to customers and from commission based on the sales of recruited team members, also known as down line distributors.[8] MLM salespeople are expected to sell products directly to consumers by means of relationship referrals and word of mouth marketing. They are also incentivized to recruit others to join the company as distributors.[5][9][10]
    MLMs have been made illegal in some jurisdictions as a type of pyramid scheme, including in mainland China.[11][12] In jurisdictions where MLMs have not yet been made illegal, many illegal pyramid schemes attempt to present themselves as MLM businesses.[10]Some sources define all MLMs as pyramid schemes, even if they have not been made illegal through legislative statutes.[7][13][14] According to the U.S. Federal Trade Commission (FTC), some MLM companies already constitute illegal pyramid schemes even by the narrower existing legislation, exploiting members of the organization.[15][16][17]There have been calls in various countries to broaden existing anti-pyramid scheme legislation, or enact specific legislation, to make all MLMs illegal, as has already been done in some jurisdictions.[citation needed]
    Even if the legal distinction is merely a legal fiction, jurisdictions that retain a legal distinction between MLM businesses and illegal pyramid schemes retain said distinction on a key distinguishing feature: namely, that MLMs rely on the sales of actual products. However, significant profit cannot realistically be made by MLM salespeople through such a sales model structure, despite MLM corporations themselves generating multimillion dollar profits for the MLM corporation and its shareholders from the collective sales of all their salespeople.
    Profit (after the recoupment of losses) by MLM salespeople can only be reasonably achieved by the recruitment of other salespeople to cumulatively supplement the salesperson's profits by the addition of sales generated by the salesperson's new recruited salespeople. In this way, a salesperson's first cycle of recruits is augmented by a second cycle of recruits (recruited by the first cycle of recruits), and so on.
    MLM salespeople are not employees of the MLM business, so they do not derive a salary/wage nor reimbursement from the MLM business for their invested labor and expenses, with their income from the MLM business derived only from the profits that are able to be generated in the MLM structure. As non-employees they are not protected by legal rights of employment law provisions. Instead, salespeople are typically presented by the MLM business as "independent contractors" or "business owners"; however, salespeople do not possess a business in the traditional legal sense, as they do not hold any tangible business assets or intangible business goodwill which could be sold or purchased in the sale or acquisition of a business.

    Companies that use MLM models for compensation have been a frequent subject of criticism and lawsuits. Criticism has focused on their similarity to illegal pyramid schemes, price fixing of products, high initial entry costs (for marketing kit and first products), emphasis on recruitment of others over actual sales, encouraging if not requiring members to purchase and use the company's products, exploitation of personal relationships as both sales and recruiting targets, complex and exaggerated compensation schemes, the company and/or leading distributors making major money off training events and materials, and cult-like techniques which some groups use to enhance their members' enthusiasm and devotion.[7][18]
     
  6. ‏فروری 03، 2017 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,288
    موصول شکریہ جات:
    7,985
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    جامعۃ الرشید کے شعبہ دار الافتا کے نام سے ایک ویب سائٹ پر ایک پر ایک تفصیلی سوال اور مختصر جواب ہے ، جس سے اس کاروبار کی نوعیت سمجھنے میں کافی مدد ملے گی ، بغرض فائدہ یہاں نقل کرتا ہوں ۔
    سوال :
    جناب والا بندہ کو انٹرنیٹ پر بزنس سٹارٹ کرنے کے لیے کچھ شرعی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ بندہ اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ پر ایک نئی ویپ سائٹ جاری کرنا چاہتا ہے جو کہMLM کے بنیادی اصول پر کام کر ے گی۔ (Multi Level Marketing)MLMمیں اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک یوزر کسی دوسرے یوزر کو لے کر آتا ہے تو اس آنے والے کا کمیشن اس لانے والے کو ملتا ہے اور اسی طرح یہ کام ملٹی لیول پر چلتا ہے ۔ہمارا ارداہ کچھ اس طرح کام کرنے کا ہے کہ ہر یوزر کی رجسٹریشن پانچ ڈالر سے ہوگی اور یہ پانچ ڈالر ہر مہینے کی رجسٹریشن ہو گی۔ اور ہر یوزر کو سات لیویز(Levels)دیے جائیں گے۔ اس میں شرط ہو گی کہ ہر یوزر کو پہلے لیول پر اس کو فی پوزیشن دو ڈالر بطور کمیشن دیے جائیں گے۔ اور اسی طرح تین پوزیشنز کے بعد اس کا پہلا لیول پورا ہو جائے گا اور دوسرا لیول شروع ہو جائے گا دوسرے لیول میں اس کو9پوزیشنز دی جائی گی اور یہ9پوزیشن پوری ہونے کے بعد اس کا تیسرا لیول شروع ہو جائے گا اور اسی طرح شکل کے مطابق لیولز میں
    پوزیشنز ہوں گی۔ اس میں کوئی شرط نہیں ہو گی کہ اس کا پہلا، دوسرا، تیسرا یا کوئی بھی لیول پورا کرنے کے لیے وہ خود نئے ممبرز لے کر آیا یا اس کے لائے گئے ممبرز نے نئے ممبرز آگے بنائے ی اس ممبر نے جو اس کو لے کر آیا تھا اس کے پہلے لیول میں نئے یوزر ڈالے تینوں صورتوں میں اس کو ہر لیول کی فی پوزیشن کے حساب سے اوپر دی گئی شکل کے مطابق کمیشن دے دیا جائے گا۔ اسی طرح پیسے دینے میں اس چیز کی کئی تمیز نہیں کی جائے گی کہ وہ بندہ خود نئے یوزر لا رہا ہے یا کہ اس کے لائے ہوئے یوزرز آگے اپنی آمدن کے لیے نئے یوزر لا رہے ہیں۔ ہر یوزر کے پہلے لیول میں تین پوزیشنز ہوں گی اور ہر یوزر کو پہلے لیول پر ایک پوزیشن پوری ہونے پر دو ڈالرز بطور کمیشن ادا کر دیے جائیں گے اس طرح یہ کام چلتا رہے گا اور سات لیویز تک چلے گا ہر لیول کی کمیشن الگ ہو گی۔ یوزر کا کمیشن ہماری ویپ سائٹ پر ہی جمع ہوتا رہے گا اور یہ کمیشن یوزر کو دو مخصوص ایام یعنی ہر1ماہ15کی اور تاریخ کو اس کے اکاؤنٹ میں ہی ہو گا جو ہماری ویپ سائٹ پر یوزر کو اکاؤنٹ دیا جائے گا۔
    یہاں ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم اپنی ویپ سائٹ پر رجسٹر ہونے والے یوزر کو اپنی طرف سے اس کے پانچ ڈالر کے عوض کوئی سروس فراہم کریں اور دوسرا یہ کہ ہم اس یوزر کو کوئی سروس فراہم نہ کریں۔ یہاں پر ایک بات بہت قابل ذکر ہے اگر ہم پہلا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ہماری سروس اس قابل ہرگز نہیں ہو گی کہ کوئی یوزر صرف ہماری سروس حاصل کرنے کے لیے پانچ دالر فی مہینہ دینے کے لیے تیار ہو جائے یوزر پانچ ڈالر فی مہینہ صرف کمیشن بنانے کے لیے ہی دینے کے لیے تیار ہو گا نہ کہ ہماری سروس حاصل کرنے کے لیے۔ لیکن اتنا ضرور ہو گا کہ اس کو ہم اس کے پانچ ڈالر کے عوض کچھ تھوڑی بہت سروس ضرور فراہم کر دیں گے۔ لیکن اس صورت میں کیونکہ ہم اس کو سروس فراہم کر رہے ہوں گے تو اس کو کے پیسے واپس نہیں کیے جائیں گے۔
    دوسری صورت میں اہم نقطہ یہ ہے کہ اس کام میں ہم یوزر سے وصول کیے ہوئے پیسوں یعنی اس مثال کے مطابق پانچ ڈالر کے عوض اس کو کوئی بھی سروس فراہم نہیں کر رہے۔ یوزر کو ہمارے ساتھ رجسٹریشن کروانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ما سوائے اس کے کہ وہ اپنی طرح اور یوزر لائے جو کہ پانچ ڈالر خرچ کر کے ہمارے ساتھ رجسٹر ہوں اور اس کے بعد اس کو کمیشن دیا جائے گا اور جیسے جیسے اس کا نیٹ ورک بڑھتا چلا جائے گا اس کی آمدنی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب اس کے سارے لیویز پورے ہو جائیں گے تو اس کی آمدنی ہر مہینے یہاں پر اسٹاپ ہو جائے گی۔ جو کہ یوزر کو پہلے بتایا جائے گا کہ آپ ہمارے ساتھ کام کر کے زیادہ سے زیادہ اتنی آمدنی ایک اکاؤنٹ میں حاصل کر سکتے ہیں یعنی اس مثال کے مطابق فی 0858.2$مہینہ۔ اور یوزر کو اس بات اجازت بھی دی جائے گی کہ وہ اپنے جتنے مرضی اکاؤنٹ پانچ ڈالر فی مہینہ کے عوض ہمارے ساتھ رجسٹر کروا سکتا ہے اس کو ہر اکاؤنٹ کی آمدنی اس اکاؤنٹ میں موجود یوزر کے حساب سے دی جائے گی۔ مثلاً اگر اس کے ایک اکاؤنٹ میں تین لیول پورے ہیں تو اس اکاؤنٹ میں اس کی آمدنی 15.45$فی مہینہ ہو گی۔ اور دوسرے اکاؤنٹ میں اگر صرف ایک لیول پورا ہے تو اس کی آمدنی اس اکاؤنٹ کی صرف 6$فی مہینہ ہو گی۔ اس طرح اس کی ٹوٹل آمدنی 15.45+6=21.45$فی مہینہ ہو گی جب کہ وہ ہمیں دو اکاؤنٹس کے پانچ ڈالر کے حساب سے دس ڈالر فی مہینہ دے رہا ہو گا۔یہ تمام باتیں ہم اپنی ویپ سائٹ پر لگا دیں گے تا کہ یوزر کو رجسٹریشن سے پہلے ہی پتا ہو کہ اس کیا کرنا ہے۔{ XE " :" }
    اب اس اہم نقطے کا کہ ہم کسی کو اس کے پانچ ڈالر کے عوض اپنی کوئی سروس فراہم نہیں کر رہے حل یہ نکالا ہے کہ کیونکہ ہم یوزر کو کوئی سروس نہیں فراہم نہیں کر رہے سوائے اس کے وہ نئے یوزر لے کر آئے اور پیسے کمائے۔ تو اس طرح اگر کوئی یوزر تین ماہ تک نئے یوزر نہیں لا سکتا اور اس کو اوپر سے بھی کوئی یوزر نہیں ملتا اور وہ ہمارے ساتھ مسلسل تین ماہ تک رجسٹر رہ کر پانچ ڈالر ہر مہینے ہمیں ادا کرتا رہتا ہے تو اس بے چارے کے 15ڈالر ضائع ہو جائیں گے۔ تو اس ضیاع کو بچانے کے لیے ہم اس کو اس کے وہ 15ڈالر پیسے بھینے اور وصول کرنے کے پیسے جو کہ کمپنی(Alert Pay)ہم سے لے گی کاٹ کر اس کی باقی رقم اس کو اسی طرح واپس کر دیں گے جس طرح کہ اس نے ہمیں جمع کرائے تھی۔ اور یہ کام3 سے5 ورکنگ دنوں میں مکمل کر دیا جائے گا۔ اس میں بھی مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس3 کا مہینے کا کمیشن اس کے اوپر والے ساتھی کو دے چکے ہوں اس لیے ہم اب اس سے کمیشن واپس نہیں لیں گے بلکہ اپنی طرف سے 15ڈالر اس یوزر کو واپس کریں گے اس لیے اس کو وہ 15ڈالر 3ماہ سے پہلے ادا کرنا ہمارے لیے ممکن نہں ہو گا۔ اور یہ پیسے اس کو صرف اسی صورت میں واپس کیے جائیں گے کہ اگر وہ ہمارے ساتھ مسلسل 3ماہ تک کام کرنے کے بعد بھی اپنا پہلا کمیشن یعنی 2ڈالر بھی وصول نہیں کر پاتا۔ اگر اس کو ماہ 3میں ایک یوزر بھی مل گیا تو اس کو 2ڈالر کا کمیشن جنریٹ ہو جائے گا اس صورت میں وہ یوزر اپنے پیسے واپس نہیں لے سکے گا۔ اگر وہ مزید کام نہیں کرنا چاہتا تو وہ اس کی مرضی ہو گی کہ وہ اگلے مہینے ہمیں پیسے ادا نہ کرے اور اپنی رجسٹریشن کینسل کروا دے۔
    ایک بات اور کہ ہم کسی کو جو کہ کسی بھی یوزر کی ٹیم میں نہیں ہو گا اس کو بھی کسی نہ کسی ٹیم ڈال دیا کریں گے۔ تا کہ یوزرز کا حوصلہ بڑھے اور ہو ہمارے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں اس کی مثال اس طرح سمجھی جا سکتی ہے کہ فرض کریں کہ ہم نے ویپ سائٹ کو جاری کر دیا اب اس کی مشہوری پوری دنیا میں ہو گی۔ اب اگر کوئی یوزر اس کو امریکا سے وزٹ کرتا ہے۔ اور اس کو کوئی بھی ہماری سائٹ پر ریفر کرنے والا نہں ہے اور وہ اس
    سسٹم کو خود ہی پڑھ کر ہمارے ساتھ رجسٹر ہو جاتا ہے تو اس صورت میں ہماری ویپ سائٹ اس یوزر کو بھی کسی نہ کسی کی ٹیم ڈال دے گی اور کوشش ہو یہ کی جائے گی کہ یہ یوزر کسی ایسے ممبر کی ٹیم ڈالا جائے جس کے پاس ابھی تک کوئی یوزر نہ ہو اس طرح اس کا حوصلہ بھی بڑھے گا اور اس کو 2ڈالر اس کے پہلے لیول میں ایک یوزر آ جانے کے بھی کمیشن ادا کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ از خود ہی اس کی ٹیم میں ہماری ویپ سائٹ نے ڈال دیا ہو اور اس نے اس پر کوئی محنت بھھی نہ کی ہو۔ یہ سسٹم مکمل طور پر رینڈم (Random) پوزیشنز پر جائے گا اس میں کچھ بھی مکمل اعتماد سے نہیں کہا جا سکتا کہ ویب سائٹ کو کس کی ٹیم ڈالے گی کیونکہ ویب سائٹ کی کوڈنگ (Coding) کے دوران اس کو یہی بتایا جائے گا کہ جو بھی ممبر کسی کے ریفرل لنگ کے بغیر رجسٹر ہو اس کو کسی نہ کسی ممبر کی ٹیم (Ramdomly) داخل کر دو۔ اور اس طرح وہ ممبر جو کسی کے بھی ریفرل لنک سے نہیں آیا ہو گا خود بخود کسی نہ کسی کی ٹیم میں چلا جائے گا۔
    محرم مفتی صاحب اس منصوبہ میں رجسڑیشن فیس میں کمی بیشی اور کمیشن اور رجسٹریشن کی ادائیگی کو ماہوار یا ہفتہ وار یا پندرہ روزہ میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اور کمیشن میں بھی کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔ مثلاً پہلے لیول پر 2ڈالر کی بجائے1 ڈالر3 ڈالر اور رجسٹریشن فیس ڈالر کی بجائے 3ڈالر یا 7 ڈالر اور اسی طرح رجسٹریشن کی مدت میں بھی کمی بیشی کی جا سکتی ہے مثلاً 5ڈالر ماہوار یا5 ڈالر15 روزہ یا 5ڈالر ہفتہ وار یا کچھ اور بھی۔ لیکن منصوبہ مکمل طور پر اسی اصول پر قائم کا جانا ہے۔
    بندہ آپ سے اس کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کام کی شرعی حیثیت جاننا چاہتا ہے۔ تاکہ حرام سے بچا جا سکے۔ اور اگر اس میں کوئی بھی پہلو حرام کا نکتا ہے تو براہ مہربانی اس کی نشاندہی فرما کر کچھ راہنمائی بھی فرمائیں کہ کس طرح اس حرام چیز کو اس کام سے نکال کر اس کی جگہ حلال چیز داخل کی جا سکتی ہے۔ تاکہ بندہ اس منصوبہ پر کام شروی کرنے سے پہلے ہی اس کی تمام جزئیات کو حرام سے پاک کر سکے۔
    جواب :
    شریعت اسلامی میں تجارت و کاروبار کو اس لیے جائز رکھا گیا ہے کہ انسان اپنی حاجات و ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کر سکے۔ نیز ایک مقصد اصلی یہ بھی ہے کہ زر یعنی روپے کی گردش سے اثاثہ جات و خدمات وجود میں آئیں، تاکہ معیشت میں حقیقی بڑھوتری ہو، معیشت محض الفاظ کا ہیر پھیر اور کھیل بن کر نہ رہ جائے، کہ جس سے دولت چند فنکاروں کے ہاتھوں میں جمع ہو جائے۔ آج کل اسلامی معاشی اصولوں کے بر خلاف ایسے بہت سے کاروبار وجود میں آ چکے ہیں کہ جن کا اصلی مقصد روپیہ کا چند ہاتھوں میں جمع کرنا ہے اور حقیقی اثاثہ جات کا کہیں وجود نہیں ہوتا۔ ایسے کاروباروں کی شریعت میں گنجائش نہیں۔ آپ کا کاروبار بھی اسی نوعیت کا ہے۔ اس کی بجائے آپ کوئی ایسی ویب سائٹ بنا لیں کہ جس میں مختلف علمی یا فنی کورسز کرا سکتے ہیں، اور ان چیزوں پر رجسٹریشن فیس رکھ سکتے ہیں، مقصد یہ کہ کوئی خدمات دیں یا کوئی حقیقی شئے فروخت کریں، کا کوئی سوفٹ ویئیر بنا کر فروخت کریں۔ ان دونوں صورتوں سے ہٹ کر مذکورہ طریقے سے لوگوں کے اموال کی وصولی اکل بالباطل(غیر شرعی طریقے سے لوگوں کا مال کھانا) اور حرام ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
     
  7. ‏فروری 03، 2017 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,288
    موصول شکریہ جات:
    7,985
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    دار العلوم دیوبندی کی ویب سائٹ پر بھی اس حوالے سے ایک تفصیلی مضمون موجود ہے ، جس کا کچھ حصہ ذیل میں نقل کرتا ہوں :
    شرعی حیثیت:
    اسلام نے ہر اس معاملہ کومسترد کردیا ہے، جس میں دغا فریب اور دھوکہ دھڑی پائی جاتی ہو؛ یا جس میں ملکی بدانتظامی اور لوگوں کی ضرررسانی کا عنصر پایا جائے، یا جس میں مفادِ عامہ کی چیزوں پر چند افراد کے قبضہ کی صورت پائی جائے، یا جس میں خرید وفروخت کے ساتھ کوئی شرط لگادی جائے، یا وہ معاملہ ایسا ہو کہ جس میں بیع کے ساتھ کسی دوسرے معاملہ کا قصد کیا جاتا ہو اور بیع کا صرف بہانہ ہو، اسی طرح وہ معاملہ بھی شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں، جس میں نزاع اور لڑائی کا احتمال ہو، جس میں دو معاملہ کو ایک کردیاگیا ہو وغیرہ وغیرہ۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة الله عليه نے ”حجة اللہ البالغہ“ میں ایسے ”نو“ وجود بیان فرمائے ہیں، جن کی وجہ سے شریعت نے معاملات کو مکروہ و ناجائز قرار دیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے رحمة اللہ الواسعہ ج:۲/۵۶۲ تا ۵۸۴)
    نیٹ ورک مارکیٹنگ کا شرعی حکم دریافت کرنے کے لیے مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھ کر اگراس طرزِ تجارت پر نگاہ ڈالی جائے تو ادنیٰ تأمل کے بعد ہی اس کا عدمِ جواز کھل کر سامنے آجائے گا؛ اس لیے کہ اس میں عدمِ جواز کی متعدد وجوہ پائی جاتی ہیں۔
    ذیل میں مزید تفصیل سے عدم جواز کی وجوہ بیان کی جاتی ہیں:
    (۱) نفع حاصل کرنے کے لیے شریعت نے جو اصول بتائے ہیں، ان میں یا تو سرمایہ اور محنت دونوں ہوتی ہیں، جیسے بیع وشرا؛ یا صرف محنت ہوتی ہے اور سرمایہ دوسرے کا ہوتا ہے، جیسے مضاربت وغیرہ، لیکن ایسی کوئی صورت شرعاً جائز نہیں ہے، جس میں نہ تو محنت ہو اور نہ ہی سرمایہ لگے۔
    نیٹ ورک مارکیٹنگ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آدمی ممبر بنتا ہے تو کمپنی ممبری فیس لے لیتی ہے،اور اپنی مصنوعات دے کر ان کی قیمت الگ سے لیتی ہے، قانونی لحاظ سے کمپنی کے پاس ممبر کا کوئی رقمی مطالبہ نہیں رہ جاتا، گویا کمپنی میں رقم اور سرمایہ لگاہوا نہیں ہے۔
    پھر جب ممبرسازی ہوتی ہے، تو پہلے مرحلہ میں مان لیا جائے کہ اپنے تحت ممبربنانے میں محنت ہوئی، صرف انھیں ممبران کی تشکیل کا معاوضہ اگر ملے تو اسے کسی درجہ میں جائز کہا جاسکتا ہے؛ اس لیے کہ سرمایہ نہیں لیکن محنت تو پائی گئی، لیکن دوسرے تیسرے اور بعد کے مراحل میں ممبرسازی میں اس کی کوئی محنت نہیں ہوئی تو بعد کے ممبران کا تشکیلی معاوضہ کس طرح جائز ہوگا، جب کہ وہاں نہ تو محنت ہے اور نہ ہی سرمایہ!
    اس تجارت سے منسلک حضرات یہ کہتے ہیں کہ ”آئندہ مراحل میں بھی کارکنوں کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے، جیسے لوگوں کو سمجھانا، مال کی اہمیت بتانا، ان کے شکوک و شبہات کو دور کرنا وغیرہ“ لیکن تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پہلا ممبر براہِ راست ممبر بنانے کے بعد اگر آئندہ مرحلوں میں کوئی تعاون نہ کرے تب بھی وہ کمپنی کے اصول کے مطابق کمیشن کا مستحق قرار پاتا ہے، حاصل یہ کہ آئندہ مراحل میں بلا سرمایہ اور بلا محنت کمیشن آنا اس طرزِ تجارت کی سب سے بڑی خرابی ہے۔
    پہلے مرحلہ کی ممبرسازی کا معاوضہ بھی درست نہیں:
    اس طرح کی کمپنیوں میں ہر مرحلہ کی ممبرسازی کا معاوضہ الگ الگ نہیں دیا جاتا؛ بلکہ اپنے تحت چند مراحل میں مخصوص تعداد پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، مثلاً بعض کمپنیوں میں یہ شرط ہے کہ جب ممبران کی تعداد ”نو“ ہوجائے اور وہ بھی تین مراحل میں ہوں تب ان سب کی خریداری کا متعین کمیشن اوپر کے ممبر کو دی جائے گی، ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اپنے ہی نہیں دوسروں کے بنائے ہوئے ممبران کا معاوضہ بھی ساتھ ہوکر ملے گا، اس لیے حلال و حرام میں اجتماع کی وجہ سے یہ معاوضہ لینا بھی حرام ہوگا۔
    فقہ کا قاعدہ ہے: اذَا اجْتَمَعَ الْحَلاَلُ وَالْحَرَامُ غُلِّبَ الْحَرَامُ (الاشباہ والنظائر:۱/۳۳۵) ترجمہ: جب حلال وحرام جمع ہوجائیں تو حرام کو غالب مانا جاتا ہے۔
    (۲) شریعت میں ”سود“ اس لیے حرام ہے کہ اس میں زر سے زر حاصل کرنے کا ذریعہ اور بہانہ بنایا جاتا ہے، اس میں نہ تو کوئی پیداوار سامنے آتی ہے اور نہ ہی محنت پائی جاتی ہے، اس طرح جب زر سے زر پیدا کرنے کی ریت چل پڑتی ہے، تو لوگ بنیادی ذرائع معاش مثلاً کھیتیاں اور کاریگریاں چھوڑ دیتے ہیں اوریہ مثل زبانِ حال سے دہرائی جانے لگتی ہے، ”جب روٹی ملے یوں، تو کھیتی کرے کیوں؟“ (رحمة اللہ الواسعہ: ۴/۵۴۲)
    نیٹ ورک مارکیٹنگ میں بھی ممبری فیس کے طور پر تھوڑا سرمایہ لگاکر پیسوں سے پیسے حاصل کرنے کا حیلہ اختیار کیاجاتا ہے، ہر ممبر کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اپنے نیچے زیادہ سے زیادہ ممبران آجائیں تاکہ اچھی خاصی رقم کسی محنت ومشقت کے بغیر کمیشن کے طور پر ان کے پاس جمع ہوجائے؛ حالانکہ زر سے زر کشید کرنا سود ہے، اس طرز کی تجارت کو ربوا سے کافی مشابہت ہے، جسے قرآنِ پاک میں حرام فرمایاگیاہے:
    ”أَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا“ (بقرہ:۵۷۲)
    ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قراردیا ہے“
    (۳) شرعی لحاظ سے ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے، وہ یہ کہ اس کمپنی میں شریک ہونے والوں کا مقصد کمپنی کا سامان خریدنا نہیں ہوتا، بلکہ کمیشن اور نفع کمانا ہی مدِنظر رہتا ہے، گویا مقصود کمیشن ہے سامان نہیں، سامان کو ثانوی حیثیت حاصل ہوتی ہے؛ اس لیے شرعی حکم معلوم کرتے وقت مقصود اور غلبہ کا ہی اعتبار ہوگا، جیسا کہ فقہی قواعد اس کی طرف مشیر ہیں:
    (الف) العِبْرَةُ فِیْ الْعُقُوْدِ لِلْمَقَاصِدِ وَالْمَعَانِیْ لاَ لِلْألْفَاظِ وَالْمَبَانِیْ . (قواعد الفقہ ص:۹۱)
    ترجمہ: ”معاملات میں مقاصد ومعانی ہی کا اعتبار ہوتا ہے، الفاظ و عبارت کا نہیں“
    (ب) اَلْعِبْرَةَ لِلْغَالِبِ الشَّائِعِ لاَ لِلنَّادِرِ. (ایضاً)
    ترجمہ: ”رائج وغالب حیثیت کا ہی اعتبار ہوتا ہے، نادر و کم یاب کا نہیں“
    (ج) التابِعُ لا یَتَقَدَّمُ عَلَی الْمَتْبُوْعِ . (الاشباہ والنظائرج:۱/۳۶۵)
    ترجمہ: تابع کو متبوع پر مقدم نہیں کیا جاسکتا۔
    نیٹ ورک سسٹم میں شمولیت کا اصلی مقصد چونکہ کمیشن اور نفع حاصل کرنا ہی ہے، یہی پہلو شریک ہونے والوں کے لیے باعثِ کشش ہے؛ اس لیے اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ آدمی ممبر بننے کی فیس دے کر امید و بیم کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتاہے، ہوسکتاہے کہ اس بہانے کافی منافع ہاتھ آجائیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لگایا تھا وہ بھی ڈوب جائے یہی حقیقت ہے جوئے اور قمار کی۔
    ”ہُوَ کُلُّ لَعِبٍ یُشْتَرَطُ فِیْہِ غَالِبًا أن یَّأخُذَ الْغَالِبُ شَیْئًا مِنَ الْمَغْلُوْبِ وَأصْلُہ أن یَّأخُذَ الْوَاحِدُ مِنْ صَاحِبِہ شَیْئًا فَشَیْئًا فِی اللَّعِبِ“ (ص:۴۳۴)
    ترجمہ: قمار (ہار جیت کا) ہر وہ کھیل ہے جس میں اکثر یہ شرط ہوتی ہے کہ جو غالب ہوگا، وہ مغلوب سے کچھ لے گا، اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک ساتھی دوسرے ساتھی سے کھیل میں تھوڑا تھوڑا کچھ لیتا رہتا ہے۔
    اور قمار کی تعریف یوں لکھی ہے:
    انَّہ تَعْلِیقُ الْمِلْکِ عَلَی الْخَطَرِ وَالْمَالُ فِی الْجَانِبَیْنِ (قواعد الفقہ ص:۴۳۴، فتاوی ابن تیمیہ ۱۹/۲۸۴)
    ترجمہ: ملکیت کو جوکھم پر معلق کرنا، جب کہ دونوں جانب مال ہو۔
    حاصل یہ کہ قمار (جوا) میں معاملہ نفع وضرر کے درمیان دائر ہوتا ہے؛ احتمال یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سا مال مل جائے گا، اور یہ بھی کہ کچھ نہ ملے،اسی کو ”مخاطرہ“ اور قرآن کی اصطلاح میں ”میسر“ کہتے ہیں۔
    جوئے کا مدار لالچ، جھوٹی آرزو اور فریب خوردگی کی پیروی پر ہے،جوا کمزوروں کے خون کا آخری قطرہ بھی چوس لیتا ہے، ہارنے والااگر خاموش رہتاہے تو محرومی اور غصہ میں خون کا گھونٹ پی کر خاموش رہتا ہے،اور اگر دوسرے فریق سے لڑتا ہے، تو اس کی کوئی نہیں سنتا کیوں کہ ”خود کردہ را علاجے نیست“ جوئے کا تمدن اور باہمی تعاون میں کچھ حصہ نہیں۔ (مستفاد از رحمة اللہ الواسعہ: ۴/۵۴۱)
    مفتی بغداد، صاحبِ ”روح المعانی“ علامہ محمد آلوسی نے میسر کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
    المَیْسِرُ... امَّا من الیُسْرِ لأنہ أخذُ المال بِیُسْرٍ وَسُہُوْلَةٍ (روح المعانی: ۲/۱۱۳)
    یعنی ”میسر“ یا تو یُسر سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں، کسی کا مال آسانی اور سہولت سے مارلینا، میسر (جوا) کے ذریعہ لوگوں کے اموال آسانی سے جھپٹ لیے جاتے ہیں۔
    نیٹ ورک مارکیٹنگ کی موجودہ شکل اگرچہ نئی ہے، لیکن بہرحال اس میں جوئے کی حقیقت پائی جارہی ہے، جیساکہ غور کرنے والوں پر مخفی نہیں، جوئے کی حرمت سود کی طرح نص قطعی سے ثابت ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    یا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمنُوا انَّمَا الخمرُ وَالمَیْسِرُ والأنصابُ والأزلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ . (مائدہ:۹۰)
    ترجمہ: اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں اور شیطانی کام ہیں، سو ان سے بالکل الگ ہوجاؤ، تاکہ تم کو فلاح ہو۔ (بیان القرآن)
    (۴) نیٹ ورک مارکیٹنگ میں وہی آدمی کامیاب و بامراد ہوتا ہے، جو تیز طرار، باتونی اور لسّان ہو، سامنے والوں کو متأثر کرکے ممبر بنالیتا ہو، جو لوگ اس طرح کی شاطرانہ چال نہیں چلتے، یا یہ صلاحیت ان میں نہیں ہوتی، وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں، ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے اور وہ دھوکہ کھاکر مایوس ہوجاتے ہیں۔
    ایسے دھوکہ کی بیع و شراء کو سرکارِ دوعالم صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا ہے: نَہَی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ. (سنن ترمذی:۱/۲۳۳)
    مبسوط میں علامہ سرخسی رحمة الله عليه نے غرر کی تعریف اس طرح کی ہے۔ الغَرَرُ مَا یَکُوْنُ مَسْتُوْرَ الْعَاقِبَةِ . (المبسوط:۱۲/۱۹۴)
    جس کاحاصل یہ ہے کہ غرر میں انجام معلوم نہیں ہوتا، مذکورہ طرزِ تجارت میں نفع ملنے اور نہ ملنے کا پتا نہیں ہوتا، گویا قمار (جوا) ہی کی دوسری تعبیر ”بیع غرر“ ہے۔
    بعض لوگوں نے اس طرزِ تجارت کو لاٹری (Lottery) سے بھی بدتر بتایا ہے؛ اس لیے کہ لاٹری میں ٹکٹ خرید کر آدمی سکون سے انتظار کرتا ہے، لیکن اس میں ممبرشپ حاصل کرنے کے بعد ممبرسازی کے لیے خوب دوڑ دھوپ کرتا ہے، پیسے خرچ کرتا ہے پھر بھی ممبر نہ بنانے کی صورت میں اصل سرمایہ سے بھی ہاتھ دھولیتا ہے، اور کمپنی رُک جانے کے وقت نیچے کے تین درجوں کے لوگ یقینا محروم رہ جاتے ہیں، اس لیے اس میں نفع کا چانس لاٹری سے بھی کم ہے، اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہی سلسلہ کا آخری آدمی ہوگا، تو ہرگز سامان خرید کردہ ممبر نہیں بنے گا، حقیقت یہ ہے کہ اس میں ”غرر کثیر“ ہے، جس سے باز رہنے کی تلقین سرکار دوعالم … نے فرمائی ہے۔ (بحث ونظر ص:۱۷۲)
    (۵) اسلام نے اپنے تجارتی اصول میں ملکی مصلحت کا خیال رکھا ہے، مصنوعی رکاوٹ ملکی مصلحت کے لیے نہایت ہی مضر ثابت ہوتی ہے، اس سے اشیاء کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے، تجارت کا مال تمام شہریوں تک پہنچنے کے بجائے چند لوگوں کے پاس ہی سمٹ کر رہ جاتا ہے۔
    زمانہٴ جاہلیت میں جب کوئی دیہاتی سوداگر شہر میں اپنا سامانِ تجارت لے کر پہنچتا تھا، تو شہر کے بعض تُجّار اس سے کہتے کہ ابھی تم خود سے سامان نہ بیچو؛ اس لیے کہ ابھی بھاؤ کم ہے، سستا بک جائے گا؛ بلکہ تم ہمارے حوالے کردو! چند دنوں بعد تم کو ہم مہنگا بیچ کر دیں گے، اس میں بائع کا بھی ضرر ہوتاتھا؛ یہ تُجّار جھوٹی قیمت بتادیتے تھے، اور عوام کو بھی اشیاء مہنگی ملتی تھی،اس کو اصطلاح میں ”بیع الحاضر للبادی“ کہتے ہیں۔
    سرکارِ دوعالم صلى الله عليه وسلم نے اس طرزِ تجارت سے منع فرمادیا تاکہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو، اور ”مصنوعی رکاوٹ“ کا رواج ختم ہوجائے۔ (سنن ترمذی:۱/۲۳۲، ابواب البیوع، رحمة اللہ الواسعہ: ۴/۵۷۶، میں تفصیل ملاحظہ کیجیے)
    زمانہٴ جاہلیت میں اسی سے ملتی جلتی یہ شکل بھی تھی کہ جب کوئی تاجر دیہات سے شہر میں آتا تھا تو شہر کے بعض تجار شہر سے باہر نکل کر ان سے پہلے ہی ملتے،اور سارا مال خرید لیتے تھے تاکہ یہ مال شہر میں نہ آسکے اور سارے لوگ ان سے خریدنے پر مجبور ہوں، اس کو اصطلاح میں ”تلقیِ جلب“ کہا جاتاہے، سرکارِ دوعالم … نے ان دونوں صورتوں کو اس لیے منع فرمایاہے، (سنن ترمذی: ۱/۲۳۲) اس لیے کہ دونوں میں اشیاء چند آدمیوں کے ہاتھوں میں جاکر عوام کے لیے مہنگی ہوجاتی ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے: الدرالمختار مع ردالمحتار: ۴/۱۴۸ رشیدیہ پاکستان)
    نیٹ ورک مارکیٹنگ میں بھی یہ خرابی ہے کہ ہر آدمی ان کمپنیوں کے سامان نہیں خرید سکتا، صرف ممبران ہی خریدسکتے ہیں؛ اس لیے بھی اشیاء نہایت ہی گراں ہوتی ہیں۔
    (۶) اس طرح کی کمپنیوں میں اشیاء کی قیمت عام مارکیٹ ریٹ (Market rate) کے مقابلہ میں تین گنا بلکہ چھ گنا زیادہ ہوتی ہے، اشیاء کی جودت و عمدگی کا دعویٰ بھی فضول معلوم ہوتا ہے؛ اس لیے کہ اگر وہی اشیاء عام مارکیٹ میں رکھی جائیں، تو لوگ ہرگز اتنی قیمت میں نہیں خریدیں گے، دوسری کمپنیوں کی مصنوعات ہی کو ترجیح دیں گے۔
    خلاصہ یہ کہ یہ گرانی فقہ کی اصطلاح میں ”غبن فاحش“ کہلاتی ہے، جو مکروہ ہے، حتیٰ کہ شریعت نے مشتری کو غبنِ فاحش کی وجہ سے مبیع (خریدی ہوئی چیز) کے واپس کرنے کا حق دیا ہے۔ (رد المحتار:۴/۱۷۸، رشیدیہ پاکستان)
    (۷) حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة الله عليه نے ”حجة اللہ البالغہ“ میں ممنوع معاملات کی جملہ ”نو“ وجوہ میں سے چوتھی وجہ یہ بیان فرمائی ہے:
    ”وَمِنْہَا أن یُّقْصَدَ بِہٰذَا الْبَیْعِ مُعَامَلَةٌ أُخْریٰ یَتَرَقَّبُہَا فِیْ ضِمْنِہ أوْ مَعَہ “ الخ
    ترجمہ: اور ممانعت کی انھیں وجوہ میں سے یہ ہے کہ اس بیع سے کسی ایسے دوسرے معاملے کا قصد ہو، جس کا وہ بیع کے ضمن میں یا بیع کے ساتھ انتظار کرتا ہو۔
    خرید و فروخت کو خالص رکھنا ضروری ہے، اگر خرید وفروخت کے ساتھ کسی اور معاملہ کا قصد ہوجائے تو بیع فاسد ہوجاتی ہے۔ نیٹ ورک مارکیٹنگ میں بظاہر تو آدمی کمپنی کا سامان خریدتاہے؛ لیکن مقصد ممبرسازی کے ذریعہ کمیشن کمانا ہوتا ہے،اس وجہ سے بھی تجارت کی یہ شکل ناجائز معلوم ہوتی ہے۔
    (۸) رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے ”بیع بالشرط“ کو منع فرمایا ہے: أنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعٍ وَشَرْطٍ . (مجمع الزوائد:۴/۸۵)
    بیع اور شرط ایک ساتھ جمع کرناجائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ شرطوں کی وجہ سے آدمی معاملہ تو ضرورت کی وجہ سے کرتا ہے اور شرط نہ چاہتے ہوئے بھی مان لیتا ہے، نیٹ ورک مارکیٹنگ میں کمپنی کا مال خریدنے کے ساتھ ہی یہ شرط ہوتی ہے، کہ مثلاً:
    (الف) کمپنی کا مال بازار میں رکھ کر بیچ نہیں سکتے۔
    (ب) کمپنی کے مال یا اس کے طریقہٴ کار کی خامیاں بیان نہیں کرسکتے۔
    (ج) کمپنی کا سامان لینے کیلئے ایجنٹ اور ممبر بننا شرط ہے، ممبری فیس ضرور وصولی جائیگی۔
    (د) بعض کمپنیوں میں رعایتی قیمت پر سامان لینے کے لیے ممبر ہونا اور ممبری فیس ادا کرنا ضروری ہے، بغیر ممبر بنے سامان خریدنے پر سامان مہنگا ملے گا۔
    گویا اس طرزِ تجارت میں بیع کے ساتھ ایسی شرط؛ بلکہ چند شرطیں موجود ہوتی ہیں، جو مقتضائے عقد کے خلاف ہیں؛ اس لیے یہ معاملہ فاسد ہوگا، ہدایہ میں ہے: کُلُّ شَرْطٍ لاَیَقْتَضِیْہِ الْعَقْدُ وَفِیْہِ مَنْفَعَةٌ لِأَحَدٍ المُتَعَاقِدَیْنِ اَوْ لِلْمَعْقُوْدِ عَلَیْہِ وَہُوَ مِنْ اَہْلِ الْاِسْتِحْقَاقِ فَیْفْسُدُ. (مع فتح القدیر:۳/۲۶، البحرالرائق: ۵/۱۸۲)
    (۹) نیٹ ورک مارکیٹنگ میں خرید و فروخت کے معاملہ کے ساتھ اجارہ (یعنی ایجنٹ بننے کی ملازمت) مشروط ہے؛ اس لیے ایسے عقدِ بیع اور عقدِ اجارہ کو دومعاملوں کا مجموعہ کہہ سکتے ہیں، اور یہ حدیث شریف کی رو سے ممنوع ہے، ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ رضي الله تعالى عنه کی ایک روایت ہے:
    نَہٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَةٍ . (ترمذی: ۱/۲۳۳، ابواب البیوع)
    ترجمہ: ”آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک معاملہ میں دو معاملہ کرنے سے منع فرمایاہے“۔
    مسند احمد کی ایک روایت میں ہے:
    نَہٰی رَسُوْلَ اللّٰہ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَفْقَتَیْنِ فِیْ صَفَقَةٍ وَاحِدَةٍ . (مسند احمد حدیث نمبر:۳۷۷۴)
    ترجمہ: ”آپ نے ایک معاملہ میں دو معاملہ کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
    (نوٹ: نیٹ ورک مارکیٹنگ کے ناجائز ہونے کی شرعی وجوہات میں سے ساتویں، آٹھویں اور نویں وجوہات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ اشتیاق)
    (۱۰) نیٹ ورٹ مارکیٹنگ پر گہری نگاہ ڈالنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں درحقیقت لوگوں کو موہوم کمیشن کا لالچ دلاکر باطل اور ناجائز طریقے سے مال کھانے کا طرز اپنایا گیا ہے، اس طرزِ معاملہ کو ماہرینِ اقتصادیات ”تعاملِ صغری“ (Zero sum game) کہتے ہیں، جس میں بعض افراد نفع پاتے ہیں اور اکثر خسارہ میں رہتے ہیں۔ (بحث ونظر ص:۱۷۰) اللہ تعالیٰ نے باطل طریقہٴ کسب کو سختی سے منع فرمایا ہے:
    یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَأکُلُوْا أمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ الاَّ أنْ تَکُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ . (نساء:۲۹)
    اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ، لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے واقع ہو۔
    اشکال وجواب:
    (۱) بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ممبر بنانے پر کمپنی کا کمیشن دینا انعام ہے، راست ممبر بنانے پر تو دیا ہی جاتا ہے، نیچے کے ممبران کے بنائے ہوئے ممبران؛ چونکہ پہلے ممبر کے واسطے سے ہیں؛ اس لیے کمپنی اگر بعد میں بھی انعام کا سلسلہ جاری رکھتی ہے، تو اس میں کیا حرج ہے؟
    جواب: نیچے کے افراد سے لے کر اوپر کے لوگوں کو فی صدی کمیشن (Commission) دیناارتکازِ دولت اور مال ہتھیانے کا حیلہ ہے، یہ میسر کے مشابہ تو ہوسکتا ہے، انعام سے اس کاکوئی واسطہ نہیں؛ اس لیے کہ انعام صلبِ بیع میں کبھی داخل اور مشروط نہیں ہوتا۔
    (۲) جس طرح ایک کارِ خیر کے ثواب کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، ایک آدمی نے کسی کو کسی نیک کام کی تلقین کی، دوسرے نے عمل کرنے کے ساتھ تیسرے کو تلقین کی، تو ظاہر ہے کہ بعد والے کا ثواب پہلے والے کو ضرور ملے گا، اسی طرح ”نیٹ ورک مارکیٹنگ“ میں بھی کمپنی کمیشن کا سلسلہ جاری رکھتی ہے، تو اس میں کیا حرج ہے؟
    جواب: ثواب دینا اللہ تعالیٰ کا فضل اوراحسان ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، اللہ کا فضل کسی ضابطہ کامحتاج نہیں، مذکورہ کمپنی کو ثوابِ آخرت پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے؛ اس لیے کہ یہ دنیا کا معاملہ ہے اور بندوں کے ذریعہ تکمیل کو پہنچتا ہے، بندوں کو اللہ تعالیٰ نے قانون کا پابند بنایا ہے، اسی کے لیے شریعت نازل فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کسی قانون کے پابند نہیں، وہاں عدل کے ساتھ فضل کا ظہور ہوگا، بندوں کے معاملے اللہ تعالیٰ کے قانون سے سرِمو تجاوز نہیں کرسکتے، ثواب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔
    ہمیں ہمارے اساتذہ نے پڑھایا، ہم طلبہ کو پڑھاتے ہیں، وہ طلبہ دوسرے طلبہ کو پڑھاتے ہیں، ثواب تو نیچے والوں کا اوپر والوں کو ضرور ملتا ہے؛ لیکن نیچے والوں کی تنخواہ کا کوئی حصہ اُوپر والوں کو نہیں ملتا؛ آخر کیوں؟
    (۳) ممبرسازی کی اُجرت دلالی کی طرح ہے، جس طرح دلال کو سامان خریدوانے اور بیچوانے کی اجرت ملتی ہے، اسی طرح یہاں بھی نئے ممبر بنانے پر اُجرت ملتی ہے، تواس میں کیا خرابی رہ گئی؟
    جواب: مذکورہ طرزِ تجارت اور دلالی میں کافی فرق ہے اس لیے کہ:
    (الف) دلال کو سامان کی فروختگی پر اُجرت ملتی ہے، یہاں تو ایجنٹ بننے کے لیے خود ایجنٹ ہی اجرت ادا کرتا ہے، معلوم ہوا کہ یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے، مذکورہ تجارت میں سامان فروخت کرنا، اصل مقصد نہیں ہوتا؛ بلکہ نئے ایجنٹ تیار کرنا ہی اہمیت رکھتا ہے۔
    (ب) دلال کو کوئی گھاٹا نہیں ہوتا، وہ مال فروخت کراتا اور اجرت و کمیشن پاتا رہتا ہے؛ لیکن یہاں ہر آخری مرحلہ کا ایجنٹ یقینی طورپر گھاٹے میں رہتا ہے، ظاہر ہے کہ کمپنی کبھی نہ کبھی رُکے گی، جب بھی رکے گی، آخری مرحلہ کے ایجنٹ کو کچھ نہیں ملے گا، پھر ظلم یہ کہ ممبری فیس بھی سوخت ہوجائے گی، ”یک نہ شد دو شد“؛ اس لیے ان کمپنیوں کی ممبرسازی کی مہم کو دلالی سے تعبیر کرنا غلط ہے۔
    خلاصہٴ بحث:
    نیٹ ورٹ مارکیٹنگ دولت اِکٹھا کرنے کی ایک اَہرامی اور مخروطی اسکیم ہے، اس میں مصنوعات بطورِ حیلہ فروخت کی جاتی ہیں، اصل مقصد ممبر سازی کے ذریعہ نفع کمانا ہوتا ہے، اس میں سود سے بھی زیادہ ارتکازِ دولت کی تدبیر موجود ہے، لاٹری (Lottery) اور جوے سے مشابہت ہے، دھوکہ اور غرار اتنا زیادہ ہے کہ دولت مندی کے لالچ میں پوری کی پوری آبادی کو مالی بحران کا شکار بناسکتی ہے، اس میں چند لوگوں کو منافع پہنچانے کے لیے ایک کثیر تعداد زنجیر میں بندھی رہتی ہے، اخیر کے لواحقین وممبران ہمیشہ دھوکے اور گھاٹے میں رہتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں نیچے کے کئی مراحل بلاکمیشن منھ تکتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ”سودی نظام“ کے ماہرین نے بھی اس طرزِ تجارت کو مسترد کردیا ہے،متعدد ممالک میں اس پر پابندی عائد کی گئی ہے، ساتھ ہی عوام کو اس میں پھنسنے سے متنبہ بھی کیاگیا ہے، یہ اخلاقی اور اقتصادی لحاظ سے بھی قابلِ قبول نہیں ہے، شرعی اور فقہی نقطئہ نظر سے اس میں سود و قمار سے مشابہت؛ بیع مع شرط کا وجود؛ دو معاملوں کو ایک میں جمع کرنا؛ خرید و فروخت کے بہانے دوسری چیز یعنی کمیشن کا ارادہ؛ باطل طریقے سے مال جمع کرنا؛ ملکی مصلحت کا فقدان اور بعض صورتوں میں ”غبن فاحش“ وغیرہ خرابیاں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے اس میں شرکت جائز نہیں ہے، ہندوعرب کے مشاہیر علماء اور مفتیانِ کرام نے عدمِ جواز کے فتوے صادر فرمائے ہیں، اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی کے سولہویں اجلاس میں اہل علم وفقہ کی ایک عظیم جماعت نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا ہے۔
    جس شخص کو راست ممبربنایا جائے اس کی خریداری پر ملنے والا کمیشن اگرچہ فی نفسہ جائز ہوسکتا ہے، مگر وہ بھی چونکہ الگ کرکے نہیں دیا جاتا؛ بلکہ چند ممبران اور چند مرحلے گذرنے ضروری ہوتے ہیں، اور سب کا کمیشن ملاکر دیا جاتاہے؛ اس لیے حرام وحلال کے ملنے کی وجہ سے پہلے مرحلہ کے ممبران کی وجہ سے آنے والا کمیشن بھی حرام ہوگا، محض مصنوعات خریدنے کے لیے ایسی کمپنیوں کا ممبر بننا بیع مع شرط کی وجہ سے ناجائز ہے، بلا ممبر بنے سامان خریدنا جائز تو ہے، مگر ایسی کمپنیوں کا تعاون ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں، ایسی کمپنیاں نہ تو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے فائدہ مند ہیں؛ نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابل شرکت اور نہ ہی اسلامی اصول کے تحت جائز ہیں، اس لیے ان کا ممبر بننا اور کمیشن حاصل کرنا، ناجائز اورحرام ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 03، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 03، 2017 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,288
    موصول شکریہ جات:
    7,985
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    Last edited: ‏فروری 03، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں